شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) کوئٹہ کے علاقے خروٹ آباد میں سی ٹی ڈی نے کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم کے اہم ٹارگٹ کلر کو گرفتار کر لیا۔ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق گرفتار ملزم کے قبضے سے بارودی مواد، دستی بم اور بال بیرنگ برآمد کر لیے گئے ہیں۔ترجمان سی ٹی ڈی کا مزید کہنا ہے کہ ملزم پولیس اہل کاروں اور ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہے ۔سی ٹی ڈی کے ترجمان نے یہ بھی بتایا ہے کہ ملزم کالعدم تنظیم داعش کے کمانڈرز نعمت اللہ اور ممتاز پہلوان کا قریبی ساتھی ہے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) عراق کی انسداد دہشت گردی فورسز نے شمالی حصے ہمرین میں داعش کے میڈیا سینٹر سمیت ٹھکانوں کو تباہ کردیا۔واضح رہے کہ عراق نے ایک برس قبل دعویٰ کیا تھا کہ ملک سے داعش کا مکمل خاتمہ کردیا گیا۔ملٹری کے ترجمان جنرل یحیحیٰ رسول نے بتایا کہ وزیراعظم کے خصوصی احکامات کی روشنی میں انسداد دہشت گردی ادارے نے ہمرین کے پہاڑوں میں موجود داعش کے باقی ماندہ دہشت گردوں پر حملہ کیا‘۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ داعش کے خلاف آپریشن میں عراق سمیت امریکی اتحادی فضائیہ کے طیاروں نے بھی حصہ لیا۔سی ٹی ایس کے ترجمان شباب الننان نے بتایا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن چار دن تک جاری رہا اور اس دوران داعش کے 15 ٹھکانے تباہ کیے گئے۔داعش نے 2014 کے سرما میں عراق کے شمال مغرب میں ملک دوسرے بڑے شہر موصل کا قبضہ حاصل کرنے کے بعد دارالحکومت بغداد کی جانب پیش قدمی کی تھی۔بعدازاں امریکا نے فضائی کارروائی کے ذریعے عراق کی سرحدوں پر قبضہ کرنے والے دہشت گردوں کے خلاف مسلح مہم شروع کردی تھی اور طویل جدوجہد کے بعد فوج نے رواں سال جولائی میں موصل کا قبضہ دوبارہ حاصل کرلیا تھا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ داعش کے میڈیا سینٹر، جہاں سے ہفتہ وار میگزین الناب شائع ہوتا تھا تباہ کردیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ ’خصوصی ٹیم قبضے میں لیے گئے کمپیوٹر اور دستاویزات کا جائزہ لے رہی ہیں‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’عراق کے دیگر حصوں میں اسی طرز کے دیگر انسداد دہشت گردی پر مشتمل حملے کیے جائیں گے‘۔واضح رہے کہ 2017 کے اواخر میں عراق کی فوج نے امریکی سربراہی میں اتحادیوں کی حمایت سے داعش سے تین سال سے بھی زائد عرصے تک قبضے میں رہنے والے قصبے راوہ کا کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔عراق کی وزارت دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ رسول نے کہا تھا کہ فوج اور مقامی قبائلی جنگجو نے مغربی صوبے انبار کے علاقے راوہ میں پانچ گھنٹے کی لڑائی کے بعد داعش کو پیچھے دھکیل دیا گیا اور علاقے کا قبضہ دوبارہ حاصل کرلیا گیا۔عراقی وزیراعظم حیدرالعبادی نے راوہ کا قبضہ دوبارہ حاصل کرنے پر فوج کو مبارک باد دی تھی۔حیدرالعبادی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ عراقی فورسز نے رواہ کو ریکارڈ وقت میں آزاد کروا دیا ہے اور عراق کے مغربی صحرا اور شام کے ساتھ سرحد پر دوبارہ قبضہ حاصل کرنے کے لیے آپریشن جاری رکھا۔

 

