تازہ ترین

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ سید احمد اقبال رضوی نے سعودی عرب میں 37بے گناہ شیعہ شہریوں کے بہیمانہ قتل کے خلاف اپنے ٹوئیٹر پیغام میں کہاہے کہ حجاز مقدس میں اسلام دشمن سامراجی طاقتوں کے آلہ کار آل سعود کی ظالم بادشاہی حکومت کی طرف سے 37 بیگناہ شیعہ مسلمانوں کو جس میں علماء اور بچے بھی شامل ہیں تہہ تیغ کرنا ان کے مستبدانہ ظالم مزاجی اور اھل بیت ع سے دشمنی کی علامت ہے،جس کا انتقام خود خدا لے گا،آل سعود طاقت اور اختیار کے نشے میں بدمست ہوچکے ہیں، سعودی شاہی خاندان قہر خداوندی اور انتقام الہیٰ کو بھلا بیٹھے ہیں، وہ یہ نہیں جانتے کہ خدا کی لاٹھی بے آواز ہے جب خدا کی لاٹھی چلے گی تو دنیا صدام ، قذافی اور حسنی مبارک جیسے سفاک حکمرانوں کا حشر بھول جائیں گے، انشاءاللہ۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب کے صوبائی ترجمان ثقلین نقوی نے کہا ہے کہ ایم ڈبلیو ایم جنوبی پنجاب کا انٹرا پارٹی الیکشن 28 اپریل کو ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ انٹرا پارٹی الیکشن میں جنوبی پنجاب کے 13 اضلاع کے نمائندگان اور اراکین صوبائی شوریٰ اپنا ووٹ کاسٹ کریں گے اور نئے سیکرٹری جنرل کا انتخاب کریں گے، مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری خصوصی طور پر شرکت کریں گے اور نومنتخب سیکرٹری جنرل سے حلف لیں گے۔ ملتان سے جاری بیان میں ایم ڈبلیو ایم کے ترجمان کا کہنا تھا کہ انٹرا پارٹی الیکشن کے بعد وحدت اسلامی کانفرنس منعقد ہوگی، جس میں مختلف مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قائدین اور رہنماء شرکت اور خطاب کریں گے۔

اُنہوں نے کہا کہ وحدت اسلامی کانفرنس کے دعوت نامے مختلف شخصیات تک پہنچا دیے گئے ہیں، مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب کے رہنمائوں نے پاکستان عوامی تحریک کے میڈیا کوارڈینیٹر رائو محمد عارف رضوی، میجر (ر) اقبال چغتائی، انجمن تحفظ عزاداری کے مرکزی رہنما الحاج شفقت حسنین بھٹہ، دربار شاہ شمس تبریز کے سجادہ نشین مخدوم طارق شمسی، سنی اتحاد کونسل ملتان کے رہنما قاری محمد افضل، پیر منظور حسین قادری، الحاج قاضی شبیر حسین علوی، علامہ غلام مصطفیٰ انصاری سے ملاقات کی اور اُنہیں وحدت اسلامی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی، ثقلین نقوی کے مطابق دو روزہ کنونشن کا آغاز 27 اپریل کو نماز ظہر کے بعد ہوگا، کنونشن میں مجلس وحدت مسلمین کی مرکزی قیادت شرکت کرے گی۔

سوال:  شاہ محمود قریشی کی وزیراعظم عمران خان کے دورہ ایران سے پہلے کی پریس کانفرنس اور الزامات کو کیسے دیکھ رہے ہیں۔؟
علامہ ناصر عباس جعفری:  شاہ محمود کی وزیراعظم کے دورہ ایران سے دو دن پہلے کی پریس کانفرنس انتہائی نامناسب تھی، اگر پاکستان کے کچھ تحفظات تھے بھی تو عمران خان وہاں جا کر بات کرسکتے تھے اور گفتگو ہوسکتی تھی، یہ ایک قسم کی اپنے ہی وزیراعظم کی پشت میں خنجر گھونپنے والی بات ہے اور اسکا کچھ فائدہ بھی نہیں، پاکستان کے قومی مفاد کو سویلین نقصان پہنچا رہے ہیں، یہ وہ لائن ہے جسکا فائدہ پاکستان کی دشمن قوتوں کو ہوگا اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ ایسا کچھ ہو، تاکہ پاکستان کے اپنے ہمسائے ممالک کے ساتھ تعلقات خراب ہوں، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شاہ محمود قریشی پاکستان کی لائن نہیں لے رہے بلکہ انکی لائن لے رہے ہیں، جو ہمیں آگاہانہ نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ ایک بہت بڑا سوال ہے کہ شاہ محمود قریشی کس کاوزیر خارجہ ہے؟ اور کس کی زبان بول رہا ہے، کس کو فائدہ پہنچانا چاہتا ہے اور جب عمران خان ایران جا رہے ہیں تو یہ جاپان چلا گیا، اس اہم دورے کے موقع پر کہیں جانا پاکستان کو نقصان پہنچانے والی بات ہے۔ آنے والا وقت ثابت کرے گا کہ ان لوگوں نے پاکستان کی خدمت نہیں کی۔

