مضامین

سعودی حکومت کے خاتمے کا امکان

amrica saudiaمریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ایک ریسرچ اسکالر بروس ریڈل نے اپنے تجزيے میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ سعودی حکومت کے خاتمے کے جتنے امکان اس وقت روشن ہیں، اس سے پہلے کبھی نہ تھے۔ ریڈل کا کہنا ہے کہ آل سعود کے شاہی نظام کا خاتمہ کسی بھی استبدادی نظام کے خاتمے کی آخری مثال ہوگا۔ سی آئی اے کے اس محقق نے پیشگوئی کی ہے کہ آل سعود حکومت کا خاتمہ باراک اوباما کے دور میں ہی انجام پائے گا۔ سی آئی اے کے اس محقق کا کہنا ہے کہ سعودی حکومت کو صرف شیعہ مسلمانوں کا سامنا نہیں ہے بلکہ اس ڈکٹیٹر حکومت کے خلاف نفرتوں اور احتجاج کا نہ رکنے والا سلسلہ روز بروز بڑھ رہا ہے اور یہ احتجاجی تحریک پورے ملک میں سرایت کر رہی ہے۔ سی آئی اے کے ریسرچ اسکالر بروس ریڈل نے امریکی حکام سے کہا ہے کہ وہ امریکی مفادات کے تحفظ کے لئے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نبٹنے کے لئے موثر اقدامات کریں۔

امریکی جاسوسوں کے تجزیوں کو پڑھ کر باآسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سعودی حکام شیخ نمر باقر النمر کی سزا کے ردعمل سے کیوں خوفزدہ ہیں۔ سعودی عرب کے بارے میں تجزیہ کرنے والے غیر جانبدار حلقوں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں ایک عوامی انقلاب کے لئے زمین مکمل تیار ہے اور سعودی عرب کی صورتحال ان ممالک سے کہیں زيادہ خراب ہے، جن ممالک میں تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں۔ آل سعود کی ڈکٹیٹر حکومت اس مشکل سے نکلنے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے اور اس نے اس انقلاب اور تبدیلی کو اپنی سرحدوں سے باہر رکھنے کے لئے بحرین میں کھلی مداخلت کا ارتکاب کیا ہے اور وہاں کی عوامی تحریک کو دبانے کے لئے ہزاروں فوجی بھیجنے سے بھی دریغ نہیں کیا۔

آل سعود نے پہلے مرحلے میں سعودی عرب میں مخالفین کو سختی سے کچلنے کے ایجنڈے پر عمل کیا اور پکڑ دھکڑ کے ذریعے مخالفین کو کچلنے کی کوشش کی، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آل سعود اس میں ناکام ہوگئی ہے۔ آل سعود کی امریکہ نواز حکومت نے ملک میں چلنے والی تحریک کو کچلنے کے لئے شیعہ مسلمانوں کے ایک اہم رہنما کو سزائے موت دینے نیز اہم رہنماؤں کو گرفتار کرنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن عوامی ردعمل کے خطرے کے پیش نظر حکومت اس فیصلے پر عمل درآمد کرنے کے حوالے سے شش و پنج کا شکار ہے۔ سعودی عرب کی فرمائشی عدالت کی طرف سے جب شیخ نمر کو سزائے موت دینے کا فیصلہ کیا گيا تو ملک میں سخت احتجاج کیا گيا۔ انتہائی سخت حفاظتی انتظامات اور سکیورٹی کے کڑے پہرے میں عوام نے جس طرح شیخ نمر کی آزادی اور آل سعود کی برطرفی کے لئے نعرے لگائے، ماضی میں اسکی مثال نہیں ملتی۔

شیخ نمر کے خلاف دیئے گئے فیصلے کے خلاف نہ صرف سعودی عرب کے اندر بلکہ دنیا کے کئی ممالک میں مظاہرے ہوئے، کہا جا رہا ہے کہ سعودی عرب میں حالات جس تیزی سے بدل رہے ہیں، اس سے آل سعود حکومت کا زيادہ دیر تک اقتدار میں رہنا مشکل نظر آتا ہے۔ انہی حالات و واقعات نے نہ صرف آل سعود کو خوفزدہ کر رکھا ہے بلکہ اب تو امریکہ کی تشویشوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ آل سعود کی اقتدار سے علیحدگی امریکہ کے لئے مصر اور تیونس سے زيادہ گراں ہے، اس لئے واشنگٹن بھی اس بادشاہی اور استبدادی نظام کو بچانے کے لئے سرتوڑ کوششیں کر رہا ہے۔ اس خطے میں امریکی پالیسیوں کو نافذ کرنے میں جو کردار آل سعود نے ادا کیا ہے، وہ کسی دوسری حکومت کے بس میں نہیں، البتہ یہ بات بھی ثابت شدہ ہے کہ امریکہ صرف اس وقت تک اپنے اتحادیوں کا ساتھ دیتا ہے جب وہ اسکے مفادات کے لئے مفید ہوں۔

امریکہ کبھی ڈوبتی کشتی پر سوار نہیں ہوتا۔ امریکہ نے سعودی عرب کو گذشتہ چند سالوں میں لبنان، ایران اور اب شام کے حوالے سے اس بری طرح استعمال کیا ہے کہ اب اسکے استعمال کی ميعاد بھی گزر گئی ہے اور اگر امریکہ کو یقین ہوگیا کہ آل سعود کی حکومت کے دن گنے جاچکے ہیں تو وہ سعودی شیخوں کو امریکہ میں پناہ دینے کے لئے بھی تیار نہیں ہوگا۔ امریکہ کے حوالے سے یہ انہونی بات نہیں، وہ اس سے پہلے بھی ایران کے ڈکٹیٹر رضا پہلوی، بن علی اور حسنی مبارک جیسے اتحادیوں کے ساتھ اسی طرح کا رویہ اپنا چکا ہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button