شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)   انٹرپول نے محمد بن سلمان کے مشیر خاص سعود القحطانی سمیت 20 افراد کے ریڈ وارنٹ جاری کردیےہیں۔

تفصیلات کے مطابق انٹرپول نے سعودی صحافی جمال خاشوگجی کے قتل میں ملوث سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے مشیر خاص سعود القحطانی اور ترکی میں سعودی عرب کے سابق قونصل جنرل محمد العتیبی سمیت 20 افراد کے ریڈ وارنٹ جاری کردیے ہیں۔ انٹرپول کے مطابق یہ افراد سعودی جمال خاشوگجی کے قتل اور ان کے جسم کے ٹکڑے کرنے میں ملوث ہیں۔

انٹرپول کا کہنا ہے کہ یہ افراد دنیا میں جس بھی ملک میں ہوں انہیں گرفتار کرلیا جائے اور عدالت کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ مجرموں کو سزا دی جاسکے۔ ان تمام 20 افراد کا تعلق سعودی عرب سے ہے۔ اس سے قبل سعودی عرب نےکہا تھا کہ جمال خاشوگجی کے قتل میں ملوث افراد کو سعودی عرب میں ہی اندرونی طور پر سزا دی جائے گی۔

یادرہے کہ سعودی حکومت ابتدائی دنوں میں جمال خاشوگجی کے قتل سے انکاری رہی تھی لیکن بعد میں ترکی کی حکومت کی جانب سے ثبوت پیش کیے جانے اور تحقیقات کے مطالبے پر سعودی عرب نے جمال خاشوگجی کے قتل کو تسلیم کرلیا تھا لیکن اس کے مرکزی کردار محمد بن سلمان کو سزا دینے کے بجائے ان کے مشیر اور دیگر ذمہ داروں کو اس قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔

واضح رہے کہ قتل کے مجرم سعود القحطانی کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا لیکن زرائع کے مطابق وہ اب بھی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں اور انہیں مختلف مواقع پر مشورے دیتے رہتے ہیں۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) یمن کی عوامی رضا فورس اورفوج نے سعودی عرب کے جنوبی علاقے نجران میں کارروائی کرتے ہوئے12 سعودی اور آلہ کار فوجیوں کو ہلاک کردیا ہے۔دوسری جانب یمنی فورسز نے سعودی عرب کے مجرمانہ ہوائی حملوں کے جواب میں سعودی عرب کے فوجی ٹھکانوں پر 3 بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا اس حملے میں نجران میں السدیس اڈے کو بھی نشانہ بنایا ۔ یمنی فورسز نے کل بھی 5 میزائل سعودی عرب کے فوجی ٹھکانے پر داغے تھے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)مغربی یمن کے صوبے حجہ میں واقع علاقے کشر پر سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں کی وحشیانہ بمباری میں کم از کم تیس عام شہری شہید ہوئے ہیں۔السمیرہ ٹی وی کی ویب سائٹ کے مطابق یمنی خواتین نے بدھ کے روز اس مظاہرے میں سعودی اتحاد کے خلاف شدید نعرے لگائے اور یمن پر سعودی اتحاد کے حملوں اور جارحیت کی شدید مذمت کی۔مظاہرے کے اختتام پر جاری کئے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ یمنی عوام، قتل، محاصرے، بھوک مری اور ظلم و زیادتی سے کسی بھی طرح کا کوئی خوف کھائے بغیر اپنی استقامت جاری رکھیں گے۔دوسری جانب یمن کی اعلی انقلابی کمیٹی کے سربراہ نے یمنی عوام کے خلاف سعودی اتحاد کی جارحیت کی حمایت و پشتپناہی اور جنگ میں شمولیت کی روک تھام کے لئے امریکی سینیٹ کی قرارداد کی منظوری کو یمنی عوام کی استقامت کا نتیجہ قرار دیا۔امریکی سینیٹ نے کہ جہاں ریپبلکنز کی اکثریت بھی ہے، بدھ کے روز چھیالیس ووٹوں کے مقابلے میں چوّن ووٹوں سے ایک قرارداد کی منظوری دی ہے جس میں سعودی اتحاد کے لئے امریکہ کی حمایت ختم کئے جانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔یمن کی اعلی انقلابی کمیٹی کے سربراہ محمد علی الحوثی نے ٹوئٹ کیا ہے کہ یمنی عوام کے خلاف سعودی اتحاد کی جنگ کی حمایت روکنے کے لئے امریکی سینیٹ کا فیصلہ، یمن کے خلاف سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی جنگ و جارحیت کی حمایت میں امریکی صدر ٹرمپ کی پالیسی پر اس کی مخالفت کی نشاندہی کرتی ہے۔انھوں نے کہا کہ یمنی عوام نے سعودی اتحاد کی تمام تر جنگ و جارحیت اور ظلم و تشدد کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ہر شعبے میں استقامت کا مظاہرہ کیا۔یمن کے خلاف جنگ کے آغاز سے ہی امریکہ نے مختلف طرح سے خاص طور سے ہتھیاروں کی فراہمی کے ذریعے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ان کے دیگر اتحادی ملکوں کی بھرپور مدد و حمایت کی ہے اور یمنی عوام کا قتل عام اور جنگ و جارحیت جاری رکھنے کے لئے اس کی یہ حمایت بدستور جاری بھی رہی ہے جس کی بنا پر یمنی عوام کے خلاف وحشیانہ جرائم میں امریکہ بھی ملوث رہا ہے۔واضح رہے کہ یمنی عوام کے خلاف سعودی اتحاد کی وحشیانہ جارحیت اور مظالم کے دوران اب تک سولہ ہزار سے زائد یمنی عام شہری شہید اور دسیوں ہزار دیگر زخمی نیز لاکھوں بے گھر ہوئے ہیں۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) سانا کی رپورٹ کے مطابق شامی فورسز نے صوبہ درعا کے اطراف میں وہابی دہشت گردوں کے ٹھکانے سے بڑی مقدار میں اسرائیلی ہتھیار برآمد کئے ہیں۔ شامی فوج کا کہنا ہے کہ ملک کو وہابی دہشت گردوں کے ناپاک وجود سے پاک کرنے کے لئے فوجی آّریشن جاری ہے۔شامی فوج نے صوبہ درعا کے مضافات میں ایک کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانے سے بڑی مقدار میں اسرائیلی ہتھیار برآمد کئے ہیں۔عرب ذرائع کے مطابق اسلامی ممالک میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لئے اسرائیل دہشت گردوں کو بھاری مقدار میں ہتھیار فراہم کررہا ہے اور اسے اس سلسلے میں سعودی عرب اور امریکہ کی حمایت بھی حاصل ہے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) پاکستان میں کالعدم جماعتوں کی تعداد 70 سے تجاوز کرچکی ہے۔ یہ جماعتیں کیسے بنیں، کس نے بنائیں اور کیوں بنائیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جو پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے۔ اس جرم کی پاداش میں سابق جنرل ضیاء الحق کو آج تک گالیاں دی جاتی ہیں اور قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ جنرل ضیاء الحق نے جہاں ان جہادی اور شدت پسند تنظیموں کی بنیاد رکھی، وہیں پیپلز پارٹی کے بانی رہنما ذوالفقار علی بھٹو کیساتھ کیا جانیوالا سلوک بھی ان کے ماتھے کا کلنک بن گیا اور یہ کلنک بھی تاریخ قیامت تک اپنے دامن میں محفوظ رکھے گی۔ یہ الگ بات ہے کہ "مظلوم" بھٹو کی اولاد آج "ظالم" ضیاء کی اولاد کیساتھ ہاتھ ملا چکی ہے۔ دوسرے لفظوں میں ان کے اس "اتحاد" سے نظریئے کی موت واقع ہوچکی ہے۔ اب ایسے لگتا ہے کہ پاکستان میں نظریاتی سیاست کی بجائے "نظر آتی" سیاست ہی ہو رہی ہے۔ جس میں سب سے مقدم صرف اور صرف اقتدار کا حصول اور ذاتی مفاد ہے۔

