شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)ہالینڈ کی پولیس نے یوٹریکٹ میں ٹرام میں فائرنگ کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔ ٹرام میں فائرنگ کے واقعے میں کم از کم تین افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے تھے۔یوٹریکٹ کے پولیس سربراہ راب وان بری نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ گرفتارکیے جانے والے شخص کو کہاں رکھا گیا ہے۔ڈچ پولیس ایک 37 سالہ ترک شہری غوگمن طانش کو تلاش کر رہی تھی۔ہالینڈ کی انسداد دہشتگردی پولیس نے کہا ہے کہ بظاہر یہ دہشگردی کا واقع ہے۔اس سے پہلے پولیس نے کہا تھا کہ حملہ آور ایک سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں جنھیں پولیس ڈھونڈنے کی کوشش کررہی ہے۔

ٹرام میں فائرنگ کرنے والا شخص واردات کے بعد کار میں بیٹھ کر جائے وقوعہ سے سےفرار ہو گیا تھا۔اس واقعے کے بعد یو ٹریکٹ میں تمام ٹرامزسروسز کو معطل کر دیا گیا اور سکولوں سے کہا گیا کہ وہ اپنے دروازے بند رکھیں۔ٹرام میں فائرنگ کا یہ واقع مقامی وقت کے مطابق پونے گیارہ بجے (جی ایم ٹی 10:40) رونما ہوا۔ڈچ انسداد دہشتگردی پولیس کے رابطہ کارپیٹر یاپ البرسبرگ نے کہا تھا کہ یہ ممکن ہے کہ حملہ آور ایک سے زیادہ ہوں۔ہالینڈ میں خطرے کا درجہ سب سے انتہائی بلند سطح تک بڑھا دیا گیا ہے اور ایئرپورٹ اور مساجد کے حفاظت کےلیے پیرا ملٹری پولیس تعینات کر دی گئی ۔اطلاعات کے مطابق مسلح پولیس جائے وقوع کے قریبی علاقے اوکتوبرپلین چوک کے قریب کے ایک گھر میں گھسنے کی تیاری کر رہی تھی ۔پولیس نے ٹرام سٹیشن کے نزدیکی علاقے کو گھیرے میں لے کر لوگوں سے اپیل کی ہے وہ اس علاقے کی طرف نہ جائیں تاکہ ایمرجنسی سروسز اپنا کام کر سکیں۔مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ڈچ انسداد دہشگردی کے رابطہ کار نے ایمرجنسی اجلاس طلب کر لیا ہے۔وزیر اعظم مارخ رتے نے کہا ہے کہ اس حملے سے ہمارا ملک لرزگیا ہے، پولیس اور استغاثہ اصل حقائق جاننےکی کوشش کر رہے ہیں۔نیدرلینڈ کی وزیر اعظم نے کہا کہ ابھی تک جو کچھ معلوم ہوا ہے وہ یہ ایک شخص نے ٹرام میں بیٹھے ہوئے لوگوں پر فائرنگ کی ہے۔

سکیورٹی سروسز نے یوٹریکٹ یونیورسٹی میڈیکل سینٹر سے کہا ہے کہ وہ زخمیوں کے علاج کے لیے ایک ایمرجنسی وارڈ مختص کریں۔ایک عینی شاہد نے کہا ہے کہ حملہ آور اندھا دھند فائرنگ کر رہا تھا۔ایک اور عینی شاہد نے ڈچ سرکاری نشریاتی ادارے این او ایس کو بتایا ہے کہ اس نے ایک زخمی عورت کو دیکھا ہے جس کے ہاتھ اور کپڑے خون آلود تھے اور اس نے عورت کو اپنی کار لا کر مدد کی۔ عینی شاہد نے بتایا کہ جب پولیس موقع پر پہنچی تو زخمی عورت بے ہوش تھی۔ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ اس واقعے میں کتنے لوگ زخمی ہوئے ہیں اور ان میں سے کتنے شدید زخمی ہیں۔اوٹریجٹ میں تمام ٹریمزسروسز کو بند معطل کر دیا گیا ہے اور سکولوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے دروازے بند رکھیں۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو اپنی صدارتی مہم سے لے اب تک اپنے مسلمان مخالف اور نسل پرستانہ متنازع بیانات کے حوالے سے معروف ہیں، نیوزی لینڈ کی مساجد میں ہونے والی دہشت گردی پر بھی تعصب کا اظہار کرنے سے باز نہ آئے۔نیوزی لینڈ کی مساجد میں ہونے والے دہشت گردی کے حملے میں 49 افراد جاں بحق ہوگئے تھے جس پر امریکی صدر نے ردِ عمل دیتے ہوئے ہمدردی یا تعزیت کا کوئی بھی لفظ کہنے کے بجائے صرف مسلمان مخالف ویب سائٹ بریٹ بارٹ کی اسٹوری کا لنک شیئر کیا جس میں حملہ آور کے حق میں متنازع باتیں درج تھیں۔

مختلف مواقع پر ٹوئٹ کرنے والے امریکی صدر نے دہشت گردی کے حملے کے 10 گھنٹے گزر جانے کے بعد نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کو فون کیا اور گفتگو کر کے متاثرین سے تعزیت اور ہمدردی کی۔اور انہوں نے نیوزی لینڈ کو پیش کش کرتے ہوئے ضرورت پڑنے پر ہر قسم کی امداد فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی۔بعد ازاں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کرائسٹ چرچ میں ہونے والے واقعے سے دنیا کو نسل پرستی سے لاحق خطرات کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں لگتا کہ اس سے کوئی خطرہ ہے۔انہوں نے ایک مرتبہ پھر سفید فام روش اختیار کرتے ہوئے حملہ آور کے حوالے سے نرم موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے خیال میں یہ چند افراد کا گروہ ہے جو کچھ مسائل کا شکار ہیں‘۔واضح رہے کہ بریٹ بارٹ اپنی مسلمان مخالف اور دائیں بازو کی انتہا پسندانہ اور جانبدار کوریج کے حوالے سے معروف ہے۔نیوزی لینڈ ہیرالڈ نے لکھا صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جو لنک شیئر کیا اس میں امریکی خبررساں ادارے سے معلومات لے کر حملے کے حوالے سے کچھ انتہائی جارحانہ اور تضحیک آمیز باتیں درج تھیں۔حالانکہ امریکی صدر نے کسی خاص اسٹوری کی جانب اشارہ نہیں کیا تھا لیکن ناقدین نے انہیں ایک انتہا پسندانہ ویب سائٹ کا لنک شیئر کرنے پر آڑے ہاتھوں لیا، جو اس سے قبل مسلمانوں کے حوالے سے کی گئی تضحیک آمیز ٹوئٹ پر تنازع کا شکار ہوئی تھی۔ناقدین نے بریٹ کے اسلام مخالف ٹوئٹ کا اسکرین شاٹ کے ساتھ ٹرمپ کے ٹوئٹ پر سوال اٹھایا کہ آخر امریکی صدر کو یہ لنک شیئر کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔خیال رہے کہ بریٹ بارٹ کو اس کے سابق چیئرمین نے بذات خود قوم پرستانہ تحریک کا پلیٹ فارم قرار دیا تھا۔اس ضمن میں واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار برائن کلاس کا کہنا تھا کہ ’ٹرمپ حملے پر باوقار ردِ عمل دے سکتے تھے یا کسی حملے پر کسی دوسری ویب سائٹ کا لنک شیئر کرتے لیکن انہوں نے بریٹ بارٹ کا انتخاب کیا‘۔خیال رہے کہ مساجد میں ہونے والے اس حملے کو نیوزی لینڈ کی وزیراعظم دہشت گردی قرار دے چکی تھیں اس کے باوجود مغربی اداروں نے اسے دہشت گرد حملہ نہیں لکھا جس پر سوشل میڈیا صارفین خاصے برہم نظر آئے تھے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹرمحمد فیصل نے نیوزی لینڈ میں ہونے والی مسجد میں فائرنگ کی شدید مذمت کی ہے۔