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)پچھلے پانچ برس میں دولت اسلامیہ نامی جنگ جو تنظیم جسے دوسرے الفاظ میں داعش یا دولت اسلامیہ عراق و شام بھی کہا جاتا ہے ، عراق و شام میں خوب تباہی مچائی۔ اس تباہی میں ان کے ساتھ کچھ خواتین بھی شامل ہوگئیں۔ ایسی ہی ایک خاتون کا نام شمیمہ بیگم ہے جو برطانیہ سے نکلیں اور براستہ ترکی جاکر دولت اسلامیہ سے مل گئیں۔ اب اس جنگ کے اختتامی مراحل میں جب داعش کا تقریباً خاتمہ ہوچکا ہے، شمیمہ برطانیہ واپسی کی خواہش مند ہیں اور ان کے شوہر چاہتے ہیں کہ ان کے بچے اور اہلیہ ہالینڈ میں رہیں۔

شمیمہ بیگم کے شوہر ہالینڈ کے شہری ہیں، اس وقت ان کی عمر ستائس سال ہے یعنی جب پانچ یا سات سال پہلے وہ داعش میں شامل ہوئے تو اس وقت ان کی عمر بہ مشکل بیس یا بائیس برس ہوگی۔ ستائیس سالہ گوریڈیک اس وقت شمال مشرقی شام میں ایک کُرد حراستی مرکز میں قید ہیں۔ اب اگر یہ دونوں میاں بیوی برطانیہ یا ہالینڈ جانے میں کام یاب ہو بھی جاتے ہیں تو ان دونوں کو کئی برس کی قید کا سامنا کرنا ہوگا۔

ان جیسے کئی جوڑے داعش کے جھانسے میں آکر لڑنے محاذ جنگ پر چلے گئے تھے، مگر اب وہ کہتے ہیں کہ، انہوں نے داعش کو مکمل طور پر چھوڑ دیا ہے، گوکہ اس کی کوشش وہ پہلے بھی کرچکے تھے، مگر داعش نے انہیں نکلنے نہیں دیا تھا مگر اب چونکہ داعش عملی طور پر مفلوج ہوچکی ہے اور اس کے جنگ جو یا تو مارے گئے یا تائب ہوچکے ہیں اس لئے یہ لوگ بھی اب اپنی پرانی زندگی میں لوٹ جانا چاہتے ہیں۔اسی طرح کے یورپی مرد و خواتین داعش میں شامل تو ہوگئے، لڑتے بھی رہے ،مگر ان کا اب کہنا ہے کہ، داعش کے رہ نمائوں نے ان پر کبھی بھروسہ نہیں کیا اور انہیں یورپ یا امریکا کے جاسوس سمجھتے رہے۔

اگر صرف شمیمہ بیگم ہی کی مثال لی جائے تو معلوم ہوتا ہے اس طرح کی خواتین ابھی نوعمر ہی تھیں کہ ایک طرح کی انقلابی رومانیت کا شکار ہوگئیں۔ شمیمہ بیگم اس وقت صرف انیس سال کی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ برطانیہ چھوڑتے وقت وہ زیادہ سے زیادہ پندرہ برس کی ہوں گی۔ ان کا ٹھکانہ آخر میں باغوز نامی شہر تھا ،جہاں وہ رقہ سے فرار ہوکر پہنچے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ رقہ میں انتہا پسندوں نے انہیں بھی تشدد کا نشانہ بنایا ،حالاں کہ وہ خود اپنی یورپ کی پرسکون زندگی چھوڑ کر باغیوں میں شامل ہوئے تھے۔

