مقالہ جات

عالمی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی

 

تحریر: کاظم زادہ

اقوام متحدہ کے ماہرین کے ایک گروپ نے اسلحہ اور گولہ بارود بنانے والی کمپنیوں کو صیہونی حکومت کو ہتھیاروں کی منتقلی کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس عمل سے وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہوسکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مختلف نمائندوں سمیت 30 ماہرین پر مشتمل ایک گروپ نے کہا ہے کہ ہتھیاروں کے مینوفیکچررز اور اسرائیلی حکومت کو اسلحہ فراہم کرنے والے ملکوں اور کمپنیوں کو اپنے جنگی سازوسامان کی سپلائی بند کر دینی چاہیئے” چاہے وہ موجودہ برآمدی لائسنس کے تحت ہی کیوں نہ ہوں۔ ان ماہرین نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی افواج کو ہتھیار، پرزے اور گولہ بارود بھیج کر، ان کمپنیوں نے بین الاقوامی انسانی حقوق اور عالمی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے کا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔”

بیان میں کہا گیا ہے کہ "اسرائیل کو جان بوجھ کر ہتھیاروں کی مسلسل منتقلی کو ان کارروائیوں میں مدد کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جو بین الاقوامی انسانی حقوق اور عالمی انسانی قانون کی خلاف ورزی شمار کئے جاتے ہیں، کیونکہ اس کے نتیجے میں اسرائیل کو فائدہ ہوسکتا ہے۔” اقوام متحدہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے غزہ کی شہری آبادی پر حملے بلا امتیاز اور غیر متناسب تھے۔ ان کے مطابق، اسرائیل نے آبادی والے علاقوں میں بڑے پیمانے پر دھماکہ خیز اور آگ لگانے والے ہتھیاروں کا استعمال کرکے رہائش گاہوں، پناہ گاہوں نیز صحت اور تعلیمی اداروں سمیت ضروری بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا ہے۔ امریکہ، جرمنی، انگلینڈ، کینیڈا اور آسٹریلیا ان اہم ترین ممالک میں سے ہیں، جو صیہونی حکومت کو عسکری طور پر جدید اسلحوں سے لیس کرتے ہیں۔

قبل ازیں انسانی حقوق کے 50 آزاد ماہرین نے اپنے ایک بیان میں اسرائیل کے حملوں کو انسانی حقوق اور انسانیت پر واضح حملے سے تعبیر کیا، ان حملوں میں فلسطینی پناہ گزینوں، جن میں خواتین، بچے، معذور اور بوڑھے افراد شامل تھے، کو نشانہ بنایا گیا۔ اس صورت حال میں جنگی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کرنے والوں سے نمٹنے اور مجرموں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے لیے فوری طور پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے یہ بھی کہا ہے کہ صیہونی افواج نے جنگی قوانین کے بنیادی اصولوں کی مسلسل خلاف ورزی کی ہے اور غزہ پٹی میں اپنی فوجی کارروائیوں میں عام شہریوں اور جنگجوؤں میں فرق نہیں کیا۔

اسرائیلی حکومت کے 6 حملوں کے جائزے میں، جن کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا اور شہری بنیادی ڈھانچے کی تباہی ہوئی، اس دفتر نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ اسرائیلی افواج نے اس حملے میں امتیاز، تناسب اور احتیاطی تدابیر کے اصولوں کی منظم خلاف ورزی کی ہو۔ صیہونی حکومت کی جانب سے "MK84” گائیڈڈ بموں کا استعمال، جو حملے کی جگہ کے ایک بڑے علاقے کو تباہ کر دیتے ہیں، بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، کیونکہ گائیڈڈ بم فوجی اور سویلین اہداف میں فرق نہیں کرتے۔ فلسطینی وزارت صحت کے بیان کے مطابق 7 اکتوبر 2023ء سے لے کر اب تک چالیس ہزار کے قریب فلسطینی شہید اور 85,653 دیگر زخمی ہوچکے ہیں۔ غزہ کی پٹی میں شہیدوں، زخمیوں اور بے گھر ہونے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ فریقین کے درمیان جنگ جاری ہے، متحارب فریقوں کے لیے جنگ کے عالمی اصول و ضوابط کی پابندی کرنا لازم ہوتی ہے اور جنگ کے دوران بغیر کسی پابندی کے کسی اقدام کی اجازت دینا ممکن نہیں ہے۔ جنیوا کنونشنز، بین الاقوامی فوجداری عدالت کے آئین اور بین الاقوامی فوجداری عدالتوں کے عدالتی طریقہ کار کے مطابق، ایسی کارروائیاں یقینی طور پر جنگی جرائم تصور کی جاتی ہیں اور اس کے مرتکب افراد جنگی مجرم ہیں۔ اس کے علاوہ جب یہ گھناؤنی حرکتیں کسی حکومت یا ادارے کی پالیسی کے دائرے میں رہ کر اور جنگی پالیسی کو پھیلانے کے لیے کی جاتی ہیں تو ان پر انسانیت کے خلاف جرم کا عنوان بھی لگا دیا جاتا ہے اور اس لحاظ سے مجرموں اور حکم دینے والوں کو بھی سزا دی جاتی ہے۔

ایسے حالات میں جب صیہونی حکومت کی 70 سال سے زائد تاریخ کے دوران بین الاقوامی اور انسانی حقوق کے اداروں کی کوئی بھی قرارداد اس کے اہداف کے راستے میں رکاوٹ ثابت نہیں ہوئی ہے۔ اس حکومت نے ہمیشہ من مانی کی ہے۔ اسرائیلی حکومت کی جانب سے غزہ میں بین الاقوامی جرائم کا سلسلہ جاری ہے، جس پر اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں اور دنیا کی تمام حکومتوں کی خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں کسی بھی طرح کی بے عملی اور مجرموں کو استثنیٰ مستقبل میں ممکنہ مجرموں کو نہ صرف سبز جھنڈی دکھانے اور ان کی حوصلہ افزائی کا باعث بنے گا بلکہ اس طرح کے اقدام سے انہیں کھلی چھوٹ دینے کے مترادف ہے۔ ایسی صورت میں کوئی بھی اس طرح کے مجرموں کے خطرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button