 ترجمان دفترخارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان نے نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی مسجد میں ہونے والی دہشتگردی کی مذمت کی ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ دہشت گرد حملے کی تفصیلات معلوم کی جارہی ہیں جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن نقصانات کے جائزہ کیلئے مقامی حکام سے رابطے میں ہے۔

واضح رہے کہ نیوزی لینڈ کے شہرکرائسٹ چرچ کی مسجد النورمیں مسلح شخص کی فائرنگ سے 9 افراد جاں بحق اورمتعدد زخمی ہو گئے جب کہ دورہ پر موجود بنگلادیشی کرکٹ ٹیم بھی اس حملے میں بال بال بچ گئی۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) پاکستان میں کالعدم جماعتوں کی تعداد 70 سے تجاوز کرچکی ہے۔ یہ جماعتیں کیسے بنیں، کس نے بنائیں اور کیوں بنائیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جو پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے۔ اس جرم کی پاداش میں سابق جنرل ضیاء الحق کو آج تک گالیاں دی جاتی ہیں اور قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ جنرل ضیاء الحق نے جہاں ان جہادی اور شدت پسند تنظیموں کی بنیاد رکھی، وہیں پیپلز پارٹی کے بانی رہنما ذوالفقار علی بھٹو کیساتھ کیا جانیوالا سلوک بھی ان کے ماتھے کا کلنک بن گیا اور یہ کلنک بھی تاریخ قیامت تک اپنے دامن میں محفوظ رکھے گی۔ یہ الگ بات ہے کہ "مظلوم" بھٹو کی اولاد آج "ظالم" ضیاء کی اولاد کیساتھ ہاتھ ملا چکی ہے۔ دوسرے لفظوں میں ان کے اس "اتحاد" سے نظریئے کی موت واقع ہوچکی ہے۔ اب ایسے لگتا ہے کہ پاکستان میں نظریاتی سیاست کی بجائے "نظر آتی" سیاست ہی ہو رہی ہے۔ جس میں سب سے مقدم صرف اور صرف اقتدار کا حصول اور ذاتی مفاد ہے۔

جہاں تک جہادی تنظیموں کی بات ہے تو انہیں افغانستان میں جہاد کیلئے امریکہ کی ایماء پر ہی "قائم" کیا گیا اور ان کا اسٹرکچر اس انداز میں بنایا گیا کہ محاذ پر لڑنے والی جماعت اور ہوگی، اس کی پشت پر اسے مالی امداد دینے والی جماعت اور ہوگی اور ان دونوں جماعتوں کیلئے افرادی قوت پیدا کرنیوالی جماعت اور ہوگی۔ یوں تین سے چار مربوط جماعتوں کا اسٹرکچر تیار کیا گیا تھا۔ یہ حقیقت اب عیاں ہوچکی ہے کہ ریاست (ضیاءالحق) نے ہی ان جہادی تنظیموں کو وجود بخشا، اس جرم کا سارا ملبہ ضیاءالحق پر بھی نہیں ڈالا جا سکتا، بلکہ ضیاءالحق بھی ایک مہرہ تھا، اس کی پشت پر امریکہ بہادر تھا۔ یعنی پاکستان کو دہشتگردی اور شدت پسند کا یہ "تحفہ" براہ راست امریکہ نے فراہم کیا تھا۔ امریکی خوشنودی کیلئے ان جہادی تنظیموں کو اس لئے بھی بخوشی ہماری ریاست نے قبول کیا کہ افغانستان سے فارغ ہوکر ان کے ذریعے ہی ہم بھارت سے کشمیر بھی واپس لے لیں گے۔ لیکن فرد واحد (ضیاءالحق) کے اس فیصلے نے افغان محاذ کی بجائے پورے ملک کو ہی میدانِ جنگ میں تبدیل کر دیا۔

راقم کو یقین ہے کہ اگر اس وقت پارلیمنٹ ہوتی تو وہ کبھی امریکہ کے اس فیصلے کو تسلیم نہ کرتی۔ مگر چونکہ فیصلے کا اختیار فردِ واحد کے پاس تھا، اسے اس کی عقل کے مطابق جو درست لگا، اُس نے وہی کیا۔ اس فردِ واحد کی نالائقی کا خمیازہ پوری پاکستانی قوم آج تک بھگت رہی ہے۔ جہادیوں کے اسٹرکچر کے مطابق ان کی جو معاون تنظیمیں بنائیں گئی تھیں، انہیں بھی مالی مدد ریاست (ضیاءالحق) کی جانب سے مل رہی تھی۔ ضیاء کے بعد بھی یہ سلسلہ منقطع نہیں ہوا، بلکہ بعد میں آنیوالی حکومت نے بھی اس معاہدے کو زندہ رکھا، ظاہر ہے امریکہ بہادر کا یہ معاہدہ ضیاء الحق کیساتھ نہیں، ریاست کیساتھ تھا، تو جو بھی حکمران بعد میں آیا، اس نے اس سلسلے کو قائم و دائم رکھا۔ جہادیوں کو افرادی قوت فراہم کرنے کیلئے جو اسٹرکچر مرتب کیا گیا، اس نے سرکاری پیسے سے دو کام کئے۔ ایک تو نوجوان کو جہاد کی جانب مائل کیا، انہیں تربیت دلوائی اور نام نہاد جہاد پر بھیج دیا، دوسرا کام انہوں نے یہ کیا کہ اسی سرکاری امداد سے مخالف فرقے کیخلاف تکفیریت کا سلسلہ شروع کر دیا۔

امریکہ کی اس سلسلہ میں بھی انہیں مکمل حمایت حاصل تھی۔ امریکہ کی جانب سے ریاست اور ان جہادیوں کو یہ کہا گیا کہ روس کے بعد خطے میں سب سے بڑا خطرہ انقلابِ اسلامی ایران ہے۔ ایران کے اسلامی انقلاب کو "شیعی انقلاب" کہہ کر پاکستان کے سنیوں اور دیوبندیوں کو ڈرایا گیا۔ یہ کہا گیا کہ ایران اپنا انقلاب پوری دنیا میں پھیلانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ اس کیلئے دلیل کے طور پر امام خمینی کے اس نعرے کی غلط تاویل پیش کی گئی "لاشرقیہ، لاغربیہ الاسلامیہ، الاسلامیہ"، یہاں یہ کہا گیا کہ امام خمینی شرق و غرب میں "اپنا اسلام" پھیلانا چاہتے ہیں۔ پاکستان کے دیوبندیوں کو بالخصوص اس انقلاب سے خوفزدہ کیا گیا۔ (بالکل ایسے ہی جیسے اب امریکہ جھوٹی رپورٹس بنا کر سعودی عرب کو ایران سے خوفزدہ کرکے اپنا اسلحہ فروخت کر رہا ہے)۔ پاکستان میں امریکہ نے انتہائی چالاکی کیساتھ یہ کھیل کھیلا اور پاکستان میں ان تمام افراد کو نشانہ بنایا گیا، جو انقلاب اسلامی ایران کی حمایت کر رہے تھے۔ اس میں بالخصوص ملت جعفریہ پاکستان نشانہ بنی۔ تکفیریت کو فروغ ملا اور ملک ٹارگٹ کلنگ کی ایسی لپیٹ میں آیا کہ یہ سلسلہ آج 25 سال بعد بھی جاری ہے۔

