شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) پاک فوج کے میجر عمران کی نماز جنازہ پشاور میں ادا کردی گئی ہے۔ ان کی نماز جنازہ میں گورنر خیبر پختونخوا اقبال ظفر جھگڑا اور کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ہدایت الرحمن سمیت دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔

زرائع کے مطابق میجر عمران گزشتہ روز جنوبی وزیرستان میں بارودی سرنگ کے دھماکے کا نشانہ بنے تھے۔ جنوبی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کی گاڑی معمول کے گشت پر تھی کہ دہشتگردوں کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی۔ خوفناک دھماکے کے نتیجے میں میجر عمران موقع پر ہی شھید جبکہ چھ سکیورٹی اہلکار زخمی ہوگئے۔ میجر عمران کی نماز جنازہ پشاور میں ادا کی گئی۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق پشاور میں حالیہ عرصے کے دوران دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں سعودی تکفیری دہشتگرد گروہ داعش ملوث ہے ،تاہم ایک منصوبے کے تحت کالعدم تحریک طالبان کے دھڑے جماعت الاحرار ان واقعات کی ذمے داری قبول کرتی آ رہی ہے۔ داعش کے سہولت کار اور دہشتگرد پیغام رسانی کیلئے سب سے محفوظ طریقہ ٹیلی گرام استعمال کرتے ہیں۔

زرائع کے مطابق چند ماہ پہلے تک کوئی بھی انٹیلی جنس ادارہ بشمول وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار عالمی تکفیری دہشتگرد داعش کے پاکستان میں وجود کو تسلیم نہیں کرتا تھا تاہم اب صورتحال تبدیل ہوگئی ہے۔انٹیلی جنس اداروں کے مطابق اس وقت سعودی دہشتگرد گروہ داعش کے کئی درجن سہولت کاروں کو کہ جن میںکالعدم سپاہِ صحابہ اور کالعدم لشکرِ جھنگوی اور دیگر تکفیری دہشتگرد گروہوں کے کئی مقامی رہنماء بھی شامل ہیں انٹیلی جنس بیورو، سی ٹی ڈی سمیت کئی دیگر اداروں کی تحویل میں ہیں،ان سے کی جانے والی تفتیش کے مطابق سعوی دہشتگرد گروہ داعش پشاورکے سربراہ کا تعلق شہرکے نواحی علاقے متنی سے ہے جو مبینہ طورپرآفریدی قبیلہ سے تعلق رکھتا ہے۔عام طور پر 5 یا6 افراد پر متشمل گروپ ہوتا ہے۔داعش کیلئے کام کرنے والے افراد میں سبزی فروش، موچی تک شامل ہیں جو آمدورفت اور ریکی کیلیے رکشاو ٹیکسی استعمال کرتے ہیں، ان کو ماہانہ کی بنیاد پر 20سے 35 ہزار روپے تک دیے جاتے ہیں، یہ افراد پیغام رسانی کیلیے میسجنر، واٹس ایپ اور دیگر ذرائع کے بجائے سب سے محفوظ طریقہ ٹیلی گرام استعمال کرتے ہیں اور اس وجہ سے داعش کے ذمے دار افراد کی نگرانی یا گرفتار کرنا مشکل کام ہے۔

انٹیلی جنس اداروں کے مطابق گلبہار، پھندو، پتنگ چوک فقیرآباد اور یکہ توت کے علاقوں میں ان کے سلیپنگ سیل موجود ہیں اور یہی سیل شہر میں پولیس، فورسز سمیت دیگر سرکاری اہلکاروں و شخصیات اور اہلِ تشیع کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہیں۔خفیہ اداروںنے داعش کا ایک گروہ پکڑا ہے جس سے تفتیشی ٹیموں کو اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں۔اسی گروپ کے رہنما حمزہ عرف عبداللہ عرف راجہ عرف راجو عرف ثابت نے ریاستی اداروں کے سامنے 19افرادکے قتل کا اعتراف کیا تھا، ان مارے جانے والے افراد میں اکثریت پولیس اور فورسز کے اہلکاروں کی تھی۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثنااللہ زہری کا کہنا ہےکہ کوئٹہ پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملے میں ملوث تکفیری دہشت گردوں کی شناخت ہوچکی ہے اور ان میں کچھ گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں۔

