پاکستانی شیعہ خبریں

ہم بھاگنے والے نہیں، جب تک ایم کیو ایم ہے پاکستان کو طالبان کے حوالے کرنے نہیں دیں گے، الطاف حسین

شیعہ نیوز (کراچی) متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ اس سے قبل کہ طالبان دہشت گرد، پوری ریاست، دفاعی اداروں، دفاعی تنصیبات اور دفاعی ہتھیاروں پر قبضہ کرلیں، حکومت ان دہشت گردوں سے نمٹنے کیلئے واضح حکمت عملی بنائے اور ملک کو طالبان دہشت گردوں سے نجات دلائے۔ اگر حکومت نے دہشت گردوں کے خلاف ایکشن کی پالیسی بنالی ہے تو حکومت فوج کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کا خاتمہ کرے اور پاکستان کو بچائے۔ انہوں نے کہا کہ میں مارشل لاء کا نہ صرف مخالف ہوں بلکہ میں نے خود مارشل لاء عدالت سے 9 ماہ قید بامشقت اور 5 کوڑوں کی سزا بھگتی ہے۔ یہ بات انہوں نے لال قلعہ گراؤنڈ عزیز آباد میں ایم کیو ایم لیبر ڈویژن کے 27 ویں سالانہ کنونشن سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اپنے خطاب میں الطاف حسین نے کہا کہ ایم کیو ایم کے کارکنوں اور ہمدردوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، تحریک کے تمام شہداء کی قربانیوں سے ملک بھر میں حق پرستی کا انقلاب آکر رہے گا، ملک سے اسٹیٹس کو، چند خاندانوں کی حکمرانی، اقتدار کی میوزیکل چیئرز کے کھیل، ملک سے موروثی خاندانی اور لوٹ مار کی سیاست کا خاتمہ ہوکر رہے گا۔ حق پرست شہداء کی قربانیوں سے ملک میں صحیح معنوں میں جمہوریت کا نفاذ اور ملک پر غریب و متوسط طبقہ کی حکمرانی ضرور قائم ہوگی۔

الطاف حسین نے کہا کہ طالبان دہشت گرد لوگوں کو ذبح کرکے انکے سروں سے فٹ بال کھیل رہے ہیں، لاشوں کی بے حرمتی کررہے ہیں، مساجد، امام بارگاہوں میں نمازیوں، اسکولوں میں بچوں بچیوں، بازاروں میں عام شہریوں کو دہشت گردی اور بم دھماکوں کا نشانہ بنارہے ہیں، قومی و دفاعی تنصیبات پر حملے کررہے ہیں اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کررہے ہیں۔ طالبان دہشت گردوں کے ہاتھوں پانچ ہزار سے زائد مسلح افواج، رینجرز، ایف سی، لیویز، پولیس کے افسران و اہلکاروں اور 60 ہزار سے زائد شہری شہید کیے جاچکے ہیں، میں نے گزشتہ دنوں ایک انٹرویو میں مشروط بات کی تھی کہ اگر موجودہ حکومت، ان طالبان دہشت گردوں سے نجات کیلئے جو کراچی سمیت بیشتر علاقوں پر قبضہ کرچکے ہیں کے خلاف کوئی واضح پالیسی نہیں دیتی تو پھر میں پاک فوج سے یہ کہنے پر مجبور ہوں گا کہ وہ ریاست کو ٹیک اوور کرکے پاکستان کو طالبان دہشت گردوں سے نجات دلائے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر یہ دہشت گرد پورے ملک پر قابض ہوگئے تو کیا تب بھی ہم یہی ڈھول پیٹیں گے کہ جمہوریت بچاؤ اور ریاست کے دفاعی ادارے ، دفاعی تنصیبات اور دفاعی ہتھیار طالبان کے حوالہ کردیں۔

الطاف حسین نے کہا کہ میڈیا پر آکر بڑی بڑی باتیں کرنا آسان ہے لیکن اگر خدانخواستہ کسی کے گھر میں سربریدہ لاش آئے، جب طالبان ان میں سے کسی کے اہل خانہ کو بربریت کا نشانہ بنائیں تو تب انکو حالات کی سنگینی کا اندازہ ہوگا۔ اب اگر حکومت نے دہشت گردوں کے خلاف ایکشن کی پالیسی بنالی ہے تو حکومت، فوج کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کا خاتمہ کرے اور پاکستان کو بچائے۔ پاکستان ہوگا تو سب ہوگا۔ اگر خدانخواستہ پاکستان ہی نہ رہا تو نہ تو حکومت ہوگی اورنہ ہی ٹی وی پرگرامز۔ انہوں نے کہا کہ میں مارشل لاء کا نہ صرف مخالف ہوں بلکہ میں نے خود مارشل لاء عدالت سے 9 ماہ قید بامشقت اور 5 کوڑوں کی سزا بھگتی ہے، جب مجھے سمری فوجی عدالت سے سزا سنائی گئی تو حکام رات 2، 2 بجے جیل کے سیل میں آکر مجھے پیشکشیں کرتے تھے کہ میں معافی نامہ لکھ کر دے دوں۔ صرف یہ لکھ دوں کہ مجھ سے خطا ہوگئی اور میں آئندہ احتیاط سے کام لوں گا۔ لیکن میں نے صاف انکار کردیا اور اپنی پوری سزا بھگتی۔ آج جولوگ بڑی بڑی بیش قیمت گاڑیوں میں آکر ائیر کنڈیشنڈ اسٹوڈیوز میں بیٹھ کر جمہوریت کے بارے میں درس دے رہے ہیں، سزا بھگتنا تو درکنا اگر انہیں کسی سمری فوجی عدالت میں پیش کیا جائے تو وہاں کا ماحول دیکھتے ہی ان کا پیشاب خطا ہوجائے۔

الطاف حسین نے کہا کہ ہم میدان چھوڑ کر نہیں بھاگیں گے اور جب تک ایم کیو ایم موجود ہے ہم پاکستان کو طالبان کے حوالے کرنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو سوچنا چاہیئے کہ آج پاکستان کن حالات سے گزر رہا ہے، پاکستان آج دنیا میں آئیسولیشن کا شکار ہے، ایسے میں ہمیں اپنے جذبات پر قابو رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ فوج اور رینجرز کے لوگوں سے بھی غلطیاں ہوتی ہیں لیکن اس کی بنیاد پر ہمیں پوری فوج یارینجرز کو برا نہیں کہنا چاہیے۔ فوج اور رینجرز ملک کو دہشت گردی سے نجات دلانے کیلئے جو کوششیں کررہی ہیں اور قربانیاں دے رہی ہیں ہمیں ان قربانیوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button