پاکستانی شیعہ خبریں

سانحہ کراچی کیخلاف ایم ڈبلیو ایم کا 3روزہ سوگ کا اعلان، واقعہ میں سکیورٹی ادارے ملوث ہیں، علامہ ناصر عباس جعفری

Allama raja nasir abbas ja مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکرٹری جنرل ناصر عباس جعفری نے کراچی امام بارگاہ میں بم دھماکے اور اس کے نتیجے میں ابتک 30 سے زائد افراد کی شہادت پر تین روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ تسلسل کے ساتھ پاکستان سے محبت کرنے والوں کا قتل عام جاری ہے۔ ہم اس واقعہ میں تمام سکیورٹی اداروں کو ملوث سمجھتے ہیں، جنہوں نے ان دہشتگردوں کو اسٹریٹیجک ایسٹ سمجھا ہوا ہے۔ علامہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ بہت افسوس کا مقام ہے کہ ان لوگوں کی اولادوں کو مارا جا رہا ہے جنہوں نے پاکستان بنایا۔ آج جہاں شیعہ کو مارنے کا سلسلہ جاری ہے وہیں ہمارے اہل سنت بھائیوں کو بھی مارا جا رہا ہے، ایک مخصوص طبقہ محب وطن پاکستانیوں کے قتل عام میں ملوث ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستانی فوج اٹھے اور اپنی آئینی ذمہ داری کو مدنظر رکھتے ہوئے دہشتگردوں کا ملک سے صفایا کرے۔

ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ کراچی سانحہ سے واضح ہوتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشتگردی کو روکنے میں ناکام ہیں، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اداروں میں کالی بھیڑیں موجود ہیں، جو اس جرم میں برابر کی شریک ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان واقعات کے نہ رکنے کی وجہ سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں کی کالعدم تنظیموں سے رابطے ہیں۔ اگر سیاسی جاعتیں اور ریاستی ادارے کالعدم تنظیموں سے رابطے ختم کر دیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے نمائشی کارروائیوں کی بجائے حقیقت پر مبنی کارروائی عمل میں لائیں تو دہشتگردی پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ چند سیاسی جماعتیں چند ووٹوں کی خاطر کالعدم جماعتوں سے رابطے رکھے ہوئے ہیں اور قوم سے مسلسل جھوٹ بولا جارہا ہے۔

علامہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ افسوس کا مقام ہے کہ ابھی سانحہ کوئٹہ کے داغ دلوں سے گئے نہیں تھے کہ اب دہشتگردوں نے کراچی میں ملت تشیع کے فرزندوں کو اپنے مذموم مقاصد کو پانے کیلئے نشانہ بنا ڈالا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی طرح سندھ میں بھی حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔ کبھی ٹارگٹ کلنگ کرائی جاتی ہے تو کبھی بم دھماکے، لیکن حکومت کہیں پر نظر نہیں آتی۔ گذشتہ روز کراچی میں چار شیعہ نوجوانوں کو بےگناہ قتل کر دیا گیا، مگر ریاستی اداروں کی طرف سے قاتلوں کی گرفتاری کیلئے کچھ نہیں کیا گیا۔ کیا اس ملک کا کوئی والی وارث ہے؟ اگر حکومت اور ریاستی ادارے شہریوں کی حفاظت نہیں کرسکتے تو ناکامی تسلیم کرتے ہوئے اعلان کر دیں، تاکہ ملت تشیع پر واضح ہوجائے کہ اب انہوں نے اپنی حفاظت کیلئے خود کھڑے ہونا ہے۔

علامہ ناصر عباس جعفری کا مزید کہنا تھا کہ وزیر داخلہ رحمان ملک فقط بیان بازی کرتے ہیں، لیکن عملاً دہشتگردی کیخلاف وفاقی حکومت کی کارکردگی بھی صفر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کون نہیں جانتا کہ کونسی کالعدم تنظیم نام بدل بدل کر اپنے سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے، لیکن اس کے باوجود ان تکفیری گروہوں کیخلاف کارروائی نہ ہونا سمجھ سے بالاتر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ملک میں کالعدم تنظیموں کے صرف نام پر پابندی لگا دی جاتی ہے، لیکن ان کے کام پر پابندی نہیں ہوتی۔ علامہ ناصر عباس جعفری کا یہ بھی کہنا تھا کہ اپنے شہداء کا لہو رائیگاں نہیں جانے دیں گے، اور دہشتگردوں کو ہر محاذ پر شکست دیں گے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button