ریاست کا فیصلہ : اب کالعدم تنظیموں کو کام نہیں کرنے دیا جائیگا، زہرا نقوی

  • منگل, 26 مارچ 2019 12:16

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان شعبہ خواتین کی مسئول زہرا نقوی پی ٹی آئی کیساتھ ایم ڈبلیو ایم الیکشن 2018ء میں ہونیوالی سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے نتیجے میں خواتین کی مخصوص نشست پر رکن پنجاب اسمبلی ہیں۔ آپ دردمند پاکستانی اور فعال خاتون رہنما ہیں۔ محسن ملت مظلوم پاکستان ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید کی صاحبزادی ہیں، شیعہ نیوزنے عورت مارچ، کالعدم تنظیموں اور ملکی حالات پر ایک تفصیلی انٹرویو کیا ہے، جو قارئین کے پیش خدمت ہے۔ (ادارہ)

شیعہ نیوز: 8 مارچ کو عورت مارچ کیا گیا، ایک بہیودگی پھیلائی گئی، آپ کی نظر میں اس کے پیچھے کون ہے؟۔
محترمہ زہرا نقوی: مجھے ذاتی طور پر اس کے پیچھے ایک سازش نظر آرہی ہے، میں سمجھتی ہوں کہ عورت مارچ کے نام پر اسلام دشمنوں اور ملک دشمنوں نے اپنی کارروائی انجام دی، اس سے عورت کی تذلیل کی گئی اور انسانیت کی تذلیل کی گئی، اس پیغام کو کوئی پذیرائی نہیں ملی، میں سمجھتی ہوں کہ عام فییملیز، حتٰی جنہیں غیر متدین گھرانے سمجھا جاتا ہے، انہوں نے بھی اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ ان کے نعرے اور شعار شرف انسانی کے خلاف تھے، اقدامات خود بتا رہے تھے کہ یہ کسی کے پے رول پر تھے۔

شیعہ نیوز: کیا آپ سمجھتی ہیں کہ عورت مارچ کے پیغام کو کوئی پذیرائی ملی ہے؟۔
محترمہ زہرا نقوی: دیکھیں خواتین کے جو حقیقی مسائل ہیں وہ یہ ہیں کہ خاتون سب سے پہلے انسان ہے اور انسانی حقوق جو اس کو ملنے چاہیئیں، اس سے اسے محروم رکھا گیا ہے۔ حتٰی ہمارے خاندانوں کے اندر جو ایک عورت کو حقوق ملنے چاہیئیں وہ نہیں مل رہے، جیسے بعض خواتین کو غذائی قلت کا سامنا ہے، تعلیم سے محروم رکھا گیا ہے، علاج معالجہ کی سہولت نہیں دی جاتیں، ایک عورت کے فرائض ہیں تو اس کے کچھ حقوق بھی ہیں، بعض جگہوں پر خواتین کو حقیر سمجھا جاتا ہے، کہیں پر قرآن سے شادی کردی جاتی ہے، تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے، آئین پاکستان نے جو حقوق دئیے ہیں ان پر بحث ہونی چاہیئے، کیا آئین کے مطابق متعین کردہ خواتین کو حقوق مل رہے ہیں یا نہیں؟، اس موضوع پر بحث ہونی چاہیئے۔ اس وقت اسمبلیوں میں قانون سازی کی ضرورت ہے اور جو قانون بنے ہوئے ہیں ان پر عملدرآمد کی ضرورت ہے، اگر آپ ان ایشوز کو اٹھائیں گے تو آپ کے پیغام کو پذیرائی ملے گی، ورنہ نہیں۔

شیعہ نیوز: پنجاب اسمبلی میں ابتک خواتین کے مسائل پر کتنی قانون سازی ہوئی ہے اور بطور خاتون رکن آپ نے کتنا حصہ ڈالا ہے؟۔
محترمہ زہرا نقوی: جی نہایت افسوس کے ساتھ بتا رہی ہوں کہ اس معاملے پر پنجاب اسمبلی میں ڈسکشنز تو ہوئی ہیں، مگر تاحال ایسی کوئی قانون سازی نہیں ہو سکی، جس سے خواتین کے حقوق کو یقینی بنایا جاسکے۔ پرامید ہوں کہ جلد اس پر قانون سازی ہوگی۔

شیعہ نیوز: اراکین پنجاب اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کو درست سمجھتی ہیں یا سمجھتی ہیں کہ عجلت سے کام لیا گیا ہے؟، عمران خان کے نوٹس لینے کو کیسے دیکھتی ہیں۔
محترمہ زہرا نقوی: میرے خیال میں اس معاملے پر ہمیں انصاف سے کام لینا چاہیئے، آپ ریکارڈ اٹھا کر چیک کرلیں کہ جتنی تنخواہ ممبران پنجاب اسمبلی کو دی جارہی ہے، اس سے اس کا گھر نہیں چلتا، اس نے عوام میں جانا ہوتا ہے، حلقے میں جانا ہے، حلقے کے عوام کے اس کے پاس آتے ہیں، اس نے مہمان نوازی بھی کرنی ہوتی ہے، تو ساٹھ ہزار میں وہ کیسے یہ سب کرسکتا ہے، تا وقتیکہ کوئی دوسرا راستہ انتخاب نہ کرے، اس کے علاوہ دیگر اسمبلیوں میں تنخواہیں دیکھیں تو اس لحاظ سے بھی کم ہیں۔ ان اراکین اسمبلی کے اخراجات بڑھ گئے ہیں، لیکن تنخواہیں وہی پر ہیں۔ میں ذاتی طور پر یہی سمجھتی ہوں کہ اتنی تنخواہ ضرور ہونی چاہیئے وہ باعزت طریقے سے زندگی گزار سکیں، یا وہ کسی دوسری طرف نہ دیکھ سکیں۔ جہاں تک وزیراعظم کی بات ہے تو ان کا نوٹس لینا بھی جائز تھا۔ ظاہر ہے کہ پی ٹی آئی نے تبدیلی کا نعرہ لگایا، عوام کو امیدیں دلائیں تو پہلے ایسے اقدامات ہو جانے چاہیئیں جن سے عوام کو ریلیف مل سکے۔

