شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سوشل میڈیا پر ملک دشمن عناصر کی سرگرمیوں پر تھریٹ الرٹ جاری کردیا۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی را اور دیگر پاکستان مخالف ایجنسیاں سوشل میڈیا پر پاکستان دشمنی میں سرگرم ہوگئی ہیں جس پر قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے سوشل میڈیا کا تھریٹ الرٹ جاری کر دیا۔ قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی جانب سے سوشل میڈیا پر القاعدہ، داعش اور ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں کے سرگرم ہونے کے بارے میں الرٹ جاری کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ دہشتگرد سوشل میڈیا کے ذریعے دہشتگرد تنظیموں میں بھرتی اور اس کی فنڈنگ کیلئے کام کر رہے ہیں۔ قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے وزارت داخلہ کو مراسلہ لکھا ہے۔

 ذرائع کے مطابق دہشتگردوں کے 50 سرگرم کارکنوں کی فہرست بھی فراہم کر دی گئی ہے۔ جس میں پاکستان مخالف پوسٹ اور دیگر مواد موجود ہے ان میں سے کچھ اکاؤنٹس بھارت سے چلائے جارہے ہیں۔ان افراد کے خلاف جلد کارروائی کی امید ظاہر کی جارہی ہے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  پاکستان کی محب وطن قوم قاتل سعودی ولیعہد کی پاکستان آمد پر جن خدشات کا اظہار کررہی تھی وہ سچ ثابت ہوگئے۔ وزرائے خارجہ کی پریس کانفرنس کے دوران سعودی وزیر خارجہ نے برادر مسلم ملک ایران کو دہشتگرد قرار دےدیا۔

سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے ایران کے خلاف پاکستانی سرزمین اور میڈیا کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایران خود دہشتگردی برآمد کرتا ہے، ایران یمن، شام اور دیگر ممالک میں دہشتگردی میں ملوث ہے، ایران دہشتگردی پھیلانے کا موجب اور القاعدہ کو پناہ دینے والا ہے۔ سعودی وزیر خارجہ نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئےامت مسلمہ کی دو مستحکم اور مضبوط دفاعی دیواروں حزب اللہ اور انصاراللہ کو دہشتگرد قرار دےدیا۔عدل الجبیرنےکہا کہ ایران حزب اللہ اور حوثیوں کو سپورٹ کرتا ہےجو دہشتگرد تنظیمیں ہیں۔

واضح رہے کہ سعودی عرب داعش کا پشت پناہ اور مالی معاون ہے جس نے شام اور عراق میں انبیاء کرام ؑ ، آل رسولؑاور اصحاب رسولؒ کے مزارات کو بم دھماکوں سے شہید کیا۔ اصحاب رسولؒ کی سرزمین یمن پرگزشتہ چار سالوں سے زائد عرصے سے جارحیت اور حملوں میں اب تک ہزاروں یمنی مسلمان شہید کردئے ہیں۔ حال ہی میں سعودی صحافی جمال خاشقجی جو سعودی پالیسیوں کا ناقد تھابہیمانہ طریقے قتل کروادیا ۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  سعودی عرب کے شہر مدینہ منورہ میں حرملہ و یزید صفت وہابی دہشتگرد کے ہاتھوں ننھے زائر رسول زکریا کو ذبح کیے جانے کے معاملے پر دنیا بھر میں قاتل کو سزا دینے کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر دنیا بھر میں اس بہیمانہ قتل کی مذمت کے ساتھ ساتھ قاتل کے لیے مختلف سزائیں تجویز کی جانے لگی ہیں جبکہ سوشل میڈیا صارفین نے  #زکریا_شھید کے عنوان سے ٹویٹر پر متعدد پوسٹس بھی شروع کردی ہیں۔

یاد رہے کہ 7 سالہ زکریا اپنی والدہ کے ہمراہ روضہ رسولﷺ کی زیارت کیلیے جارہا تھا کہ گاڑی میں رسول ﷺو آل رسول ؑ پر درود پڑھنے کے جرم میں وہابی ڈرائیور نے ماں کے سامنے اس کے لخت جگر کو ذبح کردیا تھا۔ بچے کی ماں کی بےحال ہے اور ایک مقامی ہسپتال میں زیر علاج ہے جبکہ سعودی حکام کی جانب سے اس معاملے کو حل کرنے اور قاتل کو سزا دینے کیلیے اب تک کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں کیے گئے ہیں۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  18 ویں برسی شہید مظفر کرمانی کی مناسبت سے رفقاءشہید مظفر کرمانی کے تحت شہید مظفر کرمانیؒ اور ان کے باوفا ساتھی شہید نظیر عباس کے لیے حسینی باغ نمبر دو قبرستان میوہ شاہ میں مجلس منعقد کی گئی ۔

