تازہ ترین

امریکی خواب پورا ہونے سے پہلے ہی چکنا چور

  • جمعہ, 11 جنوری 2019 12:25

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)امریکہ کہ سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ’ہر ایک ایرانی جنگجو کو شام سے نکال باہر کریں گے‘۔مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ جب تک شامی صدر بشار الاسد کے زیر کنٹرول علاقوں سے ایرانی اور اس کے لیے بر سرپیکار قوتیں نکل نہیں جاتیں اس وقت تک امریکہ ان علاقوں کے لیے از سر نو تعمیر کے لیے امداد نہیں دے گا۔انھوں نے سابق امریکی صدر براک اوباما کی مشرق وسطیٰ کی پالیسیوں پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ’سنگین غلطیاں‘ کیں۔انھوں نے قاہرہ میں یہ خطاب صدر ٹرمپ کے اس اعلان کے تین ہفتے بعد کیا ہے جس میں صدر کا کہنا تھا کہ وہ شام سے امریکی افواج نکال لیں گے۔صدر ٹرمپ کے اس اعلان نے امریکی اتحادیوں کو پریشان کر دیا تھا اور واشنگٹن پر سخت تنقید کی گئی تھی۔مائیک پومپیو صدر ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد اتحادیوں کو اعتماد میں لینے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کا کہنا تھا ’شدت پسندی کے خلاف جنگ ختم ہونے تک امریکہ اپنی فوج نہیں نکالے گا۔ ہم آپ کے ساتھ مل کر دولت اسلامیہ، القاعدہ اور دیگر جہادیوں کو شکست دینے کے لیے بھرپور محنت کریں گے۔‘ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ ’اچھائی کی قوت ہے اور امریکہ جہاں سے نکلتا ہے وہاں افراتفری پھیل جاتی ہے‘۔

مائیک پومپیو نے ایران کا ذکر کیوں کیا؟
شام میں جاری خانہ جنگی میں ایران روس کے ساتھ مل کر شامی حکومت کا ساتھ دے رہا ہے جس میں ہتھیار مہیہ کرنا، ملٹری مشیر اور اطلاعات کے مطابق جنگجو دستے بھی شامل ہیں۔امریکہ کو مشرق وسطیٰ میں ایران کے کردار پر شدید تشویش ہے اور اس کا موقف ہے کہ ایران خطے کو غیر مستحکم کر رہا ہے۔مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف پابندیاں ’تاریخ کی سخت ترین پابندیں ہیں اور ان میں مزید سختی ہو گی۔‘

شام میں امریکہ کا کتنا عمل دخل ہے؟
امریکہ ترکی، عرب ریاستوں اور اردن کے ساتھ مل کر بعض باغی گروہوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔تقریباً 2000 امریکی فوجی شام میں موجود ہیں اور شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف لڑ رہے ہیں۔دسمبر میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ شام سے اپنی فوج کو اس لیے نکال رہے ہیں کیوں کہ دولت اسلامیہ کو ’شکست‘ دی جا چکی ہے۔اس اعلان کے بعد امریکی سیکرٹری دفاع جیمز میٹس اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے اور امریکی حکام اتحادیوں کو اعتماد میں لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.