بھارتی جارحیت، آل سعود اور او آئی سی نے پاکستان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا

  • بدھ, 13 مارچ 2019 12:40

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) علامہ سید عابد حسین الحسینی کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ وہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ اور اسکے بعد تحریک جعفریہ پاکستان میں صوبائی صدر اور سینیئر نائب صدر کے عہدوں پر فائز رہنے کے علاوہ ایک طویل مدت تک تحریک کی سپریم کونسل اور آئی ایس او کی مجلس نظارت کے رکن بھی رہے۔ 1997ء میں پاکستان کے ایوان بالا (سینیٹ) کے رکن منتخب ہوئے، جبکہ آج کل علاقائی سطح پر تین مدارس دینیہ کی نظارت کے علاوہ تحریک حسینی کے سرپرست اعلٰی کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ ’’شیعہ نیوز‘‘ نے علامہ سید عابد حسین الحسینی کیساتھ ایک خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا ہے، جسے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔(ادارہ)

شیعہ نیوز: بھارت کیجانب سے مسلط کی گئی حالیہ جارحیت کا پوشیدہ مقصد کیا ہوسکتا ہے۔؟
علامہ عابد الحسینی: ﷽۔ اب تو بہت سی چیزیں واضح ہوچکی ہیں، بھارت نے کشمیر والے واقعہ کو بہانا بناکر پیش کیا، یہ ایک سازش تھی، جس کے خدوخال کافی حد تک میڈیا پر بھی آچکے ہیں، آپ نے دیکھا کہ مسئلہ یہ تھا کہ کسی نہ کسی طرح پاکستان کو تباہ کیا جائے، اس سازش میں صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ امریکہ اور اس کی ناجائز اولاد اسرائیل بھی ملوث تھے، انہیں پاکستان کے ایٹمی ہتھیار ہضم نہیں ہو رہے، امریکہ چاہتا ہے کہ ہندوستان کو اس خطہ کا ٹھیکیدار بنائے، ہندوستان کو ٹھیکیداری پسند ہے، اسرائیل کو واحد ایٹمی مسلمان ریاست کی صورت میں پاکستان پسند نہیں۔ یہ سازش ان تین ممالک کی تھی، جس کا مقصد پاکستان پر حملہ کرنا تھا، اور اسکی تباہی تھا۔

شیعہ نیوز: ان ممالک کی یہ سازش کیسے ناکام ہوگئی۔؟
علامہ عابد الحسینی: اطلاعات تو یہ آئی ہیں کہ ان تینوں ممالک نے پاکستان کے حساس مقامات پر حملہ کا منصوبہ بنایا تھا اور ایک دوست ملک نے خفیہ اطلاعات پاکستان کو فراہم کیں، کشیدگی کی وجہ سے ہماری افواج بھی الرٹ تھیں، اس سازش کو کامیاب ہونے سے قبل ہی ناکام بنا دیا گیا۔

شیعہ نیوز: پاک بھارت کشیدگی کے دوران او آئی سی کا اجلاس بلایا گیا، لیکن حیران کن طور پر بھارتی خاتون وزیر خارجہ کو مدعو کیا گیا، مسلم ممالک کے اس اہم فورم کے اس رویہ کو آپ کیسے دیکھتے ہیں۔؟
علامہ عابد الحسینی: او آئی سی تو محض ایک کٹھ پتلی ادارہ بن گیا ہے، تاہم اس اقدام نے پاکستانی حکمرانوں کی شائد آنکھیں کھول دی ہوں، ان مسلم ممالک کو ذرا بھر غیرت نہیں آئی کہ ہمیں مسلمان ملک کیساتھ کھڑا ہونا چاہیئے تھا، انہوں نے ہندوستان کو اس اجلاس میں بلاکر اس ادارے کے تابوت میں آخری کیل بھی ٹھونک دی ہے، یہ بھول گئے کہ ہندوستان نے پاکستان پر جارحیت مسلط کی ہے، ہندوستان ہی کشمیر میں بے گناہ لوگوں کو شہید کر رہا ہے، اس اجلاس میں ان عربوں کو اس ہندو خاتون کیساتھ بغلگیر ہوتے ہوئے بھی شرم نہیں آئی۔