شیعہ نیوز: دہشت گرد تنظیموں کے خلاف حالیہ اقدامات، کیا یہ انٹرنیشنل پریشر کی وجہ سے لئے گئے ہیں یا پھر ریاست نے فیصلہ کرلیا ہے؟۔
محترمہ زہرا نقوی: دہشتگردوں کے خلاف جو اقدامات کئے جارہے ہیں یہ ریاست کا اپنا فیصلہ ہے، ریاست نے اس بات کو سمجھ لیا ہے کہ جب تک ہم دہشتگرد تنظیموں کے خلاف ایکشن نہیں لیں گے ہم اپنے ملک کے اندر امن و امان قائم نہیں کر سکتے نہ دنیا کو کوئی مثبت پیغام دے سکتے ہیں، میں یہ نہیں کہوں گی اس میں انٹرنیشنل پریشر نہیں ہے، بلکہ انٹرنیشنل پریشر ہے، کیونکہ پاکستان کو بہت سارے الزامات اور باتوں کا سامنا ہے، بھارت سمیت جہاں بھی دہشتگردی کا واقعہ ہوتا ہے اس کا الزام پاکستان پر عائد کیا جاتا ہے۔ یا ان واقعات میں پاکستانی ملوث پائے جاتے ہیں۔ اس سے پاکستان کو بدنامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور سبکی ہوتی ہے۔

شیعہ نیوز: پاک ایران تعلقات میں سیستان سانحہ کے بعد کشیدگی آئی، بہتری کے لیے کوئی حکومتی سطح پر اقدامات ہورہے ہیں۔؟
محترمہ زہرا نقوی: پاک ایران تعلقات میں بہتری کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور دونوں ممالک دہشتگردی کے معاملے پر ایک پیج پر ہیں، دہشتگرد امن کے دشمن ہیں وہ نہیں چاہتے کہ ہمارے ہمسایوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہوں، اس میں بیرونی ہاتھ بھی ملوث ہے اور لوکل سہولتکار بھی یہ کام انجام دینے میں معاونت کرتے ہیں۔ دونوں ممالک کی عسکری اور سیاسی قیادت کو ملکر ان واقعات کا سدبات کرنا چاہیئے۔

شیعہ نیوز: پاک انڈیا کشیدگی کے بعد کیا پاکستان واقعی عالمی تنہائی میں گیا ہے یا پھر بھارت کی یہ کوشش ناکام ہوگئی ہے۔؟
محترمہ زہرا نقوی: پاک انڈیا کشیدگی کے بعد پاکستان نے نہایت ہی اچھے اقدامات اٹھائے ہیں جن سے پاکستان کا گراف اوپر گیا ہے، وزیراعظم کے امن کے پیغام کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے، ہم نے بھارتی پائلٹ کو رہا کرکے اخلاقی فتح حاصل کی ہے اور دشمن پر اپنی فضائی قوت کا بھی اظہار کیا ہے۔ بھارت پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش میں ایک مرتبہ پھر ناکام ہو گیا ہے۔

شیعہ نیوز: نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملے کو کس نگاہ سے دیکھتی ہیں۔ ٹرمپ سمیت کچھ حکمرانوں نے پہلے اسے دہشتگردی قرار نہیں دیا، کیا کہتی ہیں؟۔
محترمہ زہرا نقوی: جی نیوزی لینڈ میں مسجد پر جو حملہ ہوا وہ نہایت ہی قابل مذمت ہے، مغرب نے جو سرمایہ کرکے مشرق وسطٰی کے امن کو تباہ کیا ہے، مسلمانوں کی سرزمین پر امنیت کو ختم کیا ہے اور ان کی تاریخ اور ورثے کو جس انداز میں برباد کیا ہے وہ پوری دنیا پر عیاں ہے، جو اقدامات مسلمانوں کے خلاف ہوئے اب اہل مغرب کو انہی کا سامنا ہے، مغرب نے دہشتگردی کو ہمارے کے خلاف بطور ہتھیار اپنایا۔ جو انہوں نے بیچ بوئے اس کی فصل انہیں خود کاٹنی پڑ رہی ہے۔ البتہ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے نہایت عمدگی کے ساتھ معاملے کو ڈیل کیا ہے اور ایک بہتر انداز میں اپنی قائدانہ صلاحتیوں کو بروکار لاتے ہوئے ایک مثبت پیغام کو دنیا کے سامنے رکھا ہے جس پر وہ داد کی مستحق ہیں۔ جہاں ٹرمپ سمیت دیگر حکمرانوں کی بات ہے تو مغرب میں نسل پرستی کا عنصر بہت گہرا ہے، اسی لئے شروع میں ٹرمپ نے واقعہ کی مذمت نہیں، نائن الیون کے بعد مسلمانون کو نشانہ بنایا گیا، مگر نیوزی لینڈ کی مسجد میں سفید فام نے حملہ کرکے ثابت کیا ہے نسل پرست بھی دہشتگردی کرسکتے ہیں اور دنیا پر حقائق کھل گئے ہیں۔ اس وقعہ کے بعد مسلمانوں نے بھی نیوزی لینڈ میں نہایت ہی سمجھداری اور صبر سے کام لیا ہے۔

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.