پاکستانی شیعہ خبریں

تحریک پاکستان، تحریک کربلا کا تسلسل تھی، علامہ ساجد نقوی

sajid naqvi sucعلامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ ایام عزاء کے دوران بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا یوم ولادت مناتے وقت ہمیں اس بات کو پیش نظر رکھنا ہوگا کہ بابائے قوم کی مخلصانہ جدوجہد کے نتیجے میں پاک سرزمین درحقیقت اسلام کے نام پر وجود میں آئی اور یہ تحریک بھی گویا تحریک کربلا کا تسلسل تھی، لہذا قائداعظم نے پرجوش عوامی جدوجہد کے ہمراہ جس آزاد اور خود مختار مملکت کے قیام کی جدوجہد کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اس کی سالمیت اور بقا کے لئے ملک کے تمام طبقات کے ساتھ ساتھ حکمران طبقہ پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ موجودہ سنگین حالات تمام محب وطن طبقات سے یہ تقاضا کرتے ہیں کہ وہ جذبہ حب الوطنی سے سرشار ہو کر اپنے تمام اختلافات کو پسں پشت ڈال کر متحد ہوجائیں، کیونکہ 65 سال گزرنے کے باوجود یہی مشاہدہ سامنے آیا ہے کہ عوامی طبقات نے تو خاطر خواہ اپنی ذمہ داریاں ادا کی ہیں اور غربت، افلاس، تنگدستی اور دیگر مسائل و مشکلات کو برداشت کرتے ہوئے وطن عزیز کی سالمیت کے تحفظ کے لئے قربانیاں دی ہیں، لیکن حکمران طبقے نے اپنی ذمہ داریاں دیانت داری سے ادا کرنے میں تساہل سے کام لیا ہے۔

بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کے یوم ولادت اور کرسمس کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں انہوں نے کہا کہ ملک کے تمام مکاتب و مسالک کے ہمراہ مسیحی بھائیوں نے بھی تشکیل پاکستان میں انتھک جدوجہد کرتے ہوئے بے مثال قربانیاں پیش کیں اور اس وقت تعمیر پاکستان میں برابر کے شریک ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کی ان اقلیتوں کو کسی بھی مرحلے پر عدم تحفظ یا امتیازی سلوک کا احساس نہ ہونے دیا جائے اور ہر حال میں ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وطن عزیز کا یہ المیہ رہا ہے کہ یہاں طبقاتی تفاوت، عدم مساوات، عدل و انصاف کا فقدان چلا آرہا ہے، جس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ حکمران طبقوں نے جو نظام رائج اور متعارف کرایا، اس نظام میں عوام کی حالت زار کو بہتر بنانے سے زیادہ ان کے اپنے مفادات کا حصول اور تحفظ جیسے مقاصد کارفرما رہے ہیں، جس پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
 علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح کے پاکستان کو داخلی طور پر مضبوط، مستحکم اور خوشحال بنانے کے لئے لازم ہے کہ حکمران طبقات اچھے اور بروں کی تمیز کو یقینی بنائیں، تاکہ معاشرے سے بگاڑ اور انتشار و انارکی کا خاتمہ ہوسکے۔ ظالم و مظلوم، قاتل و مقتول، دہشت گرد و امن پسندوں میں فرق کئے بغیر توازن کی ظالمانہ پالیسیوں پر عمل پیرا رہ کر کبھی بھی ملکی سلامتی اور قومی وحدت کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button