رقہ کے بعد داعش کا آخری پڑائو باغوز میں تھا، جہاں گوریڈیک نے خود کو شامی جنگ جوئوں کے رحم اور کرم پر پایا، جب کہ اس کی اہلیہ شمیمہ بیگم اپنے نومولود بچے کے ساتھ ایک پناہ گزین کیمپ میں پہنچ گئی تھیں، وہاں سے انہیں ایک نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس طرح کے جنگ جو محاذ جنگ سے بھی نوعمر لڑکیوں سے شادی کرنے سے دریغ نہیں کرتے کیوں کہ وہ لڑکیاں خود اس مقصد کے لئے خود کو پیش کردیتی ہیں۔خود شمیمہ بیگم کے اعترافی بیان کے مطابق جب وہ پندرہ سال کی عمر میں داعش میں شامل ہوئیں تو انہوں نے جنگ جو رہ نمائوں سے درخواست کی کہ ان کا نکاح کسی بھی مرد سے پڑھا دیا جائے ،جس پر ان کی پہلی شادی ہوئی مگر شوہر لڑتے ہوئے مارا گیا پھر ان کے یہاں ولادت ہوئی تو بچہ بھی کافی دیکھ بھال اور دوائوں کی عدم دست یابی کے باعث بیمار ہوکر مرگیا ۔ ان کی دوسری بار شادی کی گئی اب شمیمہ بیگم کہتی ہیں کہ انہوں نے بہت جلدی کی اگر وہ شادی نہ کرتیں تو صورت حال مختلف ہوتی۔اب ان کو اس بات پر دکھ ہے کہ ان کی تصاویر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں گردش کررہی ہیں ۔ایک ایسی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جس کا انہوں نے اندازہ نہیں لگایا تھا۔ اس طرح کی خواتین کی ایک مجبوری یہ ہے کہ اب انہیں کوئی ملک تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہے۔ شمیمہ بیگم کے والدین بنگالی ہیں، جو عرصے سے برطانیہ میں مقیم ہیں اور برطانیہ ہی میں شمیمہ کی ولادت ہوئی۔ اب جب برطانیہ نے شمیمہ کی شہریت منسوخ کی تو اعلان کیا کہ چوں کہ شمیمہ کی والدہ اب بھی بنگلہ دیش کی شہریت رکھتی ہیں اس لئے شمیمہ بھی بنگلہ دیش جاسکتی ہیں۔

ادھر بنگلا دیش نے اعلان کیا شمیمہ بیگم بنگلا دیش کی شہری نہیں ہیں اس لئے وہ بنگلا دیش نہیں آسکتیں اور اگر انہوں نے آنے کی کوشش کی تو انہیں ملک میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا فوری طور پر واپس بھیج دیا جائے گا۔

شمیمہ کا خاندان اس کوشش میں ہے کہ برطانیہ کی وزارت داخلہ کو مجبور کیا جائے کہ وہ شمیمہ بیگم کی شہریت منسوخ کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کرکے انہیں برطانیہ آنے کی اجازت دے۔ برطانیہ کے وزیر داخلہ اس سلسلے میں اب تک بڑی سختی سے کام لے رہے ہیں اور شمیمہ کے خاندان کی درخواست پر عمل نہیں کررہے۔

برطانیہ کی حزب مخالف پارٹی لیبر پارٹی کے رہ نما جیرمی کورین نے اس سلسلے میں نرمی سے کام لینے کا مشورہ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شمیمہ جب برطانیہ سے گئی تھی تو ناسمجھ تھی اب اتنے تجربات کے بعد وہ درست راستے پر آگئی ہوگی۔

ادھر ہالینڈ نے شمیمہ کے شوہر گوریڈیک کی شہریت منسوخ نہیں کی ہے، اس لئے اس جوڑے کے ہالینڈ جانے کے زیادہ امکانات ہیں۔

اسی طرح کا ایک اور قصہ ہدیٰ موتہانہ کا ہے جسے ’’دولت اسلامیہ کی دلہن‘‘ یا ’’داعش برائڈ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ امریکا کی شہری ہیں اور اب ان کے والد نے اپنی بیٹی کے امریکا واپسی کے لئے مقدمہ کیا ہے۔ ہدیٰ موتہانہ بھی شمیمہ کی طرح فرار ہوکر داعش میں شامل ہوگئی تھیں۔ احمد علی موتہانہ جو ہدیٰ کے والد ہیں ایک مقدمہ دائر کرچکے ہیں، جس میں انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے ہدیٰ کی شہریت منسوخ کرنے کی غیرقانونی کوشش کی ہے۔

ہدیٰ ایک طالبہ تھی، مگر اب وہ نہ صرف تائب ہوچکی ہے، بل کہ امریکا واپس آکر اپنے خلاف الزامات کا سامنا کرنے پر بھی تیار ہیں لیکن صدر ٹرمپ نے ان کا امریکا میں داخلہ روکنے کے احکام جاری کئے ہیں، کیوں کہ انہیں خدشہ یہ ہے کہ ہدیٰ ایک بار پھر داعش کے لئے پروپیگنڈہ شروع کردے گی۔