زرائع کے مطابق ایک ٹی وی چینل کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان ثنااللہ زہری نے کہا کہ کوئٹہ واقعہ پر ہائی لیول کا انکوائری کمیشن بٹھارہے ہیں جس میں سول و ملٹری افسران شامل ہوں گے اور واقعہ میں جس کی بھی نا اہلی ہوئی اسے سزا دیں گے، حتیٰ کہ واقعہ میں آئی جی پولیس اور چیف سیکریٹری تک ذمہ دار پائے گئے تو اس پر بھی کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، ذمہ داروں کو نہ صرف فارغ کریں گے اگر سزائیں دینا پڑیں تو سزائیں بھی دیں گے اور جیل میں بھی ڈالیں گے۔وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی یہ ذمہ داری نہیں کہ وہ پولیس کو تحفظ دے بلکہ پولیس کی ذمہ داری وزیراعلیٰ کو تحفظ دینا ہے اور تکفیری دہشت گردوں کو روکنا بھی میری ذمہ داری نہیں، میں نے تھریٹ الرٹ سے متعلقہ اداروں کو آگاہ کردیا تھا جس میں پولیس اور ایف سی بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹریننگ سینٹر میں واچ ٹاور بھی میں نے ہی بنوائے، میں کوئی ٹھیکیدار نہیں جو کھڑے ہوکر دیواریں بنواؤں، میرا کام احکامات دینا ہے اور ان احکامات کے بعد پیپرا رول کے تحت 45 دن لگتے ہیں تاکہ ٹینڈر میں کوئی گھپلا نہ ہو۔

ثنااللہ زہری کا کہنا تھا کہ تکفیری دہشتگرد واپس جانے کے لیے نہیں آتے لیکن ہماری فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 600 کے قریب جوانوں کو بچایا جس کا ہمیں کریڈٹ دیئے جانا چاہیے، ہماری فورسز نے ایک بہت بڑے علاقے کو صرف 4 گھنٹےمیں کلیئر کرایا اور بہت سے جگہوں پر ایسے واقعات میں 72 گھنٹے بھی لگے ہیں لیکن ہماری فورسز نے قربانیاں دیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں ایسے دھماکے بھی ہوئے جس میں 150 تک لوگ شہید ہوئے، اگر ہم خواب خرگوش میں ہوتے یا ہماری فورسز کمزور ہوتیں تو یہ ہماری وہ حالت کرتے جو آج شام کی ہے، ہم 9 واقعات کو روکتے ہیں لیکن دسواں ہوجاتا ہے جس پر ہمیں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اس سے ہماری فورسز کا مورال گرتا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں بھارت ملوث ہے جس کے ثبوت موجود ہیں، ’’را‘‘ نے صوبے میں اربوں روپے کی فنڈنگ کررکھی ہے، صوبے میں جاسوسوں کا نیٹ ورک ہے اور کلبھوشن سے زیادہ بڑا نیٹ ورک کیا پکڑیں، کلبھوشن کے لوگ گرفتار ہوئے جس میں پاکستانی بھی شامل ہیں جو ہمارے آستین کے سانپ اور ملک کے دشمن ہیں۔ ثنااللہ زہری نے کہا کہ کلبھوشن جیسے اور بھی لوگ ہوں گے جنہیں ہم پکڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ ٹریننگ سینٹر پر حملے کے ذمہ داروں تک پہنچ رہے ہیں اور ان کی شناخت ہوچکی ہے جب کہ اس حوالے سے کچھ گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں لیکن ابھی پورا نیٹ ورک نہیں پکڑا گیا۔نواب ثنااللہ زہری نے بتایا کہ ٹریننگ سینٹر پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں کا افغانستان کے علاقے اسپن بولدک میں اپنے امیر سے رابطہ تھا اور وہ فارسی بول رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ لشکر جھنگوی اور داعش آپس میں ملے ہوئے ہیں، لشکر جھنگوی داعش سے خودکش بمبار لیتی ہے اور انہیں استعمال کرتی ہے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) سیکیورٹی فورسز نے کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی میں کاروائی کرتے ہوئے کالعدم تکفیری دہشتگرد گروہوںکے خلاف کاروائی کرتے ہوئے 4 تکفیری دہشتگردوں کو واصلِ جہنم کرکے بھاری تعداد میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد کرلیا۔

