حمید اور فرزانہ

  • ہفتہ, 06 اپریل 2019 12:14

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) تحریر: سید عباس حسینی

نام اس کا حمید تھا۔ عمر صرف ۲۶ سال۔ ایسا پاکیزہ جوان جس نے دین کو نہ صرف مکمل طور پر سمجھا ہوا تھا، بلکہ تمام تر جزئیات کے ساتھ دین پر عمل پیرا بھی تھا۔ ان کی زندگی پڑھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ بعض لوگ انتہائی کم عمری کے باوجود کس قدر بڑی شخصیت کے حامل ہوتے ہیں اور نہایت تیزی کے ساتھ کمال کے مراحل طے کر لیتے ہیں۔ ان کی شادی اپنی کزن اور میڈیکل کی طالبہ فرزانہ سے طے ہوتی ہے، جو خود بھی دینی اقدار کی انتہائی پابند جوان ہیں۔ اس نیت سے دونوں میاں بیوی تین دن کے لیے روزے کی نیت کرتے ہیں کہ ان کی شادی کے مراسم میں کوئی گناہ انجام نہ پائے۔
منگنی کے دن بیوی سے کہتے ہیں: “اس دل کا پہلا عشق خدا ہے، دوسرا عشق امام حسین علیہ السلام ہے، اور تم میرا تیسرا عشق ہو۔” شادی کے بعد حمید کہتے ہیں: “آئیے اس حوالے سے سوچیے کہ ہماری ازداوجی زندگی پہلے کی زندگی سے مختلف ہونی چاہیے۔” حمید نے مشورہ دیا کہ صبح بھی اور شام بھی ایک صفحہ قرآن مل کر پڑھیں گے۔ صبح نماز کے بعد میاں بیوی مل کر پہلے دعائے عہد پڑھتے ہیں اور پھر ایک دن میاں، اور دوسرے دن بیوی قرآن سے ایک صفحے کی تلاوت کرتے ہیں۔ اس بات پر مقید تھے کہ قرآن کو ترجمے کے ساتھ پڑھنا ہے۔ کچھ مدت بعد حمید ہی کی حوصلہ افزائی پر فرزانہ نے مکمل قرآن حفظ کر لیا۔ حمید خود بھی قرآن حفظ کر رہا تھا، اور اس نے چند پارے حفظ کر لیے تھے۔ رمضان کے حوالے سے میاں بیوی خصوصی پروگرام بناتے ہیں۔ شیخ عباس قمی کی کتاب “منتہی الآمال” اٹھاتے ہیں۔ ہر روز ایک معصوم کی زندگی کا مل کر مطالعہ کرتے ہیں۔ رمضان کی چودہ تاریخ کو امام زمان عج کی حیات طیبہ پڑھ کر کتاب ختم کرتے ہیں۔ ایک دن بیوی دیکھتی ہے کہ گھر کے فریج پر ایک صفحہ چپکا ہوا ہے۔ ایک طرف ہفتے کے دنوں کے نام ہیں، جبکہ کاغذ کے اوپر لکھا ہوا ہے: دوپہر کا کھانا، شام کا کھانا۔ پھر ہر خانے میں ایک معصوم کا نام لکھا ہوا ہے۔ بیوی نے پوچھا! حمید یہ کیا ہے؟ جواب دیتے ہیں: “اب کے بعد گھر میں جو بھی کھانا بنے گا وہ کسی امام کے نام پر بنے گا۔ ہر روز اسی امام کے ذکر اور نیت سے تم کھانا بناو۔ اس طرح ہم ہر روز اہل بیت کے نام نذر کیا ہوا کھانا کھائیں گے، اور اس کے ہماری زندگی پر نہایت مثبت اثرات ہوں گے۔” شادی کے بعد جس وقت گھر کرایہ پر لینا چاہتے ہیں، ایک بڑا گھر دیکھ لیتے ہیں اور پسند کرتے ہیں۔ اتنے میں دوست کا فون آتا ہے کہ پیسوں کی ضرورت ہے۔ ڈپوزٹ کے آدھے پیسے دوست کو دے دیتے ہیں، اور اپنے لیے ایک چھوٹا سا گھر پسند کرتے ہیں۔ ازدواجی زندگی کے دو سال پھر اس چھوٹے سے گھر میں ہی گزارتے ہیں۔ حمید کی عادت تھی کہ جب بھی اپنی ماں سے ملتا، ان کے سامنے جھک جاتا، ان کی پیشانی چوم لیتا۔ جب بھی ان کی ماں کا فون آتا حمید کی حالت تبدیل ہو جاتی۔ اس وقت اگر لیٹا ہوتا تو مودبانہ طور پر اٹھ جاتا اور نہایت احترام سے بات کرتا۔ اس کے علاوہ تمام رشتہ داروں کے ساتھ نہایت عزت اور احترام سے ملتا۔ ان کو اپنے گھر کھانے کی دعوت پر بلاتا۔ کوئی بھی بات جس سے غیبت کی بو آئے، اس پر اپنا رد عمل ظاہر کرتا۔ فورا سے بات اور موضوع تبدیل کر لیتا۔ ہر صورت میں رات کو پانی بیٹھ کر ہی پیتا۔ اس بات پر امام صادق علیہ السلام کی حدیث کا حوالہ دیتا۔ جب بھی کچھ خریدنا ہو گلی کے کونے میں موجود قریب ترین دکان سے ہی خرید لیتا۔ بعض دفعہ دکان بند ہوتی تب اس کے کھلنے کا انتظار کرتا۔ پوچھنے پر بتاتا: “اس بندہ خدا نے یہاں جو دکان کھولی ہے، اس کی ساری امیدیں ہم ہمسایوں پر ہیں کہ ہم ان سے خریداری کریں۔ جب تک ممکن ہو، اور کوئی مجبوری پیش نہ آئے یہیں سے خریداری کرنی چاہیے۔” جب بھی گھر کے لیے گوشت خریدتا، گوشت میں سے ایک بہترین بوٹی کا انتخاب کرتا، کاٹ کر چھت پر بلیوں کے لیے ڈالتا۔ کہتا “تمام مرحومین کی طرف سے”۔ جب بھی رات کو دیر سے موٹر سائیکل پر گھر آنا ہوتا، گلی میں داخل ہونے سے پہلے موٹر بند کرتا اور دھکا دیتے ہوئے موٹر سائیکل گھر لے آتا۔ کہتا تھا: “ممکن ہے بائیک کی آواز کی وجہ سے ہمسایے تنگ ہوں۔” گھر سے نکلنا ہو تب بھی اس بات کا خیال رکھتا۔ ٹیکسی پر جاتے ہوئے دیکھا کہ ڈائیور نے کسی عورت کی آواز میں ترانہ لگایا ہوا ہے۔ حمید نے ہنستے ہوئے خوش اخلاقی کے ساتھ کہا: “برائے مہربانی عورت کی یہ آواز بند کر سکتے ہیں۔؟ اگر آپ کے پاس ہے تو کوئی “مردانہ” آواز لگائیں۔” ڈرائیور یہ بات سن کر ہنسنے لگا اور ترانہ اسی وقت بند کیا۔ رات کو چلتے چلتے موٹر سائیکل سے “یا حسین، یا حسین” کی آواز بلند کرنا شروع کیا۔ پیچھے بیٹھی بیگم کہتی ہیں: “آرام سے، رات کے اس پہر کوئی سن لے تو؟!” جواب دیا: “مسئلہ نہیں، لوگوں کو کہنے دیں کہ حمید امام حسین علیہ السلام کا مجنون ہے۔ موٹر سائیکل چلانا مباح کام ہے، نہ واجب ہے اور نہ مکروہ۔ امام حسین علیہ السلام کا ذکر کرنے اور اسے سننے سے یہ کام مستحب ہو جاتا ہے اور ہم دونوں کے نامہ اعمال میں ثواب لکھے جائیں گے۔” بک شاپ پر جا کر کتاب اٹھاتے ہیں۔ ایک کتاب اٹھا کر دکاندار سے پوچھتے ہیں: کیا آپ جانتے ہیں یہ کتاب کس موضوع پر ہے؟ دکاندار نے کہا: “بظاہر معاد کے اثبات کے حوالے سے ہے۔ آپ مقدمہ پڑھ لیجے! پتہ چل جائے گا۔” حمید جواب دیتے ہیں: “چونکہ میں نے کتاب ابھی نہیں خریدی اس لیے اس کا مقدمہ بھی پڑھنے کا حق نہیں رکھتا ہوں۔ کتاب تب پڑھ سکتا ہوں، جب میں نے اسے خریدی ہو۔ اس کے بغیر ایک صفحہ بھی پڑھنا شرعی طور پر اشکال رکھتا ہے۔ شاید کتاب کا مولف یا ناشر اس بات پر راضی نا ہو۔” گلزار شہداء جاتے ہیں جہاں سارے شہید دفن ہیں۔ جیب سے رومال نکالتے ہیں اور شہیدوں کی قبروں پر لگے شیشے صاف کرنا شروع کرتے ہیں۔ کہتے ہیں: “شاید ان میں سے بعض کے والدین اس دنیا سے جا چکے ہوں۔ یا ممکن ہے ان کے والدین بوڑھے ہوں، اور ان کے لیے یہاں آنا ممکن نا ہو۔ ہم ہی ان کی قبریں صاف کرتے ہیں۔” جب گلزار شہداء جاتے ایک بوتل رنگ (collar) کی لے جاتے، اور جن قبروں پر لکھائی مٹ چکی ہوتی ان کو دوبارہ اپنے ہاتھوں سے لکھتے۔ اپنے محلے میں مسجد کی تعمیر کے لیے سرگرم تھا۔ تمام محلہ داروں سے دستخط لیے تاکہ متعلقہ حکام سے مسجد بنانے کی اجازت لی جائے۔ جب اجازت ملی تو اس کے تعمیراتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ رہبر معظم (حفظہ اللہ) کی ہر تقریر مکمل سننے کا پابند تھا۔ اگر کبھی کوئی مجبوری پیش آتی بعد میں انٹرنیٹ سے اس کی ویڈیو لے کر سنتا اور اہم نکات کو اپنی کاپی میں نوٹ کر لیتا۔ حمید کہتا تھا: “میری خواہش ہے کہ حضرت ابوالفضل علیہ السلام کی طرح مدافعِ حرم بنوں۔ میرے ہاتھ اور پاوں بھی حضرت زینب علیھا السلام پر فدا ہوں۔” جب مدافعِ حرم بن کر حضرت زینب علیھا السلام کے مزار کے دفاع کے لیے جانا چاہا، بیوی کی بے تابی دیکھ کر کہا: “فرزانہ، میرے دل کو تم نے لرزایا، لیکن تم میرے ایمان کو نہیں لرزا سکتی۔!” اللہ تعالی نے حمید کی دعا سن لی، اور حریمِ اہل بیت کے دفاع میں موت کا بلند ترین مرتبہ اسے عطا کیا۔ یقینا شہادت، خاص لیاقت چاہتی ہے۔ حمید کی زندگی پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ یہ لیاقت اس میں بدرجہ اتم موجود تھی۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ یہ ساری لیاقت اور دین فہمی صرف ۲۶ سال کی عمر میں حمید کو حاصل تھی۔ اب اس بات پر اعتقاد مزید بڑھ گیا ہے کہ شھداء انتہائی خاص لوگ ہوتے ہیں۔ حمید کی زندگی پڑھ کر رھبر معظم حفظہ اللہ کے تاثرات کچھ یوں تھے:”ایک کتاب ابھی تازہ پڑھی ہے۔ میرے لیے انتہائی دلچسپ تھی۔ ایک جوان جوڑا، بیوی اور شوہر، جن کی ولادت نوے کی دہائی کی ہے، اس نیت سے تین دن روزے کی نیت کر لیتے ہیں کہ ان کی شادی میں کوئی گناہ انجام نہ پائے۔ میرے خیال سے اس بات کو تاریخ میں ثبت ہونا چاہیے۔ جوان حرم حضرت زینب علیھا السلام کے دفاع کے لیے جاتے ہیں، بیوی کی حالت دیکھ کر اس کا دل لرز جاتا ہے۔ بیوی سے کہتا ہے: “تمہارے رونے سے میرا دل تو لرز گیا، لیکن میرے ایمان کو تم نہیں لرزا سکتی۔” بیوی بھی کہتی ہے کہ میں آپ کو جانے سے منع نہیں کروں گی۔ میں نہیں چاہتی قیامت کے دن ان عورتوں میں سے ہو جاوں جو جناب سیدہ زہراء علیھا السلام کے سامنے شرمندہ ہوں۔ یہ کوئی پرانی بات نہیں، یہی 2014، 2015 کی بات ہے۔ ہماری نوجوان نسل میں اس طرح کی درخشان مثالیں موجود ہیں۔۔۔” نوٹ:(حمید مرادی سیاھکالی (متولد 1989، شہادت 2015) کی زندگی کے چند اقتباسات کتاب “یادت باشد” (فارسی زبان) سے لیے گئے ہیں، جس میں ان کی ہمسر فرزانہ سیاھکالی مرادی نے اپنی مشترکہ زندگی کے مختلف گوشووں کے حوالے سے بات کی ہے۔ کتاب پڑھنے سے تعقل رکھتی ہے اور ہمارے لیے انتہائی سبق آموز ہے۔)

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.