سوال:  عمران خان کے دورہ ایران کو ان الزامات کے بعد کیسا دیکھ رہے ہیں۔؟
علامہ ناصر عباس جعفری:  عمران خان کا یہ دورہ ایران اسٹریٹیجک لحاظ سے بہت اہمیت کا حامل ہے، جب امریکا کی طرف سے جمہوری اسلامی کو الگ کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی اور اسے دہشتگرد قرار دیا جا رہا تھا، ان حالات میں عمران خان کا پاکستان سے ایران جانا بہت اہمیت کا حامل ہے، یقیناً آل سعود اور امریکا اس سے خوش نہیں ہیں، یہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے، پاکستان کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے، عمران خان کے دورے کو نقصان پہنچانا درحقیقت پاکستان کو نقصان پہنچانا ہے، پاکستان کو دہشتگرد قرار دینے کیلئے مشکلات کھڑی کی جا رہی ہیں۔

سوال:  کابینہ کی تبدیلی کو کیسے دیکھ رہے ہیں۔؟
علامہ ناصر عباس جعفری:  پاکستان اقتصادی لحاظ سے مشکل صورتحال میں پھنسا ہوا ہے، 98 ارب ڈالر کا قرضہ چڑھا ہوا ہے، ادائیگیوں اور خسارے میں فرق بہت زیادہ ہے، ان مشکل حالات میں اسد عمر صاحب کو وزیر خزانہ لگایا گیا، جب بہت مشکل صورتحال تھی، وہ کوشش کرتا رہا تھا کہ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط سے ملک کو بچایا جا سکے، میرے خیال میں جو راستہ اپنایا گیا اور جس طرح سے پاکستان کو ایک خاص سمت میں دھکیلا گیا، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے بھی مشکلات حل کرانے کی کوشش کی گئی، جو اس ریجن میں امریکی کاز کو سپورٹ کرتے ہیں اور  انکی طرف لے جایا گیا، اس کے نتیجے میں پاکستان کی مشکلات ناصرف بڑھیں بلکہ اہمیت بھی کم ہوئی اور پاکستان آئی ایم ایف کے چنگل میں پھنستا چلا گیا۔

میرے خیال میں اسد عمر مزاحمت کر رہا تھا اور کوشش کر رہا تھا کہ ہم آئی ایم ایف کی کڑی شرائط سے بچیں، لیکن وہ شائد مختلف قوتوں کو قابل قبول نہیں تھا، جس کے نتیجے میں اسے ہٹنا پڑا، آپ جانتے ہیں کہ عالمی بینک میں کام کرنے والے پاکستانی کو جب اسٹیٹ بینک یا وزرات خزانہ میں ذمہ داری دی جاتی ہے تو وہ پاکستان سے زیادہ ان (آئی ایم ایف) کے مقاصد کو اہمیت دیتا ہے، یہ لوگ پہلے بھی وزیر خزانہ رہ چکے ہیں اور کام کرتے رہے ہیں، یہ اقتصادی حالت گذشتہ پالیسیوں کا نتیجہ ہی تو ہے۔ میرے خیال میں پاکستان اقتصادی دباو میں آکر ایسے فیصلے کر رہا ہے اور ایسے فیصلے کئے جا رہے ہیں یا کرائے جا رہے ہیں، جن کا پاکستان کو فائدہ نہیں ہوگا۔

