ایم ڈبلیو ایم کے زیراہتمام خیبر پختونخوا کے تنظیمی مسئولین کی تربیتی ورکشاپ

  • بدھ, 06 مارچ 2019 17:04

 رپورٹ: ایس اے زیدی
 
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی جانب سے اپنے صوبائی اور ضلعی مسئولین کی عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق فکری، نظریاتی اور صلاحیتوں کو مزید نکھارنے کیلئے تنظیمی و تربیتی ورکشاپس کا سلسلہ 3 ماہ قبل شروع کیا گیا تھا، سندھ، بلوچستان، سنٹرل اور جنوبی پنجاب کے بعد تربیت کا یہ سلسلہ خیبر پختونخوا پہنچ گیا۔ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں معروف دینی درسگاہ جامعہ شہید عارف حسین الحسینی میں اس تربیتی ورکشاپ اور صوبائی شوریٰ کے اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔ ایم ڈبلیو ایم کے شعبہ تنظیم سازی کے تحت ہونے والی یہ ورکشاپ بروز ہفتہ شیڈول کے مطابق صبح 9 بجے شروع ہوئی، تلاوت کلام پاک کے ساتھ باقاعدہ ورکشاپ کا آغاز ہوا۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض ایم ڈبلیو ایم خیبر پختونخوا کے سیکرٹری تنظیم سازی شفیق حسین طوری نے انجام دیئے۔ ابتدائی کلمات جماعت کے صوبائی عبوری سیکرٹری جنرل مولانا سید وحید عباس کاظمی نے ادا کئے۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ  آج سے 4 ماہ قبل مجھے جب یہ اہم ذمہ داری ملی تو ہم نے مل جل کر بھرپور انداز میں تنظیمی دورہ جات کا آغاز کیا اور کوشش کی کہ تنظیم کو جلد متحرک کریں، تاکہ ملت تشیع کی یہ نمائندہ جماعت مضبوط مذہبی و سیاسی جماعت کے طور پر سامنے آئے، الحمد اللہ اپنی اس کوشش میں ہم کسی حد تک کامیاب ہوچکے ہیں۔
 
ورکشاپ میں مجلس وحدت مسلمین کی صوبائی کابینہ اور اضلاع کے ذمہ داران شریک ہوئے، مولانا وحید عباس کاظمی کے بعد ایم ڈبلیو ایم کے شعبہ تنظیم سازی کے مرکزی کوآرڈینیٹر سید عدیل عباس زیدی کو دعوت دی گئی، انہوں نے اس ورکشاپ کے انعقاد کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی ورکشاپس کی ضرورت جماعت میں بہت شدت سے محسوس کی جا رہی تھی، الحمد اللہ سندھ، بلوچستان، سنٹرل اور جنوبی پنجاب کے بعد اب خیبر پختونخوا میں اس تنظیمی و تربیتی ورکشاپ کے انعقاد کا مقصد بدلتے ہوئے عالمی اور ملکی حالات کے مطابق اپنے تنظیمی مسئولین اور کارکنان کی جدید خطوط پر تربیت کرنا ہے، حالات حاضرہ سے آگاہ، فکری تربیت یافتہ تنظیمی مسئول ہی بہتر انداز میں اپنے دین اور ملک و قوم کی خدمت کرسکتا ہے۔ بعدازاں مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی معاون سیکرٹری تنظیم سازی آصف رضا ایڈووکیٹ نے ایم ڈبلیو ایم کی روز اول سے اب تک حاصل ہونے والی ملی و قومی کامیابیوں کے موضوع پر خطاب کیا، اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ مجلس وحدت مسلمین جب میدان میں آئی تو پاکستان میں ظلم ہو رہا تھا، ہم نہتے تھے، ہمارے پاس کوئی وسائل نہیں تھے، ہم نے عوامی و سیاسی جدوجہد کا راستہ اختیار کیا، ہم نے پاراچنار کا محاصرہ توڑا، دہشتگردوں کیخلاف دوٹوک موقف اپنایا۔
 