امریکی ریاست الابامہ سے تعلق رکھنے والی ہدیٰ بھی صرف انیس سال کی عمر میں پڑھائی چھوڑ کر کالج سے فیس کی رقم واپس لے کر امریکا سے فرار ہوگئی تھی اور اس کی خبر اپنے والدین کو بھی نہیں دی تھی۔

اب پانچ سال بعد ہدیٰ ڈیڑھ سال کے بچے کی ماں ہے۔ وہ اور اس کا خاندان اب ہدیٰ کو امریکا واپسی کے لئے جدوجہد کررہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان پر مقدمات چلائے جاسکتے ہیں لیکن ان کی امریکا واپسی کو نہیں روکا جاسکتا۔ برطانوی وزیر داخلہ کی طرح امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ مائیک یومیبو کا کہنا ہے کہ ہدیٰ کو کوئی حق نہیں کہ وہ امریکی پاسپورٹ یا ویزے کا مطالبہ کریں۔ ہدیٰ کے والد یمن سے تعلق رکھتے تھے اور اقوام متحدہ کے سفارت کار تھے۔ یاد رہے کہ 2004ء میں امریکا نے ہدیٰ کو امریکی شہری تسلیم کرتے ہوئے پاس پورٹ جاری کیا تھا جب وہ صرف نو برس کی تھیں اور اس کی پیدائش بھی امریکا میں ہوئی تھی۔

شمیمہ کی طرح ہدیٰ بھی اس وقت ایک پناہ گزین کیمپ میں ہیں انہوں نے بھی شمیمہ کی طرح ایک سے زیادہ شادیاں کیں مگر اب اپنے کئے پر تائب ہیں۔

اس طرح کے واقعات مسلمان گھرانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہیں۔ کیوں کہ اکثر مسلم والدین جو یورپ یا امریکا میں جاکر آباد ہوتے ہیں اپنے بچوں خاص طور پر لڑکیوں پر بے جا پابندیاں عائد کرتے ہیں جس سے بچیاں باغی ہوجاتی ہیں۔ جو والدین ماضی کی طرح زندگی گزارنا چاہتے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ امریکا اور یورپ کا رخ ہی نہ کریں۔

ایک طرف تو بچے مغربی معاشروں کی آزادی سے متاثر ہوتے ہیں اور دوسری طرف والدین ان آزادیوں پر قدغن لگاتے ہیں جس سے بچے باغی ہوکر گھروں سے بھاگنے لگتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات پاکستان جیسے ممالک میں بھی ہوتے ہیں ۔ ان کا حل صرف یہی ہے کہ والدین اپنے بچوں کو گھٹن کے ماحول میں نہ رکھیں،تاکہ وہ گھروں سے بھاگنے پر مجبور نہ ہوں، ورنہ شمیمہ اور ہدیٰ کی طرح اور بہت سے بچے نہ اِدھر کے رہتے ہیں اور نہ اُدھر کے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) امریکا میں ہجوم پر گاڑی چڑھانے کا مبینہ منصوبہ ناکام بنا دیا گیا ہے جبکہ ایک امریکی شہری کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کسینیو کمپلیکس پر ہجوم کو نشانہ بنانے کی کوشش کرنے والا داعش سے متاثر ہے، ملزم ہدف کی تلاش میں گاڑی لے کر واشنگٹن کے کئی مقامات پر گیا۔

حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ 28 سال کے کمپیوٹر انجینیئر رونڈیل ہنری کو 28 مارچ کو واشنگٹن کے قریب سے گرفتار کیا گیا، دوران تفتیش ملزم نے فرانس جیسے حملے کی منصوبہ بندی کا انکشاف کیا۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) عراق کے شہر موصل میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کو شکست ہوئے دو سال بیت گئے ہیں۔ اس خونریز لڑائی میں ہزاروں شہری ہلاک ہوئے تاہم یہ شہر آج بھی کھنڈر دکھائی دیتا ہے۔

