پاکستانی شیعہ خبریں

کرم ایجنسی:مجالس امام حسین علیہ السلام کا سلسلہ جاری،382امام بارگاہوں میں مجالس امام (ع)کا انعقاد

majlisکرم ایجنسی ،فاٹا ،اور پاراچنار کے قبائلی علاقوں میں 382سے زائد امام بارگاہوں میں مجالس سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کا نعقاد جاری و ساری ہے۔شیعت نیوز کے نمائندے کی اطلاعات کے مطابق کرم ایجنسی فاٹا اور پاراچنار سمیت دیگر ملحقہ ایجنسیوں میں عزاداران امام حسین علیہ السلام انتہائی مذہبی احترام اور عقیدت کے ساتھ مراسم عزاداری کا انعقاد کر رہے ہیں جبکہ ایک رپورٹ کے مطابق کرم ایجنسی میں 382سے زائد مقامات پر مجالس امام حسین علیہ السلام کا انعقاد کیا جا رہاہے۔
رپورٹ کے مطابق کرم ایجنسی میں شہادت حضرت امام حسین علیہ السلام کی مناسبت سے مراسم عزاداری کے سلسلہ میں جلو س ہائے عزاء 7محرم تا 10محرم الحرام تک نکالے جائیں گے جہاں لاکھون عاشقان امام حسین علیہ االسلام و عزاداران سید الشہداء مراسم عزاداری انجام دیں گے۔واضح رہے کہ کرم ایجنسی میں مجالس عزاء کا سلسلہ 3محرم الحرام سے شروع ہو کر 13محرم الحرام تک جاری رہتا ہے جبکہ 8ربیع الاوال تک مختلف اوقات میں مجالس عزاء کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔
یہ بات بھی یاد رہے کہ روز عاشور امام حسین علیہ السلام پاراچنار میں مرکزی جلوس عزاء نکالا جاتاہے جوکہ 200سالہ قدیم تاریخی جلوس ہے۔
روز عاشورا ئے امام حسین علیہ السلام کی مناسبت سے نکالا جانے والا کرم ایجنسی پاراچنار میں نکالا جاے والے جلوس عزاداری نہ صرف شیعیان حیدر کرار کے لئے اہمیت کا حامل ہے بلکہ کرم ایجنسی پاراچنار میں آباد اقلیتوں بشمول ہندو،سکھ،عیسائی اور دیگر اقلیتوں کے لئے بھی اہمیت کا حامل ہے جن کا یہ عقیدہ ہے کہ سید الشہداء امام حسین علیہ السلام انسانیت کے نجات دہشدہ ہیں ،تاہم کرم ایجنسی پاراچنار میں بسنے والے سات لاکھ سے زائد عوام طالبان دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں اور ساتھ ہی ساتھ طالبان دہشت گردوں کے ظلم و ستم کا نشانہ بن رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کرم ایجنسی پاراچنار میں مجالس امام حسین علیہ السلام کے انعقاد کے ساتھ ساتھ شیعہ تنظیموں ،تحریک حسینی،دستہ امامیہ،مجلس علمائے اہل بیت،انجمن حسینیہ اور دیگر تنظیموں کی جانب سے عطیہ خون کے کیمپ بھی لگائے گئے ہیں جبکہ عزاداران امام حسین علیہ السلام کے لئے سبیل ہائے حضرت علی اصغر علیہ السلام کا انتظام بھی کیا گیاہے۔جبکہ علماء و ذاکرین حضرات مجالس امام حسین علیہ السلام میں فلسفہ شہادت امام حسین علیہ السلام اور مقصد کربلا پر روشنی ڈال رہے ہیں ۔
مجالس عزاء میں خطاب کرتے ہوئے علماء و ذاکرین نے شہدفائے پاراچنار کو بھی زبر دست خراج عقیدت پیش کیا ہے کہ جنہوںنے یذیدی طالبان دہشت گردوں سے نبرد آزما ہو کر نہ صرف دین مبین کی حفاظت کی بلکہ پاراچنار کے معصوم اور نہتے عوام کا دفاع بھی کیا،علماء و ذاکرین عظام نے مجالس امام حسین علیہ السلام سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایاہے اور مطالبہ کیا ہے کہ گذشتہ چار برس سے جاری طالبان دہشت گردوں کے محاصرے کو فی الفور ختم کروایا جائے اور ٹل پاراچنار سڑک کی بندش ختم کروا کر عوام الناس کے لئے کھولی جائے ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button