شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  علامہ سید اقتدار حسین نقوی  سیکریٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب نے کہا ہے کہ دہشتگردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، وہ انسانیت کے دشمن ہیں، نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی مساجد پر دہشتگردی کے واقعات افسوسناک اور قابل مذمت ہیں۔

 ملتان سے جاری اپنے ایک بیان میں ایم ڈبلیو ایم کے صوبائی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ حکومت پاکستان نیوزی لینڈ کی مساجد میں پیش آنے والے دہشتگردی کے واقعات پر نیوزی لینڈ حکومت سمیت عالمی سطح پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروائے۔ انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ مساجد میں پیش آنے والے واقعات دنیا بھر میں فرقہ واریت کی آگ کو بھڑکانے کے مترادف ہیں۔ اگر اس طرح کے واقعات کسی مسلمان ملک میں پیش آتے تو اقوام متحدہ سمیت پورے یورپ نے آسمان سر پر اٹھا لینا تھا، اس ملک پر پابندیوں کا مطالبہ شروع ہو جانا تھا، مگر بدقسمتی سے اب تک اس سانحہ پر اقوام متحدہ کی جانب سے کوئی مذمتی بیان اور ردعمل سامنے نہیں آیا۔

انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی مساجد میں پیش آنے والے ان دہشتگردی کے واقعات پر نیوزی لینڈ حکومت سے رابطہ کیا جائے اور ان واقعات میں زخمی ہونے والے پاکستانی افراد اور شہداء کی تفصیلات لی جائیں۔ علامہ اقتدار نقوی نے کہا کہ عالمی سطح پر اس دہشتگردی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا جائے، گرفتار ملزمان سے ان واقعات کے پیچھے تمام محرکات اور دہشتگرد گروپ کی تفصیلات معلوم کی جائیں اور ملزمان کو قرار واقعی سزا دی جائے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) علامہ اقتدار حسین نقوی  سیکریٹری جنرل  مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب نے کہا ہے کہ ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی اپیل پر ڈیرہ اسماعیل خان، کراچی اور دیگر شہروں میں فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ اور جبری گمشدگیوں کے خلاف ملک بھر میں جمعہ کو یوم احتجاج کے طور پر منایا جارہا ہے، ملک بھر میں نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں، ملک کے دیگر صوبوں کی طرح جنوبی پنجاب کے تمام اضلاع بشمول ملتان، بہاولپور، رحیم یارخان، لیہ، بھکر، ڈیرہ غازیخان، علی پور، میانوالی، کبیروالا میں احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں۔ علامہ اقتدار نقوی نے مزید کہا کہ گذشتہ ایک ماہ کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں 10 سے زائد شیعہ مسلمانوں کو ٹارگٹ کیا گیا ہے۔

اُنہوں نے ریاست مدینہ کے دعویدار کے پی کے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوام کی جان اور مال کی حفاظت کس کی ذمہ داری ہے۔؟ اُنہوں نے کہا کہ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو قیادت کے حکم پر ملک گیر احتجاجی تحریک کا اعلان کریں گے۔ علامہ اقتدار نقوی نے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ جاری ہے، رحیم یار خان میں گذشتہ ایک ہفتے کے دوران دو جوانوں کو لاپتہ کر دیا گیا، ریاستی ادارے ہمارے خلاف ہونے والی کارروائیوں کا جواب دیں۔

 شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  مجلس وحدت مسلمین  پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ احمد اقبال رضوی نے  ڈیرہ اسماعیل خان میں مسلسل شیعہ نسل کشی کے خلاف سڑکوں پر آنے کا عندیہ دے دیا۔

علامہ احمد اقبال رضوی کا کہنا تھا کہ ڈی آئی خان مسلسل فرقہ ورانہ ٹارگٹ کلنگ کے خلاف جمعہ کے روز ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔ کے پی کے حکومت نے ڈی آئی خان کو دہشت گردوں کے رحم کرم پر چھوڑ دیا ہے ۔ایک ماہ میں تیرہ افراد ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بن چکے ہیں ۔

 انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخواہ کا علاقہ ڈیرہ اسماعیل خان گذشتہ کئی عرصے سے ملت جعفریہ کی مقتل گاہ بن چکا ہے،آئے دن بے گناہ شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ جاری ہے، ستم ظریفی یہ ہے کہ دہشتگرد اب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی وردیوں میں ملبوس آتے ہیں،اور باآسانی واردات کرکے فرار ہوتے ہیں،ڈیرہ اسماعیل خان کے تحصیل پروہ میں دہشتگردوں نے پولیس وین پر حملہ کیا ایس ایچ اور کو شہید کیا اور ساتھ میں پمفلٹ بانٹ کر گئے جس میں باقاعدہ یہ درج تھا کہ ہم شیعہ آبادیوں اور افراد کو نشانہ بنائیں گے۔

علامہ احمد اقبال کا کہنا تھا کہ اس وقت ڈیرہ ااسماعیل خان کے رہائشی ایک کرب کے عالم میں زندگی گزار نے پر مجبور ہیں۔گزشتہ رات ہی ڈیرہ اسماعیل خان میں تین موٹر سائیکلوں پر سوار دہشتگرد وں نے تحصیلدار حق نواز کے جواں بیٹے کو اغوا کرنے کی کوشش کی مزاحمت پر انکے دو چچا شہید اور بھائی کو زخمی کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ دن پہلے ڈیرہ میں ہی ذاکراہلِ بیتؑ قیصر شائق جو کہ ٹی ایم اے کے ملازم تھے کو بھی دن دیہاڑے گولیوں کا نشانہ بنایا گیا اور قاتل باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔

خیبر پختونخواہ میں جاری اس دہشتگردی کی لہر کو روکنے میں قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل ناکام نظر آتے ہیں۔ایک طرف نیشنل ایکشن پلان عملدرآمد کی باتیں ہو رہی ہیں تو دوسری طرف ملت جعفریہ کے بے گناہ افراد کا قتل عام جاری ہیں۔راوالپنڈی چاندنی چوک پر بھی بھرے بازار میں خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان کوکل رات گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔قانون نافذ کرنے والے ادارے اس قتل کے محرکات کو بھی سامنے لائیں۔

علامہ احمد اقبال کا کہنا تھا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں ہم مکمل بے رحمانہ فوجی آپریشن کا مطالبہ کرتے ہیںاور پولیس کی صفوں میں موجود دہشتگردوں کے سہولت کاروں کے خلاف بھی کاروائی کا مطالبہ کرتے ہیں ،جن کے بارے میں خود حکومتی رپورٹس موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مجبور نہ کیا جائے کہ ہم ایک بار پھر سے اپنے مطالبات کے لئے سٹرکوں پر نکل آئیں ۔ریاست عوام کی جان مال کی تحفظ کے ذمہ دار ہیں
وزیر اعظم خود اس ظلم بربریت پر ایکشن لیں اور ڈیرہ اسماعیل خان کے مظلومین کو تحفظ فراہم کریں۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  علامہ اقتدار حسین نقوی مجلس وحدت مسلمینجنوبی پنجاب کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ ملک کو اس وقت اتحاد و یکجہتی کی ضرورت ہے، دشمن اس وقت پاکستان کو نیچا دکھانے کے لیے کوشش کر رہا ہے، ہمیں اپنی افواج پر فخر ہے، جنہوں نے دشمن کو منہ توڑ جواب دے کر ایک نئی مثال قائم کی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایمپلائز ویلفیئر ایسوسی ایشن بی زیڈ یو کے صدر محمد حر غوری کے والد استاد نذر حسین غوری مرحوم کی قل خوانی کے ایک بڑے اجتماع میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔

 اُنہوں نے مزید کہا کہ امریکہ، بھارت اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ امت مسلمہ کے خلاف ہے، جس کی زندہ مثال کشمیر، فلسطین سمیت دیگر مسلم ممالک اور وطن عزیز پاکستان میں بھارتی جارحیت ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ امت مسلمہ متحد ہو جائے اور اسوہ شبیری کا کردار ادا کرے، پوری پاکستانی قوم ملک کے دفاع کے لئے حکومت اور پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، بھارت نے اگر کوئی مذموم حرکت کی تو وطن کے دفاع کے لئے اپنا تن من دھن قربان کر دیں گے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  علامہ آغا علی رضوی  سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ڈاکٹر شہید محمد علی نقوی پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے حقیقی پاسبان اور مظلومین جہاں کے ترجمان تھے۔ انکی پوری زندگی جہد مسلسل سے عبارت تھی۔

