
جنگ بندی کے نفاذ سے نیتن یاہو کے مفادات کو خطرہ ہے، ایہود باراک
شیعہ نیوز: سابق صہیونی وزیر اعظم ایہود باراک نے کہا ہے کہ حماس کے ساتھ جنگ بندی کا نفاذ نیتن یاہو کے مفادات کے خلاف ہے۔
رپورٹ کے مطابق حماس اور صہیونی حکومت نے غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کرکے قیدیوں کا تبادلہ انجام دیا تاہم صہیونی وزیر اعظم کے رویے کی وجہ سے معاہدے پر مکمل عملدرآمد نہ ہوسکا ہے۔ نیتن یاہو نے بارہا جنگ بندی کے معاہدے میں رکاوٹیں ڈالیں۔ اس رویے پر اسرائیلی سیاست دان بھی اس پر تنقید کر رہے ہیں۔
اسی تناظر میں سابق اسرائیلی وزیر اعظم ایہود باراک نے نیتن یاہو پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنے ذاتی مفادات کو اسرائیل کے مفادات پر ترجیح دے رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : نقل مکانی کو مسترد , غزہ کی تعمیر نو کے مصر کے منصوبے کی حمایت کرتے ہیں، اردن
انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر عمل درآمد میں رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے کیونکہ یہ اس کے ذاتی مفادات کے خلاف ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نیتن یاہو جانتا ہے کہ جیسے ہی جنگ ختم ہوگی، اسے وزیر اعظم کے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔ یہ معاہدہ اس کے سیاسی کیریئر کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے۔
ایہود باراک نے کہا کہ فی الحال اسرائیلی عوام کی اکثریت نتن یاہو کے خلاف ہے۔ انتہائی دائیں بازو کی کابینہ کو 7 اکتوبر کے حملے میں انٹیلیجنس کی ناکامی کی وجہ سے سخت تنقید کا سامنا ہے۔ اگر غزہ میں جنگ ختم ہوتی ہے تو یہ نہ صرف نیتن یاہو بلکہ لیکوڈ پارٹی کے کئی دیگر رہنماؤں کے سیاسی مستقبل کا بھی خاتمہ کر سکتی ہے۔