مشرق وسطی

علاقائی مسائل کو دوستانہ تعلقات کے فروغ سے حل کیا جائے۔ ظریف

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ ایران، ہرمز امن منصوبے کی تجویز کے ذریعے، خطی ممالک کے درمیان یکجہتی، باہمی مفاہمت، پُرامن اور دوستانہ تعلقات اور تعاون کو فروغ دینے کی دیرینہ خواہش کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے قطر میں منعقدہ دوحہ فورم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عصر حاضر میں بعض علاقائی عناصرخطے میں لامتناہی عدم مساوات کو علاقائی سطح پر تسلط جمانے کیلئے اہم موقع سمجھتے ہیں اور یمن کی جنگ اور سعودی عرب کی جانب سے قطر کا محاصرہ اسی قسم کے غلط اندازوں اور تخمینوں کا المناک نتیجہ ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہرمز امن منصوبے میں خطے کے ممالک کے درمیان یکجہتی، باہمی مفاہمت، پُرامن اور دوستانہ تعلقات، سمندری علاقوں میں آزاد اور پُرامن جہازرانی، تیل اور توانائی تک آسان رسائی اور تمام ممالک کو ایندھن کی ضروریات فراہم کرنا شامل ہیں.

انہوں نے مزید کہا کہ ہرمز امن منصوبے کے ذریعے خطے کے تمام اختلافات اور کشیدگی کو پُرامن طریقوں اور تعلقات کے فروغ کے ذریعے حل کرنا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہتھیاروں کی تجارت کے معاملے میں، خلیجی ریاستوں نے 2014 سے 2018 تک دنیا میں اسلحہ کی فروخت سے حاصل ہونے والی پوری آمدنی کے تقریبا ایک چوتھائی حصے کے برابر، اسلحے کی برآمدات کی ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ ان تمام مہلک ہتھیاروں کو امریکہ نے فروخت کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ لیکن اہم سوال یہ ہے کہ کیا اس خطے میں امریکی ہتھیاروں کی وسیع پیمانے پر فروخت نے 7 ٹریلین ڈالر کے قریب سے بھی کچھ حاصل کیا ہے جس کا خود صدر ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ وہ 2001 سے ہمارے خطے میں برباد کیا ہے؟

محمد جواد ظریف نے صدر مملکت حسن روحانی کی جانب سے اقوام متحدہ کی 72 ویں جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس کے موقع پر ہرمز امن منصوبے جسے اتحاد امید بھی کہاجاتا ہے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران، ہرمز امن منصوبے کے فریم ورک کے اندر خطے کے ممالک کے درمیان تعمیری اور جامع تعاون کا خواہاں ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ تجویز خطے کے ہر ملک کے لئے ذمہ داری اور شراکت داری کی تعریف پر مبنی ہے اور اس کا مقصد بھی آبنائے ہرمز میں واقع تمام قوموں کی خوشحالی، ترقی اور سلامتی کو فراہم کرنا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button