امام حسین (ع) کا مدینہ سے سفر ایک عظیم انسانی تمدن کی تشکیل کا نقطہ آغاز

  • ہفتہ, 06 اپریل 2019 16:07

تحریر: سید نجیب الحسن زیدی

کچھ لوگ یہ سوچتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام نے ۲۸ رجب کو سفر اس لئے کیا کہ یزید کی بیعت کے انکار کے بعد کوئی چارہ کار نہیں تھا، لہٰذا آپ نے خاموشی کے ساتھ مدینہ کو ترک کر دیا کہ یزید کی بیعت کا سوال یزید کی طرف سے ہو چکا تھا اور مدینہ میں رہنا آپ کے لئے خطرہ سے خالی نہیں تھا، آپکو اپنی جان کا خوف تھا لہٰذا آپ نے خاموشی کے ساتھ مدینہ سے نکل جانا ہی بہتر سمجھا۔ جو لوگ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں اگر خود امام حسین علیہ السلام کے سفر کی کیفت کو دیکھ لیں تو اندازِ سفر بتائے گا کہ ہرگز امام حسین علیہ السلام کے مقصد سفر پر انکی توجہ نہیں گئی ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ نے خاموشی سے سفر نہیں کیا، اسکی دلیل یہ ہے کہ پورا قافلہ لیکر آپ نکلے ہیں، ایسا قافلہ جس میں ۲۵۰ گھوڑے ہیں، ۲۵۰ ناقے ہیں جن میں ۷۰ ناقے تو وہ ہیں، جن پر خیموں کے پردے، طنابیں، اور خیموں سے متعلق صرف سامان لدا ہوا تھا۔۴۰ ناقے وہ تھے جن پر برتن اور دیگر گھریلو وسائل اور اسلحے وغیرہ تھے۔ ۳۰ ناقوں پر پانی کی مشکیں تھیں، جبکہ ۱۲ ناقے وہ تھے جن پر لباس وغیرہ تھے۔ ۵۰ ناقے وہ تھے جن پر ہودج، اور مخدرات عصمت و طہارت کے استعمال کے وسائل تھے۔ (1) اتنے بڑے قافلہ کا خاموشی کے ساتھ نکلنا ناممکن تھا۔

دوسری بات یہ ہے کہ آپ نے کسی تاریک راستہ کا انتخاب نہیں کیا اور آپ کو مشورہ دینے والوں نے مشورہ بھی دیا کہ آپ بھی ویسے ہی مدینہ سے نکل جائیں جس طرح دیگر عبداللہ بن زبیر وغیرہ نے کیا، لیکن آپنے واضح طور پر اعلان کر دیا میں ہرگز ایسا نہیں کرونگا۔ اس کا مطلب اتنا تو واضح ہے کہ امام حسین علیہ السلام مدینہ سے کسی ڈر اور خوف کی وجہ سے نہیں نکلے اور نہ ہی بیعت ِ یزید سے بچنے کے لئے نکلے اور نہ محض بیعت اس سفر کی مکمل علت ہے البتہ یہ ضرور ہے کہ امام حسین علیہ السلام ایک مناسب موقع کی تلاش میں تھے اور وہ سوال ِ بیعت کی صورت آپ کو مل گیا، لہٰذا آپ نے واضح طور پر پہلے تو انکار بیعت کیا اور اتنا انتظار کیا کہ لوگوں میں بات مشہور ہو جائے کہ امام حسین علیہ السلام نے بیعت سے انکار کر دیا ہے اور اسکے بعد مدینہ کو چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا، گو کہ لوگوں کو ایک اشارہ دیا اب یہ وقت مدینہ میں محفوظ بیٹھنے کا نہیں، بلکہ کربلا سجانے کے عزم کے ساتھ اٹھ کر یزیدی نظام حکومت کے خلاف قیام کا وقت ہے۔ لہٰذا کہا جاسکتا ہے امام حسین علیہ السلام نے محض سوال ِبیعت کی بنا پر مدینہ نہیں چھوڑا بلکہ ظالمانہ حاکمیت کے خلاف آپ پہلے سے ہی قیام کا ذہن بنا چکے تھے۔ سوال ِبیعت نے اتنا ضرور کیا کہ آپ کو وہ موقع فراہم کر دیا جو آپ کے سفر کا نقطہ آغاز بنتا، اور آپ نے مدینہ سے مکہ کی طرف ہجرت کے ذریعہ کربلا کی تعمیر کی صورت اسکا آغاز کر دیا۔