آغا علی رضوی نے کہا کہ ڈاکٹر شہید محمد علی نقوی کی فکر آفاقی تھی۔ ان کا دل دنیا بھر کے مظلومین کے لیے دھڑکتا تھا۔ مسئلہ کشمیر ہو یا فلسطین جس شخصیت نے سب سے زیادہ آواز بلند کی وہ شہید نقوی ہے۔ شہید نقوی کی بصیرت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جس وقت دنیا امریکہ کے شر سے واقف نہیں تھی اس وقت ڈاکٹر محمد علی نقوی نے امریکہ مردہ باد کا نعرہ لگاکر ان کے چہرے سے نقاب الٹ کے رکھ دیا۔ آج عالم انسانیت کو اچھی طرح اندازہ ہو رہا ہے کہ انسانیت کے تمام مسائل کا ذمہ دار امریکہ اور اس کے حواری ہیں۔

آغا علی رضوی نے کہا کہ ڈاکٹر شہید نے پاکستان کی سرزمین میں اسلام ناب کے تعارف کے ساتھ جس انداز میں والایت فقیہ کا پرچار کیا وہ تاریخ کا زندہ و تابندہ باب ہے۔ راہ ولایت میں جتنی خدمات شہید محمد نقوی نے انجام دی ہیں کوئی دوسرا اسکی ہمسری کا دعویٰ کر ہی نہیں سکتا۔ ڈاکٹر شہید محمد علی نقوی کو قتل کرکے دشمن نے اسلام ناب اور پاکستان کی نظریاتی محافظوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاموش کرنے کی کوشش کی، جو کہ انکی بھول تھی۔ ڈاکٹر شہید نے جس نظریے کی اپنے خون سے آبیاری کی ہے اس کی ترویج و اشاعت کے لیے ملک کے گوش و کنار میں لاکھوں سربازان موجود ہیں۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  ایم ڈبلیو ایم کے رہنما اور کمشنر کراچی کے فوکل پرسن سید سبط اصغر زیدی 5 روز کی جبری گمشدگی کے بعد باحفاظت گھر پہنچ گئے ہیں۔

سبط اصغر کو 5 روز قبل پولیس نے ان کے گھر سے گرفتار کیا تھا جس کے بعد وہ لاپتہ کردیے گئے تھے۔ ان کی گمشدگی کے خلاف مجلس وحدت مسلمین نے بھرپور احتجاج کیا تھا اور آج گورنر ہاؤس کے گھیراؤ کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد سیکیورٹی اداروں نے سبط اصغر کا ان کے اہل خانہ سے ٹیلیفونک رابطہ کروایا تھا جس میں ان کی ممکنہ رہائی کی اطلاع دی گئی تھی، جس کے بعد انہیں رہا کردیا گیا۔ اپنے رہنما کی بازیابی کے بعد ایم ڈبلیو ایم نے آج کا احتجاج مؤخر کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

واضح رہے کہ سیاسی و سماجی رہنما ہونے کے ساتھ ساتھ سبط اصغر کمشنر کراچی کے فوکل پرسن بھی ہیں۔ ملت جعفریہ کے دیگر لاپتہ افراد کے اہل خانہ بھی سیکیورٹی اداروں سے اپنے پیاروں کی بازیابی کا مطالبہ کرتے ہیں اور پر امید ہیں کہ جلد ان کے پیارے اپنے گھر والوں کے ہمراہ ہونگے۔