سوال:  بلوچستان میں پیش آنیوالے دہشتگردی کے حالیہ واقعات پر کیا کہتے ہیں۔ آپ خود بھی کوئٹہ گئے تھے۔؟
علامہ ناصر عباس جعفری:  آپ جانتے ہیں کہ جب سے پارلیمنٹ میں وزیراعظم نے اعلان کیا کہ میں ایران جاوں گا تو اس کے بعد کوئٹہ شہر کے اندر دہشتگردی کی کارروائی کا ہو جانا اور وہ بھی اہل تشیع جو ہزارہ ہیں انکے خلاف ہوئی، یہ سمجھ میں آنے والی بات ہے، ہزار گنجی میں اس وقت دھماکہ ہوا، جب اکثر لوگ بس میں ہی سوار تھے، اگر وہ اترے ہوتے تو بہت بڑا نقصان ہونا تھا۔ جو لوگ ہزارہ ٹاون سے سبزی منڈی جاتے ہیں، یہ کانوائے کی شکل میں جاتے ہیں۔ اس کارروائی کا مقصد بھی پاک ایران تعلقات کو خراب کرنا تھا، بعض قوتیں چاہتی تھیں کہ عمران خان کا دورہ ایران نہ ہو۔ امید ہے کہ دورہ ایران کے بعد عمران خان پر واضح ہوگیا ہوگا کہ ایرانی لیڈر شپ کتنا پاکستان سے پیار کرتی ہے۔ آقا خامنہ ای سے ملاقات میں ان کو شعور ملا ہوگا، کیوںکہ ہمارے رہبر شعور بانٹتے ہیں۔ عالمی طاقتیں اس خطے کو تباہ کرنا چاہتی ہیں۔

سوال:  لاپتہ افراد کا تاحال مسئلہ برقرار ہے، انکی رہائی کیلئے کیا اقدامات ہو رہے ہیں۔؟
علامہ ناصر عباس جعفری:  دیکھیں، ویسے بہت بڑی تعداد لوگوں کی چھوڑ دی گئی ہے اور کچھ ابھی رہ گئے ہیں، یہ جو کراچی میں حالیہ واقعہ ہوا اور اسی کو بہانہ بنا کر بہت سے لوگوں کو اٹھایا گیا ہے، یہ پاکستان میں ایک عجیب سا سلسلہ چل رہا ہے، راولپنڈی کا واقعہ ہوا تو اس فتنے کو بہانہ بناکر یہ ہمارے گھروں میں گھس کر چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے رہے، دشمنی کی اور بے گناہ جوانوں کو جیلوں میں ڈالا گیا، ان پر تشدد کیا گیا، اب جاکر ثابت ہوا کہ یہ مکمل طور پر پاکستان کے دشمنوں کی کارروائی تھی، جو لوگ استعمال ہوئے انہی کے اپنے تھے، مسجد میں آگ لگانے والے اور قتل کرنے والے بھی ان کے اپنے ہی تھے۔ پاکستان میں شیعہ سنی مسائل پیدا کرکے دوریاں پیدا کرنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں، جس میں یہ لوگ ناکام ہوگئے ہیں، اسی طرح سے کراچی میں بھی ایسا ہو رہا ہے۔

ایک واقعہ ہوتا ہے، اسکے بعد یہ شیعوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں، نوجوانوں کو اٹھا لیتے ہیں، اغوا اور غائب کر دیتے ہیں۔ ان کے اقدامات کا واحد مقصد ہے کہ دنیا پر واضح کیا جائے کہ اہل تشیع بھی دہشتگرد ہیں۔ تکفیر کے فتوے انہوں نے دیئے، قتل و قتال انہوں نے کیا، لشکر انہوں نے بنائے۔ پھر انہی لشکروں کو خود ہی مارا۔ پھر خود سکیورٹی اداروں کو کافر کہا گیا اور تکفیر کی گئی۔ کراچی میں جاری کارروائیوں اور عزداری سید الشہداء کے خلاف سازشوں کو روکنا ہوگا، آنے والے دنوں میں ایک اہم پریس کانفرنس کرنے جا رہا ہوں۔ اس پر ہم آواز اٹھائیں گے، ہمارے علماء کو شیڈول فور میں ڈالا جا رہا ہے، بےجا پابندی لگائی جا رہی ہیں۔ یہ کیا کرنا چاہتے ہیں۔؟ اس وقت مسنگ پرسنز میں بیس سے پچیس لوگ رہ گئے ہیں، ہم ان کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے۔ یہ ہمارا فریضہ ہے اور ذمہ داری بھی۔ قانون شکنی کسی صورت قبول نہیں، کسی نے کوئی ملکی قانون توڑا ہے تو اسے عدالت میں پیش کریں۔