امریکی ڈالروں سے یہ تکفیری اور جہادی اتنے مضبوط ہوئے کہ جہاں انہوں نے مدارس کی شکل میں بڑی بڑی عمارتیں کھڑی کر لیں، وہیں انہوں نے عوامی حلقوں میں بھی اپنا اثر و رسوخ بنا لیا۔ بعض مبصرین کے مطابق انہوں نے عوام میں یہ اثر و رسوخ اپنے کردار کے باعث نہیں بنایا بلکہ عوام نے خوفزدہ ہوکر ان کا ساتھ دیا کہ اگر ان کا ساتھ نہ دیا تو کہیں انہیں بھی قتل نہ کر دیا جائے۔ عوام تو عوام، سیاسی جماعتیں بھی ان کے "شر" سے محفوظ نہ رہیں۔ ہر دور میں ہر جماعت نے ان کالعدم جماعتوں سے فائدہ اٹھایا۔ پیپلز پارٹی کی قیادت ہمیشہ سے ان کیخلاف بولتی رہی، مگر اسی پیپلز پارٹی کے متعدد ارکان اسمبلی ان کالعدم جماعتوں کی حمایت اور سرپرستی کرتے رہے اور ان کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا۔ پیپلز پارٹی کے بعد پاکستان کی بڑی سیاسی جماعت (ن) لیگ ہے۔ نون لیگ کی قیادت نے بھی ان سے مراسم رکھے اور سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ کے کالعدم سپاہ صحابہ کیساتھ رابطے کسی سے ڈھکے چھپے نہیں، بلکہ آج بھی گوگل پر وہ تصاویر موجود ہیں، جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ رانا ثناء اللہ تکفیریوں کے سربراہ کے ساتھ ریلی میں شریک ہیں۔ رانا ثناء اللہ کیساتھ ساتھ چودھری نثار علی خان نے بھی ان تکفیریوں کیساتھ اپنے تعلقات بہتر رکھنے کیلئے اہم کردار ادا کیا۔ یوں نون لیگ نے بھی ان سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔

سپاہ صحابہ نے تو پیپلز پارٹی سمیت ان سے فائدہ اٹھانے والے تمام سیاستدانوں کی فہرست بھی جاری کی تھی، جو آج بھی ریکارڈ کا حصہ ہے۔ پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کے بعد پاکستان کی تیسری بڑی سیاسی قوت تحریک انصاف ہے۔ جو اس وقت پاکستان میں حکومت کر رہی ہے۔ اسے بھی تخت تک پہنچنے کیلئے کالعدم سپاہ صحابہ ہی کا سہارا لینا پڑا اور انہوں نے بھی کالعدم سپاہ صحابہ کے امیدوار مولانا معاویہ اعظم طارق کیساتھ ہاتھ ملا لیا۔ اس مقصد کیلئے گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کو ٹاسک دیا گیا، جنہوں نے ان سے ملاقات کرکے ان کی حمایت حاصل کی۔ اس حمایت کے بدلے میں کیا کچھ دیا گیا، وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ اب بلاول بھٹو نے مطالبہ کیا ہے کہ تحریک انصاف کے 3 وزراء کے بھی کالعدم جماعتوں کیساتھ تعلقات ہیں، عمران خان ان وزراء کو بھی فارغ کریں۔ ان وزراء میں وزیر خزانہ اسد عمر، وزیر ریلوے شیخ رشید اور وزیر داخلہ شہریار آفریدی کا نام لیا جا رہا ہے۔ پلوامہ حملے کے بعد بھارت کی جانب سے الزامات اور عالمی دباو کے بعد موجودہ حکومت نے کالعدم تنظیموں کیخلاف ایک بار پھر کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ متعدد مدارس اور املاک کو حکومتی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔

کچھ حلقے ماضی کے تجربات کی روشنی میں ابھی بھی کالعدم تنظیموں کیخلاف اس کارروائی کو محض "ڈرامہ" قرار دے رہے ہیں۔ ان حلقوں کو کہنا ہے کہ ماضی میں بھی ایسی کارروائیاں کی گئیں، مگر چونکہ حکومتوں کے اپنے مفادات ان لوگوں سے وابستہ ہیں، اس لئے ان کیخلاف ہونیوالی کارروائی حقیقی نہیں ہوتی، کیونکہ اس حمام میں تمام سیاسی جماعتیں ننگی ہیں۔ اب بظاہر تو یہ لگ رہا ہے کہ ان کالعدم تنظیموں کیخلاف حقیقی کارروائی ہوگی، کیونکہ پہلی بار حکومت اور ریاستی ادارے ایک پیج پر ہیں۔ ماضی میں اگر نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل نہیں ہوا تو اس کی ایک بنیادی وجہ حکومت اور فوج کا الگ الگ رخ بھی تھا، مگر یہ پہلی بار ہوا ہے کہ حکومت اور فوج ایک پیج پر ہیں اور دونوں یکسو ہیں کہ کالعدم تنظیموں کیخلاف کارروائی ہر صورت میں کی جائے گی اور نیشنل ایکشن پلان پر بھی اس کی روح کے مطابق عمل ہوگا۔ امید پر دنیا قائم ہے، جہاں اتنے تجربات دیکھے ہیں، چلیں اب بھی دیکھ لیتے ہیں کہ موجودہ حکومت نیشنل ایکشن پلان کا یہ اونٹ کس کروٹ بٹھاتی ہے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) تحریر: عرفان علی

جیسا کہ معلوم ہے کہ بادشاہت سعودیہ العربیہ عمران خان کی انصافین حکومت کے قیام کے ساتھ ہی یکایک الجمہوریہ الاسلامیہ الباکستان میں نئی سرمایہ کاری پر آمادہ ہوچکی ہے۔ وزیراعظم کے سعودی دورے کے بعد سعودی عرب کے سفارتکار اور پاکستانی وزارت خارجہ کے حکام نے چین و پاکستان اقتصادی راہداری سی پیک میں شامل تین منصوبوں کے لئے تین نامہ ہائے اتفاق پر دستخط کر دیئے ہیں، جس کے تحت گرانٹ فراہم کی جائے گی۔ آج بروز اتوار سعودی عرب کا اعلیٰ سطحی وفد برائے سرمایہ کاری پاکستان پہنچ رہا ہے۔ سرکاری ذرایع کا دعویٰ ہے کہ اس وفد میں سعودی وزراء برائے خزانہ، پٹرولیم و توانائی بھی شامل ہوں گے۔ عمران حکومت نے سی پیک منصوبے میں بادشاہت سعودی عربیہ کو پاکستان اور چین کے بعد تیسرے بڑے شراکت دار کی حیثیت دینے کا اعلان کیا ہے۔ سعودی اعلیٰ سطحی وفد چھ روزہ دورے میں صوبہ بلوچستان کے ضلع چاغی میں ریکوڈک اور ضلع گوادرمیں بندرگاہ بھی جائے گا۔ پاکستان کے مایع شدہ قدری گیس پر چلنے والے دو بجلی گھروں کی نجکاری اور فاسفیٹ پر مشتمل فرٹیلائزر کی پاکستان کو فروخت بھی اس وفد کے ایجنڈا میں شامل ہے۔ سعودی وفد گوادر میں تیل ریفائنری کی تعمیر کا جائزہ بھی لے گا۔ امکان یہ ہے کہ سعودی عرب پانچ اہم منصوبوں کے رسمی معاہدوں کے لئے ابتدائی نوعیت کی کاغذی کارروائی یعنی مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کرے گا۔ ان میں سب سے اہم سعودی شمولیت ریکو ڈک منصوبے میں ہوگی۔

