کیا “زکریا” کی شہادت امام زمانہ(عج) کے ظہور کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے؟

  • پیر, 11 مارچ 2019 11:19

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) استاد احمد غلامعلی کے ساتھ خیبر کی خصوصی گفتگو؛

حالیہ دنوں سعودی عرب میں “زکریا بدر علی الجابر” نامی چھے سات سالہ بچے کے قتل اور اس کے خلاف مختلف طرح کے رد عمل کی خبریں سوشل میڈیا پر گشت کر رہی ہیں۔ زکریا چند روز قبل اپنی ماں کے ساتھ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے روضہ مبارک کی زیارت کے لیے مدینہ کی طرف جا رہا تھا کہ ٹیکسی ڈرائور نے صرف ماں بیٹے کے شیعہ ہونے کی وجہ سے “زکریا” کو ماں کی آنکھوں کے سامنے ایک ٹوٹے ہوئے شیشے کے ذریعے ذبح کر دیا۔ اس غم انگیز اور دلسوز واقعہ پر مختلف رد عمل سامنے آیا ہے۔
بعض نیوز ایجنسیوں اور سوشل میڈیا کے صارفین نے زکریا کی شہادت کو امام صادق علیہ السلام کی ایک حدیث پر تطبیق دیتے ہوئے اسے امام زمانہ (ع) کے ظہور کی نشانیوں میں سے ایک نشانی قرار دیا ہے۔ خیبر صہیون تحقیقاتی مرکز نے اسی حوالے سے حوزہ علمیہ قم کے استاد حجۃ الاسلام و المسلمین “احمد غلامعلی” سے گفتگو کی جسے اپنے قارئین کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔
خیبر: برائے مہربانی اس روایت کی سند کے بارے میں مختصر وضاحت فرمائیں۔
استاد غلامعلی: وہ حدیث جو گزشتہ کئی دنوں سے مدینہ الرسول میں “زکریا” نامی بچے کی شہادت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر گشت کر رہی ہے مرحوم کلینی کی کتاب “الکافی” کے صفحے ۳۳۷ پر موجود ہے۔
مکمل حدیث یہ ہے:
عَلِی بْنُ إِبْرَاهِیمَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُوسَی الْخَشَّابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُوسَی عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُکیرٍ عَنْ زُرَارَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ع یقُولُ إِنَّ لِلْغُلَامِ غَیبَةً قَبْلَ أَنْ یقُومَ قَالَ قُلْتُ وَ لِمَ قَالَ یخَافُ وَ أَوْمَأَ بِیدِهِ إِلَی بَطْنِهِ ثُمَّ قَالَ یا زُرَارَةُ وَ هُوَ الْمُنْتَظَرُ وَ هُوَ الَّذِی یشَک فِی وِلَادَتِهِ مِنْهُمْ مَنْ یقُولُ مَاتَ أَبُوهُ بِلَا خَلَفٍ وَ مِنْهُمْ مَنْ یقُولُ حَمْلٌ وَ مِنْهُمْ مَنْ یقُولُ إِنَّهُ وُلِدَ قَبْلَ مَوْتِ أَبِیهِ بِسَنَتَینِ وَ هُوَ الْمُنْتَظَرُ غَیرَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ یحِبُّ أَنْ یمْتَحِنَ الشِّیعَةَ فَعِنْدَ ذَلِک یرْتَابُ الْمُبْطِلُونَ یا زُرَارَةُ قَالَ قُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاک إِنْ أَدْرَکتُ ذَلِک الزَّمَانَ أَی شَی ءٍ أَعْمَلُ قَالَ یا زُرَارَةُ إِذَا أَدْرَکتَ هَذَا الزَّمَانَ فَادْعُ بِهَذَا الدُّعَاءِ اللَّهُمَّ عَرِّفْنِی نَفْسَک