پاکستانی شیعہ خبریں

پشاور بس حملہ، دہشت گردی سے نمٹنے والے آہنی ہاتھ کہاں‌ہیں؟

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں سرکاری ملازمین کی بس میں دھماکے سے کم از کم 13افراد شھید اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔ پشاور پولیس کے مطابق کہ یہ دھماکہ بدھ کی صبح صدر کے علاقے میں سنہری مسجد روڈ پر سرکاری ملازمین کو صوبائی سیکریٹریٹ لے جانے والی بس میں ہوا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے نمائندے کے مطابق پشاور کے ایس ایس پی آپریشنز عباس مجید مروت نے جائے وقوعہ کے دورے کے بعد میڈیا کو بتایا کہ دھماکے میں 13 افراد کی شھادت اور 2 مبینہ تکفیری دہشتگرد حملہ آوروں کے واصلِ جہنم ہونے کی تصدیق ہوئی ہے، اسکے علاوہ 37 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بس مردان کے نواحی علاقے درگئی سے 40 سے 50 مسافر لے کر پشاور کے لیے روانہ ہوئی تھی۔ نامہ نگار کے مطابق دھماکے کا نشانہ بننے والی بس میں سول سیکریٹریٹ کے علاوہ دیگر سرکاری دفاتر میں کام کرنے والے ملازمین سوار تھے جو مردان اور دیگر علاقوں سے پشاور آ رہے تھے۔

خیبر پختون خواہ کے مشیر برائے اطلاعات مشتاق غنی نےکہا ہے کہ سرکاری ملازمین پرائیویٹ کمپنی کی بس میں سفر کررہے تھے، اس لئے حکومت ان کی سیکورٹی کی ذمہ داری قبول نہیں کر سکتی بلکہ بس کنٹریکٹر پر ان کی حفاظت کی ذمہ داری عائد ہوتی تھی۔ دہشت گردی کے اس واقعہ کے فوری بعد شھید ہونے والے افراد کےلواحقین ابھی اپنے عزیزوں کو دفن بھی نہیں کرپائےتھے کہ صوبائی مشیر کے اس قسم کا بیان سے لواحقین میں مزیدبے چینی اور مایوسی پیداکرنے کا سبب ہے۔ اس سے دہشت گرد عناصر یہ سمجھتے ہیں کہ ملک کا سیکورٹی ڈھانچہ تنظیم اور ذمہ داری کے معاملے میں تقسیم شدہ ہے اور ان کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ، کوئی بھی کارروائی آسانی سے کی جا سکتی ہے۔ سیاسی لیڈروں کو اس قسم کے مباحث مناسب فورم پر کرکے فیصلے کرنے اور انہیں نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ عوام میں امید پیدا ہو اور انتہا پسندوں کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ ان کے خلاف پوری قوم اور اس ملک کے سارے ادارے یک جان ہیں۔ اسی حوالے یہ بات کہنا بھی اہم ہے کہ ملک کی مختلف قوتیں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے بارے میں پوری طرح ہم خیال نہیں ہیں اور کسی نہ کسی طرح سے اس کا اظہار بھی ہوتا رہتا ہے۔ خاص طور سے مذہبی قوتیں اور گروہ اس حوالے سے فیصلہ کن رول ادا کرسکتے ہیں ۔ لیکن وہ مختلف معاملات کو بنیاد بنا کر ملک میں اسلام کی حفاظت کے لئے نام نہاد مہم جوئی کرتے رہتے ہیں۔

ایسا ہی ایک معاملہ پنجاب میں عورتوں کے تحفظ کا نیا قانون ہے جس کی مخالفت کرتے ہوئے کل ہی ملک کی تیس سے ذیادہ مذہبی جماعتوں نے حکومت کو دھمکی دی ہے۔ اس طرح کے رویہ سے بھی تکفیری دہشت گرد گروہ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ یہ لوگ تو خود آپس میں ہی الجھے ہوئے ہیں، یہ ہمارا کیا مقابلہ کیا کریں گے۔ حالانکہ دہشت گردی ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر سب جماعتوں کو کسی حیل و حجت کے بغیر معاشرے کی تطہیر اور انتہا پسندی کے خاتمہ کے لئے کام کا آغاز کرنا چاہئے کیونکہ اس جنگ میں کامیابی کسی کی شکست اور ناکامی نہیں بلکہ پوری قوم کے لئے حیات نو کا پیغام ہوگی۔ ملک میں اس قسم کی یک جہتی دکھائی نہیں دیتی۔ مذہبی جماعتوںں کے علاوہ سیاسی جماعتیں بھی صرف کہنے کی حد تک حکومت کے ساتھ ہیں، عملی طور پر سب پارٹیاں صورت حال سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی ہیں۔ یہ انتشار اور سیاسی ضرورتوں کے حوالے سے جوڑ توڑ کی حکمت عملی بھی اس اہم جنگ میں مشکلات پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہے۔اس کے علاوہ یہ رویہ بھی نقصان دہ ہے کہ ہر سانحہ کے بعد افغانستان یا بھارت پر اس کا الزام عائد کرنے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ دہشت گرد کہاں سے آئے تھے۔ یہ معاملات بھی اہم اور ضروری ہوں گے لیکن سب سے پہلے ہمیں اپنے لوگوں کی حفاظت کا نظام مضبوط بنیادوں پر استوار کرنا ہوگا ۔ اس کے ساتھ ہی تخریبی قوتوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرنے یا ان کے لئے نرم گوشہ وسیع کرنے کی بجائے، بیک زبان انہیں مسترد کرنے کی ضرورت ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button