انٹرویوہفتہ کی اہم خبریں

اربعین واک، حسینیت جیت گئی اور داعش کے سرپرست یزیدی ہار گئے

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) علامہ عبد الحسین مجلس وحدت مسلمین خیبرپختونخواہ کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل ہیں، علاقائی مسائل پر ان سے لیا گیا انٹرویو پیش خدمت ہے۔

سوال: اس سال ہنگو میں یوم عاشورہ کے جلوس کے حوالے سے علمائے کرام سمیت کئی شیعہ افراد پر ایف آئی آر کا اندراج ہوا، یہ کیا معاملہ تھا۔؟
علامہ عبدالحسین الحسینی: میں سمجھتا ہوں کہ یہ ہنگو کا امن تباہ کرنے کی ایک بہت سوچی سمجھی سازش تھی، جسے بابصیرت افراد نے ناکام بنادیا۔ یہ سب کچھ ڈی پی او ہنگو کا کیا دھرا ہے۔ اس نے تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے یوم عاشور کے انتہائی قدیمی جلوس پر ایف آئی آر کاٹی۔ اس جلوس کو ہنگو کے شیعہ اپنی جانوں کے نذرانے دے کر برآمد کرتے رہے ہیں، یہ ڈی پی او کیا چیز ہے۔ ہم نے یہ جلوس راکٹوں اور میزائلوں کی بارش میں بھی برآمد کئے ہیں۔ اور انشاء اللہ یہ جلوس اسی طرح بلکہ اس سے زیادہ شان و شوکت کیساتھ برآمد ہوتا رہے گا۔ ڈی پی او نے علامہ خورشید انور جوادی سمیت ہمارے کئی لوگوں پر ایف آئی آر درج کی، جس پر پوری شیعہ قوم ناراض ہے، ہم اس اقدام کو یکسر مسترد کرتے ہیں اور کسی کو یہ موقع نہیں دیں گے کہ وہ علاقہ کا امن تباہ کرے یا عزاداری سید الشہداء کو محدود کرنے یا اس میں رکاوٹ ڈالنے کی کوئی کوشش کرے۔

سوال: اس ایف آر کی آڑ میں کیا ہنگو میں تکفیری عناصر کو ایک مرتبہ پھر اشتعال انگیزی پھیلانے کا جواز فراہم نہیں کیا گیا۔؟
علامہ عبدالحسین الحسینی: ہوا ایسا ہی ہے، ایف آئی آر کے بعد شرپسندوں نے ہنگو میں زبردستی ہڑتال کروائی اور بازار ڈنڈے کے زور پر بند کرائے، مجھے معلوم نہیں یہ کیسا ڈی پی او ہے جسے جلوس عزاداری شرپسندی نظر آتا ہے اور زبردستی بازار بند کرانا، شیعہ کافر کے نعرے لگوانا، پتھراو کرنا شرپسندی نظر نہیں آتا۔ یہ ڈی پی او شرپسندوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ اگر جلوس کیخلاف کسی قسم کا اقدام نہ کیا جاتا تو شرپسندوں کی ہرگز ہمت نہ ہوتی۔

سوال: اسی طرح کا رویہ کے ڈی اے امام بارگاہ کے حوالے سے کوہاٹ کے ڈی پی او نے بھی اختیار کیا تھا، اس مسئلہ کی کیا تفصیلات ہیں۔؟
علامہ عبدالحسین الحسینی: جی۔ کوہاٹ کے شہر میں کے ڈی اے کے علاقہ میں امام بارگاہ کو سیل کیا گیا تھا، اور بعض لوگوں کو گرفتار بھی کیا گیا، یہ ہزاروں شیعہ افراد پر مشتمل آبادی کا کافی عرصہ سے مطالبہ تھا کہ ہمیں یہاں مسجد بنانے کی اجازت دی جائے، جس پر ہائیکورٹ کا بھی حکم موجود ہے، مگر کوہاٹ کی انتظامیہ نے یزید وقت کا کردار ادا کرتے ہوئے شیعہ مسلمانوں کو نہ صرف عزاداری سے روکا بلکہ نماز پر بھی پابندی لگائی گئی۔ جس معاشرے میں انسان کو اپنی عبادت کرنے کی بھی آزادی نہ ہو تو وہ معاشرے تباہ ہوجاتے ہیں۔ ہمارے تو ملک کے آئین میں موجود ہے کہ یہاں اقلیتوں کو بھی کوئی عبادت کرنے سے نہیں روک سکتا، ریاست کا تو فرض ہے کہ وہ لوگوں کو عبادت میں مدد فراہم کرے، مگر یہاں پر تو الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ ہمارے مسلمانوں کو عبادت اور نماز سے روکا جارہا ہے، یہ کیسا نیا پاکستان ہے جہاں لوگوں کو عبادت سے بھی روکا جارہا ہے۔