ایک جانب سعودی عرب کینیڈا تعلقات کی حالیہ کشیدگی ہے تو دوسری طرف سعودی بادشاہت اور اسکے اتحادیوں کے ایران کے خلاف اقدامات ہیں، جس کے برے اثرات پورے خطہ خلیج فارس و مشرق وسطیٰ میں آشکار ہیں۔ سعودیہ کی ایران کے ساتھ کشیدگی پر پاکستان حکومت بیانات کی حد تک ایران کے خلاف نہیں ہے، لیکن اقدامات دیکھیں تو ایران کے ساتھ تعلقات کی سطح یہ سمجھنے کے لئے کافی ہے کہ حکمران اس صف بندی میں کس کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ایران سے آنے والی گیس کے لئے پاکستان میں پائپ لائن بچھانے کا کام جو زرداری دور حکومت کے آخری ایام میں حتمی طور طے پایا گیا تھا، نواز کی پانچ سالہ حکومت کے دوران بھی اس پر ایک انچ کا کام بھی نہیں ہوسکا۔ یمن کے ایشو پر بھی پاکستان حکومت کا موقف اس حقیقت کا اظہار ہے کہ پاکستان یمن پر جارحیت کا ارتکاب کرنے والے، جنگ مسلط کرنے والے سعودی عرب کے ساتھ ہے، کیونکہ یمن کی جانب سے سعودی عرب کے حملوں کا جب جب جواب دیا جاتا ہے تو دفتر خارجہ کے بیانات میں یمن کے حوثیوں کی مذمت کی جاتی ہے اور بھارت سے زیادہ سنگدل سعودی افوج کے حملوں میں مظلوم یمنی عوام کے قتل عام، بچوں اور خواتین پر ڈھائے گئے ظلم و ستم، انکی مساجد، اسپتال، تعلیمی اداروں اور بازاروں پر برسائے گئے سعودی و اتحادی بمباری پر سعودی عرب کی مذمت نہیں کی جاتی۔

اگر نواز شریف ہی سعودی پٹھو تھا تو یہ ساری عنایات جس پر سعودی بادشاہت عمران خان کے دورے میں راضی ہوئی، اس پر پہلے کیوں آمادہ نہیں ہوئی؟ عمران کی انصافین حکومت کے دور میں پاکستان میں سرمایہ کاری میں بہت زیادہ دلچسپی اور پھر اس میں بھی صوبہ بلوچستان پر اس سخاوت کا سبب کیا ہے؟ ایران و افغانستان کی سرحدوں سے نزدیک ریکو ڈک منصوبے اور گوادر کی بندرگاہ میں سرمایہ کاری، یہ سب کچھ کیا صرف دو ملکی معاملہ ہے؟ یا پھر اسے عالمی سیاسی اور خاص طور خطے کے موجودہ حالات و صف بندیوں کے وسیع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔؟ اس تحریر میں فوکس ریکوڈک منصوبے پر رکھتے ہوئے جائزہ لیں گے کہ سعودی عرب سرمایہ کاری کی آڑ میں ایران کے خلاف کسی نئی گریٹ گیم کے لئے تو وارد نہیں ہوا ہے۔ ریکوڈک منصوبہ گذشتہ ربع صدی سے جاری ہے۔ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع چاغی میں ایران و افغانستان کی سرحدی پٹی پر سونے اور تانبے سمیت قیمتی دھاتوں کے ذخائر ہیں اور ریکوڈک منصوبے کے تحت غیر ملکی کمپنیوں کو ٹھیکے دیئے جاتے رہے ہیں کہ وہ کان کنی کے ذریعے ان کی حتمی موجودگی و دیگر تفصیلات کی تصدیق کریں اور اسے نکالنے میں مدد و معاونت فراہم کریں۔ غالباً پہلا ٹھیکہ ایک امریکی کمپنی ہی کو دیا گیا تھا، شاید کمپنی کا امریکی ہونا ہی ٹھیکہ دینے کی وجہ ہو!

چاغی کی پہاڑیوں میں دھاتوں کی کھوج لگانے کے لئے بی ایچ پی منرلز نام کی امریکی کمپنی اور بلوچستان حکومت کے مابین اس ضمن میں مشترکہ منصوبہ طے پایا تھا۔ قطع نظر اس کے کہ وہ معاہدہ سراسر غیر عادلانہ اور مالی نقصانات پر مشتمل تھا، پاکستان کے مرکزی یا صوبائی قوانین کے بھی خلاف تھا، کیونکہ امریکی کمپنی پاکستان میں رجسٹرڈ نہیں تھی۔ حتیٰ کہ بلوچستان ترقیاتی ادارے جس نے یہ معاہدہ کیا تھا، اسے بھی قانونی اختیارات حاصل نہیں تھے۔ اس وقت بلوچستان میں نگران حکومت تھی اور نگران وزیراعلیٰ میر نصیر مینگل تھے۔، بلوچستان اسمبلی کا وجود نہیں تھا۔ ابتدائی معاہدے میں امریکی کمپنی کو صرف کلومیٹر کے رقبے میں کھوج لگانے کی اجازت دی گئی تھی، لیکن بتدریج امریکی کمپنی نے چالاکی سے ایک ہزار کلومیٹر حدود تک متوقع تلاش کے نام پر آئندہ کے لئے دس لائسنس بھی مانگ لئے تھے۔ سال 2000ء میں امریکی بی ایچ پی نے آسٹریلیا کی مائننگ کمپنی منکور ریسورسز کو اس منصوبے میں ساتھ ملا کر ٹیتھیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی) بنا لی۔ اس دوران چلی کی اینٹوفیگسٹا جو برطانیہ میں رجسٹرڈ کی گئی تھی اور کینیڈا کی بیرک گولڈ کمپنی نے مل کر برابر کی حصے داری کی بنیاد پر نئی کمپنی ایٹاکیما بنا لی اور اسے بھی برطانیہ ہی میں رجسٹرڈ کروایا گیا۔

سال 2006ء میں آسٹریلوی اسٹاک ایکسچینج کے ذریعے اس نئی کمپنی نے ٹیتھیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی) کے سارے حصص خرید لئے اور اس کمپنی ٹی سی سی نے شروع میں پاکستان میں ایک مقامی سطح کا دفتر قائم کیا جبکہ مرکزی دفتر آسٹریلیا میں تھا۔ اسی سال حکومت بلوچستان اور اس بی ایچ پی کے مابین معاہدے میں ترمیم کرکے بی ایچ پی کی جگہ ٹی سی سی کا نام دوسرے فریق کی حیثیت سے لکھا گیا، جس نے ٹی سی سی پاکستان کے نام سے ذیلی کمپنی پاکستان میں رجسٹرڈ کروالی تھی اور بعد ازاں ٹی سی سی اس اصل معاہدے میں ترامیم کرواتی رہی، جو معاہدے کی اصل روح کے خلاف تھیں۔ اس کمپنی نے لابنگ کرکے اور ایک قانونی فرم کے ذریعے تیار کردہ ضوابط کو پرویز مشرف کے زیر سایہ کام کرنے والے سیٹ اپ میں بی ایم آر 2000ء ضوابط کو نافذ کروا دیا، یعنی بلوچستان معدنی رعایتی ضوابط 1970ء (بی ایم آر) کو ہی تبدیل کروا دیا۔ اس کے تحت ٹی سی سی کو وہ وہ رعایتیں دی گئیں کہ پاکستان میں کسی کمپنی کو ایسی رعایتیں حاصل نہیں تھیں۔ پرویز مشرف کے مرکزی سطح کے جرنیلی سیٹ اپ میں میر نصیر مینگل وزیر مملکت برائے پٹرولیم و قدرتی ذخائر تھے۔ کالعدم دہشت گرد گروہ لشکر جھنگوی کا بدنام زمانہ شفیق مینگل انہی میر نصیر خان مینگل کا بیٹا ہے۔