اہتمام سفر:
امام حسین علیہ السلام کا سفر ایک تاریخی حادثہ نہیں ہے جس طرح کربلا ایک تاریخی حادثہ نہیں ہے بقول رہبر انقلاب اسلامی "کربلا ایک تاریخی حادثہ نہیں ایک تمدن ہے ایک ایسی تہذیب سے عبارت ہے، جسنے دائمی تحریک کی صورت امت اسلامی کے لئے سرمشق کا کام کیا ہے۔ (2) اور کربلا کا عظیم تمدن کا وارث ہونا ایک لازوال تہذیب کا ترجمان ہونا، امام حسین علیہ السلام کے اہتمام سفر سے واضح و آشکار ہے۔ سفر کے آغاز میں جن شخصیتوں کو آپ نے اپنے ہمراہ لیا ہے اور جس انداز سے عظیم اسلامی تمدن کے ارکان کو ۷۲ جانثاروں کے صورت سجایا ہے اس کی نظیر نہیں ملتی۔ لہٰذا ایک نظر آپ کے ہمراہ جانے والوں پر ڈالیں تو بہت کچھ پتہ چل جاتا ہے کہ آپ مدینہ سے کیوں نکل رہے تھے، کیا محض یہ ڈر اور خوف تھا یا پھر ایک لازوال تمدن کی تشکیل کے لئے ضروری عناصر کو اپنی دور اندیشی اور حکمت عملی کے تحت ساتھ لینا تھا جب ہم آپ کے سفر کی تاریخ اور سفر میں ساتھ جانے والے افراد پرنظر ڈالتے ہیں تو نظر آتا ہے کہ ۲۸ رجب کو ۶۰ ہجری میں امام حسین علیہ السلام نے مدینہ سے مکہ کا قصد کیا۔ (3) ایک قول کے مطابق آپ ۲۹ رجب المرجب کی رات مدینہ سے نکل گئے۔ (4) اس سفر میں روایات کے مطابق آپکے ہمراہ عقیلہ بنی ہاشم جناب زینب سلام اللہ علیہا، جناب ام کلثوم (ع)، حضرت عباس (ع) جناب علی اکبر اور آپکے دیگر اہلخانہ موجود تھے۔ جناب زینب و ام کلثوم سلام اللہ علیہما کو ملا کر آپکی ۱۳بہنیں اس سفر میں آپ کے ساتھ تھیں۔ اہل حرم میں جناب زینب و ام کلثوم سلام اللہ علیہا کے علاوہ امیر المومنین علیہ السلام کی بہن جمانہ بنت ابوطالب (ع) اور ۹ کنیزیں آپ کے ہمراہ مدینہ سے نکلے، اس چھوٹے سے قافلے میں امام حسن مجتبٰی علیہ السلام کی بعض زوجات کے علاوہ ۱۶ افراد وہ تھے جنکا تعلق جناب امام مجتبٰی علیہ السلام و خانوادہ جناب مسلم بن عقیل سے تھا۔ اصحاب ِباوفا کے علاوہ ۱۰ غلام بھی آپکے ہمراہ تھے۔ (5)

مرگ معاویہ اور سوال بیعت:
تاریخ کہتی ہے رجب کی درمیانی تاریخوں میں اور بنا بر نقلے ماہ رجب کے اختتام سے آٹھ دن قبل امیر شام ہلاک ہوا اور اسکا بیٹا تخت حکومت پر بیٹھا۔ یزید نے حکومت سنبھالتے ہی والی مدینہ کو خط لکھا کہ امام حسین علیہ السلام، عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن زبیر اور عبد الرحمٰن بن ابی بکر سے بیعت لے لو یا انکے سروں کو میرے لئے بھیج دو، یہ وہ مقام ہے جہاں مدینہ کے والی ولید نے مروان سے پوچھا کہ کیا کیا جائے تو مروان نے کہا قبل اس کے کہ یہ افراد حاکم شام کی موت سے باخبر ہوں انہیں بلا لو، چنانچہ رات ہی میں ولید نے اپنا آدمی امام حسین علیہ السلام کے پاس بھیج دیا، آپ اس وقت اپنے نانا کے مرقد پر تھے جب ولید کی طرف سے پیغام امام حسین علیہ السلام کو پہنچا تو آپ نے فرمایا، میں گھر جا کر جلد ہی ولید کے پاس پہنچونگا۔ (6) اس مقام پر دیگر ان افراد کی گفتگو قابل غور ہے، جن سے یزید نے بیعت کا مطالبہ کیا تھا چنانچہ امام حسین علیہ السلام کے یہ کہنے کے بعد عمر بن عثمان جو ولید کی جانب سے پیغام لیکر آیا تھا پلٹ گیا، اب جن لوگوں کو بلایا گیا تھا امام حسین علیہ السلام کے علاوہ سب کی گھبراہٹ و پریشانی دیکھنے لائق تھی۔

