مقالہ جاتہفتہ کی اہم خبریں

انا علی العھد

تم میدان میں حاضر رہو چاہے تنہا ہی ہو، یعنی تم اپنے بیوی بچوں کے ساتھ میدان میں ڈٹے ہو، یعنی جب ایک ماں اپنے جوان کو جنگ کے لئے میدان میں بھیجے اور پھر اس کا کٹا سر واپس آئے تو اس کے چہرے سے خون صاف کرکے اس سے کہے میں تجھ سے راضی ہوں کہ تو نے مجھے سیدہ فاطمہ الزہراء ؑ کی بارگاہ میں سرخرو کردیا

شیعہ نیوز: (انا علی العھد) سالہا سال سے مانوس اس آواز کو بھلا کیسے بھلایا جاسکتا ہے؟ امام زمانہؑ کے سچے سپاہی کی آواز، فتح مبین کے موقع پر آپ کا "یا اشرف الناس و اکرم الناس و اطھر الناس!!! السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ” سے شروع ہونے والا خطاب۔ آپ کا رسول اللہؐ سے تجدید بیعت کرنا اور کروانا "يا رسول الله! فداك نفسي ودمي وأبي وأمي وأهلي وولدي، وكل مالي وما خوّلني ربي۔ یا رسول اللہ! میری جان، ماں باپ، بیوی بچے، ہر چیز آپ پر قربان۔ ہمارا خون، ہماری جانیں، اولاد، زندگی کچھ نہیں ہے رسول اللہؑ کی عزت و کرامت اور شرف کے سامنے۔ لبیک یا رسول اللہؐ”۔

روز عاشور لبیک یا حسینؑ کا معنی سمجھانا "لَبّیکَ یا حُسَین یَعنی أنَّکَ تَکونُ حاضِراً فی المَعرَکَه وَلو کُنتَ وَحدَه۔ یعنی تم میدان میں حاضر رہو چاہے تنہا ہی ہو، یعنی تم اپنے بیوی بچوں کے ساتھ میدان میں ڈٹے ہو، یعنی جب ایک ماں اپنے جوان کو جنگ کے لئے میدان میں بھیجے اور پھر اس کا کٹا سر واپس آئے تو اس کے چہرے سے خون صاف کرکے اس سے کہے میں تجھ سے راضی ہوں کہ تو نے مجھے سیدہ فاطمہ الزہراء ؑ کی بارگاہ میں سرخرو کردیا۔ هذا یَعنی لََبَّیکَ یا حُسَین”۔ روز عاشور مصائب پڑھنا، سید الشہداءؑ و جناب زینبؑ کی مصیبت پر گریہ کرنا، بالخصوص وہ الفاظ دہراتے ہوئے گریہ کرنا جب سید الشہداءؑ اپنا سب کچھ قربان کرکے اللہ کی بارگاہ میں دست دعا بلند کرتے ہیں "أرَضیتَ یا ربّ”

یہ بھی پڑھیں: ہم شہداء قدس و فلسطین کو نہیں بھولیں گے، علامہ مقصود ڈومکی

آپ کا اصحاب سید الشہداءؒ کے کلمات دہرانا ان کی وفاداری کے تذکرے کرنا، زہیر بن قینؑ اور سعید بن عبداللہؑ کے الفاظ دہرانا اور ایسے دہرانا گویا خود سید الشہداءؒ کے محضر میں تجدید بیعت کررہے ہوں "لو علمت أني أقتل ثُمَّ أحيا ثُمَّ أحرق و يفعل ذَلِكَ بي سبعين مرة۔ اگر میں جان لوں کہ مجھے قتل کیا جائے گا، پھر زندہ کیا جائے گا، پھر جلا دیا جائے گا اور یہ کام میرے ساتھ ستر مرتبہ انجام پائے گا مَا ترکناک یا حسینؑ، تو بھی اے حسین بن علیؑ میں اپ کو تنہا نہیں چھوڑوں گا۔” پھر عصر حاضر میں حق و باطل کے معرکے پر صراحت کے ساتھ خیمہ حسینی کے بارے میں فرمانا "و امام ھذا المخیم ھو الامام الخامنئی” کہ آج اس خیمہ حسینی کے رہبر سید علی خامنہ ای ہیں اور پھر یہ صدا بلند کرنا "ما ترکناک یا ابن الحسینؑ” اے فرزند حسینؑ، ہم آپ کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

تمام پروپگنڈوں، سازشوں اور ظلم و ستم کے باوجود اپنے اصولوں سے پیچھے نہ ہٹنا اور شفاف آواز میں دنیا کو بتادینا کہ "نحن شیعة علی بن أبی طالب فی العالم لن نتخلى عن فلسطین ولا عن شعب فلسطین ولا عن مقدسات الأمة فی فلسطین۔ ہم علی بن ابی طالبؑ کے شیعہ فلسطین سے دستبردار نہیں ہوسکتے، نہ فلسطینی قوم سے اور نہ ہی فلسطین میں موجود مقدسات سے”۔ اور پھر انہی اصولوں پر اپنی جان دے دینا۔ آپ کا مسکراتے ہوئے فارسی بولنا "چشم ما روشن دل ما شاد شد” "شوی شوی!! یواش یواش!!”۔

یہ بھی پڑھیں: نائیجریا کے معروف عالم دین شیخ ابراہیم زکزکی کی بیروت آمد

ان یادوں کے ساتھ آپ سے وعدہ ہے کہ ہم آپ کے سکھائے ہوئے ہر عہد پر باقی رہیں گے۔ مکتب حسینی کی صحیح تفسیر سے جڑے رہیں گے۔ دنیا میں عدل الہی کے قیام، اسلامی تمدن کے احیاء، ظہور حضرت حجتؑ اور اس زمین پر کلمۂ توحید کی سربلندی تک، حق و باطل کے اس معرکے میں اسلامی مقاومت، اسلامی انقلاب اور عالم اسلام کے عزیز ترین و عالم بزمان فقیہ و عادل رہبر کے وفادار رہیں گے اور ہر ظلم و بربیت کے سامنے ڈٹے رہیں گے۔

تحریر: سید محمد روح اللہ رضوی

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button