زرائع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی میں کالعدم سپاہِ صحابہ (اہلسنت و الجماعت) کے دہشتگردوں کی اطلاع ملنے پر حساس ادارے کے ہمراہ مشترکی کاروائی کرتے ہوئے 4 خطرناک تکفیری دہشتگردوں کو جہنم واصل کردیا،مارے گئے تکفیری دہشتگردوں کےپاس سے بھاری تعداد میں اسلحۃ و گولہ بارود بھی برآمد کرلیا گیا۔اطلاعات کے مطابق سیکیرٹی فورسز کے اہلکاروں نے ہزار گنجی میں واقع ایک مکان کا جیسے ہی گھیراؤ کیا، گھر میں موجود تکفیری دہشتگردوں نے سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ کردی۔دہشت گردوں کی فائرنگ کا بروقت جواب دیتے ہوئے سیکیورٹی فورسز نے 4 تکفیری دہشتگردوں واصلِ جہنم کردیا۔قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ترجمان کے مطابق ہزار گنجی میں قانون نافذ کرنے والےادارے اور حساس ادارے کے مشترکہ آپریشن میں واصلِ جہنم ہونے والے چاروں تکفیری دہشتگردوں کا تعلق ملک دشمن، اسلام دشمن کالعدم تکفیری دہشتگرد گروہ سپاہِ صحابہ (اہلسنت و الجماعت) سے تھا۔مارے گئے تکفیری دہشتگردوں کے قبضے سے بھاری تعداد میں اسلحہ و گولہ بارود کے علاوہ 5 خودکش جیکٹس بھی برآمد ہوئیں۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ مقابلے کے دوران تکفیری دہشتگردوں نے کمپاؤنڈ سے ایک دستی بم بھی پھینکا جس کے پھٹنے سے 3 سیکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہوئے۔زخمی اہلکاروں کو بولان میڈیکل کمپلیکس منتقل کیا گیا۔بعد ازاں مزید سیکیورٹی اہلکاروں کو طلب کیا گیا، جنہوں نے علاقے کو اپنے حصار میں لے لیا۔خیال رہے کہ 24 اکتوبر کی رات بھی کالعدم تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کے 3 دہشتگردووں نے کوئٹہ کے پولیس ٹریننگ کالج پر اس وقت دھاوا بولا جب کیڈٹس آرام کررہے تھے جس کے بعد فائرنگ اور دھماکوں کا آغاز ہوگیا۔بھاری ہتھیاروں اور خود کش جیکٹس سے لیس تکفیری دہشت گردوں کے اس حملے میں 61 اہلکار شھید اور 110 سے زائد زخمی ہوئے۔ اس حملے کے داعش کی جانب سے حملہ آور تینوں دہشت گردوں کی تصاویر بھی جاری کی گئیں۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) سانحہ کوئٹہ پر پوری قوم سوگوار ہے، پولیس ٹریننگ سنٹر پر حملہ ملک پر حملے کے مترادف ہے، پاک فوج نے ضرب عضب کے ذریعے تکفیری دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے، لیکن ابھی تک ان کے بعض سہولت کا ملک میں موجود ہیں جب تک ان کا خاتمہ نہیں ہو جاتا ملک میں امن کا قیام ممکن نہیں۔

زرائع کے مطابق ان خیالات کا اظہار پاکستان مسلم لیگ (ن) خوشاب کی رہنما اور سابق وفاقی وزیر سمیر ملک نے ہخوشاب میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کیا۔ سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ تکفیری دہشتگرد کسی رعایت کے مستحق نہیں، کوئٹہ میں پولیس ٹریننگ سنٹر پر ہونیوالا حملہ دہشت گردی اور لاقانونیت کی بدترین مثال ہے، اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، مسلم لیگ ن کی حکومت اس المناک سانحہ میں ملوث عناصر اور اُن کے سہولت کاروں کو چن چن کر کیفر کردار تک پہنچائے گی۔