مجلس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ احمد اقبال رضوی نے کہا کہ بیشتر افراد شروع میں انقلابی جذبہ سے سرشار ہوتے ہیں ،مگر رفتہ رفتہ ان میں یہ جذبہ ماند پڑجاتا ہے ، آخری دم تک انقلابی رہنا اہم عمل ہے ۔ شہید کرمانی ؒ یکساں خلوص،معنویت اور جذبہ کے ساتھ آخر تک انقلابی رہے ۔شہید کرمانیؒ کا ہم و غم دین اسلام اور اس کا دفاع تھا ۔شہید ایک جامع شخص اور مخلص ترین انسان تھے ۔انہوں نے علمی وفکری سطح کے سیمینارز بھی منعقد کئے ،سیاسی مسائل سے بھی غافل نہیں رہے او ر ساتھ ساتھ سماجی اور تنظیمی امور میں بھی مصروف عمل رہے ۔

علامہ احمد اقبال نے کہا کہ بسیجی مزاج انسان زیادہ دینی فرائض کو انجام دیتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ دین کےلئے دی گئی قربانیوں کے نتیجہ میں اسیری یا شہادت ملتی ہے ۔شہادت ایک کٹھن راستہ ہے ۔شہید شجاع اور اعلیٰ صفات کا حامل ہوتا ہے ۔شہادتوں سے قوم طاقتور ہوتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ شہید کرمانیؒ اور شہید نظیر عباس کے خاندان مبارکباد کے مستحق ہیں ۔انہوں نے کہا کہ راہ حق کے شہداءکے خاندان کی خدا خصوصی مدد کرتا ہے ۔اللہ ہمیں ان شہداءکے راستے پر چلنے کی توفیق ادا کریں۔

مجلس سے قبل ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل نے دونوں شہداءکی قبور پر فاتحہ خوانی کی اور شہید مظفر اور شہید نظیر کے اہل خانہ سے خصوصی شفقت کا اظہار کیا ۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  سعودی عرب میں یزید کے پیروکار وہابی ڈرائیور نے کمسن شیعہ زائر رسول ﷺ کو بغض علی ؑ میں ماں کے سامنے ذبح کرکے ننھے علی اصغرؑ کی شہادت کی یاد تازی کردی۔

تفصیلات کے مطابق رحمت للعالمین کے شہر مدینۃ النبی میں 6سالہ شیعہ زائر رسول خداﷺ ’’زکریا‘‘ کو یزید کے پیروکار وہابی داعشی سوچ رکھنے والے ٹیکسی ڈرائیور نے اس کی ماں کے سامنے ذبح کرکے شہید کردیا۔  مدینہ منورہ میں ذبح ہونے والے بچے زکریا کی خالہ نے بتایا کہ بدھ کے دن ظہر کے وقت اس کی بہن جد ہ سے مسجد نبوی کی زیارت کیلئےآئی اور اپنے گھر تک پہنچنے کیلئےسلطان بن عبدالعزیز روڈپر بس اسٹینڈ سے ایک ٹیکسی پر سوار ہوئی ،راستے میں بچے کوپیاس لگی اور اس نے ماں سے پانی طلب کیاتو اسکی ماں نے ایک جنرل اسٹور کے سامنے رکنے کو کہا تاکہ پانی خرید سکےاور بچے کو لیکر دکان پر پانی خریدنے گئی ، گاڑی میں دوبارہ سوار ہوتے وقت ماں نےالحمد لله اور اللہم صلی علی محمد وآلہ کہا تو ڈرائیور نے پوچھا تم شیعہ ہو؟، اس نےہاں میں جواب دیا،ڈرائیور آگ بگولا ہوا اور ایک شیشہ توڑ کر اور بعض کے بقول چھری لیکر بچے کی جانب بڑھااور بچے کو پکڑ کر زمین پر لٹایا اور اللہ اکبر کہ کر ذبح کر دیا،ماں شور مچاتی رہی اور بچا ؤ کیلیے آوازیں لگاتی رہی لیکن اسکی کسی بھی راہگیریا دکاندار نے کوئی مدد نہ کی،ششدر اور بے بس ماں جب بچے کو گود میں لیکردوڑی تو وہ درندہ اس کے پیچھے آکر پوچھ رھا تھا کہ بچہ مرا ہے یا نہیں، بچے کا تعلق سعودیہ کے شہر احساء کے قریب الشعبہ نامی علاقے سے ہے اور اسکی والدہ جدہ میں ملازمت کرتی تھی۔

