پاکستانی شیعہ خبریںہفتہ کی اہم خبریں

عمران خان اخلاقیات سے عاری، آج تک شہداءپشاور کے ورثاء سے ملاقات نہیں کی

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کراچی میں صوبائی دفتر وحدت ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ عمران خان نے آج تک پشاور شہداء کے ورثاء سے ملاقات نہیں کی، وزیراعظم اخلاقیات سے عاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں شفٹ آف پاور ہو رہی ہے، خطے میں تبدیلی کا اثر ملک خداداد پاکستان پر بھی پڑے گا، حکومت کی غلط پالیسوں کی وجہ سے عوام مہنگاہی کی چکی میں پس رہی ہے، ملک کو آئی ایم ایف کے آگے گروی کر دیا ہے، ملک میں پاپولر پولیٹیشن کو پنپنے نہیں دیا گیا، عمران خان نے آج تک پشاور شہداء کے ورثاء سے ملاقات نہیں کی، وزیراعظم اخلاقیات سے عاری ہیں، ملک میں عوام شہید ہوئے اور وزیراعظم غیر ملکی دوروں میں مصروف رہے، عمران خان کی سیاست علمی نہیں صرف ٹیوٹر پر ہے۔

علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ سانحہ پشاور کے بعد اب تک ذمہ داران کا تعین نہیں کیا گیا، ملک میں گاجر مولی کی طرح عوام کاٹنے جا رہے ہی، شیعہ و سنی علماء کرام اپنے خطبے اور مجالس میں بھائی چارے کا پیغام دیں، تمام مکاتب فکر کو اپنے مذہبی عقائد کے مطابق زندگی بسر کرنے کا آئینی حق حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ ملکی سیاسی صورتحال میں ملک و قوم کو نقصان ہو رہا ہے، سیاسی حکمران غیر اخلاقی گفتگو کرکے اپنی جہالت کا ثبوت دے رہے ہیں۔

یہ خبر بھی پڑھیں یوم پاکستان، ایم ڈبلیو ایم کراچی کے وفد کی مزار قائد پر حاضری

انہوں نے کہا کہ موجودہ ملکی سیاسی صورتحال میں وطن عزیز کے ساتھ کھڑے ہیں، ملکی موجودہ حالات کے پیش نظر کراچی نشترپارک میں منعقدہ 27 مارچ کے جلسے کو ملتوی کرتے ہیں، کراچی میں سلمان حیدر کے قاتلوں کی عدم کرفتاری سندھ حکومت اور ریاستی اداروں کی نااہلی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قومی یکساں نصاب کے نام پر پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، مذہبی رواداری کو سبوتاژ کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جا سکتی۔

علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ وہ نادیدہ طاقتیں جو ملک میں مذہبی منافرت پھیلانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی، وہی آج یکساں نصاب کے ذریعے وطن عزیز کے امن کو تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہیں، حکومت یہ بات ذہن نشین کر لے کہ یکساں نصاب کو اس وقت تک قبول نہیں کیا جائے گا، جب تک ملت تشیع کے تحفظات کو دور نہیں کر دیا جاتا، ہم یکساں قومی نصاب کو مسترد کرتے ہوئے اس کی اصلاح کا مطالبہ کرتے ہیں۔

علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ ملک میں ایک بار پھر شیعہ ٹارگٹ کلنگ کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، پشاور بم دھماکہ سمیت دیگر واقعات اسی سازش کی کڑی ہیں، ہم نے مادر وطن کے امن و سکون کیلئے ان گنت قربانیاں دیں ہیں، ریاستی ادارے ملت تشیع کے تحفظ کو یقینی بنانے میں اپنا آئینی کردار ادا کریں، وطن عزیز کو شدت پسندوں اور ان کے سہولت کاروں سے پاک کیا جائے، ملک دشمن منفی طاقتیں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کا مطلب ملک و قوم کی سلامتی اور امن کو داؤ پر لگانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عزاداری کو جرم قرار دیتے ہوئے عزاداروں پر مقدمات کا اندراج کیا جاتا ہے، ریاستی اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے اپنے اختیارات کو استعمال کرنا ہوگا، کسی متعصب افسر کو یہ قطعاً حق حاصل نہیں کہ وہ اختیارات سے تجاوز کرے، وفاقی و صوبائی حکومتوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ شدت پسند عناصر کو خوش کرنے کیلئے عزاداروں کے خلاف جاری اس سلسلے کو ختم کیا جائے۔

یہ خبر بھی پڑھیں ملک میں بے گناہوں کا تسلسل کیساتھ قتل لمحہ فکریہ ہے، شبر رضا

علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ شیعہ مسنگ پرسنز پر حکومت اور ادارے سرد مہری کا مظاہرہ کر رہے ہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمارے جبری گمشدہ نوجوانوں کو منظر عام پر لایا جائے اور ملک کے قانون کے مطابق ان کے ساتھ سلوک کیا جائے، ہم قانون و آئین کی بالادستی چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے سیاسی بحران کو آئینی انداز میں حل کیا جانا ہی ملک و قوم کے مفاد میں ہے، ایک جمہوری ریاست کسی دوسرے نظام حکومت کی متحمل نہیں ہو سکتی، امریکا اور اس کے حواریوں کی جب تک پاکستان اور اس خطے میں مداخلت ختم نہیں ہو جاتی، تب تک بحران پیدا ہوتے رہیں گے۔

پریس کانفرنس میں علامہ مرزا یوسف حسین، علامہ مختار امامی، علامہ نثار قلندری، علامہ باقر عباس زیدی، علامہ مبشر حسن، علامہ ملک عباس، میر تقی ظفر سمیت دیگر علمائے کرام و ذاکرین عظام بھی موجود تھے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button