سوال: ان مسائل کے حوالے سے آپ لوگوں کی حکومت سے کوئی بات چیت ہوئی ہے۔؟
علامہ عبدالحسین الحسینی: گذشتہ دنوں ایم ڈبلیو ایم کے وفد کی سینئر صوبائی وزیر جناب عاطف خان سے ملاقات ہوئی ہے، وہاں میں نے یہ معاملات ان کے سامنے رکھے، ہم نے قوم کے غم وغصہ سے انہیں آگاہ کیا ہے، ہم نے انہیں بتایا ہے کہ یہ ظلم ہورہا ہے، انہوں نے تفصیل سے ہماری باتیں سنیں اور یقین دہانی کرائی کہ ان معاملات پر حکومت اقدامات کرے گی، اور آئندہ کوشش کی جائے گی کہ ایسی کوئی صورتحال پیدا نہ ہو۔ اب دیکھتے ہیں کہ صوبائی حکومت ان معاملات کو کیسے ڈیل کرتی ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ صوبائی حکومت ان معاملات پر سنجیدگی دکھائے گی۔

سوال: خیبر پختونخوا میں اہل تشیع کو اس کے علاوہ بھی کئی مسائل درپیش ہیں، جس میں کوٹلی امام حسین علیہ السلام ڈی آئی خان، پاراچنار میں بالشخیل کی زمینوں کا معاملہ، لاپتہ افراد، ہنگو میں شاہوخیل کی آبادکاری اور ہزارہ ڈویژن میں عزاداری کے مسائل۔ شیعہ تنظیمیں ان مسائل پر کس حد تک حکومت کیساتھ رابطہ میں ہیں۔؟
علامہ عبدالحسین الحسینی: میں اگر علاقائی تنظیم وحدت کونسل کی بات کروں تو ہنگو، کوہاٹ اور اورکزئی کے معاملات پر اس پلیٹ فارم سے بھرپور آواز اٹھائی گئی ہے، اس کے علاوہ ایم ڈبلیو ایم کی جانب سے ہر موقع اور ہر ملاقات میں ان مسائل پر بات ہوئی ہے، عاطف خان صاحب کیساتھ ملاقات میں بھی ان مسائل پر بات ہوئی ہے، جن کی نشاندہی آپ نے کی ہے۔ یقینی طور پر تنظیموں کا یہی کام ہوتا ہے کہ حکومت کیساتھ مسائل کو اٹھائے، ان کو حل کرنا حکومت کے اختیار میں ہوتا ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ صوبائی حکومت صوبہ خیبر پختونخوا میں اہل تشیع کو درپیش یہ تمام مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرے گی۔ اور اسے فوری طور پر کرنا بھی چاہیئے۔

سوال: اس مرتبہ ملک بھر میں شیعہ ووٹ اکثریت میں پی ٹی آئی کو گیا، ایسے میں صوبائی اور مرکزی حکومت کی ترجیحات میں ان مسائل کا حل ہونا چاہیے تھا، پھر کیا وجہ ہے کہ ایسے مسائل سامنے آرہے ہیں۔؟
علامہ عبدالحسین الحسینی: بالکل۔ ایسا ہی ہوا ہے، شیعہ قوم نے دیگر جماعتوں سے تنگ آکر عمران خان کو نجات دہندہ کے طور پر دیکھا، خیبر پختونخوا میں بھی یہی صورتحال تھی، یہی باتیں ہم صوبائی وزراء کو باور کراچکے ہیں، اب صوبائی حکومت کی بہت بڑی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے شیعہ ووٹرز کو مایوس نہ کرے، یہ مسائل انتہائی اہم نوعیت کے ہیں، اگر ان پر تاخیر کی گئی تو مزید مسائل جنم لے سکتے ہیں، لہذا حکومت مزید تاخیر نہ کرے۔

سوال: آخر میں اربعین حسینی کے حوالے سے کیا کہنا چاہیں گے۔؟
علامہ عبدالحسین الحسینی: امام حسین علیہ السلام کی شہادت آج بھی دنیا کو یہی درس دے رہی ہے کہ ظالم کے سامنے نہیں جھکنا، حق کا پرچم سربلند رکھنا ہے، دین مبین اسلام کی خاطر اپنے بچے اور دوست بھی قربان کرنے پڑیں تو کوئی پیچھے نہ ہٹیں۔ اربعین پر نجف سے کربلا تک ہونے والی عالمی مشی اس بات کا اظہار ہے کہ حسینیت جیت گئی اور داعش اور اس کے سرپرست یزیدی آج بھی ہار گئے۔

Tags
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close