عبداللہ بن زبیر نے کہا، یا اباعبداللہ ولید کی جانب سے آنے والے بے ہنگم پیغام نے مجھے پریشان کر دیا ہے آپ کیا سوچ رہے ہیں کیا فیصلہ کیا ہے؟ امام حسین علیہ السلام نے معاملہ کی نزاکت کو فورا بھانپ کیا اور فرمایا، میرا گمان ہے کہ امیر شام ہلاک ہو گیا ہے اور ولید نے ہمیں یزید کی بیعت کے لئے بلایا ہے۔ (7) امام حسین علیہ السلام کی جانب سے یہ خبر سنائے جانے کے بعد عبداللہ بن عمر اور عبد الرحمٰن بن ابی بکر کا ردعمل یہ تھا کہ انہوں نے کہا ہم اپنے گھروں کو جاتے ہیں اور دروازہ خود پر بند کر لیں گے، جبکہ ابن زبیر نے کہا ہرگز میں یزید کی بیعت نہیں کرونگا، لیکن ان میں سے کوئی ایسا نہ تھا جو ولید کے دربار میں پہنچ کر اس سے پوچھتا کہ تونے کیوں بلایا ہے؟ یا ہمارا موقف یہ ہے کہ ہم بیعت نہ کریں گے صرف امام حسین علیہ السلام تھے جنہوں نے کہا مجھے ولید کے پاس جانا ہی ہوگا اسکے علاوہ چارہ کار ہی نہیں ہے۔ (8) آپ بیت الشرف میں آئے اور تیس لوگوں کو اپنے ساتھ لیا جنہوں نے اسلحوں کو ساتھ باندھا انہیں لیکر چلے اور کہا کہ تم لوگ باہر ہی رکو اگر میری آواز بلند ہو جائے، تو اندر آ جانا شیخ مفید نے ارشاد میں ولید کے دربار میں جاتے ہوئے امام حسین کی جانب سے کچھ مسلح جوانوں کو لیکر چلنے کے سلسلہ سے لکھا ہے۔

امام حسین علیہ السلام کو جب معاملہ کا پتہ چلا تو آپ نے اپنے نزدیکی ساتھیوں کو حکم دیا کہ اپنے اسلحوں کو اٹھا لیں اور کہا کہ ولید نے مجھ سے اس قسم کی درخواست کی ہے، جسے لیکر میں آسودہ خاطر نہیں ہوں وہ مجھے ایسے کام پر مجبور کرےگا جسے میں قبول نہیں کر سکتا اور میں اس سے محفوظ نہیں ہوں لہٰذا تم لوگ میرے ساتھ چلو اور دروازے کے باہر ٹہر جاؤ اگر میری آواز بلند ہو جائے تو اندر چلے آنا (9)۔ اسکے بعد امام حسین علیہ السلام ولید کے دربار پہنچے آپ نے دیکھا کہ مروان بھی وہیں بیٹھا ہے، ولید نے امیر شام کی ہلاکت کی خبر دی آپ نے کلمہ استرجاع زبان پر جاری کیا، اس کے بعد ولید نے یزید کے مکتوب کے بارے میں بتایا کہ آپ سے یزید نے بیعت کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں امام حسین علیہ السلام نے فرمایا، مجھے نہیں لگتا کہ تو خفیہ طریقے سے میری بیعت پر راضی ہو بلکہ تو یہی چاہے گا کہ میں یزید کی بیعت علنی طور پر لوگوں کے سامنے کروں (10)۔ ولید نے کہا جی ایسا ہی ہے جیسا آپ نے فرمایا۔ تو آپ نے جواب دیا پس صبح تک صبر کر اور اس بارے میں اپنی رائے کو دیکھ۔ (11)