واضح رہے کہ شام  اور عراق سمیت دنیا بھر میں تکفیری وہابی سوچ پھیلانے کا ذمہ دار سعودی عرب ہے، اس بات کو موجودہ سعودی ولیعہد قصاب محمد بن سلمان نے علی الاعلان قبول کیا ہے۔ اس تکفیری سوچ کے سبب دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے گناہ شہید کیے جاچکے ہیں۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ حیات ہے، جس پر بھارت مسلسل حملہ آور ہے، گذشتہ چند ماہ میں مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے انسانیت سوز مظالم کی سنگین داستانیں رقم کی ہیں، جس پر عالمی اداروں کی خاموشی قابل مذمت اقدام ہے، مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیئے۔ انکا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر پر بھارتی ہٹ دھرمی اور مقبوضہ کشمیر میں بڑھتے ہوئے مظالم عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی پر اقوام عالم کی خاموشی اس حقیقت کی عکاس ہے کہ ان نام نہاد انسانی حقوق کے عالمی ٹھکیداروں کو مسلمانوں کے مسائل سے کوئی غرض نہیں۔

ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ نے یوم یکجہتی کشمیر کی مناسبت سے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت کی بڑھتی ہوئی جارحیت اور پاکستانی سرحدوں کی مسلسل خلاف ورزی بھارتی فوج کی بربریت سے دنیا کی نظریں ہٹانے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کو بھارت کے غاصبانہ تسلط سے آزاد کرانے کے لیے عالمی قوتوں کو کردار ادا کرنا ہوگا، جب تک مسئلہ کشمیر کا پرامن اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل نہیں نکلتا تب تک پورے خطے کی سلامتی کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا رہے گا، ہندوستانی حکومت مقبوضہ کشمیر میں ریاستی جبر کے ذریعے حق خود ارادیت کی آواز کو دبانا کی کوششوں میں مصروف ہے، بنیادی حقوق کے اس استحصال پر اقوام متحدہ کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مسئلہ کشمیر کو عالمی فورمز پر بھرپور انداز سے اٹھایا جائے اور کشمیریوں کی آواز کو اقوام عالم تک تک پہنچایا جائے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور سینئر حریت رہنما آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے یوم یکجہتی کے موقع پر پاکستانی قوم و قیادت کا پُرخلوص شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ 5  فروری کو پاکستانی قوم اور قیادت کشمیری محکوم و مظلوم عوام کے ساتھ یوم یکجہتی منا کر عالمی برادری کی توجہ اس دیرینہ سیاسی تنازعے کی طرف مبذول کرتی ہے، جس کے مستقل حل کے لئے بھارت اور پاکستان نے عالمی برادری کے سامنے کشمیری قوم کو حق خودارادیت دینے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری قوم سات دہائیوں سے اسی تسلیم شدہ حق خود ارادیت کے حصول کی جدوجہد کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت عالمی برادری کے سامنے کئے گئے وعدوں اور یقین دہانیوں کے برعکس کشمیریوں کی آواز دبانے کے لئے جبر و تشدد کی پالیسی پر گامزن ہے جبکہ پاکستان روز اول سے ہی کشمیریوں کے حق خودارادیت کی جرأت مندانہ وکالت کرتا چلا آرہا ہے اور اس راہ میں کئی بار پاکستان کی عرضی سالمیت بھی داؤ پر لگ چکی ہے۔