انہوں نے کہا کہ پولیس ٹریننگ سنٹر میں خون کی ہولی کے پس پردہ کردار بھی سزا سے نہیں بچ سکیں گے، آپریشن ضرب عضب کے نتیجہ میں تکفیری دہشت گردوںاور اُن کے سہولت کار بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، ملک جلد امن کا گہو ارہ بن جائے گا۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )جعفریہ الائنس پاکستان کے سربراہ علامہ عباس کمیلی کا کہنا ہے کہ کالعدم تکفیری دہشتگرد گروہ لشکرِ جھنگوی کی جانب سے کوئٹہ پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت اور واقعہ میں شھید ہونے والے افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی کرتے ہیں۔

زرائع کے مطابق اپنی رہائش گاہ پر علماء کرام کے وفد سے گفتگو میں علامہ عباس کمیلی کا کہنا تھا کہ یہ کاروائی اسلام دشمن اور پاکستان دشمن عناصر کی کاروائی ہے، بزدل تکفیری دہشت گردوں کے ان حملوں سے قوم کے حوصلے پست نہیں ہوں گے، یہ درندہ صفت دہشت گرد بے گناہ انسانوں کو مذہب کے نام پر قتل کر رہے ہیں جو اسلام میں کسی بھی صورت جائز نہیں ہے، ان تکفیری دہشت گردوں کا کوئی دین ہے اور نہ مذہب بلکہ یہ استعمار کے ایجنٹ ہیں، اس ملک میں ایجنسیوں کا اتنا بڑا نیٹ ورک ہونے کے باوجود اس طرح کے واقعات کا ہونا سیکیورٹی اداروں کے لیے سوالیہ نشان ہے۔

علامہ عباس کمیلی نے مزید کہا کہ آپریشن ضرب عضب کو ناکام بنانے کے لئے مختلف قوتیں بیرونی سازشی عناصر کی ایماء پر برسرپیکار ہیں اس کا قلع قمع کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، ملک بھر میں امن کے قیام کے لئے نیشنل ایکشن پلان کا اصلی روح پہ عمل در آمد کرانا بہت ضروری ہے ورنہ اب تک ہونے والی تمام محنت ضائع ہو جائے گی، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عوام کے جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنائے اور اس واقعہ میں ملوث دہشت گردوں کو گرفتار کر کے سزا دے کیونکہ شہداء کے گھرانے انصاف کے منتظر ہیں۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )کوئٹہ پولیس ٹریننگ سینٹر پر کالعدم لشکرِ جھنگوی کی دہشتگردوں سے مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے شدید زخمی ہونے والا فوجی کمانڈو زخموں کی تاب نا لاتے ہوئے دم توڑ گیا جس سے شہدا کی تعداد 62 ہوگئی ہے، کوئٹہ شہر میں مکمل ہڑتال رہی، حملے میں شہید ہونیوالے متعدد اہلکاروں کی نماز جنازہ پنجاب کے مختلف شہروں میں ادا کی گئی، ملک بھر میں وکلا نے سوگ میں ہڑتال کی۔

زرائع کے مطابق کوئٹہ پولیس ٹریننگ سینٹر پر کالعدم لشکرِ جھنگوی کے دہشتگردوں کے حملے میں جوابی کاروائی کے دوران شدید زخمی ہونیوالا کمانڈو سجاد سی ایم ایچ اسپتال میں زخموں کی تاب نا لاتے ہوئے شھید ہوگیا، اس طرح سانحہ میں شہدا کی تعداد 62 ہوگئی۔ساجد کا تعلق پاک فوج کے اسپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) سے تھا۔ حملے کی اطلاع ملنے پر پاک فوج کی جانب سے موقع پر پہنچنے والے ایس ایس جی کے پہلے دستے میں سپاہی ساجد بھی شامل تھا،جس نے انتہائی دلیری کے ساتھ تکفیری دہشت گردوں کا مقابلہ کیا، اور شدید زخمی حالت میں اسپتال میں دوران علاج زخموں کی تاب نا لاتے ہوئے شھید ہوگیا۔