فَإِنَّک إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِی نَفْسَک لَمْ أَعْرِفْ نَبِیک اللَّهُمَّ عَرِّفْنِی رَسُولَک فَإِنَّک إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِی رَسُولَک لَمْ أَعْرِفْ حُجَّتَک اللَّهُمَّ عَرِّفْنِی حُجَّتَک فَإِنَّک إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِی حُجَّتَک ضَلَلْتُ عَنْ دِینِی ثُمَّ قَالَ یا زُرَارَةُ لَا بُدَّ مِنْ قَتْلِ غُلَامٍ بِالْمَدِینَةِ قُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاک أَ لَیسَ یقْتُلُهُ جَیشُ السُّفْیانِی قَالَ لَا وَ لَکنْ یقْتُلُهُ جَیشُ آلِ بَنِی فُلَانٍ یجِی ءُ حَتَّی یدْخُلَ الْمَدِینَةَ فَیأْخُذُ الْغُلَامَ فَیقْتُلُهُ فَإِذَا قَتَلَهُ بَغْیاً وَ عُدْوَاناً وَ ظُلْماً لَا یمْهَلُونَ فَعِنْدَ ذَلِک تَوَقُّعُ الْفَرَجِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ. (کافی ج ۱ ص ۳۳۷ ط اسلامیه)
“امام صادق علیہ السلام کے صحابی “زرارہ” کہتے ہیں کہ میں نے امام صادق علیہ السلام سے سنا کہ آپ نے فرمایا: آخری زمانے میں یہ نوجوان (حضرت حجت عج) پردہ غیب میں رہے گا اس سے قبل کہ قیام کرے۔ زرارہ کہتے ہیں: میں نے پوچھا: کیوں؟ فرمایا: قتل کے خوف کی وجہ سے، اس کے بعد اپنے شکم مبارک کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: اے زرارہ! وہ منتظَر ہو گا( یعنی اس کا انتظار کیا جائے گا) اور اس نوجوان کی ولادت میں شک کیا جائے گا۔ بعض لوگ یہ کہیں گے اس کا باپ بغیر اولاد کے فوت کر گیا اور بعض یہ کہیں گے کہ وہ ماں کے شکم میں تھا کہ باپ کا انتقال ہو گیا اور بعض کا یہ کہنا ہو گا کہ وہ باپ کی موت سے دو سال پہلے دنیا میں آ چکا ہے اور وہ منتظَر ہے۔ مگر یہ کہ خداوند عالم شیعوں کی آزمائش کرنا چاہتا ہے۔ اے زرارہ! یہ وہ وقت ہو گا کہ اہل باطل شک میں مبتلا ہو جائیں گے۔ زرارہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: میں آپ پر قربان جاوں۔ اگر میں اس زمانے تک زندہ رہوں تو کیا کروں؟ فرمایا: اے زرارہ! اگر اس زمانے کو درک کرو تو یہ دعا پڑھو: اللَّهُمَّ عَرِّفْنِی نَفْسَک فَإِنَّک إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِی نَفْسَک لَمْ أَعْرِفْ نَبِیک اللَّهُمَّ عَرِّفْنِی رَسُولَک فَإِنَّک إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِی رَسُولَک لَمْ أَعْرِفْ حُجَّتَک اللَّهُمَّ عَرِّفْنِی حُجَّتَک فَإِنَّک إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِی حُجَّتَک ضَلَلْتُ عَنْ دِینِی۔
(خدایا! مجھے اپنی معرفت عطا کر، اس لیے کہ اگر تو نے اپنی معرفت عطا نہ کی تو میں تیرے نبی کو نہیں پہچان سکوں گا، خدایا! اپنے رسول کی معرفت عطا کر اگر تونے اپنے رسول کی معرفت عطا نہ کی تو تیری حجت کو نہیں پہچان سکوں گا، خدایا! اپنی حجت کو پہچنوا اگر تو نے اپنی حجت کو نہ پہچنوایا تو میں اپنے دین سے گمراہ ہو جاوں گا۔)