آغا سید حسن نے کہا کہ پاکستان نے ہر قسم کے حالات میں کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھ کر اس مظلوم قوم کے سیاسی جذبات اور خواہشات کی بھرپور ترجمانی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام پاکستان کے اس عظیم اور بے بدل احسان کو کبھی فراموش نہیں کرسکتے۔ آغا سید حسن نے کہا کہ اس وقت جب بھارت کشمیریوں کی تحریک آزادی کے خاتمے کیلئے ظلم و بربریت کے انتہائی بھیانک حربے آزما رہا ہے اور عالمی برادری مصلحت آمیز خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، ان حالات میں کشمیریوں کی تمام تر امیدیں اور توقعات صرف اور صرف پاکستان سے وابستہ ہیں۔ آغا سید حسن نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کی توقعات اور امیدوں کا بے بدل محور و مرکز ہے اور کشمیری قوم پُرامید ہے کہ پاکستانی قوم و قیادت تنازعہ کشمیر کے مستقل حل تک سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھ کر کشمیریوں کے ساتھ دینی اور ملی رشتوں کی بار بار تجدید کرتا رہے گا اور بحیثیت ایک اہم فریق کشمیر سے متعلق اپنے اصولی موقف پر چٹان کی طرح ڈٹا رہے گا۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر، کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیا جائے اور مسئلہ کشمیر کے مستقل حل کے لئے اُمت مسلمہ کو یکساں موقف اختیار کرنا ہوگا۔ کشمیری مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی اور ان کے موقف کی ترجمانی پاکستانی قوم کا فریضہ اور عدل و انصاف کا تقاضا ہے، لہذا اس فریضے کی ادائیگی کے لئے ہم 5 فروری کو اپنے مظلوم کشمیری بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کے لئے ”یوم یکجہتی کشمیر“ منا رہے ہیں۔ مظلوم کشمیری مسلمان نصف صدی سے زائد بھارتی ظلم و بربریت کا شکار ہیں۔ جنوبی ایشیا کا امن مسئلہ کشمیر سے وابستہ ہے، مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لئے حکومت پاکستان سفارتی محاذ پر مزید موثر کردار ادا کرے، علاوہ ازیں ان حالات میں عالمی امن کے دعویدار اداروں، انسانی حقوق کی تنظیموں اقوام متحدہ اور اسلامی سربراہی کانفرنس تنظیم کو بھی چاہیئے کہ وہ اپنا کردار ادا کرے۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ بھارت کو یک طرفہ اور جانبدارانہ پالیسیاں اور جارحانہ طرز عمل اختیار کرنے سے گریز کرتے ہوئے سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آنا چاہیئے اور مذاکرات سے پہلے کشمیر میں امن و امان کی صورت حال کو بہتر بنا کر مذاکرات کے لئے ماحول کو سازگار بنانا چاہیئے، مقبوضہ کشمیر میں اپنی افواج میں کمی کرنی چاہیئے، تشدد کا راستہ ترک کرنا چاہیئے، تاکہ دنیا پر واضح ہو جائے کہ بھارت مذاکرات کے لئے سنجیدہ ہے۔ اس ماحول کے بعد مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوں گے اور کوئی قابل عمل حل نکل سکے گا۔ علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ حسب سابق اس سال بھی غیور پاکستانی عوام 5 فروری کے موقع پر مکمل جوش و جذبے کے ساتھ اپنے پروگراموں، محافل، ریلیوں، مظاہروں اور احتجاجی پروگراموں میں کشمیری عوام کے ساتھ مکمل ہمدردی اور اظہار یکجہتی اور انہیں اپنے مکمل تعاون کا یقین دلائیں گے نیز امت مسلمہ کو مسئلہ کشمیر کے حقائق اور حل کی طرف متوجہ کریں گے۔

یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ آئے روز مختلف انداز میں مسئلہ کشمیر حل کرنے کے راستے تلاش کئے جا رہے ہیں، لیکن اس وقت تک کوئی حل قابل قبول اور قابل نفاذ نہیں ہوگا، جب تک پاکستان اور ہندوستان کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر کے تیسرے فریق یعنی کشمیری عوام کو اس عمل میں شامل کرکے کلیدی کردار نہیں دیا جاتا، کیونکہ کشمیری عوام کی رائے ہی اہمیت کی حامل ہے۔

