دنیا

آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان فوجی جھڑپیں، 23 افراد ہلاک

شیعہ نیوز : آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان متنازع خطے میں جھڑپوں کا سلسلہ دوسرے روز بھی جاری ہے جس میں بعض اطلاعات کے مطابق متعدد فوجیوں سمیت 23 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں تاہم آزاد ذرائع نے ابھی تک اتنے بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی تائید نہیں کی ہے۔

آرمینیا نے دعوی کیا ہے کہ آذربائیجان کی فوج کی جانب سے چلائی گئی گولی ایک خاتون اور ایک بچے کو لگی جس سے ان کی موت ہوگئی وہیں آذربائیجان کے صدر نے کہا کہ ان کی فوج کو کافی نقصان پہنچا ہے ۔

دونوں ممالک کے درمیان حالات اس قدر بے قابو ہوگئے ہیں کہ آرمینیا نے آذربائیجان کے دو جنگی طیاروں اور 14 ڈرون کو مار گرانے اور کئی بکتر بندگاڑیوں کو تباہ کرنے کا دعوی کیا ہے ۔ حالانکہ آذربائیجان کی وزارت دفاع نے اس حوالے سے ابھی تک کچھ بھی نہیں کہا ہے ۔

دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی جنگ کی سطح تک پہنچ گئی ہے کہ آذربائیجان اور آرمینیا  نے اپنی اپنی سرحد پر ٹینک ، توپ اور جنگی طیارے تعینات کردئے ہیں ۔ اس درمیان آرمینیا نے ملک میں مارشل لا لاگو کرتے ہوئے اپنی افواج کو سرحد کی جانب کوچ کرنے کا حکم دے دیا ہے ۔

ادھر اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹریس نے آذربائیجان اور آرمینیا سے نگورنو قرہ باغ خطے میں فوری طور پر جنگ بندی پر عمل درآمد کی اپیل کرتے ہوئے آرمینیا اور آذربائیجان کے مابین شروع ہونے والے فوجی تنازع پر سخت تشویش کا اظہار کیا اور فوجی طاقت کے استعمال کی شدید مذمت کی ۔

در ایں اثناء ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان حالیہ جھڑپوں کے بعد ان ممالک کے وزرائے خارجہ سے علیحدہ علیحدہ ٹیلی فونی گفتگو میں ان سے صبر و تحمل سے کام لینے اور فوری طور پر جنگ بندی اور عالمی قوانین کے دائرے میں مذاکرات کرنے کی اپیل کی۔

ایران کے وزیر خارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران سیز فائر اور مذاکرات کے آغاز کیلئے اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لانے پر تیار ہے۔

واضح رہے کہ آذربائیجان اور آرمینیا دونوں ہی 1991 سے قبل سویت یونین کا حصہ تھے تاہم دونوں ممالک کے درمیان تین دہائیوں سے زائد عرصہ سے نگور نو کاراباغ کا تنازع ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button