قانون کے تحت اس کمپنی (ٹی سی سی) پر لازم تھا کہ ان علاقوں میں اپنی کان کنی کی سرگرمیوں کی عمل پذیری کی رپورٹس باقاعدگی کے ساتھ حکومت کو فراہم کرے، لیکن اس کمپنی نے اس اصول کی بھی خلاف ورزیاں کیں، اس کے باوجود اس کمپنی کو دیئے گئے لائسنس کی سال 2009ء تک تجدید کی جاتی رہی۔ سال 2002ء میں ٹی سی سی نے اپنے سارے لائسنسز میں سے صرف ایک ای ایل پانچ کو برقرار رکھا، جو 13ہزار مربع کلومیٹر علاقے میں کھوج لگانے کی اجازت پر مبنی تھا۔ دیگر تمام لائسنسز سے دستبردار ہوگئی، کیونکہ تقریباً یک و نیم عشرے میں یہ معلوم کیا جاچکا تھا کہ سونے اور تانبے کے ذخائر کس علاقے میں ہیں۔ 2007ء میں ٹی سی سی نے کان کنی کرنے کے ایک معاہدے کا مسودہ تیار کیا، جس کے تحت حکومت کو معدنی آپریشنز کی مد میں محض دو فیصد رائلٹی دینے کا نکتہ درج تھا، جبکہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ شرح چھ فیصد تھی۔ اس میں بی ایم آر ضوابط 2000ء کے تحت طے شدہ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ٹی سی سی نے دوسرے اور تیسرے درجے کی پروسیسنگ سہولیات (تنصیبات) سے بھی انکار کر دیا۔ بعد ازاں پی پی پی کی مخلوط صوبائی حکومت کے وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی نے 2009ء میں ٹی سی سی سے معاہدہ ختم کر دیا۔ ٹی سی سی نے 2018ء میں بین الاقوامی ثالثی اداروں میں پاکستان کے خلاف مقدمہ درج کر دیا تھا۔ پی پی پی حکومت نے اس منصوبے میں شامل ایک علاقے تنجیل میں چھ کلومیٹر کے رقبے میں ذخائر کی دریافت، جس کی الگ سے درخواست ٹی سی سی نے دی تھی، اس کام کو اپنے طور انجام دینے کا فیصلہ کیا اور نیوکلیئر سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک مند کو اسکا مسؤل قرار دیا، لیکن نواز لیگی حکومت میں اس کو وقت اور پیسے کا زیاں سمجھ کر ختم کر دیا گیا۔

ریکوڈک منصوبے میں جو معدنی ذخائر ہیں، ایک اندازے کے مطابق اس میں تقریباً ساڑھے 24 ارب کلو گرام تانبا اور 11 لاکھ 62 ہزار 330 کلو گرام سے کچھ زیادہ سونا شامل ہیں۔ 2013ء میں ہی بین الاقوامی ثالث ادارے اور بین الاقوامی چیمبر کی یہ رائے آچکی تھی کہ ٹی سی سی جس نے پاکستان حکومت پر مقدمہ کر رکھا ہے، اس کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ بلوچستان حکومت کو اس منصوبے پر کام سے روک سکے۔ 2015ء میں اس وقت وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے ٹی سی سی کے معاملے میں آؤٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ کی کوششوں کے ساتھ ریکو ڈک پر نئے سرے سے ٹھیکہ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ لیکن تاحال یہ معاملہ اٹکا ہوا ہے۔ ٹی سی سی نے پاکستان پر 11.43 بلین ڈالر کا ہرجانہ دائر کر رکھا ہے، جبکہ ماضی میں پاکستانی حکام یہ کہہ چکے ہیں کہ ٹی سی سی کا دعویٰ مبالغہ آرائی پر مبنی ہے اور اس میں اکسٹھ فیصد کمی کی جا سکتی ہے۔ اگر اس رائے کو درست مان لیں، تب بھی ہرجانے کی کم ترین رقم 4.45 بلین ڈالر سے بھی کچھ زائد رقم بنتی ہے۔ سال 2009ء میں اس وقت جب زرداری حکمران تھے، تب ٹی سی سی اور چینی کمپنی ایم ایم سی کے ساتھ ایک مشترکہ اجلاس منعقد کیا گیا تھا، جس میں دونوں کمپنیوں نے اپنی تجاویز پیش کی تھیں۔ ٹی سی سی نے اعتراض کر دیا کہ ٹھیکہ اس کے پاس ہے تو چینی کمپنی کو قانونی حق نہیں کہ وہ ریکوڈک پر کوئی رائے دے۔ ٹی سی سی کے بعض پاکستانی ملازمین کا خیال ہے کہ اس کے لائسنس کے تحت ایک علاقے میں وسیع ذخائر کو یہ کمپنی حکومت سے چھپا رہی تھی۔

چینی میٹالرجیکل گروپ کارپوریشن یعنی ایم سی سی کے بارے میں افغانستان میں اسکے ناکام معاہدے کی مثال دی جاتی ہے کہ وہاں اس نے تین بلین ڈالر مالیت کے ایک معاہدے میں طے کئے گئے اپنے حصے کے کام کی تکمیل نہ کرکے اسکی خلاف ورزی کی اور معاہدے پر نظرثانی کی خواستگار ہے۔ یہی کمپنی پاکستان میں ایران کے ساتھ ملحق تفتان سرحدی علاقے سے نزدیک سینڈک منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ ریکوڈک اس جگہ سے تقریباً 143 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ ٹی سی سی کے ساتھ کئے گئے 23 جولائی 1993ء کے اس معاہدے کو سپریم کورٹ نے 7 جنوری 2013ء کو کالعدم قرار دے کر منسوخ کر دیا تھا۔ کینیڈا کی کمپنی کی آدھی ملکیت کینیڈا کی کمپنی کے پاس ہے اور اس کمپنی نے 11.43 بلین ڈالر کا ہرجانہ جو بقول پاکستانی حکام کم ہوسکتا ہے (اسکے باجود تقریباً پونے پانچ ارب ڈالر کی ادائیگی کرنا ہوگی)۔ دوسری طرف چین یہاں سرمایہ کاری کا خواہشمند تھا، لیکن اچانک سعودی عرب کو درمیان میں لایا گیا ہے، جو نہ صرف کینیڈا بلکہ ایران پر بھی سخت ناراض ہے۔

