پاکستانی شیعہ خبریں

آئی ایس او نے طلبہ یونین پر عائد پابندی کے ۳۱ سال مکمل ہونے پر جامعہ کراچی میں احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)جامعہ کراچی میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کراچی ڈویژن کی جانب سے طلبہ یونین کی بحالی کے حق احتجاجی ریلی کا انعقاد۱۱ فروری بروز بدھ ، سینٹرل کیفے ٹیریا سے ایڈمنسٹر سن بلاک تک کیا گیا تھا۔احتجاجی ریلی میں طلباء و طالبات کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ طلباء و طالبات نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینز اٹھائے ہوئے تھے ، جس میں طلبہ یو نین کی بحالی کے حق میں نعرے درج تھے۔احتجاجی ریلی کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے آئی.ایس .او پاکستان کراچی ڈویژن کے جنرل سیکریٹری بردار غیور عباس عابدی نے کہا کہ طلبہ یونین عائد پابندی فورا ختم کی جائے اور جلداز جلد طلبہ یونین کے الیکشن کا انعقاد کیا جائے۔۱۱فروری ۱۹۸۴ کو اس وقت کی آمرانہ حکومت نے طلبہ یونین پر اسلئے پابندی عائد کی تھی کہ طلبہ یونین اس آمرانہ حکومت کے لئے سب سے بڑا خطرہ تھی۔ جبکہ پاکستان میں قیام ہونے والی نااہل و کرپٹ حکومتوں کے لئے طلبہ کا سیاسی بصارت کا حامل ہونا، خطرے کا باعث رہا ہے۔اسی وجہ سے، ہر دور میں حکومت طلباء و طالبات کو سیاسی آزادی فراہم کرتے ہو ئے ڈرتے ہیں۔ان کامزید کہنا تھا کہ طلبہ یونین کے الیکشن نوجوانوں میں جمہوری اقدار کو پروان چڑانے میں اہم کردار ادا کر ے گے اور ملک میں جمہوری روایت کے فروغ میں بھی اپنا اہم کردار ادا کریں گے۔طلبہ یونین کی بحالی میں حکومتِ وقت کی عدم دلچسپی کا ذکر کرتے ہوئے ، ان کا کہنا تھا کہ جمہوری دور میں طلبہ اپنے جمہوری حق سے محروم ہے ، جو کہ اس موجودہ جمہوری نظام پر سوالیہ نشان ہے۔ماضی میں طلبہ یونین سے بے شمار لیڈران پیدا کئے۔ طلبہ سیاست میں سرگرم طلباء و طالبات نے ملکی سیاست میں بھی اہم کردار ادا کیا اور آج بھی کر رہے ہیں ۔مگر افسوس ، طلباء یونین پر آمریت کے دور میں عائد کی گئی پابندی آج بھی موجود ہیں۔ملک میں موجود جمہوری ادارے، سینیٹ و پارلیمنٹ ، طلبہ یونین پر عائد پابندی کے خاتمے کے لئے اپنا کردار ادا کریں تاکہ ملک میں جمہوریت مستحکم ہوسکے۔اس موقع پراحتجاجی ریلی میں موجود طلباء و طالبات سے خطاب کرتے ہوئے،آئی .ایس.او پاکستان کراچی ڈویژن جامعہ کراچی کے صدر بردار عباس حیدری نے کہا کہ طلبہ یونین پر پابندی دراصل طلبہ کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کرنا ہے۔منظم اور سیاسی بصیرت رکھنے والا طالب علم ہی معاشرے کی بہتری میں اہم کردار اداکرسکتے ہیں۔حکومت وقت ، طلبہ یونین کی بحال کے لئے اقدامات کریں اور طلبہ کا جمہوری حق بحال کرے تا کہ پاکستان کو درپیش موجودہ مسائل میں نوجوان اپنا کردار ادا کرسکیں۔ طلبہ یونین پر عائد پابندی سب سے زیادہ جامعات کے طلباء و طالبات پر اثر انداز ہوئی ہے۔ جامعات کے طلبہ اپنے مسائل و مشکلات کے حل کے لئے در در کی ٹھوکرے کھ ا تے ہیں۔جامعہ کراچی میں ۲۷ ہزار سے زائد طلباء و طالبات زیر تعلیم ہے ، جن کے لئے صرف ۲۷ پوانٹس بسیں موجود ہیں ، جو کہ جامعہ کراچی میں حصولِ علم کے لئے آنے والے طلبہ کے لئے ناکافی ہیں۔طلبہ یونین کی غیر موجودگی میں طلبہ کے مسائل حل ہونا بہت مشکل نظر آتے ہیں۔ان کامزید کہنا تھا کہ طلبہ کو سہولت فراہم کرنے کی جب بات کی جاتی ہیں تو مالی بحران کا بہانہ بنا کر ٹال دیا جاتا ہے جبکہ جامعہ کراچی کی انتظامیہ اساتذہ و اپملایز یونین کے دبا وں میں آکر ہر سال کروڑوں روپے ، لیف انکیشمنٹ (leave in-cashment)کی مد میں اساتذہ و اپملایزکو ادا کرتی ہے۔ملک بھر میں اساتذہ ، مزدوروں، کسانوں، صحافیوں اور ڈاکٹر کی یونین موجود ہیں لیکن طلبہ یونین پر پابندی آج بھی عائد ہیں ۔طلبہ یونین پر پابندی طلباء کیساتھ ناانصافی ہے۔

ریلی میں شریک طلباء و طالبات کا کہنا تھا کہ طلبہ یونین کی بحالی کو یقینی بنا کر حکومتِ وقت اپنے جمہوری ہونے کا ثابت دے۔تعلیم یافتہ نوجوانوں کو اپنے صلاحیت استوار کرنے کے مواقع، جو طلبہ یونین کے دور میں موجود تھے،وہ آج میسر نہیں ہیں۔جسکی وجہ سے آج کے تعلیمی یافتہ نوجوان کو اپنی صلاحیتوں کوبہتر طور سے پیش کرنے کا موقع نہیں ملتا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button