سوال:  کیا آپ نہیں سمجھتے کہ ان مشکلات سے نمٹنے کیلئے اتحاد بین المومنین وقت کی اشدت ضرورت ہے، مزید کیا اقدامات ہوسکتے ہیں۔؟
علامہ ناصر عباس جعفری:  مجلس وحدت مسلمین جب سے وجود میں آئی ہے، اس نے الحمداللہ داخلی طور پر کوئی ایسا کام نہیں کیا کہ مومنین کے اختلافات کو ہوا ملی ہو یا تقسیم ہوئے ہوں، اپنے شیعوں کے تمام طبقات سے اچھے تعلقات ہیں، چاہیے علماء ہوں یا غیر علماء یا خود بانیان مجالس اور ذاکرین عظام سب سے بہترین تعلقات ہیں۔ ہماری اب تک یہی کوشش رہی ہے کہ ان سب کے ساتھ اچھے تعلقات رکھیں۔ اس کے علاوہ بزرگ علماء سے ملتے رہے ہیں، کم از کم پہلا مرحلہ یہ تھا کہ اختلافات میں شدت پیدا نہ ہو اور اس کو روکا جائے، الحمد اللہ تمام بزرگان سے ملتے رہے ہیں اور ملتے بھی رہیں گے۔ اتفاق و اتحاد کے حوالے سے باقاعدہ ان سے بات چیت کرتے رہے ہیں۔ اس نقطے پر بھی بات ہوتی ہے کہ ملی مشترکات جیسے، عزاداری، مسنگ پرسنز، تکفیر جیسے مسائل ہیں، ان سے ملکر نمٹا جائے۔ اسی طرح شہیدوں کے قاتلوں کو سزا دلوانا، دہشتگردی جیسے مسائل پر مشترکہ طور پر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  سربراہ مجلس وحدت مسلمین نے حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ خاندانوں سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے حکومت سے کسانوں کیلیے ریلیف پیکج کا مطالبہ کردیا۔

تفصیلات کے مطابق مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے میڈیا سیل سے بیان میں کہاہے کہ حالیہ دنوں تباہ کن بارشوں اور ژالہ باری کے نتیجے میں گندم کی کھڑی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں، پنجاب اور بلوچستان میں کئی ہزارایکڑ زرعی اراضی زیر آب آجانےسے کسانوں کا شدید مالی نقصان ہوا ہے،حکومت تمام متاثرہ کسانوں کیلئےریلیف پیکج کا فوری اعلان کرے تاکہ ان کے دکھوں کا کچھ مداواممکن ہوسکے، علامہ راجہ ناصرعباس نے کہاکہ حکومت ضلعی انتظامیہ کی مدد سے بارشوں اور سیلاب سے کاشتکاروں کے نقصانات کا تخمینہ لگاکرکسانوں کیلئے نقد امداد کا اعلان کرکے ان کے گھروں کے چولھے ٹھنڈے ہونے سے بچائے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  آئی ایس او کی جانب سے سربراہ مجلس وحدت مسلمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری  کے اعزاز میں عشائیہ کا اہتمام کیا گیا۔ آئی ایس او پاکستان کے مرکزی صدر قاسم شمسی نے سیکرٹری جنرل منتخب ہونے پر علامہ راجہ ناصر عباس کو مبارکباد پیش کی اور  باہمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری ناصر عباس شیرازی، سیکرٹری سیاسیات اسد عباس نقوی، پنجاب کے نومنتخب سیکرٹری جنرل علامہ خالق اسدی، علامہ اعجاز بہشتی، علامہ اقبال کامرانی بھی موجود تھے۔آئی ایس او کے مرکزی صدر نے ایم ڈبلیو ایم کے رہنمائوں کو مرکزی سیکرٹریٹ آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے، تاکہ ملت کے اجتماعی معاملات بطریق احسن آگے بڑھ سکیں۔

انہوں نے کہا کہ ملت کو درپیش مسائل کا حل باہمی وحدت میں مضمر ہے۔ قاسم شمسی نے مزید کہا کہ دشمن انقلابی حلقوں کیخلاف سازشیں کرکے نظریاتی و انقلابی لوگوں کے مابین دوریاں پیدا کرکے اپنے مذموم ایجنڈے کو آگے بڑھانا چاہتا ہے، پاکستان میں موجود انقلابی قوتوں کو ایک دوسرے کی تقویت کا سبب بن کر دشمن کی سازش کو ناکام بنانا ہوگا تاکہ پاکستان میں رہبریت کی آرزو(وحدت) پوری ہو سکے۔