آصف رضا ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ مجلس وحدت مسلمین قوم کی نمائندہ جماعت ہے، اپنی قوم کو مزید مضبوط بنانے اور حقوق کے تحفظ کیلئے ہمیں ایم ڈبلیو ایم کو ایک مضبوط اور فعال جماعت بنانا ہوگا۔ آصف رضا کے بعد معروف صحافی اور تجزیہ نگار محمد ابراہیم خان نے میڈیا کی اہمیت اور پریس ریلیز بنانے کے اصولوں پر ورکشاپ سے خطاب کیا، ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی جماعت کی ریڑھ کی ہڈی اس کا میڈیا سیل ہوتا ہے، میڈیا سیل اس جماعت کا آئینہ ہوتا ہے، یہ میڈیا کا دور ہے، انہوں نے شرکائے ورکشاپ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی جماعت کی کامیابی اس صورت میں ہی ممکن ہوسکتی ہے کہ آپ اپنی جماعت کے میڈیا سیل کو متحرک کریں، میڈیا نمائندوں کے ساتھ اچھے روابط قائم کریں اور اپنی پریس ریلیز صحافتی اصولوں کے عین مطابق بنائیں۔ بعدازاں انہوں نے پریس ریلیز بنانے کے اصولوں سے بھی ایم ڈبلیو ایم کے مسئولین کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ ابراہیم خان کے بعد طعام اور نماز ظہرین کا وقفہ ہوا، جس کے بعد مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکرٹری سیاسیات سید اسد عباس نقوی نے "کامیابی کیسے ممکن" کے عنوان پر تربیتی ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ہمیں اپنی سمت کا تعین ہوگا اور ہم مضبوط ارادے سے آگے بڑھیں گے تو کامیابی حاصل کرنا ہمارے لئے آسان ہو جائے گا۔
 
انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین کے مسئولین کو چاہیئے کہ وہ سب سے پہلے اپنا ویژن کلیئر کریں، اپنے اہداف کا تعین کریں اور پھر خلوص نیت کیساتھ آگے بڑھیں، جب جذبہ ہو اور آگے بڑھنے کی لگن ہو تو خدا کی مدد بھی شامل ہو جاتی ہے، مجلس وحدت سے قوم کو بہت امیدیں ہیں اور یہ سب خلوص اور نیک نیتی کیوجہ سے ہی ممکن ہوا ہے۔ بعد ازاں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری تربیت مولانا ڈاکٹر یونس حیدری نے اپنا لیکچر شروع کیا، اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ دین اور سیاست کو الگ سمجھنا ہمارے مکتب کی تعلیمات نہیں، ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت ہماری قوم میں اس سوچ اور نظریہ کو پروان چڑھایا جا رہا ہے کہ دین اور سیاست الگ ہیں، دین کا سیاست اور سیاست کا دین سے کوئی تعلق نہیں، ہمارے ہاں اکثریت اسی سوچ کے حامل افراد کی ہے۔ ہمارے لوگوں کو اجتماعی کاموں سے روکا گیا، انہیں ڈرایا گیا کہ اجتماعی جدوجہد میں آپ کی جان جاسکتی ہے، آپ کو نقصان کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ امام خمینی (رہ) کے مقابلہ میں بھی مجتہدین کو کھڑا کیا گیا، ہمارا ملک بھی اس وقت اینٹی ظہور بلاک میں ہے، ہمیں اپنے ملک کو اینٹی ظہور بلاک سے نکالنا ہوگا اور عالمی سطح پر موجود اس عالمی تحریک کا حصہ بننا ہے، جس کی بنیاد امام خمینی (رہ) نے رکھی تھی۔
 
ڈاکٹر یونس حیدری کے خطاب کے بعد مجلس وحدت مسلمین خیبر پختونخوا کی شوریٰ کا اجلاس شروع کر دیا گیا، اس اجلاس میں خصوصی شرکت اور خطاب ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹری تنظیم سازی سید مہدی عابدی نے کیا، اجلاس کا باقاعدہ اجلاس نماز مغربین کے بعد ہوا، آغاز میں ایم ڈبلیو ایم کے صوبائی عبوری سیکرٹری جنرل مولانا وحید کاظمی نے کارکردگی رپورٹ پیش کی، جس کے بعد اضلاع کے مسئولین نے کارکردگی رپورٹس پیش کیں، بعد ازاں ڈسکشن ہوئی اور آخر میں مرکزی سیکرٹری تنظیم سازی سید مہدی عابدی نے حالات حاضرہ پر اجلاس سے خطاب کیا، اس موقع ان کا کہنا تھا کہ دشمن نے منظم منصوبہ بندی کے تحت پاراچنار، کوئٹہ، کراچی، گلگت بلتستان اور ڈیرہ اسماعیل خان میں شیعہ شہریوں کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا، دشمن کی کوشش تھی کہ ان علاقوں کو ہماری کمزوری میں بدلا جائے، لیکن درحقیقت یہ علاقے ہماری کمزوری نہیں ہماری طاقت ہیں، قوم نے اس سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، خیبر پختونخوا میں بھی مجلس وحدت مسلمین کو مضبوط ہونے کی ضرورت ہے۔ ایک مضبوط ملت اور قوم ہی اپنے حقوق اور وطن کا دفاع کرسکتی ہے۔ بعدازاں سید مہدی عابدی نے شرکائے اجلاس کے سوالوں کے جوابات دیئے، پھر اجلاس کا اختتام دعائے امام زمانہ عج سے ہوا۔

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.