جہاں تک جہادی تنظیموں کی بات ہے تو انہیں افغانستان میں جہاد کیلئے امریکہ کی ایماء پر ہی "قائم" کیا گیا اور ان کا اسٹرکچر اس انداز میں بنایا گیا کہ محاذ پر لڑنے والی جماعت اور ہوگی، اس کی پشت پر اسے مالی امداد دینے والی جماعت اور ہوگی اور ان دونوں جماعتوں کیلئے افرادی قوت پیدا کرنیوالی جماعت اور ہوگی۔ یوں تین سے چار مربوط جماعتوں کا اسٹرکچر تیار کیا گیا تھا۔ یہ حقیقت اب عیاں ہوچکی ہے کہ ریاست (ضیاءالحق) نے ہی ان جہادی تنظیموں کو وجود بخشا، اس جرم کا سارا ملبہ ضیاءالحق پر بھی نہیں ڈالا جا سکتا، بلکہ ضیاءالحق بھی ایک مہرہ تھا، اس کی پشت پر امریکہ بہادر تھا۔ یعنی پاکستان کو دہشتگردی اور شدت پسند کا یہ "تحفہ" براہ راست امریکہ نے فراہم کیا تھا۔ امریکی خوشنودی کیلئے ان جہادی تنظیموں کو اس لئے بھی بخوشی ہماری ریاست نے قبول کیا کہ افغانستان سے فارغ ہوکر ان کے ذریعے ہی ہم بھارت سے کشمیر بھی واپس لے لیں گے۔ لیکن فرد واحد (ضیاءالحق) کے اس فیصلے نے افغان محاذ کی بجائے پورے ملک کو ہی میدانِ جنگ میں تبدیل کر دیا۔

راقم کو یقین ہے کہ اگر اس وقت پارلیمنٹ ہوتی تو وہ کبھی امریکہ کے اس فیصلے کو تسلیم نہ کرتی۔ مگر چونکہ فیصلے کا اختیار فردِ واحد کے پاس تھا، اسے اس کی عقل کے مطابق جو درست لگا، اُس نے وہی کیا۔ اس فردِ واحد کی نالائقی کا خمیازہ پوری پاکستانی قوم آج تک بھگت رہی ہے۔ جہادیوں کے اسٹرکچر کے مطابق ان کی جو معاون تنظیمیں بنائیں گئی تھیں، انہیں بھی مالی مدد ریاست (ضیاءالحق) کی جانب سے مل رہی تھی۔ ضیاء کے بعد بھی یہ سلسلہ منقطع نہیں ہوا، بلکہ بعد میں آنیوالی حکومت نے بھی اس معاہدے کو زندہ رکھا، ظاہر ہے امریکہ بہادر کا یہ معاہدہ ضیاء الحق کیساتھ نہیں، ریاست کیساتھ تھا، تو جو بھی حکمران بعد میں آیا، اس نے اس سلسلے کو قائم و دائم رکھا۔ جہادیوں کو افرادی قوت فراہم کرنے کیلئے جو اسٹرکچر مرتب کیا گیا، اس نے سرکاری پیسے سے دو کام کئے۔ ایک تو نوجوان کو جہاد کی جانب مائل کیا، انہیں تربیت دلوائی اور نام نہاد جہاد پر بھیج دیا، دوسرا کام انہوں نے یہ کیا کہ اسی سرکاری امداد سے مخالف فرقے کیخلاف تکفیریت کا سلسلہ شروع کر دیا۔

امریکہ کی اس سلسلہ میں بھی انہیں مکمل حمایت حاصل تھی۔ امریکہ کی جانب سے ریاست اور ان جہادیوں کو یہ کہا گیا کہ روس کے بعد خطے میں سب سے بڑا خطرہ انقلابِ اسلامی ایران ہے۔ ایران کے اسلامی انقلاب کو "شیعی انقلاب" کہہ کر پاکستان کے سنیوں اور دیوبندیوں کو ڈرایا گیا۔ یہ کہا گیا کہ ایران اپنا انقلاب پوری دنیا میں پھیلانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ اس کیلئے دلیل کے طور پر امام خمینی کے اس نعرے کی غلط تاویل پیش کی گئی "لاشرقیہ، لاغربیہ الاسلامیہ، الاسلامیہ"، یہاں یہ کہا گیا کہ امام خمینی شرق و غرب میں "اپنا اسلام" پھیلانا چاہتے ہیں۔ پاکستان کے دیوبندیوں کو بالخصوص اس انقلاب سے خوفزدہ کیا گیا۔ (بالکل ایسے ہی جیسے اب امریکہ جھوٹی رپورٹس بنا کر سعودی عرب کو ایران سے خوفزدہ کرکے اپنا اسلحہ فروخت کر رہا ہے)۔ پاکستان میں امریکہ نے انتہائی چالاکی کیساتھ یہ کھیل کھیلا اور پاکستان میں ان تمام افراد کو نشانہ بنایا گیا، جو انقلاب اسلامی ایران کی حمایت کر رہے تھے۔ اس میں بالخصوص ملت جعفریہ پاکستان نشانہ بنی۔ تکفیریت کو فروغ ملا اور ملک ٹارگٹ کلنگ کی ایسی لپیٹ میں آیا کہ یہ سلسلہ آج 25 سال بعد بھی جاری ہے۔