سعودی عرب امریکی بلاک کا جزو لاینفک ہے، جس نے رسمی طور چین کو حریف قرار دیا ہے۔ سعودی عرب اور امریکہ نے ماضی میں افغان جہاد کے غلط عنوان کو استعمال کرکے جو اقدامات کئے، اس کے نتیجے میں پوری دنیا میں اسلام و مسلمین کو بدنام کرنے والے انسانیت دشمن، اسلام دشمن انتہاء پسند و دہشت گرد گروہوں کا ظہور ہوا اور آج تک پاکستان اسکی لپیٹ میں ہے۔ افغانستان میں سعودی و امریکی نام نہاد جہاد بھی’’امریکی گریٹ گیم‘‘ ہی تھا، جس کے تحت پاکستان میں ایک مخصوس مسلک کے مدارس و مساجد بنائے گئے اور پرانے مدارس کی بھی سرپرستی کی گئی۔ یعنی جنگ بظاہر سوویت یونین کے خلاف تھی، لیکن انہی امریکی و سعودی فنڈڈ مدارس نے جو نظریہ پیش کیا، اسکے تحت پاکستان میں مخالف مسلمان مسالک کو کافر و مشرک قرار دے کر ان پر مسلح حملوں کے لئے فضاء سازگار کی گئی۔ مساجد و امام بارگاہوں، مزارات و اجتماعات میں فائرنگ اور بم دھماکے و خودکش دھماکے کروائے جاتے رہے۔ پیٹروڈالرز (ریال و درھم) کے ذریعے ’’امریکی گریٹ گیم‘‘ میں پاکستان کو جہنم بنا دیا گیا۔ حکومتی سطح پر کہا جاتا ہے کہ پچاس ہزار پاکستانی شہید ہوچکے ہیں اور پاکستان کو 120 بلین ڈالر کا مالی نقصان بھی ہوا ہے۔

یہ سارے نقصانات امریکی و سعودی ’’سرمایہ کاری‘‘ کے سبب ہی ہوئے ہیں۔ پچھلے دنوں سعودی سفارتخانے نے سعودی عرب کے قومی دن کی مناسبت سے جو دعوت اسلام آباد میں کی تھی، اس میں ایک کالعدم دہشت گرد گروہ کا سرغنہ بھی مدعو تھا۔ اس دعوت میں عمران خان کی انصافین حکومت کے وفاقی وزیر مذہبی امور نے اس سرغنہ کو جسے تحریک انصاف ہی کی خاتون سیاستدان نے ذلت آمیز شکست سے دوچار کیا تھا، اسی شکست خوردہ شخص کو گلے لگایا اور خوب قہقہے لگا کر بات چیت بھی کی۔ اسی کالعدم گروہ کے واحد رکن پنجاب اسمبلی بھی تحریک انصاف کی پنجاب حکومت کے اتحادی ہیں اور پی ٹی آئی نے وزیراعلیٰ منتخب کرانے کے لئے ایک ووٹ اسی کالعدم گروہ کے رکن سے بھی لیا ہے۔ سعودی حکومت جانب سے کالعدم تکفیری دہشت گرد گروہ سے اس دوستانے کو اس لئے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ یہ پاکستان میں مسلمانوں کے لئے کافر کافر کے نعرے لگا کر اپنے بانی حق نواز جھنگوی کے لشکر سے تعلق کو ثابت کرتا ہے اور پاکستان کے آئین و قانون کے تحت یہ نظریہ بھی جرم ہے، جبکہ خود سعودی عرب کے اپنے قوانین کے تحت بھی یہ گروہ مجرم ہیں، لیکن مخصوص اسلام دشمن مفادات کی وجہ سے اس گروہ کو ساتھ ملا کر رکھا ہوا ہے۔

ماضی کے نام نہاد افغان جہاد کے نام پر امریکی و سعودی سرمایہ کاری کے تاحال جاری نقصانات اور دہشت گردوں سے مذکورہ تعلق، صرف یہ دو مثالیں سمجھداروں کے سمجھنے کے لئے کافی ہیں کہ پاکستان کو ان سے مالی و جانی نقصانات کے سوا کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے اور نقصانات بھی ایسے جو آئندہ عشروں تک جاری رہتے ہیں۔ امریکی سعودی گریٹ گیم سے دور رہنا پاکستان کے مفاد میں ہے۔ اس میں شرکت سے نہ تو کشمیر نے آزاد ہونا ہے اور نہ ہی بھارت کے مقابلے میں آپکو کسی بھی محاذ پر کوئی ٹھوس کامیابی ملنی ہے۔ امیج تو ویسے ہی اتنا خراب ہے کہ تاحال بسیار کوششوں کے باوجود دہشت گردی سے پاکستان کو نتھی کرنے کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ جب امریکہ نے بھارت کو شراکت دار اور اتحادی بنا لیا ہے تو امریکہ کے وزیر خارجہ برائے مسلم بلاک یعنی سعودی عرب کی سرمایہ کاری بھی اسی سمت میں ایک قدم سمجھا جانا چاہیئے۔ بات تو تب تھی کہ ایران سے آنے والی گیس کے لئے پاکستان میں پائپ لائن کی تعمیر میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پاکستان کی مدد کرتے۔ گریٹ گیم یہ ہے کہ وہ مدد کرنے کے بہانے مدد لینے آرہے ہیں۔ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ صدام نے ایران سے جنگ لڑی اور بالآخر امریکہ کو عراق میں گھس کر زبردستی ایران کا پڑوسی بننے کی راہ ہموار کی۔ طالبان نے افغانستان کی سرزمین سے ایران کے خلاف غیر اعلانیہ جنگ لڑی اور نتیجہ یہ نکلا کہ امریکہ یہاں بھی ایران کا زبردستی کا پڑوسی بن گیا۔ ریکوڈک منصوبے سے پہلے امریکی کمپنی کی صورت میں امریکہ آیا، لیکن قسمت کہ امریکی کمپنی کینیڈا و چلی کی کمپنیوں نے خرید لی۔ اب سعودی عرب ایران کا زبردستی کا پڑوسی بننے آرہا ہے، لیکن یہاں چین بھی ساتھ ہی ہے۔ کیا تاریخ خود کو دہرانے جا رہی ہے؟!

تحریر: ثاقب اکبر

16 جنوری 2018ء کا دن پاکستان کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت سے یاد رکھا جائے گا، جب ایوان صدر میں 1829 علماء اور اہل دانش کے دستخطوں اور تائید سے ایک فتویٰ جاری کیا گیا، جس میں دہشت گردی، انتہا پسندی، تکفیریت اور خارجیت کی تمام جدید و قدیم شکلوں کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ اس فتویٰ کی تائید و توثیق پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے جید علمائے کرام، اسلامی علوم کے ماہرین اور ماضی میں شدت پسندی میں شہرت رکھنے والے بعض راہنماﺅں نے بھی کی ہے۔ پاکستان میں دینی مدارس کی پانچ باقاعدہ تنظیمیں ہیں، جن میں وفاق المدارس العربیہ(دیوبندی)، تنظیم المدارس پاکستان(بریلوی)، رابطة المدارس العربیہ(جماعت اسلامی)، وفاق المدارس سلفیہ(اہل حدیث) اور وفاق المدارس شیعہ شامل ہیں۔ ان کے علاوہ بھی بعض اہم مدارس ہیں کہ جو بظاہر اپنے آپ کو کسی وفاق کا حصہ نہیں کہتے، اس مذکورہ فتویٰ جسے ”پیغام پاکستان“ کا نام دیا گیا ہے، کی تائید ان سب کی قیادت نے کی ہے۔ یقیناً یہ ایک بہت بڑا اور تاریخی اجماع ہے، جس نے پاکستان کے روشن مستقبل کی ایک نوید سنائی ہے۔