اس کے بعد امام علیہ السلام نے فرمایا: اے زرارہ! اس وقت مدینہ میں ایک نوجوان کا قتل کیا جائے گا، میں نے عرض کیا: قربان جاوں آپ پر، کیا سفیانی لشکر اسے قتل کرے گا؟ فرمایا: نہیں، آل بنی فلاں کا لشکر اسے قتل کرے گا، وہ لشکر مدینہ جا رہا ہو گا جب مدینہ میں داخل ہو گا ایک نوجوان کو پکڑ لے گا پس اس کا قتل کر دے گا پس چونکہ اس کا قتل صرف بغاوت، دشمنی اور ظلم کی بنا پر کرے گا اس لشکر کو مہلت نہیں دی جائے گی، ایسے وقت میں فرج اور ظہور کی تمنا کی جا سکے گی انشاء اللہ۔”
روایت کے معانی کا جائزہ
اس روایت میں امام صادق علیہ السلام زرارہ سے فرماتے ہیں کہ قائم آل محمد(عج) کا قیام اور ظہور ایک غیبت کا عرصہ گزارنے کے بعد ہو گا۔ اس کے بعد آپ فرماتے ہیں کہ «یا زُرَارَةُ لَا بُدَّ مِنْ قَتْلِ غُلَامٍ بِالْمَدِینَةِ»؛ اے زرارہ! مدینہ میں ایک نوجوان کا قتل ہو گا۔ اس کے بعد زرارہ امام صادق علیہ السلام سے پوچھتے ہیں کہ کیا سفیانی لشکر اس نوجوان کا قتل کرے گا؟ آپ فرماتے ہیں: نہیں ایسا نہیں ہو گا۔ بلکہ “آل بنی فلان” کا لشکر اسے قتل کرے گا۔ امام علیہ السلام نے لشکر کا نام نہیں لیا بلکہ صرف کنایہ استعمال کیا ہے۔کہ آل بنی فلان کا لشکر مدینہ پر حملہ کرے گا مدینہ میں داخل ہو گا اور ایک نوجوان کو قتل کر دے گا جب اس نوجوان کو ظلم و ستم کی بنا پر قتل کر ے گا تو خداوند عالم آل بنی فلان کے لشکر کو کسی طرح کی مہلت نہیں دے گا یعنی اس کے بعد اس کی شکست یقینی ہو گی اور ایسے وقت میں لوگ فرج اور گشائش کے منتظر رہیں۔
روایت کی سند کا جائزہ
یہ روایت مرحوم کلینی کی کتاب کافی شریف میں موجود ہے۔ اور اس کے علاوہ کتاب کمال الدین صدوق کے صفحہ نمبر ۳۴۲ کی چوبیسویں حدیث تین سندوں کے ساتھ نقل ہوئی ہے۔ اور ان تین سندوں میں سے ایک سند معتبر ہے۔ اگر چہ ایک سند میں عبد اللہ بن موسی نامی شخص موجود ہے جس کا موثق اور قابل اعتماد ہونا ثابت نہیں ہے لیکن چونکہ سند کے باقی افراد قابل اعتماد ہیں روایت سند کے لحاظ سے مورد اشکال واقع نہیں ہو سکتی۔
خیبر: امام علیہ السلام نے یہ جو فرمایا ہے کہ “آل بنی فلان” کا لشکر اس سے کیا مراد ہے؟ کیا کس قبیلے کا لشکر مراد ہے؟ کیا روایات میں اس پر کوئی قرینہ پایا جاتا ہے؟
استاد غلامعلی: بنی فلان کو کسی خاص شخص یا قبیلہ کی طرف نسبت نہیں دی جا سکتی مثال کے طور پر بعض نے اس سے مراد بنی عباس کو لیا ہے چونکہ امام اس وقت تقیہ کے دور میں تھے اور اپنے اصحاب سے کنایوں میں بات کیا کرتے تھے لہذا انہوں نے اس سے مراد بنی عباس کو لیا لیکن اس سے دقیق کیا مراد ہے معلوم نہیں ہے۔
خیبر: کسی دوسری روایت میں بھی کوئی قرینہ نہیں ملتا جس سے بنی فلان کو کسی خاص گروہ پر تطبیق کیا جا سکے؟
