کراچی، کوئٹہ دھماکے کے خلاف آئی ایس او کی ریلی

  • ہفتہ, 13 اپریل 2019 18:14

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساںادارہ)  امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کراچی ڈویژن کی جانب سے کوئٹہ میں ہونے والے بم دھماکے ،حالیہ دنوں شہرِقائد میں شروع ہونے والی جبری گمشدگی کے خلاف اور اسیرانِ ملتِ جعفریہ کی رہائی کے لیے احتجاجی ریلی نکالی گئی۔

احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئےمولانا صادق رضا تقوی نے کوئٹہ دھماکہ میں16محب وطن پاکستانیوں کی شہادت کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ میں جاری شیعہ ہزارہ قبیلہ کی ٹارگٹ کلنگ ریاستی اداروں کی غفلت اور ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ دن دیہاڑے حکومتی اہلکاروں کی موجودگی میں شیعہ شناخت پر ٹارگٹ کیا جانا حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے کالعدم اور دہشت گرد تنظیموں سے حکومت کاروائی کی بجائے مذاکرات کرتی ہے جو محب وطن پاکستانیوں اور پاکستان کی سلامتی کے لئے زہر قاتل ہے۔

جعفریہ الائنس پاکستان کے رہنماء مولانا باقرحسین زیدی کا کہنا تھا کہ ملت تشیع پاکستان کی تاریخ خون سے سرخ ہے ہم نے ہمیشہ صبر واستقامت سے ظالمین کا سامنا کیا۔ ان کامزید کہنا تھا کہ کالعدم تنظیموں کے سہولت کاروں کو قومی دھارے میں لانے کی پالیسی پر تحفظات ہیں کوئٹہ میں دہشتگرد عناصر کے خلاف فوجی آپریشن ناگزیرہوچکا ہے۔

مجلسِ وحدت المسلمین کراچی ڈویژن کے سیکرٹری جنرل مولانا صادق جعفری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت آئین کی بالادستی کی بات کرتی ہے،آرٹیکل 10 کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ایجنسیاں اگر کسی کو اُٹھائے تو 24گھنٹوں کے اندر عدالت کے سامنے پیش کرنا چاہیے مگر یہاں اُلٹا ہو رہا ہےکئی ماہ اور کئی سال گذر جاتے ہیں مگر جبری طور پر گمشدہ افراد کو عدالتوں میں پیش نہیں کیا جاتا،انکا مزید کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے ملک میں جنگل کا سا قانون نافذ کیا ہوا ہے،حکومتِ وقت ہوش کے ناخن لے اور ملتِ جعفریہ کیخلاف غیر منصفانہ و غیر عادلانہ رویے کو ترک کرے۔

احتجاجی ریلی میں آئی ایس او پاکستان کراچی ڈویژن کے جنرل سیکرٹری برادر ریحان اکبر، مولانا صادق رضا تقوی،ایم ڈبلیو ایم کراچی ڈویژن کے سیکرٹری جنرل مولانا صادق جعفری،ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ مبشر حسن ،جعفریہ الائنس پاکستان کے رہنماء علامہ باقر حسین زیدی سمیت عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.