”پیغام پاکستان“ کو یقینی طور پر قرارداد مقاصد کی عظیم الشان دستاویز کے بعد ایک بڑی دستاویز قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس میں قرارداد مقاصد کی ہی ایک مرتبہ پھر تائید و توثیق نہیں کی گئی بلکہ اس کی ضروری وضاحت بھی کر دی گئی ہے۔ خاص طور پر ان حالات میں جبکہ عالم اسلام میں موجود بڑے دہشت گرد گروہ جو اپنے آپ کو اسلامی خلافت کے احیاء کا علمبردار قرار دیتے ہیں، نے پاکستانی ریاست اور اس کے آئین کو غیر اسلامی قرار دے رکھا ہے اور جو پاکستان کی ریاست اور افواج کے خلاف مسلح جدوجہد کر رہے ہیں۔ اس پیغام میں جہاد کو اسلامی ریاست کی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے اور خودکش حملوں کو اسلامی تعلیمات کے منافی گردانا گیا ہے۔ ”پیغام پاکستان“ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ: "مختلف مسلکوں کا نظریاتی اختلاف ایک حقیقت ہے، جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا، لیکن اس اختلاف کو علمی اور نظریاتی حدود میں رکھنا واجب ہے۔ اس سلسلے میں انبیاء، صحابہ کرامؓ، ازواج مطہراتؓ اور اہل بیتؑ کے تقدس کو ملحوظ رکھنا ایک فریضہ ہے اور آپس میں ایک دوسرے کے خلاف سب و شتم، اشتعال انگیزی اور نفرت پھیلانے کا کوئی جواز نہیں اور اس اختلاف کی بنا پر قتل و غارت گری، اپنے نظریات کو دوسروں پر جبر کے ذریعے مسلط کرنا، ایک دوسرے کی جان کے درپے ہونا بالکل حرام ہے۔"

متفقہ فتویٰ کے اہم نکات میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کو آئینی اور دستوری لحاظ سے ایک اسلامی ریاست قرار دیا گیا ہے۔ فتویٰ میں کہا گیا ہے کہ: "ہم متفقہ طور پر اسلام اور برداشت کے نام پر انتہا پسندانہ سوچ اور شدت پسندی کو مسترد کرتے ہیں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ فرقہ وارنہ منافرت، مسلح فرقہ وارانہ تصادم اور طاقت کے بل پر اپنے نظریات کو دوسروں پر مسلط کرنے کی روش شریعت کے احکام کے منافی اور فساد فی الارض ہے۔ پاکستان میں نفاذ شریعت کے نام پر طاقت کا استعمال ریاست کے خلاف مسلح محاذ آرائی، تخریب و فساد اور دہشت گردی کی تمام صورتیں، جن کا ہمارے ملک کو سامنا ہے، اسلامی شریعت کی رو سے ممنوع اور قطعی حرام اور بغاوت کے زمرے میں آتی ہیں۔" جہاد کی تشریح کرتے ہوئے اس میں کہا گیا ہے کہ: "فقہاء کے خیال میں کوئی بھی جنگ حکمران کی اجازت کے بغیر شروع نہیں کی جاسکتی، اسلام میں قتال اور جنگ کی اجازت دینے کی مجاز صرف اور صرف حکومتِ وقت ہے۔" فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے متفقہ اعلامیہ کے زیر عنوان یہ بھی کہا گیا ہے کہ: "ہر مکتب فکر اور مسلک کو مثبت اور معقول انداز میں اپنے عقائد اور فقہی نظریات کی دعوت و تبلیغ کی شریعت اور قانون کی رو سے جازت ہے، لیکن اسلامی تعلیمات اور ملکی قانون کے مطابق کسی بھی شخص، مسلک یا ادارے کے خلاف اہانت، نفرت انگیزی اور اتہام بازی پر مبنی تحریر و تقریر کی اجازت نہیں۔"

”پیغام پاکستان“ میں پاکستان میں بسنے والے غیر مسلم شہریوں کے حقوق کو بھی نظر انداز نہیں کیا گیا، چنانچہ متفقہ اعلامیے کی ایک شق میں کہا گیا ہے: "پاکستان میں رہنے والے پابند آئین و قانون تمام غیر مسلم شہریوں کو جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ اور ملکی سہولتوں سے فائدہ اٹھانے کے وہی شہری حقوق حاصل ہیں، جو پابند آئین و قانون مسلمانوں کو حاصل ہیں، نیز یہ کہ پاکستان کے غیر مسلم شہریوں کو اپنی عبادت گاہوں میں اور اپنے تہواروں کے موقع پر اپنے اپنے مذاہب کے مطابق عبادت کرنے اور اپنے مذہب پر عمل کرنے کا پورا پورا حق حاصل ہے۔" اس موقع پر بڑی تعداد میں علمائے کرام موجود تھے اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ مختلف مسالک کی مذہبی تنظیموں کے اہم راہنما بھی محفل کا حصہ تھے۔ بعض ایسے افراد اور راہنما بھی مجلس میں دکھائی دیئے، جو ماضی میں تکفیریت کے علمبردار رہے ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ صبح کا بھولا شام کو گھر واپس آجائے تو اسے بھولا ہوا نہیں کہتے، لیکن ضروری ہے کہ اسے دل سے ماضی میں اپنے بھٹک جانے کا احساس ہو اور وہ آئندہ ایسی کسی حرکت کا ارتکاب نہ کرے، جو امت میں افتراق اور پاکستان میں انتشار کا باعث بنے۔

مختلف مسالک کے راہنماﺅں کے ذمہ ہے کہ اب وہ ”پیغام پاکستان“ کی روح کے مطابق اپنے اپنے دائرہ اثر میں موجود افراد کو اس پر عمل کرنے کی دعوت دیں۔ ہمارے علم میں ہے کہ تمام مسالک کے اندر ایسے پیشہ ور خطیب اور منبر پر آنے والے افراد موجود ہیں، جو نفرتوں کا کاروبار کرتے ہیں، آگ لگاتے ہیں اور اپنی جیب گرم کرکے چلتے بنتے ہیں۔ ایسے افراد کا راستہ روکنا ہوگا۔ وہ علماء قابل قدر ہیں، جو اس سلسلے میں پہلے ہی جدوجہد کر رہے ہیں اور ہم ان سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنی عظیم ذمہ داری کو آئندہ بھی بڑھ چڑھ کر ادا کرتے رہیں گے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ غیر جانبدار رہتے ہوئے اس پیغام کو عام بھی کریں اور اس کی خلاف ورزی کا ارتکاب کرنے والوں کو دائرہ قانون میں بھی لائیں۔ اس امر پر افسوس کا اظہار کئے بغیر چارہ نہیں کہ ماضی میں کسی ایک مسلک سے وابستہ افراد کی شدت پسندی پر اقدام کرتے ہوئے خواہ مخواہ دوسرے مسلک کے افراد کو بھی اذیتوں سے گزارا گیا ہے اور ان کی تنظیموں پر پابندیاں عائد کی گئیں ہیں، تاکہ ”توازن“ کا تاثر ابھر سکے، حقیقت یہ ہے کہ اس طرح سے ”توازن“ وجود میں نہیں آتا بلکہ عدم توازن پیدا ہوتا ہے، گناہ گار اور بے گناہ کو برابر قرار دے کر معاشرہ میں توازن کیسے پیدا کیا جاسکتا ہے! ایوان صدر میں صدر مملکت ممنون حسین کے علاوہ بعض وفاقی وزراء اور نمائندہ علماء نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمن نے بڑی فکر انگیز بات کی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں دو سال سے علمائے کرام نے دہشت گردوں کو تکفیری اور خارجی کہنا شروع کیا ہے۔ یہی کام عشرہ، ڈیڑھ عشرہ پہلے کیا ہوتا تو آج حالات ایسے نہ ہوتے۔ خیر دیر آید درست آید۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم امریکا سے ہمیشہ مخلص رہے ہم نے امریکا سے کوئی دھوکا نہیں کیا بلکہ امریکا نے ہمیشہ ہمارے ساتھ دھوکا کیا۔