دوسری جانب سانحہ کوئٹہ میں شہید ہونیوالے پولیس اہلکاروں کی تدفین پنجاب کے مختلف شہروں میں کردی گئی ہے، نماز جنازہ میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
ساہیوال کے نواحی چک 9-96 ایل میں شہید محمد عباس کانسٹیبل، گوجرہ میں فوجی جوان کمانڈو محمد ساجد، وہوا ابرار احمد کی نماز جنازہ کی گئیں اور انہیں سپردخاک کردیا گیا۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )کوئٹہ پولیس ٹریننگ کالج میں کالعدم لشکرِ جھنگوی کے دہشت گردوں کے حملے کے بعد پاک فوج کے جوابی آپریشن کے دوران کیپٹن روح اللہ نے جواں مردی سے لڑتے ہوئے کس طرح جام شہادت نوش کیا۔

زرائع کے مطابق کوئٹہ پولیس ٹریننگ کالج میں حملے کے دوران محفوظ رہنے والے ایک اہلکار نے شہید کیپٹن روح اللہ کے حوالے سے بتایا کہ آپریشن کے دوران جب وہ ہمارے کمرے میں داخل ہوئے تو انہوں نے پوچھا کہ سب اپنے بندے ہیں تو ہم سمجھے کہ یہ خود کش بمبا رہے جو ہمیں بلارہا ہے لیکن انہوں نے کہا کہ میں ایس ایس جی کا جوان ہوں آپ اپنے بندے ہو تو ہم نے کہا یس سر ہم پولیس کے کیڈٹس ہیں جس پر انہوں نے کہا بیٹا ہاتھ اوپر کرکے باہر نکلو تو ہم جب باہر نکلنے لگے تو کپیٹن نے کہا کہ یہ چارپائی کے نیچے کون ہے جب انہوں نے چارپائی کو لات ماری تو خود کش بمبار اس کے نیچے چھپا ہوا تھا تو کیپٹن روح اللہ یکدم اس سےلپٹ گئے اوراس کے بعد زورداردھماکا ہوگیا اور یوں اس طرح انہوں نے جام شہادت نوش کیا۔

اطلاعات کے مطابق شہیدکیپٹن روح اللہ کا تعلق پشاور کی تحصیل شبقدر سے تھاجبکہ آرمی چیف نے شہید کو تمغہ جرات سے نوازنے کا اعلان کیا ہے۔شھادت سے قبل شہید کیپٹن روح اللہ اپنے فیس بک پیج پر آخری مرتبہ 11 اکتوبر کو سہ پہر ایک بجکر 37 منٹ پر پروفائل پکچر تبدیل کی جس پر پیغام درج ہے ” ہم سب میں ایک فوجی چھپا ہے اور جب فرض کا حکم آجائے تو تیار رہیں”۔ شہید کیپٹن کی اس تصویر پر ان کی شہادت کے بعد قریبی دوست اپنی رائے کا اظہار کررہے ہیں جب کہ ساجد وزیر لکھتے ہیں کہ آپ پوری قوم کے لئے فخر کا نشان ہیں اللہ تعالیٰ روح اللہ کو جنت الفردوس میں جگہ عطا کرے۔ چوہدری عثمان لکھتے ہیں کہ خود تو جنت میں جگہ بنا لی اور ہمیں اداس چھوڑ دیا۔شہید کیپٹن روح اللہ ایلیٹ آرمی کمانڈو تھے اور ان کا تعلق پشاور کی تحصیل شبقدر سے تھاجب کہ آرمی چیف نے شہید کیپٹن کو تمغہ جرات سے نوازنے کا اعلان کیا ہے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )بھاری ہتھیاروں اور خود کش جیکٹس سے لیس کالعدم لشکرِ جھنگوی کے سفاک دہشت گردوں نے کوئٹہ کے پولیس ٹریننگ کالج پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں 60 اہلکار شھید اور 120 زخمی ہوگئے۔

زرائع کے مطابق کالعدم لشکرِ جھنگوی کے تین تکفیری دہشتگردوں گزشتہ رات 11 بجکر 10 منٹ پر پولیس ٹریننگ کالج پر اس وقت دھاوا بولا جب کیڈٹس آرام کررہے تھے جس کے بعد فائرنگ اور دھماکوں کا آغاز ہوگیا۔وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی نے تصدیق کی کہ واقعے میں 60 اہلکار شھید اور 117 زخمی ہوئے جبکہ ایک تکفیری خود کش حملہ آور کی لاش کو قبضے میں لے لیا گیا۔اطلاعات کے مطابق عام طور پر اس اکیڈمی میں 700 کے قریب کیڈٹس موجود ہوتے ہیں، ایک زخمی کیڈٹ نے بتایا کہ جب حملہ ہوا تو کیڈٹس کے آرام کا وقت تھا اور اس موقع پر افرا تفری پھیل گئی جبکہ ان کے پاس رائفل بھی موجود نہیں تھا جس سے وہ تکفیری دہشتگردوں کا مقابلہ کرسکتے۔ حملے کے بعد جائے وقوع پر فرنٹیئر کوراور ایس ایس جی کمانڈوز پہنچے جنہوں نے ریسکیو آپریشن شروع کیا۔