شہر کی تعمیر نو نہ ہونے پر شہری اضطراب کا شکار ہیں۔ دریائے دجلہ کے مغربی جانب آباد قدیم شہر موصل عراق کی جان ہوا کرتا تھا مگر اب یہاں صرف کھنڈرات ہی باقی ہیں۔اس شہر کی بیشتر گلیاں سنسان ہیں، کہیں کہیں چند مٹھی بھر لوگ اور بلڈوزرز دکھائی دیتے ہیں۔ خستہ حال عمارتیں گولیوں سے چھلنی دکھائی دیتی ہیں۔اس قدیم شہر نے عراقی فوج اور دولت اسلامیہ کی لڑائی کے دوران بہت تباہی دیکھی ہے۔یہاں کبھی تاریخی عظیم مسجد النوری اور اس کا مقبول جھکا ہوا الحادبہ مینار موجود تھا۔اب بچے یہاں اس کے ملبے پر چڑھ رہے ہیں اور کچھ اس ملبے کے کباڑ سے بیچنے کے لیے لوہا تلاش کر رہے ہیں۔لوگوں کا کہنا ہے کہ موصل بھر میں موجود ملبے میں آج تک انسانی لاشیں اور دھماکا خیز مواد دفن ہے۔شہر بھر کی دیواروں پر لوگوں، خصوصاً بچوں کو اشتہارات آویزاں کر کے خبردار کیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک چیز کو ہاتھ نہ لگائیں۔جب جولائی 2017 میں حکومتی فوج نے موصل پر دوبارہ قبضہ کیا تو اس وقت اس کو ایک بڑی فتح گردانا گیا تاہم اس سے یہاں کے رہنے والوں کو بہتر زندگی کے مواقع میسر نہیں آئے۔

قدیم شہر کے ایک باسی نے مجھے بتایا کہ’ ہمارے پاس کچھ نہیں ہے، نہ خوراک ہے، یہاں کی ہوا بھی صاف نہیں ہے، پانی بھی آلودہ ہے، نہ سکول ہیں نہ ہسپتال۔ یہ ہماری آئندہ نسلوں کے لیے اچھا نہیں ہے۔‘محمد ہاشمی الغد نامی ریڈیو سٹیشن چلاتے ہیں، جس کی بنیاد سنہ 2015 میں رکھی گئی تھی تاکہ دولت اسلامیہ کے دور میں یہاں رہنے والے موصل کے شہریوں کو ایک آواز مل سکے۔ان کا کہنا ہے کہ’ لوگوں کو دولت اسلامیہ سے آزادی ملے دو سال ہو چکے ہیں لیکن یہاں ابتک جو کچھ ہوا ہے وہ ان کی توقعات کے مطابق نہیں ہے۔‘محمد ہاشمی کے مطابق ان کے ریڈیو سٹیشن الغد پر لوگ کرپشن، بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی اور شہر کی تعمیر نو کے متعلق اپنی جھنجھلاہٹ کا اظہار کرتے ہیں۔’دولت اسلامیہ کی حکمرانی سے آزادی کے بعد یہاں کی عوام بہت مثبت تھی۔ وہ سنہری دور تھا مگر اب بدقسمتی سے عوام میں مایوسی پھیل رہی ہے۔ ان کو احساس ہو گیا ہے کہ حکومت کے پاس کوئی حکمت عملی نہیں ہے۔‘حال ہی میں دریائے دجلہ میں ہونے والا کشتی کا حادثہ جس میں 100 سے زائد افراد مارے گئے تھے، نے یہاں کے شہریوں میں غم و غصے کو جنم دیا ہے۔ انھوں نے شہر کی سڑکوں پر مقامی حکام کے خلاف کرپشن اور غفلت کا الزام عائد کرتے ہوئے مظاہرے بھی کیے تھے۔ تب سے شہر کے گورنر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے اور ان کے خلاف کرپشن کے الزامات میں گرفتاری کے وارنٹ بھی نکالے گئے ہیں۔

