پاکستانی شیعہ خبریں

کراچی :مہران بیس حملہ کیس کے تفتیشی افسر لیفٹنینٹ کمانڈرعظیم حیدر کاظمی وھابی دہشتگردوں کی فائرنگ سے زخمی

navy logoشیعت نیوز کے نمائندے کے مطابق کیماڑی پورٹ کے نزدیک امریکی و سعودی نواز کالعدم سپاہ صحابہ (سپاہ یزید )کے دہشت گردوں کی فائرنگ سے مہران بیس حملہ کیس کے تفتیشی افسر لیفٹنینٹ کمانڈرسید عظیم حیدر کاظمی شدیدزخمی ہو گئے ہیں ۔ وقوعہ کے بعدانہیں شدید زخمی حالت میں پی این ایس شفاء منتقل کر دیا گیا ہے ۔ جہاں ڈاکٹرانکی جان بچانے میں مصروف ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق آج صبح کیماڑی پورٹ کے گیٹ نمبر ۱۵پر ڈیوٹی کیلئے پہنچنے والے لیفٹنینٹ کمانڈر پاکستا ن نیوی سید عظیم حیدر کاظمی پر پہلے سے گھات لگائے دہشتگردوں نے اندھادھند فائرنگ کر دی ، مسلّح دہشتگردوں کی فائرنگ سے عظیم حیدرکاظمی کو ۴ گولیاں لگیں ہیں ، اطلاعات کے مطابق پی این ایس شفاء میں انکی حالت انتہائی تشویش نا ک بتائی جارہی ہے اور انہیں وینٹلیٹر پر رکھا گیا ہے ۔زرائع کے مطابق قانون نافذ کر نے والے ادارے دہشت گردی کی اس کاروائی کو پہلے اسٹریٹ کرائم کی واردات قرار دے رہے تھے لیکن جن انہیں معلوم ہوا کے لیفٹنینٹ کمانڈر پاکستا ن نیوی سید عظیم حیدر کاظمی۲ برس قبل مہران بیس کراچی پر ہونے والے حملہ کیس کے تفتیشی افسرہیں ، اور اسٹریٹ کرائم کی واردات میں کوئی ڈکیت بغیر کچھ لوٹے ۴ گولیاں کسی کونہیں مارتا ، اس کے بعد تفتیشی اداروں نے اپنا موقف تبدیل کیا اور اس کاروائی کو ٹارگٹ کلنگ قرار دے دیا ۔
واضح رہے کہ لیفٹنینٹ کمانڈر پاکستا ن نیوی سید عظیم حیدر کاظمی کا تعلق خیر پور کے محلے نیاء گوٹھ کے شیعہ گھرانے سے ہے ۔ پاکستان نیوی کے شیعہ افسران کو نشانہ بنانے کا شروع ہونے والا یہ سلسلہ انتہائی تشویش ناک ہے چند روز قبل ہی لیفٹنینٹ کمانڈر پاکستا ن نیوی سیدآصف حسین کاظمی کو انکی اہلیہ کے ساتھ پی این ایس راحت کراچی میں دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ وھابی دہشتگردوں نے میگنٹ بم انکی کار کی ڈرائیونگ سیٹ کے نیچے نصب کیا تھا جس کے دھماکے کے نتیجے میں آصف حسین کاظمی اور انکی اہلیہ شدید زخمی ہو ئی تھیں اور دوران علاج ڈاکٹرز نے آصف حسین کاظمی کی دونوں ٹانگین کاٹ دیں ہیں ۔
خفیہ ایجنسیوں اور قانون نافذ کر نے والے اداروں کو اس جانب توجہ دینی ہو گی کے دہشتگرد کس طرح عام شہریوں کے بعد اب مسلّح افواج کے شیعہ افسران کوبھی با آسانی دہشتگردی کا نشانہ بنارہے ہیں ۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button