زرائع کے مطابق دو تکفیری خودکش حملہ آوروں نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا اور زیادہ تر شھادتیں ان دھماکوں کے نتیجے میں ہی ہوئیں جبکہ تیسرے تکفیری دہشتگرد کو فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے جہنم واصل کیا۔سیکیورٹی زرائع کے مطابق تین تکفیری دہشت گردوں نے رات 11 بجکر 10 منٹ پر پولیس کالج پر حملہ کیا، جسمیں60 اہلکار شھید ہوئے جن میں زیادہ تر کیڈٹس تھے۔117 افراد زخمی ہوئے۔سیکیورٹی فورسز نے کاروائی کرتے ہوئےتمام تکفیری دہشتگردوںکو واصلِ جہنم کردیا ۔

ایک کیڈٹ نے بتایا کہ ’میں نے تین نقاب پوش تکفیری دہشتگردوں کو دیکھا جن کے پاس کلاشنکوف تھیں، وہ سینٹر میں داخل ہوئے اور فائرنگ شروع کردی تاہم میں دیوار کود کر بچ نکلنے میں کامیاب رہا‘۔بلوچستان کے وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے حملے کے بعد میڈیا کو بتایا کہ واقعے میں تین تکفیری دہشت گرد ملوث تھے، انہوں نے پہلے واچ ٹاور میں موجود گارڈ کو نشانہ بنایا اور پھر اندر اکیڈمی گراؤنڈز میں داخل ہوگئے۔علاوہ ازیں جوابی آپریشن کی قیادت کرنے والے فرنٹیئر کانسٹیبلری(ایف سی) بلوچستان کے آئی جی میجر جنرل شیر افگن نے بتایا کہ ’ایف سی کے آنے کے تین سے چار گھنٹے بعد صورتحال پر قابو پالیا گیا‘۔انہوں نے بتایا کہ تکفیری دہشت گرد افغانستان میں موجود اپنے ساتھیوں سے مسلسل رابطے میں تھے، تینوں تکفیری دہشتگردوں نے خود کش جیکٹس بھی پہن رکھی تھیں۔انہوں نے کہا کہ دو تکفیری دہشتگردوںنے خود کو دھماکے سے اڑالیا جبکہ تیسرے دہشت گرد کو سیکیورٹی اہلکاروں نے جہنم واصل کیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ تکفیری دہشت گردوں کا تعلق لشکر جھنگوی العالمی گروپ سے ہے۔

ریسکیو آپریشن
وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ پولیس ٹریننگ کالج میں تقریباً 700 کے قریب کیڈٹس موجود تھے جن میں سے زیادہ تر کیڈٹس کو بحفاظت بازیاب کرالیا گیا۔
جوابی کارروائی میں اندھیرے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ زخمیوں کو ہسپتال لے جانے کے لیے ایمبولنس کالج کے اندر آتی جاتی رہیں ، اس دوران کئی ہیلی کاپٹرز بھی فضاء میں گشت کررہے تھے۔جائے وقوع پر موجود پولیس اور سول انتظامیہ کے اہلکاروں نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ حملے کے دوران کئی زور دار دھماکے بھی سنائی دیے۔کم سے کم 65 زخمیوں کو سول ہسپتال لایا گیا جن میں سے پانچ کو گولیاں لگیں جبکہ ان میں سے تین کی حالت تشویشناک بتائی گئی۔