رپورٹ: ایس اے زیدی
 
ضلع ہنگو سمیت بنگش علاقہ جات کا شمار صوبہ خیبر پختونخوا کے ان علاقوں میں ہوتا ہے، جو دہشتگردی کا بری طرح شکار رہے ہیں، ہنگو، کوہاٹ اور اورکزئی میں فرقہ وارانہ دہشتگردی کے درجنوں واقعات ہوچکے ہیں، جن میں سینکڑوں افراد شہید ہوئے۔ اس دہشتگردی اور قتل و غارت گری کا نشانہ ملت جعفریہ رہی، ان شہداء کی یاد میں ہر سال اجتماع کا اہتمام کیا جاتا ہے، اس اجتماع کی خاصیت یہ ہے کہ یہ تمام مقامی تنظیموں کی مشترکہ کاوش ہوتی ہے۔ اس مرتبہ یہ اجتماع 3 فروری بروز اتوار ہنگو شہر میں واقع قومی امام بارگاہ پاس کلے میں منعقد ہوا، اس اجتماع کو یاد شہداء کانفرنس کا نام دیا گیا۔ کانفرنس کا آغاز صبح ساڑھے نو بجے کے قریب ہوا۔ مخصوص حالات کے پیش نظر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، امام بارگاہ کے گرد و نواح اور شرکائے کانفرنس کی آمد کے راستوں پر رضاکار اور پولیس اہلکار تعینات تھے۔ کانفرنس سے صدارتی خطاب مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کرنا تھا۔
 
علاوہ ازیں امامیہ علماء کونسل خیبر پختونخوا کے سربراہ علامہ خورشید انور جوادی، علامہ سید نور محمد، ایم ڈبلیو ایم خیبر پختونخوا کے سیکرٹری جنرل علامہ سید وحید عباس کاظمی، علامہ شیر افضل اور دیگر نے شرکائے کانفرنس سے خطاب کیا۔ علامہ ارشاد علی، علامہ سید عامر عباس شمسی، علامہ باقر حسین، علامہ سید گل حسین، علامہ سید سیدین شاہ سمیت عمائدین نے کانفرنس میں شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے بزرگ عالم دین علامہ خورشید انور جوادی نے کہا کہ ہم اپنے شہداء کو نہیں بھولے، ہم پر بم دھماکے، خودکش حملے کئے گئے، ہم پر لشکر کشیاں کی گئیں،مگر ہم ثابت قدم رہے۔ ضلع ہنگو کا علاقہ شاہو خیل جس کو دہشتگردوں نے تباہ کر دیا تھا، وہاں آج تک آبادکاری نہیں ہوسکی، ہم پرامن لوگ ہیں، ہمیں صرف امن چاہیئے۔ اس اجتماع کا مقصد ان شہدائے راہ حق کو یاد رکھنا اور ان کو خراج عقیدت پیش کرنا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے ان عظیم شہداء کو ہمیشہ یاد رکھیں گے اور انہی کے نقش قدم پر چلیں گے۔ پاکستان میں شیعہ، سنی کا کوئی مسئلہ نہیں، فرقہ واریت کی یہ آگ امریکہ اور اسرائیل کی لگائی ہوئی ہے۔
 
یاد شُہداء کانفرنس سے خطاب کے دوران دیگر مقررین نے کہا کہ طاغوتی قوتوں نے دُنیا میں اسلام کا نقشہ شِدت پسندی کی شکل میں پیش کیا، جو کہ سراسر غلط ہے، اسلام ایک امن پسند دین ہے، یہ اس وجہ سے ممکن ہوا کہ امریکہ اور اسرائیل نے داعش جیسی تنظیمیں پیدا کیں اور ان پر اسلام کا لبادہ اڑھا دیا۔ مُلک اس وقت نازک صورت حال سے گُزر رہا ہے، تاہم پاکستان کی بقاء ہمارے اتحاد و اتفاق میں ہے۔ اس لئے ہمیں اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لینا ہوگا۔ انہوں نے شہدائے ملت جعفریہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہی شہداء کی قربانی کی بدولت آج ہم قدرے امن کی فضاء میں سانس لے رہے ہیں۔ جب مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری امام بارگاہ پہنچے تو علامہ خورشید انور جوادی اور دیگر علمائے کرام، عمائدین اور نوجوانوں نے ان کا امام بارگاہ کے باہر پہنچ کر لبیک یاحسین (ع) کے نعروں کیساتھ کر شاندار استقبال کیا، ان کو ہار پہنائے گئے اور پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں، جب علامہ راجہ ناصر عباس جعفری امام بارگاہ پہنچے تو شرکائے کانفرنس نے کھڑے ہوکر ان کو خوش آمدید کہا۔
 
