پاکستانی شیعہ خبریں

ہاسٹل میں دہشتگرد کو پناہ دینے والا جمعیت کا ہی عہدیدار تھا، وائس چانسلر

پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران نے کہا ہے کہ سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن کی جانب سے آج ہمیں پیغام دیا گیا ہے کہ پنجاب حکومت تعلیمی اداروں میں اس قسم کی سرگرمیاں قطعی برداشت نہیں کرے گی، اس لئے ان کے سدباب کیلئے جس قسم کے تعاون کی ضرورت یونیورسٹی انتظامیہ کو ہوگی، وہ اسے مہیا کیا جائے گا، دہشت گردوں کو پناہ دینے والے لئے سنڈیکیٹ میں قانون سازی کر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ انہوں نے بتایا کہ درحقیقت یونیورسٹی کا تمام عملہ جمعیت کی بدمعاشی سے ڈرتا تھا، اس لئے مجبوراً بھی انہیں ان کے کام کرنا پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بات میں قطعی کوئی شک نہیں کہ ہاسٹل میں دہشت گرد کو پناہ دینے والے طالب علم کا تعلق اسلامی جمعیت طلبہ سے تھا جو غیر قانونی رہائش پذیر تھا، اس کے کمرے سے ناظمین کے ٹیلیفون نمبرز کی لسٹ، جہادی لٹریچر، کتابیں اور اعانت دینے والوں کا ریکارڈ برآمد ہوا ہے، اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مسلسل ہماری مدد کریں تو یونیورسٹی کو غیر قانونی عناصر سے پاک کرنے میں کامیاب ہو جائینگے۔

ڈاکٹر مجاہد کامران نے جمعیت کے بارے میں کہا کہ ہمیں کسی کے نظریئے سے کوئی اختلاف نہیں، بس ہم یہ چاہتے ہیں کہ یونیورسٹی کا ماحول خراب نہ کیا جائے اور یہاں کسی قسم کی کوئی بدامنی پیدا نہ ہو۔ وائس چانسلر نے انکشاف کیا کہ انہوں نے آج تک جتنے بھی فوجی چیف سکیورٹی گارڈ بھرتی کئے وہ بدقسمتی سے جمعیت سے گھل مل گئے، شاید ان کے نظریات بھی وہی تھے، جیسے نظریات جمعیت رکھتی ہے، اس کے علاوہ ہم نے یونیورسٹی کے ماحول کو کنٹرول کرنے کیلئے ایس ایس جی فورس کے ریٹائرڈ اہلکار بھی بھرتی کئے، لیکن یہ لوگ بھی ایک دم ناکارہ نکلے، کیونکہ جب بھی جمعیت کوئی بدامنی کی کارروائی کرتی تو یہ لوگ انہیں کنٹرول کرنے کی بجائے خود چھپ جاتے تھے، جس وجہ سے انہیں نوکری سے نکال دیا گیا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ تین، چار سال پہلے یونیورسٹی ہاسٹل گراؤنڈز سے جو اسلحہ اور ہینڈ گرینڈ وغیرہ ملے تھے، اس معاملے کی تحقیق میں اب تک کیا پیش رفت ہوئی ہے، اس بارے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے آج تک کچھ نہیں بتایا۔ وائس چانسلر نے بتایا کہ شہزاد نامی طالب علم جو جمعیت کا سابق ناظم بھی رہ چکا ہے، اس کو حساس اداروں نے گرفتار کیا ہے، اس کو یونیورسٹی کی حدود سے گرفتار نہیں کیا گیا، البتہ اس کا باپ یونیورسٹی میں ملازم ضرور ہے اور اس کو خود پتہ نہیں کہ اس کے بیٹے کو کون لوگ اٹھا کر لے گئے ہیں۔ اس نے بھی اس کے اغواء کی رپورٹ درج کروا رکھی ہے۔

ڈاکٹر مجاہد کامران نے کہا کہ خفیہ ادارے جس دہشت گرد کو پکڑ کر لے گئے وہ تین دن ہاسٹل کے کمرہ نمبر 237 میں مقیم رہا، اس کو پناہ دینے والے طالب علم کا تعلق اسلامی جمعیت طلبہ سے تھا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے 26 ہاسٹلز میں 7 ہزار طلبا و طالبات مقیم ہیں۔ تین سالوں میں یونیورسٹی میں شرپسند اور مسلح عناصر کے خلاف 75 ایف آئی آر درج کروائیں، لیکن ان کو کوئی پکڑنے والا نہیں، اگر کوئی پکڑا جاتا تو اسکو چھوڑ دیا جاتا ہے، آخر ان کی پشت پر چھڑوانے والے کون ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ خالد بن ولید ہال میں بھی غیر قانونی مسلح عناصر رہائش پذیر ہیں، وہاں آتشزدگی کے واقعات میں ان عناصر کا ہاتھ ہونا خارج امکان نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے کہا کہ یہ مسلح عناصر ملازمین سے مارپیٹ اور تشدد بھی کرتے ہیں، بلکہ ایک ہاسٹل میں مجھے خود جا کر ایکشن لینا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں مسلح اور غیر قانونی عناصر کے خلاف کارروائی کیلئے کابینہ کی ذیلی کمیٹی کو خط بھی لکھا ہے، جس پر وزیر قانون نے پولیس کو یونیورسٹی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرنے کی ہدایت کی ہے۔ تاہم اگر پولیس اور قانونی ادارے ہم سے مکمل اور مسلسل تعاون کرتے ہیں تو بہت جلد یونیورسٹی کو مسلح و غیر قانونی عناصر سے پاک کرنے میں کامیاب ہو جائینگے۔ انہوں نے کہا کہ سنڈیکیٹ سے شرپسندوں اور دہشت گردوں کو پناہ دینے والے طلبہ کے لئے سخت قانون سازی کریں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button