علامہ راجہ ناصر عباس نے آئی ایس او کی تعلیمی میدان میں خدمات کو سراہا اور کہا کہ آئی ایس او نوجوانوں کو دین سے روشناس کرانے کا اہم ترین فریضہ نبھا رہی ہے اور آئی ایس او سے مربوط نوجوان استعمار کی سازشوں کا ادراک رکھتے ہیں، اسی وجہ سے آئی ایس او پاکستان استعمار کی آنکھ میں کھٹکتی ہے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے سانحہ ہزار گنجی، اوماڑہ اور ڈی آئی خان ٹارگٹ کلنگ کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے وفاقی دارالحکومت سمیت چاروں صوبوں گلگت بلتستان اور کشمیر کے تمام اہم شہروں میں ستر سے زیادہ مقامات پر احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ احتجاجی مظاہروں کا مقصد دہشتگردی سے متاثرہ خاندانوں سے اظہار یکجہتی اور دہشتگردی کے ناسور کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنا تھا۔

کراچی میں ایم ڈبلیو ایم کی جانب سے خوجہ جامع مسجد کھارادر، جامع مسجد نور ایمان ناظم آباد، جامع مسجد دربار حسینی ملیر میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں کثیر تعداد میں عوام نے شرکت کی۔ مظاہرین نے ملک میں جاری دہشت گردوں کی کاروائیوں کے خلاف نعرے بازی کی اور کراچی میں جبری گمشدہ افراد کی جلد بازیابی کے مطالبہ سمیت شیعہ عمائدین کے خلاف ریاستی آپریشن کی مذمت کی۔ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ بلوچستان کی ناامنی کے پیچھے ہندوستان ہے جس کو امریکہ اور اسرائیل کی مکمل آشیرباد حاصل ہے، سانحہ ہزار گنجی کے فوری بعد ہی کوسٹل ہائی وے پر دہشت گردوں کی بزدلانہ کاروائی میں سیکورٹی فورسز کے جوانوں کی شہادت نے سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھا دیا ہے، سانحہ ہزار گنجی کے مجرمان بھی وہی ہیں جنہوں نے کوسٹل ہائی وے پر سیکورٹی فورسز کے جوانوں کو قتل کیا ہے، ان کا مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے۔

مقررین نے کہا کہ ریاستی اداروں کی جانب سے چادر اور چار دیواری کو پامال کیا جارہا ہے جو ہرگز قابل قبول نہیں، اگر حکومت نے ملت جعفریہ کے جبری گمشدہ افراد کو رہا نہ کیا تو بہت جلد ملگ گیر احتجاجی تحریک چلائیں گے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے زیراہتمام سانحہ ہزار گنجی، اوماڑہ اور ڈی آئی خان میں جاری ٹارگٹ کلنگ کے خلاف علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی اپیل پر ملک کے دیگر حصوں کی طرح جنوبی پنجاب کے آٹھ اضلاع میں احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں، ملتان میں نماز جمعہ کے بعد جامع مسجد الحسین نیو ملتان سے گلشن مارکیٹ تک احتجاجی ریلی نکالی گئی، ریلی کی قیادت مجلس وحدت مسلمین صوبائی سیکرٹری علامہ سید اقتدار حسین نقوی، ڈپٹی سیکرٹری جنرل سلیم عباس صدیقی، صوبائی سیکرٹری سیاسیات مہر سخاوت علی، علامہ غلام مصطفیٰ انصاری، سید قمر عباس نقوی نے کی، جبکہ احتجاجی مظاہرے سے پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی میڈیا کوارڈینیٹر رائو محمد عارف رضوی، آئی ایس او کے ڈویژنل صدر محمد عاطف، مولانا عمران ظفر، ایم ڈبلیو ایم ملتان کے سیکرٹری جنرل مرزا وجاہت علی، محسن لنگاہ اور شہریار حیدر نے خطاب کیا۔