محمد ہاشمی کا کہنا ہے کہ یہ حادثہ کچھ لوگوں کے لیے آخری حد تھی۔موصل کی یونیورسٹی دریائے دجلہ کے مشرقی جانب واقع ہے۔ یہاں کی گہما گہمی اور قدیم شہر کی حالت میں واضح فرق تھا۔یہ یہاں کے شہریوں کے زندگی میں آگے بڑھ جانے کے پختہ عزم کی دلیل بھی تھی۔گندی اور ٹوٹی پھوٹی گلیوں میں نوجوان خواتین رنگ برنگے دوپٹوں میں دکھائی دیتی تھی۔ مردوں کا ایک گروہ اپنے تعمیراتی اوزاروں کے ساتھ پختہ سڑک پر بیٹھا کام کی تلاش میں تھا۔مرد اور خواتین یونیورسٹی کیمپس کے دوسری جانب سڑک پر واقعے کیفیز اور ریستورانوں کا رخ کر رہے تھے۔ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے دور میں ایسا کم ہی سننے کو ملتا تھا۔سکیورٹی اور کرپشن بھلے ہی موصل کے اہم مسئلے ہیں مگر بے روزگاری یہاں کا سب سے بڑا مسئلہ تھا۔اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق موصل کی نصف نوجوان آبادی بے روزگار ہے۔عاصمہ الراوی، 22 سالہ طالب علم ہیں جو سنہ 2014 میں اپنے خاندان کے ہمراہ اس وقت موصل چھوڑ کر چلی گئی تھیں جب دولت اسلامیہ نے شہر پر قبضہ کیا تھا۔ جب سے وہ اپنے شہر واپس لوٹی ہیں انھیں یہاں زندگی کی تلخ حقیقتوں کا سامنا ہے۔

ان کا کہنا ہے ’دوبارہ سے کچھ برا ہو جائے گا، ہمیں شاید اپنا گھر دوبارہ کھونا پڑے، ہمیں شاید دوبارہ اپنا شہر چھوڑنا پڑے، ہمیں بھی شاید اپنی زندگی کھونی پڑے جیسے یہاں بہت سے افراد نے کھوئی ہے۔ ایسے میں مثبت رہنا بہت مشکل ہے جب آپ ان حالات میں زندگی گزار رہے ہوں۔‘موصل میں متعدد حملے ہوئے ہیں جن کا الزام دولت اسلامیہ کے سلیپر سیلز پر لگایا گیا ہے۔اکتوبر 2018 میں شہر کے جنوب میں واقع ایک بارونق بازار میں کار بم حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اور اگلے ماہ شہر کے مغربی پررونق علاقے میں ایک اور کار بم حملے میں تین افراد مارے گئے تھے۔عاصمہ کے استاد، علی کا کہنا ہے کہ معاشرہ بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار بنا تھا۔انھوں نے بتایا کہ ’موصل ہمیشہ سے کثیرالثقافتی شہر رہا ہے لیکن اب ایسا نہیں ہے۔‘موصل میں بسنے والے بہت سے مسیحی واپس نہیں آئے۔ یہ بہت دلخراش بات ہے کہ جب آپ موصل کے مغربی علاقے میں جائیں تو آپ کو اب بھی مسیحی آبادی خالی ملے گی، ان کے گرجا گھر بھی اب تک کھنڈر ہیں۔علی نے ان خاندانوں کو شہر میں رہنے پر بھی خبردار کیا جنھوں نے صحرا میں قائم کیمپوں میں دولت اسلامیہ کی حمایت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکام ان کے ساتھ مناسب طریقے سے پیش نہیں آ رہے۔

