مشرق وسطیہفتہ کی اہم خبریں

مقتدیٰ صدر نے امریکی فوج کے انخلاء کیلیئے 7 نکات پیش کردیئے

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) عراق میں امریکی موجودگی کیخلاف جمعے کے روز کروڑوں عراقیوں نے سڑکوں پر آ کر احتجاج کیا اور عراق سے امریکی افواج کے فی الفور انخلاء کا مطالبہ کیا جبکہ عراق کے بڑے سیاسی اتحاد السائرون کے سربراہ سید مقتدی الصدر نے اس موقع پر امریکی افواج کے حوالے سے 7 نکات پیش کئے اور زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکی افواج نے ان نکات کی پابندی نہ کی تو انہیں قابض اور ملک دشمن قوت تصور کیا جائیگا جس کے بعدامریکی فوجیوں کے ساتھ ہمارے سلوک پر ہمسایہ ممالک کو مداخلت کا حق حاصل نہیں ہوگا۔

سید مقتدی الصدر نے امریکی افواج کے حوالے سے اپنے 7 نکات پیش کرتے ہوئے کہا:
1۔ امریکہ عراق میں موجود اپنے تمام فوجی اڈے فوری طور پر بند کر دے۔
2۔ عراق میں موجود تمام امریکی کمپنیاں بند کر دی جائیں اور عراق میں انکی تمامتر سرگرمیوں کو فی الفور روک دیا جائے۔
3۔ عراقی حکومت اپنی فضائی حدود میں امریکی جنگی و جاسوس طیاروں کی پرواز کو فورا ممنوع قرار دے۔
4۔ عراقی حکومت امریکہ کیساتھ ہوئے اپنے تمام دفاعی و سیکیورٹی معاہدات کو فوری طور پر منسوخ کر دے کیونکہ امریکہ نے اپنے قابضانہ کردار کے ذریعے دوطرفہ معاہدوں کی دھجیاں اڑا کر رکھ دی ہیں۔
5۔ امریکہ عراق کے حوالے سے اختیار کردہ اپنی ترحیجات میں ہنگامی طور پر تبدیلی لائے کیونکہ اگر آئندہ اس نے عراق اور عراقی عوام کے مقابلے میں تحقیر آمیز اور بدمعاشی پر مبنی رویہ اختیار کیا تو ہم بھی اسکے ساتھویسا ہی سلوک کریں گے۔
6۔ (امریکہ فوری طور پر عراق سے نکل جائے ورنہ) امریکہ کے انخلاء سے انکار پر ہمسایہ ممالک کو عراق پر قابض افواج کے مقابلے میں ہمارے اختیار کردہ رویے پر مداخلت کا حق حاصل نہیں ہو گا۔
7۔ اگرمذکورہ بالا نکات پر ایک معین وقت تک امریکہ کیطرف سے عملدرآمد نہ کیا گیا تو امریکی افواج کو عراق دشمن قابض قوت کی حیثیت سے دیکھا جائے گا البتہ ان نکات پر عملدرآمد اور عراق سے امریکی انخلاء کی صورت میں عراقی مزاحمتی محاذ کیطرف سے آخری امریکی فوجی کے عراق سے نکل جانے تک، انکے خلاف تمام مزاحمتی کارروائیوں کو روک دیا جائے گا۔

سید مقتدی الصدر نے کہا کہ ہمارے لئے جو چیز اہم ہے وہ عراقی حاکمیت (خودمختاری)، سالمیت، امن و امان اور عوامی اتحاد ہےاور یہ مقصد عراقی سرزمین سے تمام امریکی افواج کے نکال باہر کر دیئے جانے کے بغیر ممکن نہیں۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ ہم اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ ان قراردادوں پر عملدرآمد کو یقینی بنوائیں اور اسی طرح عراقی حکومت کو بھی نصیحت کرتے ہیں کہ وہ ملکی وقار اور خودمختاری کی حفاظت، نجات اور اندرونی خلفشار سے بچنے کیلئے حکومتی سطح پر بھی انہی یا انکی اصلاح شدہ شکل کو منظور کروائے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button