سعودی شہزادے کے محل میں ملازمت کرنے والے پاکستانی کے حیرت انگیز انکشافات

  • جمعرات, 21 فروری 2019 13:08

بشکریہ: اسلام ٹائمز

ابو حمزہ صاحب کا بنیادی تعلق جنوبی پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ سے ہے، انہوں نے ایک غریب، شریف اور مذہبی گھرانے میں آنکھیں کھولیں، وہ دیوبند مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں، وہ روزگار کے سلسلے میں 12 سال تک سعودی عرب میں رہے، وہاں 7 سال انہوں نے موجودہ سعودی بادشاہت میں حکومتی ذمہ داری رکھنے والے ایک شہزادے کے محل میں بھی ملازمت کی۔ ابو حمزہ صاحب کو آل سعود خاندان کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا، اس تناظر میں ابو حمزہ صاحب سے ایک انٹرویو کا اہتمام کیا، جو قارئین کے پیش خدمت ہے، تاہم انکی درخواست پر انکی شناخت کو ظاہر نہیں کیا گیا۔(ادارہ)
 
سوال: آپ کب سعودی عرب روانہ ہوئے اور وہاں اوائل کے عرصہ میں کیا کیا۔؟
ابو حمزہ: سب سے پہلے تو آپ کا شکریہ کہ آپ نے مجھ ناچیز کو موقع دیا، میں 2002ء میں سعودیہ گیا تھا، میرے والد اور بڑے چچا کی خواہش تھی کہ میں نے چونکہ بی اے کر رکھا تھا اور گاوں میں پڑھا لکھا شمار ہوتا تھا، اس لئے ان بزرگوں کی خواہش تھی کہ میں وہاں جاوں اور روزگار تلاش کروں۔ شروع میں مجھے وہاں ایک پرائیویٹ کمپنی میں ملازمت ملی، وہاں میں نے تین سے چار سال کام کیا، اس دوران صرف شادی کے وقت پاکستان آنا ہوسکا۔ پھر وہاں ایک پاکستانی مولانا صاحب سے ملاقات ہوئی، وہ وہاں کافی عرصہ سے رہ رہے تھے، ان سے دوستی ہوگئی، انہوں نے مشورہ دیا کہ آپ کو اس سے اچھی جگہ پر کام کرنا چاہیئے۔

پھر انہوں نے ایک سعودی شخص سے ملاقات کروائی۔ اس نے بتایا کہ ایک سعودی شہزادے کے محل میں ایک ملازمت ہے، وہ پیسے بھی بہت زیادہ دیں گے، میرے ذہن میں آیا کہ اگر اس کمپنی میں میں کام کرتا رہوں تو بیس سالوں میں کچھ نہ کچھ کما سکوں گا، اگر شہزادے کے محل میں نوکری مل جائے تو بہت زیادہ کما لوں گا اور پھر جلد گھر چلا جاوں گا یا پھر گھر والوں کو ہی یہیں بلا لوں گا، کیونکہ ہم سعودی عرب کو اپنے لئے مذہبی طور پر بھی آئیڈیل سمجھتے تھے اور خادمین حرمین کے کسی شہزادے کے گھر میں نوکری کرنا تو ہمارے لئے اعزاز کی بات تھی۔ بہرحال انہوں نے شہزادے کے محل میں میری نوکری کروا دی۔
 
سوال: غیر ملکی ہونیکے باوجود آپکی اس محل میں نوکری آسانی سے ہوگئی۔؟
ابو حمزہ: میں جب پہلی بار محل میں داخل ہوا تو میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں، وہاں سکیورٹی کا انتظام بہت سخت تھا اور انہوں نے میری بہت چھان بین کی، مگر شائد پاکستانی مولانا صاحب کی سفارش کیوجہ سے میرا کام ہوگیا۔ میرے ساتھ وہ مولانا صاحب تو محل نہیں گئے، البتہ وہ سعودی شیخ ساتھ گیا تھا، میں اس وقت عربی زیادہ نہیں جانتا تھا، اس وجہ سے ان لوگوں کی باتیں زیادہ سمجھ نہیں سکا۔
 
سوال: محل میں نوکری کے دوران آپ نے اس شہزادے کے رہن سہن کے حوالے سے کیا دیکھا۔؟
ابو حمزہ: شروع میں تو ایک ماہ میں نے اس شہزادے کو نہیں دیکھا، لیکن جب ان کا اعتماد مجھ پر قائم ہوگیا، پھر میں اکثر شہزادے کو دیکھتا تھا، ہمارے ذہن میں تو شاہی خاندان ایک انتہائی مذہبی تھا، لیکن آہستہ آہستہ مجھ پر ان کی ایسی حرکتیں واضح ہوتی چلی گئیں، جو میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھیں۔
 