انھوں نے وضاحت کی کہ ’ اس طرح سے تو انتہا پسندی اور دولت اسلامیہ کے عسکریت پسندوں کی نئی نسل کو تیار کرنے کا نیا طریقہ فراہم کر رہے ہیں۔‘اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ پہلے ہی عراق میں ایک حفیہ نیٹ ورک کے طور پر ابھر رہی ہے اور وہ عراقی صوبوں انبار اور کرکک کے دورافتادہ صحرائی علاقوں میں دوبارہ سے منظم اور اکھٹی ہو رہی ہے۔امریکی حکام کا ماننا ہے کہ عراق اور ہمسایہ ملک شام کے علاقوں میں شاید 15000 سے 20000 تک مسلح عسکریت پسند متحرک ہیں۔موصل میں موجود عراقی الیٹ کمانڈو یونٹ کے ایک رکن محمود حمادی نے بتایا کہ ’بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ اب آگے کیا کرے گی، میں نہیں بتا سکتا کہ ان کا اگلا قدم کب اور کیا ہوگا۔ موصل کے شہریوں کا خوف حق بجانب ہے۔ دولت اسلامیہ کے عسکریت پسند قتل و غارت، بم دھماکے یا خودکش حملوں کے اپنے اگلے حکم کا انتظار کر رہے ہیں۔‘حمادی نے مزید کہا کہ ’اگر موصل کا کوئی سیاسی حل نکالا جاتا تو یہاں سب کچھ ٹھیک ہوتا۔ مگر سیاستدانوں کی لڑائی اور تناؤ نہ شہر کو غیر مستحکم بنا دیا ہے۔‘دولت اسلامیہ نے اپنا علاقہ کھویا ہے مگر اپنا اثر نہیں گنوایا۔غربت، کرپشن، بے روزگاری اور لوگوں میں بڑھتی فرقہ وارانہ بے چینی نے پانچ سال قبل شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کو موصل پر قبضہ کرنے میں مدد فراہم کی تھی۔اور جب تک شہر کے ان بنیادی مسائل کو حل نہیں کیا جاتا، دولت اسلامیہ تب تک خطرہ بنی رہے گی۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) ملک بھر میں کالعدم تنظیموں اور گروہوں کے خلاف کارراوائیاں جاری ہیں۔ خیبر پختونخوا میں انسداد دہشت گردی فورس نے اہم کارروائی کرتے ہوئے داعش کا نیٹ ورک چلانے والے مبینہ دہشت گرد کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخوا کے شہر ایبٹ آباد میں سی ٹی ڈی ہزارہ نے یہ اہم کارروائی کی اس موقع پر داعش کا نیٹ ورک چلانے والا مبینہ دہشت گرد مجیب الرحمٰن کو گرفتار کرلیا گیا۔ گرفتار مبینہ دہشت گرد مجیب الرحمٰن کا تعلق کراچی سے ہے۔ مجیب الرحمٰن کراچی اور پنجاب میں بڑی دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث تھا جن میں ٹارگٹ کلنگ، بم دھماکوں، بینک ڈکیتیوں سمیت سنگین دہشت گردی کی وارداتیں شامل ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ دنوں صوبہ بلوچستان کے علاقے لورالائی میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 2 خودکش بمباروں سمیت 4 دہشت گرد ہلاک ہوگئے تھے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائی میں بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کا ماسٹر مائنڈ بھی ہلاک ہوگیا۔ ہلاک ماسٹر مائنڈ کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تھا۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) عراق و شام میں عبرتناک شکست کے بعدداعش کا خود ساختہ خلیفہ اپنے قریبی ساتھیوں اور رشتہ داروں سمیت روپوش ہے۔تازہ آپریشن میں عراقی فورسز نے عراق کے صوبہ الانبار میں وہابی دہشت گرد تنظیم داعش کے سربراہ ابوبکر بغدادی کے ایک قریبی رشتہ دار کو گرفتار کرلیا ہے۔

 سکیورٹی ذرائع کے مطابق صوبہ الانبار کے علاقہ النخیب سے ابو بکر بغدادی کے قریبی رشتہ دار عبد ملاجی عکیل کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ امریکہ نے حال ہی میں ابوبکر بغدادی کی گرفتاری کے لئے 25 ملین ڈالر مقرر کئے ہیں۔

واضح رہے کہ سعودی ریالوں اور امریکی و اسرائیلی ہتھیاروں سے لیس نام نہاد اسلامی حکومت کے نام پر عراق و شام میں داعش نے قتل و غارت گری کی وہ مثالیں قائم کیں جن کی تاریخ نہیں ملتی۔ لاکھوں بے گناہوں کو صرف اس لیے قتل کردیا گیا کہ وہ اس وہابی اور تکفیری نام نہاد خلافت میں شامل نہیں ہونا چاہتے تھے۔اور اس کے خود ساختہ خلیفہ ابوبکرالبغدادین نے چند دن مین عراق و شام پر قبضے کا اعلان کیا تھا مگر ان ملکوں کی عوام اور فوج نے انہیں عبرتناک شکست سے دوچار کیا جس کے بعد سے یہ خلیفہ منظر سے غائب ہے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  پنجاب میں داعش کی موجودگی واضح ہونے لگی ہے اور مسلسل پنجاب سے داعشیوں کی گرفتاریاں ہونے لگیں لاہور سے مزید دو داعشی گرفتار۔