استاد: نہیں، دوسری روایتوں میں بھی مختلف مناسبتوں سے مختلف گروہ مراد ہیں مثال کے طور پر بعض جگہوں پر بنی فلاں سے مراد بنی امیہ تھے کہیں پر بنی عباس مراد لئے جاتے تھے درحقیقت جس ماحول میں امام بات کر رہے ہوتے تھے اسی دور کے بادشاہ مراد ہوتے تھے۔
خیبر: اس روایت کو فی الحال مدینہ میں ظلم و ستم کی بنا پر قتل کئے جانے والے چھے سات سالہ بچے پر تطبیق کیا جا رہا ہے کیا ایسا درست ہے اور کیا روایت میں جو لفظ “غلام” استعمال ہوا ہے اس سے “زکریا” کو مراد لیا جا سکتا ہے؟
۔ روایت میں غلام بظاہر نوجوان کے معنی میں استعمال ہوا ہے لہذا اس اعتبار سے اس روایت کو شہید زکریا جو بچہ تھے پر تطبیق دینا اور اس سے منسوب کرنا درست نہیں ہے، چونکہ ایسے موارد اور ظہور کی ایسی نشانیاں طول تاریخ میں سامنے آتی رہی ہیں اور کبھی بھی انہیں دقیق نہیں کہا جا سکتا۔
امام زمانہ(عج) کے ظہور کی حتمی نشانیاں:
اگر ہم ظہور کی نشانیوں کے حوالے سے جاننا چاہیں تو معلوم رہے کہ کچھ قطعی اور حتمی نشانیاں ہیں جو مجموعی طور پر روایتوں سے معلوم ہوتی ہیں اور کچھ غیر حتمی ہیں؛ حتمی نشانیاں یہ ہیں:
۱؛ سفیانی کا خروج
۲؛ یمانی کا قیام
۳؛ آسمانی صیحہ
۴؛ نفس زکیہ کا قتل
۵؛ بیداء میں دراڑ پڑنا ( اور لشکر سفیانی کا زمین میں دھنس جانا)
غیر حتمی نشانیاں بہت ساری ہیں جن میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
۱؛ قم سے پوری دنیا میں علم کا پھیلنا
۲؛ جھوٹے دعویداروں کی تعداد میں اضافہ اور ان کا قیام
۳؛ خانہ خدا کی زیارت پر قدغن
۴؛ اختلافات میں کثرت
۵؛ زلزلہ
۶؛ فتنہ و فساد میں اضافہ
۷؛ عبد اللہ نامی خلیفہ کی موت
۸؛ دوتہائی لوگوں کا خاتمہ
۹؛ حجاز میں آگ لگنا
۱۰؛ کوفہ اور نجف میں سیلاب
وغیرہ
اس بنا پر مدینہ میں نوجوان کا قتل حتمی نشانیوں میں سے نہیں ہے غیر حتمی نشانی کہا جا سکتا ہے۔
اور ایک اہم بات جو ظہور کی نشانیوں کے سلسلے میں یہاں ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ یہ نشانیاں ظہور سے جڑی ہوئی ہیں ممکن ہے ایک حتمی نشانی وقوع پذیر ہو لیکن ظہور واقع نہ ہو صرف ایک نشانی کے علاوہ جو آسمانی صیحہ (آواز) ہے وہ ظہور سے متصل ہے۔ باقی نشانیاں ممکن ہے ظاہر ہوں لیکن ان کے درمیان اور ظہور کے درمیان کئی سالوں کا فاصلہ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ نشانیاں ظہور سے پہلے رونما ہوں گی۔ لیکن کیا ظہور سے جڑی ہوئی ہوں گی اس پر کوئی یقینی دلیل نہیں ہے۔
خیبر: مورد گفتگو روایت کیسی ہے؟
استاد: یہ روایت بھی غیر حتمی نشانیوں میں سے ایک ہے۔
خیبر: کلی طور پر کیا اس حادثہ کو اس روایت پر منطبق کیا جا سکتا ہے؟
استاد: نہیں، اصلاً اس وادی میں انسان کو پڑنا ہی نہیں چاہیے چونکہ اس سے دوسری بہت ساری مشکلات سامنے آ جاتی ہیں۔ یہ واقعہ اگر چہ بہت ہی دلسوز اور دردناک واقعہ ہے لیکن اسے اس روایت کے ساتھ نہیں جوڑا جا سکتا۔
خیبر: بہت بہت شکریہ

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.