کشمیر میں اخبارات سادہ کیوں؟

  • منگل, 12 مارچ 2019 16:00

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) انڈیا کے اخبارات میں جہاں خبریں اشتہارات میں گم ہیں وہیں اس کے زیرِ انتظام کشمیر سے نکلنے والے کئی اخبارات نے اتوار کو اپنا پہلا صفحہ سادہ شائع کیا ہے۔احتجاج کا یہ اظہار ایک درجن سے زائد اخبارات نے ایک حکومتی فیصلے کے خلاف اپنایا جس کے تحت کشمیر کے دو اہم اخبارات 'گریٹر کشمیر' اور 'کشمیر ریڈر' کو اشتہارات نہ دیے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔سری نگر سے ہمارے نمائندے ریاض مسرور نے بتایا کہ کشمیر ایڈیٹر گلڈز نے کشمیر کے پریس کلب کے سامنے مظاہرہ بھی کیا اور پریس کونسل آف انڈیا اور ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا سے اس معاملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

انڈیا کے ’دی ہندو‘ اخبار کو کشمیر ایڈیٹرز گلڈ کے رکن اور ’کشمیر مرر‘ کے مدیر بشیر منظر نے بتایا کہ 'ہم نے دو بہت زیادہ پڑھے جانے والے اخبارات کو اشتہار بند کرنے کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔ اشتہارات بند کرنے کی وجوہات جاننے کی ہم نے بہت کوششیں کیں لیکن ابھی تک حکومت نے ہمیں جواب فراہم نہیں کیا ہے۔ اس لیے ہمیں احتجاج کے طور پر مجبوراً پہلا صفحہ خالی شائع کرنا پڑا ہے۔'اتوار کو ایک درجن سے زائد اخبارات کے پہلے صفحے پر صرف دو یا تین سطر کا احتجاجی جملہ شائع ہوا تھا جس میں لکھا تھا 'دو انگریزی روزنامے گریٹر کشمیر اور کشمیر ریڈر کو بلاوجہ سرکاری اشتہارات روکنے کے خلاف احتجاج۔'حکومت کے خلاف احتجاج کا یہ طریقہ انوکھا نہیں ہے۔ اس سے قبل ایک معروف ٹی وی چینل نے احتجاج کرتے ہوئے بغیر کسی تصویر کے تاریکی میں صرف آواز کے سہارے پورے ایک گھنٹے کا پروگرام پیش کیا تھا۔کشمیر کی اہم پارٹیوں نے اشتہار نہ دینے کے حکومتی فیصلے پر مرکزی حکومت کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور کشمیر کے سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے ٹویٹ کیا 'وادی (کشمیر) کے ایک واقعے کو باہر کوئی کوریج نہیں ملی۔ حکومت وادی کے اخباروں کو اشتہارات نہ دے کر میڈیا کا گلا گھونٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ مرکز اور ریاست جلد ہی ریاست کے چوتھے ستون کو خاموش کرنے کے اپنے فیصلے کو واپس لیں گے۔'جبکہ پی ڈی پی کی صدر اور سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے کہا کہ 'گریٹر کشمیر جموں کشمیر کے مقبول ترین اخباروں میں شامل ہے۔ ان کو اشتہار نہ دینے کے فیصلے کو پریس اور الیٹرانک میڈیا کے متعلق ان کے رویے کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ یا تو ان کے ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے ان کی تعریف کریں یا پھر اس کا خمیازہ بھگتیں۔'ایک صارف عمران نبی ڈار کے ایک ٹویٹ کو عمر عبداللہ نے دوبارہ ٹویٹ کیا جس میں لکھا تھا کہ 'کشمیر کے اخباروں کو اشتہار دینا بند کرنا، مذہبی رہنماؤں کو دہلی بلانا، اسمبلی انتخابات کو روکے رکھنا، عوام کی حقیقی خواہشات کا منھ بند کرنا، کیا انھیں اقدامات سے حکومت ہند کشمیر میں امن اور معمول کے حالات بحال کرنا چاہتی ہے؟'ایسے وقت میں جب انڈیا اور اس کے زیر انتظام کشمیر میں پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں اخباروں کو اشتہارات بند کرنا معنی خیز ہے۔اس سے قبل انڈیا کے معروف صحافی اور عام آدمی پارٹی کے سابق رکن آسوتوش نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ پر ایک پیغام میں کہا کہ 'سخت مقابلہ ہے مودی اور کیجریوال میں۔ انتخابات سے قبل عوام کے خزانے کا کتنا بے جا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کیجری وال کے پانچ مکمل صفحہ اشتہارات تو مودی جی کے مجموعی طور پر آٹھ اور نو۔ انتخابات کا اعلان ہونا ہے اس لیے کل یہ مقابلہ مزید سخت ہوگا۔'

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.