 ملتان میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں کثیر تعداد میں عوام نے شرکت کی، مظاہرین نے ملک میں جاری دہشت گردوں کی کارروائیوں کے خلاف نعرے بازی کی، احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے حالیہ دہشتگردی کے واقعات کی شدید مذمت کی اور بڑھتی ہوئی دہشتگردی کی لہر پر تشویش کا اظہار کیا۔ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے علامہ اقتدار نقوی نے کہا کہ بلوچستان کی ناامنی کے پیچھے ہندوستان ہے، جسے امریکہ اور اسرائیل کی مکمل آشیرباد حاصل ہے، سانحہ ہزار گنجی کے فوری بعد ہی کوسٹل ہائی وے پر دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائی میں سکیورٹی فورسز کے جوانوں کی شہادت نے سکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھا دیا ہے، سانحہ ہزار گنجی کے مجرمان بھی وہی ہیں جنہوں نے کوسٹل ہائی وے پر سکیورٹی فورسز کے جوانوں کو قتل کیا ہے، ان کا مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے علامہ غلام مصطفیٰ انصاری نے کہا کے کراچی سی ٹی ڈی میں معتصب افراد نے کراچی کے امن کو داو پر لگا دیا ہے، بے گناہ افراد کو کارکردگی کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے، اس ظالمانہ اقدامات کو جلد روکنا ہوگا، ڈی آئی خان کے حوالے سے اب تک حکومت وقت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔ ہم شہداء کے خاندانوں کو کیا جواب دیں؟، حکومت کی دلچسپی دہشگردوں کو قومی دھارے میں ایڈجسٹ کرنے پر ہے جبکہ شہداء کے ورثاء انصاف کے لئے دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ حکومت اور مقتدر حلقے نیشنل ایکشن پلان پر ازسرنو غور کریں۔ بیانیہ پاکستان کی آڑ میں قاتلوں کو معافی دینے کا سلسلہ بند کیا جائے۔

رائو محمد عارف رضوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم شہداء کے امین ہیں، ڈاکٹر طاہرالقادری کا دہشتگردی کے خلاف عزم دنیا تسلیم کرچکی ہے، سکیورٹی ادارے اور انصاف فراہم کرنے والے ادارے اپنا کردار ادا نہیں کر رہے، اگر سانحہ ماڈل ٹائون کو ٹیسٹ کیس کے طور پر لیا جاتا تو آج سانحہ ہزار گنجی، سانحہ ساہیوال اور سانحہ اوماڑہ جیسے واقعات رونما نہ ہوتے۔ علاوہ ازیں نماز جمعہ کے بعد امام بارگاہ ابوالفضل العباس کے باہر سید اسد عباس شاہ اور علامہ قاضی نادر حسین علوی کی قیادت میں بھی احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، مظاہرین نے دہشتگردی اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی، ملتان کے علاوہ بہاولپور، رحیم یار خان، علی پور، ڈیرہ غازیخان، بھکر، لیہ اور خانیوال میں بھی مجلس وحدت مسلمین کے زیراہتمام احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نےسانحہ ہزارگنجی کےخلاف جمعہ کو ملک گیر یوم احتجاج کا اعلان کردیا۔

 کوئٹہ میں پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے  علامہ راجہ ناصر کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں حکومت کی نہیں دہشتگردوں کی رٹ قائم ہے،ہزارگنجی دھماکے اور کوئٹہ میں موجودہ شیعہ ہزارہ برادری کی نسل کشی کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔ تسلسل کیساتھ جاری اس ظلم و بربریت کے خلاف جمعہ کو ملک گیر احتجاجی مظاہرے کریں گے۔