شیعہ نیوز: او آئی سی اجلاس کے حوالے سے پاکستان کا ردعمل اور ایران سمیت بعض مسلم ممالک کا اجلاس میں شریک نہ ہونا آپ کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
علامہ عابد الحسینی: پاکستان نے بالکل درست اقدام کیا، اس متنازعہ اجلاس کا بائیکاٹ ہی کرنا چاہیئے تھا، بلکہ پاکستان سمیت غیرت مند ممالک کو اس فورم سے مکمل طور پر الگ ہو جانا چاہیئے، یہ فورم تو بالکل اپنی حیثیت کھو چکا ہے، جہاں تک آپ کے سوال کے دوسرے حصہ کا تعلق ہے تو یہ عرض ہے کہ ایران اور دیگر دو ممالک نے اس اجلاس میں شریک نہ ہوکر اچھا اقدام کیا ہے، اب ہمارے حکمرانوں کو بھی دوست اور دشمن کی پہچان ہو جانی چاہیئے۔

شیعہ نیوز: کیا پاک بھارت کشیدگی کے دوران مسلم ممالک کے اس افسوسناک رویہ نے پاکستان کی خارجہ پالیسی پر کئی سوالات نہیں اٹھا دئیے۔؟
علامہ عابد الحسینی: بالکل ایسا ہی ہے، ہمارے ملک کی خارجہ پالیسی مضبوط ہوتی، ہمارا رویہ معذرت خواہانہ اور دباو میں آنے والا نہ ہوتا تو آج ہمیں یہ دن نہ دیکھنے پڑتے، میں پھر وہی الفاظ دہراوں گا کہ پاکستانی حکمرانوں کو دوست اور دشمن میں فرق کرنا ہوگا۔

شیعہ نیوز: سعودی ولی عہد محمد بن سلمان تو دورہ پاکستان کے موقع پر خود کو پاکستانی سفیر کہہ کر گئے تھے، اس پاکستانی سفیر نے بھی پاکستان کو تنہا چھوڑ دیا۔؟
علامہ عابد الحسینی: آل سعود اور او آئی سی دونوں نے اس مسئلہ میں پاکستان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا، سعودی ولی عہد تو خود امریکہ کا غلام ہے، حکومت کو اندازہ ہوگیا ہوگا کہ محمد بن سلمان نے کس طرح پاکستان کے سفیر ہونے کا حق ادا کیا، آل سعود تو ذلیل لوگ ہیں، یہ ظالم ہیں، یہ تو امن و امان تباہ کرنا جانتے ہیں، یہ تو وہی کام کریں گے، جو ان کا باپ امریکہ چاہے گا۔

شیعہ نیوز: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ پاک بھارت جنگ کا خطرہ اب ٹل چکا ہے۔؟
علامہ عابد الحسینی: فی الحال تو خاموشی ہوگئی ہے، مگر حالات اب بھی نازک ہیں، بھارت کو بھرپور جواب ملا ہے، جس کی وجہ سے فی الحال اس نے کسی حملے کی ہمت نہیں کی، حکومت اور فوج کو کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی پوزیشن میں رہنا چاہیئے۔

شیعہ نیوز: آخر میں پاکستانی قوم کو اس موجودہ صورتحال میں کیا پیغام دینا چاہیں گے۔؟
علامہ عابد الحسینی: پوری پاکستانی قوم کو کسی بھی قسم کے حالات سے نمٹنے کیلئے تیار رہنا چاہیئے، وطن کا دفاع واجب ہے، اختلافات کو بلائے طاق رکھ کر وطن کے دفاع کیلئے کام کرنا چاہیئے۔ ہماری حکومت اور افواج کو چوکس رہنا چاہیئے اور اگر ہندوستان کوئی ایسی حرکت کرے تو اس کا کئی گنا بڑھ کر بھرپور جواب دینا چاہیئے۔

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.