ولید نے کہا آپ جائیے یہاں تک کے ہم لوگوں کے درمیان آپ سے ملاقات کریں۔ اس مقام پر مروان نے کہا، اس وقت انہیں مت جانے دے، اگر ابھی حسین (ع) کا ہاتھ بیعت کے لئے نہ لے سکا تو کبھی ایسا نہیں ہوگا مگر یہ کہ دونوں طرف سے بہت خون بہے گا ابھی اگر بیعت نہ کریں تو سر قلم کر دے، یہ وہ مقام ہے جہاں آپ مروان کی گستاخی پر سخت غضباک ہوئے اور آپ نے فرمایا، "اے نیلگوں چشم ماں کے بیٹے تو مجھے قتل کرے گا، خدا کی قسم تو جھوٹا ہے۔(12) نہ تجھ میں طاقت ہے اور نہ اس میں طاقت ہے، اسکے بعد آپ نے یہ تاریخی جملے ارشاد فرمائے، "ہم اہلبیت نبوت ہیں، معدن رسالت ہیں، ملائکہ ہمارے ہاں آتے جاتے ہیں، خدا نے خلقت پر ہمیں مقدم کیا ہے اور ہم پر ختم کیا ہے اور یزید شراب پینے والا فاسق، لوگوں کو ناحق قتل کرنے والا، علنا فسق و فجور کرنے والا ہے۔ مجھ جیسا اس جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا لیکن تو بھی صبح کرے گا ہم بھی کریں گے، تو بھی دیکھے گا ہم بھی دیکھیں گے کہ ہم میں خلافت اور بیعت کا زیادہ حقدار کون ہے یہ کہہ کر امام علیہ السلام اپنے چاہنے والوں کے ساتھ باہر نکل گئے"۔ (13) تاریخ کہتی ہے ماہ رجب کے تین دن بچے تھے جب آپ نے یہ اقدام کیا۔

جب صبح ہوئی تو امام حسین علیہ السلام گھر سے نکلے، مدینہ کے ایک کوچے میں مروان سے سامنا ہوا، مروان نے کہا اے ابا عبداللہ آپ کو نصیحت کرتا ہوں میری نصیحت کو قبول کر لیں، امام علیہ السلام نے فرمایا، تیری نصیحت کیا ہے؟ مروان نے کہا یزید کی بیعت کر لیں آپ کے لئے دنیا و آخرت میں بہتری کا سبب ہے۔ امام علیہ السلام نے کلمہ استرجاع جاری کرتے ہوئے فرمایا، "جب امت پر یزید جیسے حاکم مسلط ہو جائیں تو اسلام پر سلام" میں نے اپنے جد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا، آل سفیان پر خلافت حرام ہے (14)۔ اسکے بعد آپ نے مدینہ کو ترک کرنے کا فیصلہ کر لیا اور اپنے نانا کے مزار پر آئے اور وہ شب آپ اپنے نانا کے مزار پر ہی تا دیر رہے، تاریخ میں آپ کی اپنے نانا سے گفتگو نقل ہوئی ہے اسکے بعد آپ نے مدینہ کو چھوڑ دیا۔ (15) امام علیہ السلام کی جانب سے مکہ کی طرف ہجرت میں ایک اہم بات مکہ تک جانے والی اصلی شاہراہ کا انتخاب ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ امام حسین علیہ السلام نے خوف و ڈر سے ایسا نہیں کیا بلکہ اسکی حکمت کچھ اور تھی۔

امام لوگوں تک پیغام پہنچانا چاہتے تھے کہ میں کسی کے خوف سے مدینہ کو ترک نہیں کر رہا ہوں ورنہ چھپنے چھپاتے نکلتا بلکہ ایک عظیم مقصد کو لیکر چل رہا ہوں جبکہ لوگوں نے آپ کو رائے دی تھی کہ آپ خاموشی سے پوشیدہ طور پر کسی اور راستہ سے نکل جائیں، جس طرح عبداللہ ابن زبیر نے کیا لیکن امام علیہ السلام نے منع کر دیا۔ (16) لوگوں کے نظریں ظاہری سفر اور ظاہری اسباب کو دیکھ رہی تھیں جبکہ امام علیہ السلام کی نظریں ایک عظیم تمدن کی تشکیل کو دیکھ رہی تھیں، جو مدینہ سے اس طرح آپ کے نکلنے کے ساتھ ہی تشکیل پانا شروع ہو گیا اور دوران سفر آپ کے خطبات، مکہ میں آپ کے خاص انداز گفتگو خاص کر خطبہ منی و منازل کربلا میں آپکے بیانات کی روشنی میں بارور ہوتا ہوا عصر عاشور آپ اور آپ کے با وفا اصحاب کی شہادت پر تمام ہوا، اور آج تک باقی ہے اور جہاں جہاں بھی یزیدیت کے مظالم ہیں وہاں وہاں گلشن شہادت میں اسی تمدن کے پھول کھلتے نظر آ رہے ہیں، چاہے وہ ارض شام ہو، بحرین و یمن ہو عراق ہو یا فلسطین ہر جگہ ایک ہی نعرہ ہے "ھیھات منا الذلۃ"۔

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.