 انھوں نے کہا کہ آخر ہماری حکومتیں بلوچستان کو کیوں نظر انداز کرتی ہیں،یہاں کے امن پر پے در پے حملوں پر حکمرانوں کی خاموشی لمحہ فکریہ ہے ،مستقبل کے معاشی گیٹ وے کو نظر انداز کرنا انتہائی مضحقہ خیزہے، بلوچستان میں دہشتگردوں کی نرسری اورکالعدم گرہوں کو لگام نہ دینا حکمرانوں کی نااہلی ہے۔ کہاں ہے نیشنل ایکشن پلان؟؟؟ہمیں مصالحتی رویہ ترک کرتے ہوئے ملکی و قومی سلامتی کیلئے فیصلہ کن اقدامات کرنے ہونگے۔ہم خانوادہِ شہداء کے لواحقین کیساتھ بھر پور اظہار یکجہتی کرتے ہیں اور اس مشکل کی گھڑی میں انکو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گئے اور نہ ہی اس مقدس شہداء کے لہو کو سازشی عناصر کے ہاتھوں رائگاں جانے دیں گے۔کوئٹہ کے باشعور اور محب وطن عوام ان سازشوں کا ادراک کرتے ہوئے دشمن کے مضموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ سید اقتدار حسین نقوی نے کہا ہے کہ مسجد پر فائرنگ کے نتیجے میں نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈر فوری اظہار یکجہتی کیلئے شہداء کے لواحقین کے پاس پہنچی تھیں۔ ہمارے وزیراعظم عمران خان کو ہزارہ برادری سے اظہار یکجہتی کیلئے اب تک جانے کی توفیق نہیں ہوئی، جو کہ بے حسی اور ان کی بے بسی کی انتہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہزارہ بھی پاکستان کے باشندے ہیں، یہاں اقلیتوں کیلئے تو شور مچ جاتا ہے، مگر شیعہ ہزارہ مسلمانوں پر ظلم ہو تو نجانے کیوں سب کو سانپ سونگھ جاتا ہے، کوئی مذمت تک نہیں کرتا، حکومت کو دہشتگردوں کیخلاف بلاامتیاز کارروائی کرنا ہوگی اور کوئٹہ میں بڑے پیمانے پر آپریشن کرنا ہوگا، بصورت دیگر دہشتگردی ختم نہیں ہوگی۔

ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے ملتان میں صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس سے ڈپٹی سیکرٹری جنرل سلیم عباس صدیقی، سیکرٹری سیاسیات مہر سخاوت سیال، صوبائی ترجمان ثقلین نقوی، سید شبر رضا زیدی، سید ندیم عباس کاظمی اور دیگر نے شرکت کی۔ علامہ اقتدار نقوی نے کہا کہ حکومتیں ہمیں تحفظ دینے میں بُری طرح ناکام ہیں، پچھلی حکومت میں بلند و بانگ دعوے کرنے والے عمران خان کو شاید معلوم نہیں کہ وہ اب اس ملک کے وزیراعظم ہیں۔ سلیم عباس صدیقی نے کہا کہ حکومت اور سکیورٹی اداروں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اس دہشتگردی کا سبب کیا ہے، لیکن بیرونی آقائوں کو خوش کرنے کے لیے چپ سادھ رکھی ہے، کوئٹہ کی عوام سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے جمعہ کو ملک گیر یوم احتجاج منائیں گے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصرعباس جعفری کا سانحہ ہزارگنجی میں قیمتی انسانی جانوں کے نقصان پرملت پاکستان اور ریاست پاکستان کیلئے اہم پیغام میں کہنا تھاکہ ايک بارپھر شیطان بزرگ امریکہ ، عالمی صیہونزم اور ریجن کے خون آشام ، امریکی اور صیہونی نوکروں کے آلہ کاروں نے وطن عزیز کے بے گناہ بیٹوں کو اپنے تیر ستم کا نشانہ بنایا اور بزدلانہ حملے میں انہیں شھید اور زخمی کیا ۔دعا ہےکہ خدا وند متعال ان مظلوم شھداء کی مغفرت فرمائے ، ان کے پسماندگان کو صبر جمیل اور زخمیوں کو شفائے کاملہ و عاجلہ عطا کرے ،ہم اس احمقانہ، بزدلانہ اور ظالمانہ حملے کی بھر پور مذمت کرتےہیں ۔یہ سب سانحات دراصل ہمارے ملک کی سالہا سال سے ملکی مفادات کے خلاف خارجہ اور داخلہ پالیسیوں کا نتیجہ ہیں اور جو کسی نہ کسی طرح سے ابھی تک جاری و ساری ہیں ۔عالمی دہشت گرد امریکہ جو مغربی ایشیا سے لیکر جنوبی ایشیا اور افریقہ کے اسلامی ممالک کو توڑ کر، انہیں resize کر کے reshape کرنا چاہتاہے، اس خطے کو اکھاڑ پچھاڑ کا تختہ مشق بنانے میں مصروف عمل ہےاور بعض مسلمان ممالک اس کام میں امریکہ کے فرنٹ میں کا رول ادا کر رہے ہیں، جن سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سر فہرست ہیں،یمن کی جنگ ہو، یا شام اور عراق میں داعش اور دوسرے دہشت گردوں کی لاجسٹک سپورٹ ہویا مالی تعاون، اور اسرائیل کو محفوظ بنانے اور فلسطین پر اس کے قبضے کو قانونی حیثیت دینے کے لئے deal of century ہو، یا لیبیا میں دہشت گردی اور نا امنی ہو ان سب کاموں میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حکمران پیش پیش ہیں۔امریکہ کی عالمی سطح پر hegemony کو مغربی ایشیا سے چیلنجز اور خطرات درپیش ہیں وہیںجنوبی ایشیا سے بھی ہیںوہ اس خطے کو بھی ناامن رکھنا چاہتاہےور اسی لئے داعش کو بھی اس حساس اور اسٹریٹیجک ریجن میں مختلف علاقوں سے داعش جیسے گروہ بھی منتقل کیے جا رہیں ہیں ۔جن کاھدف اس جنوبی ایشیا کو destablize کرنا ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان اگر چاہتاہے کہ یہ ریجن اور خود پاکستان پرامن ہوجائے تو پھر ہمیںامریکہ ، عالمی صیہونزم اور انکی پالیسز کو اسلامی ممالک میں انجام دینے والے " فرنٹ مین آلہ کاروں سے پاکستان کو بچانا ہو گا ۔اپنی خارجہ پالیسی اور داخلہ پالیسی کو از سر نو تشکیل دینا ہو گا ۔وگرنہ ہم ہرروز وطن عزیز کے بے گناہ بیٹوں کے جنازوں کے ٹکڑے اٹھاتے رہیںگے اور ان کے پسماندگان کو طفل تسلیاں دیتے رہیں گے ۔صاحبان اقتدار یہ جان لیں کہ خدا وند متعال کا انتقام شدید ہو گا، اور اللہ ہی مظلوموں کا حامی اور ان کا انتقام لینے والا ہے ۔یہ بات ذہن نشین رہے کہ قاتلوں کو مین اسٹریم میں لانے کے نام پر انہیں معافی دینے والے بھی ایک دن ضرور قادر مطلق کی بارگاہ میں کٹہرے میں کھڑے ھونگے اور جوابدہ ہونگے ۔اس وقت دکھی دل کے ساتھ خدا وند متعالی کی بارگاہ میں دست بدعا ہوں کہ وہ اہل وطن کو ان طوفانوں کا مقابلہ کرنے کا شعور، بصیرت اورہمت دے ، اپنی قوم کے مظلوموں کی خدمت میں عرض ہے کہ ہمیںاپنے دشمن کو پہنچاننا چاہئے جو ڈیرہ اسماعیل خان سے لیکر بلوچستان اور کراچی تک ہمیں قتل اور شہید کر رہاہے، وہ کونہ ہے؟ اور ایسا کیوں کر رہاہے ۔اس کی وجہ یہی ہے کہ و ہ ہمیں اپنے منصوبوں کی راہ میں رکاوٹ سمجھتا ہے ۔وہ پاکستان کو توڑنا چاہتاہے تا کہ یہ سارا خطہ ٹوٹ جائے، اور وہ جانتا ہے کہ اہل تشیع اور اولیاء اللہ سے محبت کرنے والے اہل سنت اور سیکورٹی کے اداروں کے جوان اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، جب دوسرےلوگ غیر ملکی ایجنڈے پر عمل کرتےہوئے داعش، القاعدہ اور دوسرے دہشت گروہوں میں ڈھال سکتے ہیں اور پھر وطن اور اہل وطن پر کاری ضربیں لگا سکتے ہیں تو وہ اس وقت اہل تشیع اور ہمارے اولیاء اللہ کو ماننے والے اہل سنت بھائی نہ صرف ایسا نہیں کر سکتے بلکہ اس کا راستہ روکتے ہیں اور روکتے رہیں گے ۔لہذا انہیں مارو، انہیں کمزور کرو، انہیں مایوس کرو تا کہ وطن کے دفاع کی نیچرل فرنٹ لائن کو توڑ دیا جائے۔ آپ کی استقامت، صبر اور حوصلے سے دشمن ناکام ھوگا، اور وطن میں موجود گھس بیٹھیے رسوا ہونگے ۔ہمارے قاتل امریکہ، عالمی صیہونزم اور ان کے نوکر بعض عرب حکمران اور ملک میں موجود ان کے ساتھی ہیں ۔