28 فروری سانحہ کوہستان، جب 25 شیعہ مسافروں کو شناختی کارڈ دیکھ کر شھید کردیا گیا

  • جمعرات, 28 فروری 2019 14:44

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  28 فروری 2012ء گلگت بلتستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے جس دن شاہراہ قراقرم پر 25 شیعہ مسافروں کو بسوں سے اتار کر شناخت کے بعد بہیمانہ انداز میں ہاتھ پیر باندھ کر شہید کر دیا گیا۔

 تفصیلات کے مطابق راولپنڈی سے جی بی جانے والی بسوں کو کوہستان ہربن داس کے مقام پر سکیورٹی فورسز کی وردیوں میں ملبوس مسلح دہشتگردوں نے روک لیا۔ تمام مسافروں کو بسوں سے اتار کر ان کے شناختی کارڈ دیکھے گئے اور نام سے شیعہ ثابت ہونے والے مسافروں کے ہاتھ پیر باندھ کر گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا۔ اس واقعہ کے خلاف ہفتوں گلگت بلتستان میں احتجاجی سلسلہ جاری رہا اور دہشتگردوں کی گرفتاری کے مطالبات ہوتے رہے۔ تاہم پیپلز پارٹی کی صوبائی اور وفاقی حکومت سمیت سکیورٹی ادارے دہشتگردوں کا تعاقب کرنے میں ناکام رہے۔ اس افسوسناک اور اندوہناک سانحے کو سانحہ کوہستان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ سانحہ کوہستان کو پیش آئے سات سال کا طویل عرصہ بیت گیا، لیکن تاحال کسی بھی دہشتگرد کو سزا نہیں مل سکی ہے۔ جی بی تاریخ میں سانحہ 88 کے بعد یہ بڑا سانحہ تھا، تاہم اس کے بعد یک بعد دیگرے متعدد سانحات رونماء ہوتے رہے۔ ان تمام سانحات کے مجرموں کو تاحال کیفرکردار تک نہیں پہنچایا جا سکا ہے۔ سانحہ کوہستان کی آڑ میں دشمن نے پورے خطے میں فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے کی کوشش کی، تاہم تمام مکاتب فکر کے علماء اور عوام نے اتحاد کی فضاء کو خراب ہونے نہیں دیا۔ اس واقعہ کے بعد پے در پے شاہراہ قراقرم پر کئی سانحات ایک ہی نوعیت کے ہوئے، جسے لوگ سانحہ چلاس اور سانحہ بابوسر کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.