 رپورٹ: ایس اے زیدی
 
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی جانب سے اپنے صوبائی اور ضلعی مسئولین کی عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق فکری، نظریاتی اور صلاحیتوں کو مزید نکھارنے کیلئے تنظیمی و تربیتی ورکشاپس کا سلسلہ 3 ماہ قبل شروع کیا گیا تھا، سندھ، بلوچستان، سنٹرل اور جنوبی پنجاب کے بعد تربیت کا یہ سلسلہ خیبر پختونخوا پہنچ گیا۔ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں معروف دینی درسگاہ جامعہ شہید عارف حسین الحسینی میں اس تربیتی ورکشاپ اور صوبائی شوریٰ کے اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔ ایم ڈبلیو ایم کے شعبہ تنظیم سازی کے تحت ہونے والی یہ ورکشاپ بروز ہفتہ شیڈول کے مطابق صبح 9 بجے شروع ہوئی، تلاوت کلام پاک کے ساتھ باقاعدہ ورکشاپ کا آغاز ہوا۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض ایم ڈبلیو ایم خیبر پختونخوا کے سیکرٹری تنظیم سازی شفیق حسین طوری نے انجام دیئے۔ ابتدائی کلمات جماعت کے صوبائی عبوری سیکرٹری جنرل مولانا سید وحید عباس کاظمی نے ادا کئے۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ  آج سے 4 ماہ قبل مجھے جب یہ اہم ذمہ داری ملی تو ہم نے مل جل کر بھرپور انداز میں تنظیمی دورہ جات کا آغاز کیا اور کوشش کی کہ تنظیم کو جلد متحرک کریں، تاکہ ملت تشیع کی یہ نمائندہ جماعت مضبوط مذہبی و سیاسی جماعت کے طور پر سامنے آئے، الحمد اللہ اپنی اس کوشش میں ہم کسی حد تک کامیاب ہوچکے ہیں۔
 
ورکشاپ میں مجلس وحدت مسلمین کی صوبائی کابینہ اور اضلاع کے ذمہ داران شریک ہوئے، مولانا وحید عباس کاظمی کے بعد ایم ڈبلیو ایم کے شعبہ تنظیم سازی کے مرکزی کوآرڈینیٹر سید عدیل عباس زیدی کو دعوت دی گئی، انہوں نے اس ورکشاپ کے انعقاد کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی ورکشاپس کی ضرورت جماعت میں بہت شدت سے محسوس کی جا رہی تھی، الحمد اللہ سندھ، بلوچستان، سنٹرل اور جنوبی پنجاب کے بعد اب خیبر پختونخوا میں اس تنظیمی و تربیتی ورکشاپ کے انعقاد کا مقصد بدلتے ہوئے عالمی اور ملکی حالات کے مطابق اپنے تنظیمی مسئولین اور کارکنان کی جدید خطوط پر تربیت کرنا ہے، حالات حاضرہ سے آگاہ، فکری تربیت یافتہ تنظیمی مسئول ہی بہتر انداز میں اپنے دین اور ملک و قوم کی خدمت کرسکتا ہے۔ بعدازاں مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی معاون سیکرٹری تنظیم سازی آصف رضا ایڈووکیٹ نے ایم ڈبلیو ایم کی روز اول سے اب تک حاصل ہونے والی ملی و قومی کامیابیوں کے موضوع پر خطاب کیا، اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ مجلس وحدت مسلمین جب میدان میں آئی تو پاکستان میں ظلم ہو رہا تھا، ہم نہتے تھے، ہمارے پاس کوئی وسائل نہیں تھے، ہم نے عوامی و سیاسی جدوجہد کا راستہ اختیار کیا، ہم نے پاراچنار کا محاصرہ توڑا، دہشتگردوں کیخلاف دوٹوک موقف اپنایا۔
 
آصف رضا ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ مجلس وحدت مسلمین قوم کی نمائندہ جماعت ہے، اپنی قوم کو مزید مضبوط بنانے اور حقوق کے تحفظ کیلئے ہمیں ایم ڈبلیو ایم کو ایک مضبوط اور فعال جماعت بنانا ہوگا۔ آصف رضا کے بعد معروف صحافی اور تجزیہ نگار محمد ابراہیم خان نے میڈیا کی اہمیت اور پریس ریلیز بنانے کے اصولوں پر ورکشاپ سے خطاب کیا، ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی جماعت کی ریڑھ کی ہڈی اس کا میڈیا سیل ہوتا ہے، میڈیا سیل اس جماعت کا آئینہ ہوتا ہے، یہ میڈیا کا دور ہے، انہوں نے شرکائے ورکشاپ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی جماعت کی کامیابی اس صورت میں ہی ممکن ہوسکتی ہے کہ آپ اپنی جماعت کے میڈیا سیل کو متحرک کریں، میڈیا نمائندوں کے ساتھ اچھے روابط قائم کریں اور اپنی پریس ریلیز صحافتی اصولوں کے عین مطابق بنائیں۔ بعدازاں انہوں نے پریس ریلیز بنانے کے اصولوں سے بھی ایم ڈبلیو ایم کے مسئولین کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ ابراہیم خان کے بعد طعام اور نماز ظہرین کا وقفہ ہوا، جس کے بعد مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکرٹری سیاسیات سید اسد عباس نقوی نے "کامیابی کیسے ممکن" کے عنوان پر تربیتی ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ہمیں اپنی سمت کا تعین ہوگا اور ہم مضبوط ارادے سے آگے بڑھیں گے تو کامیابی حاصل کرنا ہمارے لئے آسان ہو جائے گا۔
 
انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین کے مسئولین کو چاہیئے کہ وہ سب سے پہلے اپنا ویژن کلیئر کریں، اپنے اہداف کا تعین کریں اور پھر خلوص نیت کیساتھ آگے بڑھیں، جب جذبہ ہو اور آگے بڑھنے کی لگن ہو تو خدا کی مدد بھی شامل ہو جاتی ہے، مجلس وحدت سے قوم کو بہت امیدیں ہیں اور یہ سب خلوص اور نیک نیتی کیوجہ سے ہی ممکن ہوا ہے۔ بعد ازاں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری تربیت مولانا ڈاکٹر یونس حیدری نے اپنا لیکچر شروع کیا، اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ دین اور سیاست کو الگ سمجھنا ہمارے مکتب کی تعلیمات نہیں، ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت ہماری قوم میں اس سوچ اور نظریہ کو پروان چڑھایا جا رہا ہے کہ دین اور سیاست الگ ہیں، دین کا سیاست اور سیاست کا دین سے کوئی تعلق نہیں، ہمارے ہاں اکثریت اسی سوچ کے حامل افراد کی ہے۔ ہمارے لوگوں کو اجتماعی کاموں سے روکا گیا، انہیں ڈرایا گیا کہ اجتماعی جدوجہد میں آپ کی جان جاسکتی ہے، آپ کو نقصان کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ امام خمینی (رہ) کے مقابلہ میں بھی مجتہدین کو کھڑا کیا گیا، ہمارا ملک بھی اس وقت اینٹی ظہور بلاک میں ہے، ہمیں اپنے ملک کو اینٹی ظہور بلاک سے نکالنا ہوگا اور عالمی سطح پر موجود اس عالمی تحریک کا حصہ بننا ہے، جس کی بنیاد امام خمینی (رہ) نے رکھی تھی۔
 
ڈاکٹر یونس حیدری کے خطاب کے بعد مجلس وحدت مسلمین خیبر پختونخوا کی شوریٰ کا اجلاس شروع کر دیا گیا، اس اجلاس میں خصوصی شرکت اور خطاب ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹری تنظیم سازی سید مہدی عابدی نے کیا، اجلاس کا باقاعدہ اجلاس نماز مغربین کے بعد ہوا، آغاز میں ایم ڈبلیو ایم کے صوبائی عبوری سیکرٹری جنرل مولانا وحید کاظمی نے کارکردگی رپورٹ پیش کی، جس کے بعد اضلاع کے مسئولین نے کارکردگی رپورٹس پیش کیں، بعد ازاں ڈسکشن ہوئی اور آخر میں مرکزی سیکرٹری تنظیم سازی سید مہدی عابدی نے حالات حاضرہ پر اجلاس سے خطاب کیا، اس موقع ان کا کہنا تھا کہ دشمن نے منظم منصوبہ بندی کے تحت پاراچنار، کوئٹہ، کراچی، گلگت بلتستان اور ڈیرہ اسماعیل خان میں شیعہ شہریوں کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا، دشمن کی کوشش تھی کہ ان علاقوں کو ہماری کمزوری میں بدلا جائے، لیکن درحقیقت یہ علاقے ہماری کمزوری نہیں ہماری طاقت ہیں، قوم نے اس سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، خیبر پختونخوا میں بھی مجلس وحدت مسلمین کو مضبوط ہونے کی ضرورت ہے۔ ایک مضبوط ملت اور قوم ہی اپنے حقوق اور وطن کا دفاع کرسکتی ہے۔ بعدازاں سید مہدی عابدی نے شرکائے اجلاس کے سوالوں کے جوابات دیئے، پھر اجلاس کا اختتام دعائے امام زمانہ عج سے ہوا۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) شہر قائد میں ملت جعفریہ کےفعال افراد کی بے جرم وخطا اسیری کا سلسلہ جاری  ہے۔ ایم ڈبلیوایم کراچی کے رہنما سبط اصغر پولیس کے ہاتھوں گرفتارکرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیے گئے۔

