پاکستانی شیعہ خبریں

رحیم یار خان، اورنگزیب فاروقی پر فائرنگ کے واقعہ کیخلاف احتجاج، کالعدم سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں نے علم پاک جلا دیا

allam mola abbasکالعدم سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں نے گذشتہ روز جماعت اہلسنت و الجماعت کے مرکزی رہنماء مولانا اورنگزیب فاروقی پر مبینہ قاتلانہ حملے کیخلاف رحیم یار خان کے علاقے چوک بہادر پور میں احتجاج کیا اور قومی شاہراہ ’’کے ایل پی روڈ‘‘ کو کئی گھنٹوں تک بلاک کیے رکھا۔ اس دوران مقامی رہنماؤں نے ملت تشیع کیخلاف حسب روایت اپنی غلیظ زبان جا رہی رکھی اور مولانا فاروقی پر مبینہ قاتلانہ حملے کو شیعہ قوم پر بغیر کسی تصدیق اور تحقیق کے تھونپنے کی کوشش کی۔ مقررین نے مظاہرین کو خوب اشتعال دلایا اور قریب ہی واقع قبرستان میں ایک مزار پر نصب علم حضرت عباس (ع) کو جلانے کا کہا گیا۔ جس پر مشتعل مظاہرین نے علم پاک کو اتار کر پہلے بے حرمتی کی اور بعد میں آگ لگا دی۔ اس دوران غلیظ نعرے بھی تواتر سے لگائے جاتے رہے۔

انتظامیہ کی بڑی تعداد موقع پر موجود ہونے کے باوجود دہشتگردوں کیخلاف کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس احتجاج کو آرگنائز کرنے میں ملک اسحاق کا بیٹا عثمان براہ راست ملوث ہے اور تمام تر ہدایات اس کی طرف سے موصول ہوتی رہیں۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی گرد و نواح سے سینکڑوں شیعہ افراد بھی جمع ہوگئے اور رات گئے تک اس واقعہ اور کالعدم سپاہ صحابہ کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر سوچ بیچار کرتے رہے۔ مقامی شیعہ رہنماؤں نے واقعہ کیخلاف ایک درخواست بھی پولیس چوکی بہادر پور میں جمع کرا دی ہے اور آج باقاعدہ ایف آئی آر درج کرائی جائیگی۔ تاہم قوی امکان ہے کہ دہشتگردوں کے خوف سے یہ ایف آئی آر درج نہ ہو سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کالعدم سپاہ صحابہ کی جانب سے قانونی کارروائی سے بچنے کیلئے اپنے ایک ساتھی کے اغوا کا ڈرامہ رچایا جا رہا ہے تاکہ پولیس پر پریشر ڈالا جا سکے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button