پاکستانی شیعہ خبریںشہید سردار حاج قاسم سلیمانیہفتہ کی اہم خبریں

شہید قاسم سلیمانی ؒ کا تعارف

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) اہل بیت اطھارؑ، انبیاء کرام اور اصحاب رسول کے حرم کا دفاع کرنے والوں کے سردار شہید قاسم سلیمانی ؒ کا مختصر تعارف پیش خدمت ہے۔

قاسم سلیمانی ولد حسن 11 مارچ 1957ء کو ایران کے صوبہ کرمان کے شہر رابر کے مضافات میں سلیمانی قبیلے میں متولد ہوئے۔ 18 سال کی عمر میں محکمہ آب رسانی میں ملازمت شروع کی۔

انقلاب اسلامی ایران کے دوران وہ مشہد کے رضا کامیاب نامی عالم دین سے آشنا ہوئے جنہوں نے ان کو انقلابی سرگرمیوں میں شامل کیا۔ ان کے بھائی سہراب سلیمانی کے بقول، جنرل قاسم سلیمانی، ایران میں اسلامی انقلاب کے دوران کرمان میں ہونے والے مظاہروں اور احتجاجات کے اہم منتظمین میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔

جنرل قاسم سلیمانی نے 1980ءمیں سپاہ پاسدارن انقلاب اسلامی میںشمولیت اختیار کی۔ ایران عراق جنگ کے آغاز پرآپ کرمان کے دو فوجی بٹالینز کے کمانڈر تھے۔مختصر عرصے کے لئے آپ نے سپاہ قدس کے آذربایجان غربی برگیڈ کی کمان سنبھالی۔

جنرل سلیمانی سنہ 1981ء کو سپاہ پاسداران کے اس وقت کے سپہ سالار، محسن رضایی کے حکم سے سپاہ قدس کے 41ویں برگیڈ ثاراللہ کے سربراہ منصوب ہوئے۔

یہ خبر بھی پڑھیں شہید قاسم سلیمانی اور رفقاء کی دوسری برسی، پاکستان بھر میں اجتماعات

آپ ایران عراق جنگ کے دوران مختلف آپریشنز من جملہ والفجر 8، کربلا 4 اور کربلا 5 نامی آپریشن کے کمانڈر تھے۔

قاسم سلیمانی سنہ 1998ء میں رہبر مسلمین جہاں آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی طرف سے سپاہ پاسداران انقلاب کے قدس برگیڈ کے سربراہ منصوب ہوئے۔

جنرل قاسم سلیمانی کو سنہ2011ءمیں رہبر مسلمین جہاں آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی طرف سے میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی۔

جنرل قاسم سلیمانی عراق اور شام میں داعش کے خلاف برسر پیکار کمانڈروں میں سے تھے۔آپ نے روضہ ہائے مقدس کا کامیابی سے دفاع کیا اور دشمنوں کی ناک رگڑدی۔21 ستمبر 2017 کو ایک مدافع حرم شہید کے چہلم سے خطاب کرتے ہوئے آپ نے کہا تھا کہ تین ماہ کے عرصے میں روئے زمین سے داعش کی حکومت کا خاتمہ کردیا جائے گا اور دنیا نے اس بات کو سچ ہوتے دیکھا۔

10 مارچ سنہ 2019ء کو رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی طرف سے جنرل قاسم سلیمانی کو ایران کے سب سے اعلی فوجی اعزاز نشان ذوالفقار سے نوازا گیا۔ اسلامی جمہوری ایران کے فوجی اعزاز دینے سے مربوط قانون کے مطابق یہ نشان ان کمانڈروں کو اور فوجی آفیسروں کو دیا جاتا ہے جن کی حکمت عملی مختلف فوجی آپریشنز میں نتیجہ خیز ثابت ہوں۔ایران کے اسلامی انقلاب کے بعد جنرل سلیمانی پہلے شخص ہیں جنہوں نے یہ نشان حاصل کیا ہے۔

3 جنوری 2019 کو امریکہ دہشتگرد نے بزدلانہ کاروائی کرتے ہوئے بغداد ایئر پورٹ پر ڈرون حملے میں آپ کو شہید کردیا۔ آپ کے ساتھ حشد الشعبی کے مرکزی رہنما ابو مہدی مہندس اور دیگر رفقاء نے بھی شہادت پائی۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button