 تفصیلات کے مطابق ایم ڈبلیوایم کراچی ڈویژن کے رہنما سید سبط اصغر کو سادہ لباس پولیس اہلکاروں نے دو روز قبل اورنگی ٹائون سےرات کے وقت ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا بعد ازاں انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ، ان کے اہل خانہ اور ایم ڈبلیوایم کے رہنما ان کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن تاحال ا ن کے حوالے سےکوئی خبر موصول نہیں ہوسکی ہے۔

 ترجمان مجلس وحدت مسلمین نے کہاہے کہ ایم ڈبلیو ایم کراچی کے رہنما اورمعروف سماجی شخصیت سبط اصغر زیدی کے پولیس کے ہاتھوں بغیر وارنٹ گرفتاری(اغواء) کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، سبط اصغر اورنگی ٹائون کے رہائشی ہیںانہیں دو روز قبل پولیس نے گھر سے گرفتار کیا مگروہ تاحال لاپتہ ہیں، سماجی رہنما سبط اصغر زیدی ضلع غربی میں کمشنر کراچی کے فوکل پرسن بھی ہیں،ممبر امن کمیٹی اور اتحاد بین المسلمین کے داعی سبط اصغر کی گرفتاری سے ملت جعفریہ میں بے چینی پائی جاتی ہے، سبط اصغر کو کس بنیاد پر گرفتار کر کے لاپتہ کیا گیا؟ وزیر اعلیٰ سندھ واقعے کا فوری نوٹس لیں،وزیر اعلی و آئی جی سندھ سے سبط اصغر زیدی کی بازیابی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے ملک بھر سے ملت تشیع کے فعال افراد کے لاپتہ ہونے کا سلسلہ جاری ہے جو تاحال ختم نہیں ہوسکا ہے جبکہ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلیے احتجاجی تحریک شیعہ مسنگ پرسنز کے رہنما راشد رضوی کی قیادت میں جاری ہے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  بھارتی جارحیت کے خلاف اور پاک فوج سے اظہار یکجہتی کیلیےمجلس وحدت مسلمین آج ملک بھر میں یوم دفاع مادر وطن کے عنوان سے منارہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان پر بھارتی جارحیت کے خلاف اور پاک فوج سے اظہار یکجہتی کیلیےمجلس وحدت مسلمین اپنے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی کال پر آج ملک بھر میں یوم دفاع مادر وطن کے عنوان سے منارہی ہے۔اس ہی سلسلے میں کوئٹہ میں بعد نماز جمعہ علامہ ہاشم موسوی کی قیادت میں دفاع مادرِ وطن ریلی نکالی گئی جس میں مومنین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ بھارت کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور اپنے جنگی جنون سے باز رہنا چاہئے۔ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے لیکن اگر جنگ مسلط کی گئی تو قوم کا ہر فرد اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑا ہو کر مادر وطن کا دفاع کرے گا۔ پاک فضائیہ نے بھارتی دراندازی کا بھرپور جواب دے کر دنیا کو بتادیا ہے کہ وہ اپنے ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنا جانتی ہے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  بھارتی جارحیت کے خلاف اور پاک فوج سے اظہار یکجہتی کیلیےمجلس وحدت مسلمین آج ملک بھر میں یوم دفاع مادر وطن کے عنوان سے منارہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان پر بھارتی جارحیت کے خلاف اور پاک فوج سے اظہار یکجہتی کیلیےمجلس وحدت مسلمین اپنے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی کال پر آج ملک بھر میںیوم دفاع مادر وطن کے عنوان سے منارہی ہے۔اس ہی سلسلے میں ڈی جی خان میں مرکزی امام بارگاہ حیدریہ سے بعد نماز جمعہ دفاع مادرِ وطن ریلی نکالی گئی جس میں مومنین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ بھارت کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور اپنے جنگی جنون سے باز رہنا چاہئے۔ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے لیکن اگر جنگ مسلط کی گئی تو قوم کا ہر فرد اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑا ہو کر مادر وطن کا دفاع کرے گا۔پاک فضائیہ نے بھارتی دراندازی کا بھرپور جواب دے کر دنیا کو بتادیا ہے کہ وہ اپنے ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنا جانتی ہے۔