تفصیلات کے مطابق دنیا بھر میں خوف کی علامت سمجھی جانیوالی تنظیم داعش نے لاہور پولیس میں بھی اپنے پنجے گاڑھنے شروع کر دیئے ہیں۔ قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی گجر پورہ میں کارروائی، فائرنگ کے تبادلہ کے بعد داعش سے تعلق رکھنے والے 2 مبینہ دہشتگرد گرفتار کر لئے گئے۔ ایک دہشتگرد لاہور پولیس میں فرنٹ ڈیسک پر ملازمت کر رہا تھا۔ قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی جانب سے چند روز قبل گجر پورہ کے علاقے چائنہ سکیم میں کارروائی کی گئی، جس دوران دہشت گردوں کے گھر سے دو خودکش جیکٹس، ہینڈ گرنیڈ اور اسلحہ بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔

کارروائی کے دوران گھر میں موجود لاہور پولیس کے اہلکار امجد فردوس اور اس کے بھائی شاہد کو گرفتار کیا گیا جبکہ انکا تیسرا بھائی شہزاد رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چھتیں پھلانگتا ہوا فرار ہوگیا۔ قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ شہزاد کا بہنوئی سعید داعش کیلئے کام کرتا تھا اور وہ پہلے ہی مارا جا چکا ہے جبکہ شہزاد کا ایک بھائی شاہد گھر میں ویب آپریٹر کا کام کرتا تھا اور وہیں سے اس نے داعش میں شمولیت اختیار کی۔ گرفتار ملزمان کو تفشیش کیلئے نامعلوم مقام پر منتقل کرکے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

واضح رہے کہ پنجاب سے داعش میں شامل ہونے والوں کی گرفتاری کےیہ مسلسل واقعات ان تمام ذمہ داروں کے بیانات کی تردید کرتی ہے جو ملک میں داعش کی موجودگی سے انکار کرتے آئے ہیں۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) ارنا کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان احمد طارق آرین نے کہا ہے کہ یہ داعشی دہشت گرد ننگرہار کے علاقے آچین میں کی جانے والی کارروائی میں ہلاک ہوئے۔ننگرہار کے گورنر ہاؤس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں ایک کمانڈر بھی شامل ہے۔افغانستان کے صوبے ننگرہار سمیت مختلف علاقوں میں حال ہی میں دہشت گردانہ حملوں میں تیزی آئی ہے جس پر افغان عوام کی شدید برہمی پائی جاتی ہے۔ افغانستان میں بیشتر دہشت گردانہ حملوں اور بم دھماکوں کی ذمہ داری داعش دہشت گرد گروہ ہی قبول کرتا ہے۔یہ ایسی حالت میں ہے کہ افغانستان میں امریکہ اور غیر ملکی فوجی، دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کی غرض سے اس ملک میں تعینات ہیں جبکہ افغانستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) سانا کی رپورٹ کے مطابق دہشت گردوں کی جانب سے کئے جانے والے اس کیمیائی حملے میں کم از کم چوبیس افراد بری طرح سے متاثر ہوئے ہیں۔شام کے الاخباریہ ٹی وی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زہریلی گیس کے نتیجے میں متاثر ہونے والے ان افراد کو اسپتال منتقل کر دیا گیا۔دہشت گرد اس سے قبل بھی شام کے مختلف علاقوں منجملہ حلب، خان شیخون اور غوطہ شرقی پر کیمیائی حملے کر چکے ہیں جبکہ ایک سازش کے تحت ان حملوں کا ذمہ دار دمشق کی حکومت کو قرار دیا گیا تھا تاکہ شام کے خلاف فوجی کارروائی کا جواز فراہم کیا جا سکے۔بیشتر ماہرین کا کہنا ہے کہ شام پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا الزام رائے عامہ کو گمراہ اور حقائق کو تبدیل کرنے کی کوشش ہے اور مخالفین، دہشت گردوں کے مقابلے میں شامی فوج کی کامیابیوں کے مقابلے میں بالکل بے بس ہو چکے ہیں۔واضح رہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو شام میں دہشت گردوں کی شکست پر گہری تشویش لاحق ہے۔