واضح رہے کہ پولیس ٹریننگ کالج سریاب روڈ پر واقع ہے جو کہ کوئٹہ کے حساس ترین علاقوں میں سے ایک ہے اور اس علاقے میں شدت پسند تقریباً ایک دہائی سے سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتے آرہے ہیں۔کالج کا رقبہ تقریباً ایک ایکڑ ہے اور یہ مرکزی کوئٹہ شہر سے تقریباً 13 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ایک عینی شاہد نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے تین تکفیری دہشت گردوں کو براہ راست بیرکس میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا۔اس نے بتایا کہ تینوں تکفیریدہشت گرد شال اوڑھے ہوئے تھے اور انہوں نے اچانک فائرنگ شروع کردی جس کے بعد ہم سڑھیوں اور خارجی راستے کی جانب بھاگنے لگے‘۔قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ایک سینئر عہدے دار نے بتایا کہ حملہ آوروں نے ٹریننگ سینٹر پر پانچ مختلف سمتوں سے فائرنگ کی۔


یہ اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ دو حملہ آور واچ ٹاور کے گارڈ کو ہلاک کرکے مرکزی دروازے سے داخل ہوئے جبکہ ایک حملہ آور کمپاؤنڈ کی پچھلی دیوار کود کر اندر آیا۔ ایس ایس پی آپریشنز محمد اقبال نے بتایا کہ دو تکفیری دہشتگرد مرکزی دروازے سے داخل ہوئے۔انہوں نے مزید بتایا کہ تین میں سے ایک تکفیری دہشتگرد کی خود کش جیکٹ پھٹ سکی جس کی لاش سینٹر کے احاطے میں ملی۔انھوں نے بتایا کہ مزید کسی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے کوئٹہ کے ہسپتالوں کے باہر سیکیورٹی کے غیرمعمولی اقدامات کئے گئے بالخصوص 8 اگست کو تکفیری دہشت گردوں کی جانب سے سول ہسپتال کو نشانہ بنائے جانے کے بعد اس طرح کی صورت حال سے بچنے کے لیے خصوصی اقدامات کئے گئے۔

ادھر صوبائی حکام کا کہنا تھا کہ واقعے کے بعد کوئٹہ کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرکے عملے کو فوری طور پر طلب کرلیا گیا۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )پنجاب میں پولیس جرائم پیشہ لوگوں کیخلاف کارروائیوں کی مکمل صلاحیت موجود ہے، جب بھی ضروری ہوتا ہے فوج اور رینجرز کی مدد حاصل کر لی جاتی ہے، پولیس مقابلے آئی جی یا پنجاب حکومت کی پالیسی نہیں، جرائم پیشہ لوگ جب گولی چلاتے ہیں انکو اس کا جواب ضرور دیا جاتا ہے، وفاقی حکومت نے 2 نومبر کی سیکورٹی کیلئے پنجاب پولیس سے ابھی تک کوئی فورس نہیں مانگی، ہم ہمیشہ تحریک انصاف کے جلسوں میں سیکورٹی فراہم کرتے ہیں۔

زرائع کے مطابق ان خیالات کا اظہار آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےکیا۔ مشتاق سکھیرا کا کہنا تھا کہ پنجاب پولیس سے فوجی اور سول انٹیلی جنس ادارے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے مکمل تعاون کر رہے ہیں، انسداد دہشگردی فورس تکفیری دہشتگردوں کیخلاف کارروائیوں میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا نے کہا کہ پنجاب میں تکفیری دہشتگردوں کیخلاف کارروائی کیلئے پولیس مکمل آزادی کیساتھ کام کر رہی ہے اور یہ کہنا کہ پولیس باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت جرائم پیشہ لوگوں کو پولیس مقابلوں میں مار رہی ہے تو ایسا کسی بھی صورت درست نہیں کیونکہ اس حوالے سے پنجاب حکومت یا میری جانب سے کسی قسم کی کوئی پالیسی نہیں۔

ایک سوال کے جواب میں آئی جی پنجاب نے کہا کہ پنجاب میں تکفیری دہشتگردوں کیخلاف زیادہ آپریشن فوج اور دیگر اداروں کی مدد سے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے 2 سال سے زائد ہو چکے ہیں، پنجاب میں سیاسی انتقامی کارروائی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف نے ہمیشہ مجھے انصاف کا حکم دیا ہے اور پنجاب پولیس میں کسی قسم کی سیاسی مداخلت نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کا معاملہ اب عدالت میں ہے جو بھی فیصلہ ہوگا وہ عدالت نے کرنا ہے۔