کانفرنس سے صدارتی خطاب علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کیا، اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ اس علاقہ سمیت پورے پاکستان میں ہم پر حملے ہوئے، ہمارے ہزاروں نوجوانوں، بزرگوں، عوام، علمائے کرام کو شہید کیا گیا۔ یہ صرف ہمارے لوگوں کیساتھ نہیں بلکہ پاکستان کیساتھ ظلم ہوا، یہ قتل و غارت ہمارے خلاف اس لئے ہوئی کیونکہ ہم نے 1400 سال سے لیکر آج تک کبھی بھی ظلم کے آستانے پر سر نہیں جھکایا، یہ درس ہمیں کربلا سے ملا۔ کربلا سخت ترین حالات میں بھی ہمیں ثابت قدم رہنے اور ذلت کی زندگی کے بجائے عزت کی موت کا درس دیتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن جانتا تھا کہ جب تک پاکستان کے دفاع کی فرنٹ لائن مکتب شیعہ کو نہیں توڑا جاتا اس وقت پاکستان کو کمزور نہیں کیا جاسکتا۔ امریکہ اور اسرائیل نے لبنان، شام اور عراق کو توڑنے کی کوشش کی، لیکن وہاں کے شیعہ سنی عوام اکٹھے ہوگئے، جس کی وجہ سے ان ممالک میں امریکہ اور اس کے حواریوں کو بدترین شکست ہوئی۔ ہمارا دشمن بہت مکار ہے، وہ نت نئے طریقوں سے ہمیں کمزور کرنے کی کوششیں کرتا ہے۔
 
امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادی بعض عرب ممالک پاکستان میں اہل تشیع کی قتل و غارت گری کے ذریعے پاکستان کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ شیعہ، سُنی کو آپس میں لڑوا کر، انتشار کی فضاء پیدا کرکے ملک کو کمزور کیا جائے۔ اگر شیعہ سُنی متحد ہونگے تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ پاکستان کے دشمنوں کی کوشش تھی کہ یہاں شیعہ اور سنی کو آپس میں لڑاو اور یہ لڑائی گلی کوچوں تک پہنچ جائے، لیکن دشمن کی یہ ساری کوششیں ناکام رہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا خطہ دنیا میں اپنی ایک اہم ترین حیثیت رکھتا ہے اور پاکستان اس خطہ کا دل ہے، چین جیسے ترقی یافتہ مُلک کی ترقی کا دارومدار بھی پاکستان پر ہے۔ اس لئے امریکہ اس خطہ کو ڈسٹرب رکھنا چاہتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان امریکہ اور اسرائیل کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان دشمن اور دوست کو بڑی سمجھداری سے پہچانے، دوسروں کی امداد یا قرض پر انحصار کرنے کی بجائے اپنے آپ کو مضبوط کیا جائے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) بحرین میں آل خلیفہ نے آل سعود کے نقش قدم پر چلتے ہوئے شیعان حیدر کرارؑ پر ظلم وستم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آل خلیفہ کی نمائشی عدالت نے دو شیعہ جوانوں کو بے بنیاد الزامات لگا کر سزائے موت دے دی جبکہ فعال سیاسی رہنما شیخ علی سلمان کو بھی بے بنیاد الزام کی زد میں عمر قید کی سزا سنادی گئی۔

شیخ علی سلمان کی سزا پر رد عمل دیتے ہوئے بحرین کی بڑی عوامی جماعت جمعیت الوفاق نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ شیخ علی سلمان پر عائد کیا جانے والا الزام ثابت کرنے کے لئے آل خلیفہ حکومت کے پاس کوئی ثبوت بھی نہیں ہے بلکہ تمام دستاویزات اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ یہ الزام غلط لگایا گیا ہے۔

سزائے موت پانے والے جوانوں کے خلاف بھی کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جاسکاجبکہ اس سے قبل بھی اس ہی مقدمے میں عدالت 57 افراد کو مختلف سزائیں دے چکی ہے۔

واضح رہے کہ بحرین کی ظالم و جابر آل خلیفہ انسانی حقوق کو وسیع پیمانے پر پامال کررہی ہے۔بحرین میں دو ہزار گیارہ سے آل خلیفہ حکومت کے خلاف عوام کا پرامن احتجاج جاری ہے جبکہ آل خلیفہ حکومت پرامن مظاہرین کو مختلف بہانوں سے قتل یا ان کو ملک بدر کررہی ہے۔