سوال: کچھ ہمارے قارئین کیساتھ شیئر کرنا پسند کرینگے۔؟
ابو حمزہ: جی کیوں نہیں، سب سے پہلے تو اس شہزادے کی عیاشیاں ہم پر ظاہر ہوئیں، یعنی شراب و شباب، ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ جس خاندان کو ہم اتنا معتبر سمجھتے ہیں، وہ لوگ ایسے ہوں گے، میں نے خود دیکھا کہ محل میں سرشام شراب کی محفلیں سجتی تھیں، مجھے کہتے ہوئے بھی شرم آتی ہے کہ عورتوں کو بھی یہاں سجا سنوار کر لایا جاتا تھا۔ کئی پرانے ملازم یہ سب جانتے تھے، ان میں سے ایک دو ملازمین نے بھی مجھے اس کے بارے میں بتایا، جس پر میں حیران رہ گیا اور پھر جب میں نے یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تو میری حیرانگی اور بڑھ گئی۔
 
سوال: اس شہزادے اور اسکے باقی گھر والوں کا ملازمین کیساتھ کیسا رویہ تھا۔؟
ابوحمزہ: شہزادے کا مجھ سے براہ راست آمنا سامنا تو بہت کم ہوا، لیکن ایک بار اس نے مجھے بغیر کسی وجہ کے بے عزت کیا، جس کے بعد ہم ملازمین جب آپس میں بیٹھتے تھے تو بات کرتے تھے، جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ وہ ظالم بھی تھے۔ ایک مرتبہ اس شہزادے کی ایک اونٹنی بیمار ہوکر مر گئی، جس پر اس نے اس ملازم پر اس قدر تشدد کروایا کہ وہ مرنے کے قریب پہنچ گیا، پھر اسے نوکری سے بھی نکال دیا گیا۔
 
سوال: کیا آپکو وہاں نوکری کے دوران گھر آنے کی اجازت تھی۔؟
ابو حمزہ: مجھے تو شروع میں یہی بتایا گیا تھا کہ یہاں چھٹی بھی ملے گی اور اچھی تنخواہ بھی۔ لیکن جب پہلا سال گزر جانے کے بعد میں نے چھٹی اور پاکستان جانے کا مطالبہ کیا تو انہوں نے وہ مسترد کر دیا، پھر تین سال بعد مجھے گھر آنے کا موقع ملا، وہ بھی اس شیخ کی سفارش اور لکھت پڑہت کے بعد۔
 
سوال: یہ سب کچھ ہونے کے بعد آپ نے دوبارہ سعودیہ جانے کا فیصلہ کیوں کیا۔؟
ابو حمزہ: اگر ضمیر کی مانتا تو ہرگز نہ جاتا، مگر گھریلو حالات نے مجبور کیا، یہی سوچا کہ کچھ عرصہ اور کام کروں گا اور مزید اتنے پیسے اکٹھے کر لوں کہ پاکستان واپس آکر اپنا کوئی کاروبار کرسکوں، اگر انہوں نے مکمل چھٹی دیدی تو ٹھیک، ورنہ عارضی چھٹی کا بہانا بناکر آجاوں گا۔
 
سوال: آپ نے اس محل میں اپنی مجموعی ملازمت کے دوران کیا خلاصہ اور نتیجہ حاصل کیا۔؟
ابو حمزہ: میں نے جو دیکھا، وہ بالکل الٹ تھا، یہ عرب شہزادے اور یہ خاندان انتہائی عیاش اور ظالم ہے، ان کا مذہب سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں، یہ بہت ظالم لوگ ہیں، ان کی ایک اپنی ہی دنیا ہے۔ ان لوگوں کے سینے میں دل نام کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی، شاہی خاندان تو ہمارے ذہن میں عقیدت کا درجہ رکھتا تھا، لیکن میں تو دیکھ کر حیران رہ گیا کہ یہ سب ان کا ڈھونگ ہے، یہ اسلام کے ٹھیکیدار بنے پھرتے ہیں، ان کو تو مذہب کی الف بے کا بھی علم نہیں۔ یہی سب کچھ دیکھ کر میں سعودیہ سے واپس آگیا۔ مجھے واپس آنے میں مشکل ہوئی، لیکن میں خیریت سے گھر پہنچ گیا، میری آپ سے بھی گزارش ہوگی کہ آپ لوگ بھی میرے نام اور شناخت کو خفیہ رکھیں۔

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.