نجی نیوز چینل کے پروگرام میں سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم امریکا کو سہولیات مہیا کر رہے ہیں تو یہ سروسز ہیں اور ان کے پیسے ہیں، امریکا نے آدھے سے زیادہ پیسے سروسز مہیا کرنے پر دیے، دہشت گردی کی جنگ میں بتائے گئے ٹارگٹ ٹھیک ہیں لیکن ترجیح ہماری ہوگی، اسٹریٹجی میں ہم امریکا کے ساتھ ہیں لیکن کون سے ٹارگٹ کو کب مارنا ہے اس میں فرق ہے۔

سابق صدر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم 100 فیصد امریکا کے ساتھ تھے اور مخلص تھے، ہمیں دہشت گردی سے لڑنا تھا میرے 5 برس کے دوران امریکا سے کوئی دھوکا نہیں ہوا بلکہ امریکا نے ہمیشہ ہم سے دھوکا کیا اس لیے امریکا کو یہ بتانا چاہیے کہ ہم نے کوئی دھوکا نہیں دیا۔

افغان جنگ میں پاکستان کی شمولیت کے سوال پر جنرل(ر) مشرف نے کہا کہ نائن الیون کے بعد سال 2002ء میں جو کچھ ہوا آپ اس وقت کے ماحول میں جائیں اس وقت چین سمیت پوری دنیا امریکا کے حق میں تھی کہ وہ طالبان کے خلاف کارروائی کرے اس لیے میں نے 2002ء میں جو فیصلہ کیا وہ بالکل درست فیصلہ تھا۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)شیعہ علماء کونسل سندھ کے صدر علامہ سید ناظر عباس تقوی نے کہا ہے کہ مملکت پاکستان کی ترقی کیلئے تمام مذہبی، سیاسی، ثقافتی ہم آہنگ جماعتیں ملکر قومیت کے بت توڑ دیں، ہمیں یک جان ہو کر دہشتگردی کے کینسر کے خلاف اعلان جنگ کرنا ہوگا، ہمارا عہد ہے کہ خون کے آخری قطرے تک ہم پاک فوج کے شانہ بشانہ اس وطن کا دفاع کریں گے۔ اپنے ایک بیان میں علامہ ناظر تقوی نے کہا کہ پاکستان لاکھوں بہادر لوگوں کی جانی و مالی قربانیوں کا حاصل ہے، بدقسمتی سے پاکستان اور اسلام دشمن عناصر نظریہ پاکستان پر ضرب لگانے کیلئے عالمی طاقتوں کے ایماء پر پاکستان کو گروہی و لسانی گروہ بندیوں میں اس حد تک تقسیم کر رہا ہے کہ نظریہ پاکستان کی روح دھندلا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد سے اب تک پاکستان نے بہت سی مصیبتں برداشت کیں، یہ سفر اتنا ہی مشکل اور کٹھن تھا کہ جتنا پاکستان بننے میں تھا، اس سرزمین کے باوفا بیٹے اس پاک سرزمین کے دفاع کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ دیتے آئے ہیں اور دیتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شیعہ سنی عوام اس ملک کا حقیقی نظریاتی و جغرافیائی دفاع ہیں، یہی وجہ ہے کہ بدترین دہشتگردی اور ظلم و ستم کے باوجود دشمن کامیاب نہیں ہو سکا، کیونکہ اس پاک وطن کی مٹی میں شہیدوں کا لہو شامل ہے، اگر کوئی اس ملک سے غداری کرنا بھی چاہے، تو شہدوں کا لہو اسکی حفاطت کرتا ہے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) ضلعی انتظامیہ گلگت کے سربراہ سمیع اللہ فاروق نے اپنے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے کہا کہدہشتگرد گلگت میں شیعہ کمیونٹی پر حملہ کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ دہشتگردوں کا مطلوبہ ہدف شیعہ علماء، رہنماء اور سرکردہ افراد ہوسکتے ہیں۔ لہٰذا شیعہ رہنماوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی حفاظت کے پیش نظر غیر ضروری نقل و حرکت اور سرگرمیوں سے گریز کریں۔ ضلعی انتظامیہ کے سربراہ نے سکیورٹی تھریڈ پر مبنی نوٹیفکیشن گلگت کے نامور عالم دین علامہ آغا راحت حسین الحسینی، اسلامی تحریک کے صوبائی رہنماء شیخ مرزا علی، سابق صوبائی وزیر دیدار علی، مجلس وحدت مسلمین کے ترجمان الیاس صدیقی، انجمن امامیہ گلگت کے صدر شیر علی اور فقیر شاہ کے نام جاری کر دیا ہے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق آغا راحت حسین الحسینی نے اسے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دھمکی قرار دیا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ آغا راحت حسینی نے اس مراسلے کو ٹیکس کے خلاف جاری عوامی پرامن کوشش کو سبوتاژ کرنے کی حکومتی کوشش قرار دی ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ گلگت میں امن و امان قائم ہے اور کسی قسم کا خطرہ نہیں۔ اگر کسی بھی شخصیت کے ساتھ ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو تمام تر ذمہ داری حفیظ الرحمان پر عائد ہوگی۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) شیعہ علماء کونسل سندھ کے صدرعلامہ سید ناظرعباس تقوی کا کہنا ہے کہ کئی عرصے ملک بھر میں امن و امان کی بہت اچھی صورتحال رہی لیکن 12 ربیع الاول کو خیرپور اور پشاور میں ایک بار پھر دہشتگردوں نے اپنی موجودگی کا احساس دلایا اور کئی قیمتی جانیں ان حملوں میں ضائع ہوئیں جس کی ہم بھرپور مزمت کرتے ہیں۔

اپنے مذمتی بیان میں علامہ ناظر تقوی نے کہا کہ ملک بھر میں دہشتگردی کے واقعات کا ایک بار پھر سے تسلسل کے ساتھ ہونا حکومت اور سیکیورٹی فورسز کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، دہشتگرد جب چاہتے ہیں اپنے مزموم عزائم میں کامیاب ہو جاتے ہیں، وطن عزیز اس وقت بہت سے بحران کا شکار ہے اور اس طرح کے واقعات سے ہمارا ملک اور بھی بہت سے بحران کا شکار ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ جب تک ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ نہیں کیا جاتا، اس وقت تک ملک میں جمہوری استحکام آسکتا ہے نہ ہی معاشی طور پر ملک مستحکم ہو سکتا ہے، اگر حکومت اور سیکیورٹی فورسز کے ادارے ملک بھر سے دہشتگردی کا خاتمہ چاہتے ہیں تو ملک بھر میں دہشتگردوں کی آخری کمین گاہوں تک آپریشن کرنا ہوگا۔ علامہ ناظر تقوی نے کہا کہ ہم حکومت اورقانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فی الفور دہشتگردی کے ان واقعات میں ملوث دہشتگردوں اور اُن کے سہولت کاروں کو گرفتار کرکے تختہ دار پر لٹکائیں، تاکہ ملک میں امن و امان کی فضاء بہتر ہو سکے۔