امریکی ڈالروں سے یہ تکفیری اور جہادی اتنے مضبوط ہوئے کہ جہاں انہوں نے مدارس کی شکل میں بڑی بڑی عمارتیں کھڑی کر لیں، وہیں انہوں نے عوامی حلقوں میں بھی اپنا اثر و رسوخ بنا لیا۔ بعض مبصرین کے مطابق انہوں نے عوام میں یہ اثر و رسوخ اپنے کردار کے باعث نہیں بنایا بلکہ عوام نے خوفزدہ ہوکر ان کا ساتھ دیا کہ اگر ان کا ساتھ نہ دیا تو کہیں انہیں بھی قتل نہ کر دیا جائے۔ عوام تو عوام، سیاسی جماعتیں بھی ان کے "شر" سے محفوظ نہ رہیں۔ ہر دور میں ہر جماعت نے ان کالعدم جماعتوں سے فائدہ اٹھایا۔ پیپلز پارٹی کی قیادت ہمیشہ سے ان کیخلاف بولتی رہی، مگر اسی پیپلز پارٹی کے متعدد ارکان اسمبلی ان کالعدم جماعتوں کی حمایت اور سرپرستی کرتے رہے اور ان کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا۔ پیپلز پارٹی کے بعد پاکستان کی بڑی سیاسی جماعت (ن) لیگ ہے۔ نون لیگ کی قیادت نے بھی ان سے مراسم رکھے اور سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ کے کالعدم سپاہ صحابہ کیساتھ رابطے کسی سے ڈھکے چھپے نہیں، بلکہ آج بھی گوگل پر وہ تصاویر موجود ہیں، جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ رانا ثناء اللہ تکفیریوں کے سربراہ کے ساتھ ریلی میں شریک ہیں۔ رانا ثناء اللہ کیساتھ ساتھ چودھری نثار علی خان نے بھی ان تکفیریوں کیساتھ اپنے تعلقات بہتر رکھنے کیلئے اہم کردار ادا کیا۔ یوں نون لیگ نے بھی ان سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔

سپاہ صحابہ نے تو پیپلز پارٹی سمیت ان سے فائدہ اٹھانے والے تمام سیاستدانوں کی فہرست بھی جاری کی تھی، جو آج بھی ریکارڈ کا حصہ ہے۔ پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کے بعد پاکستان کی تیسری بڑی سیاسی قوت تحریک انصاف ہے۔ جو اس وقت پاکستان میں حکومت کر رہی ہے۔ اسے بھی تخت تک پہنچنے کیلئے کالعدم سپاہ صحابہ ہی کا سہارا لینا پڑا اور انہوں نے بھی کالعدم سپاہ صحابہ کے امیدوار مولانا معاویہ اعظم طارق کیساتھ ہاتھ ملا لیا۔ اس مقصد کیلئے گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کو ٹاسک دیا گیا، جنہوں نے ان سے ملاقات کرکے ان کی حمایت حاصل کی۔ اس حمایت کے بدلے میں کیا کچھ دیا گیا، وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ اب بلاول بھٹو نے مطالبہ کیا ہے کہ تحریک انصاف کے 3 وزراء کے بھی کالعدم جماعتوں کیساتھ تعلقات ہیں، عمران خان ان وزراء کو بھی فارغ کریں۔ ان وزراء میں وزیر خزانہ اسد عمر، وزیر ریلوے شیخ رشید اور وزیر داخلہ شہریار آفریدی کا نام لیا جا رہا ہے۔ پلوامہ حملے کے بعد بھارت کی جانب سے الزامات اور عالمی دباو کے بعد موجودہ حکومت نے کالعدم تنظیموں کیخلاف ایک بار پھر کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ متعدد مدارس اور املاک کو حکومتی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔

کچھ حلقے ماضی کے تجربات کی روشنی میں ابھی بھی کالعدم تنظیموں کیخلاف اس کارروائی کو محض "ڈرامہ" قرار دے رہے ہیں۔ ان حلقوں کو کہنا ہے کہ ماضی میں بھی ایسی کارروائیاں کی گئیں، مگر چونکہ حکومتوں کے اپنے مفادات ان لوگوں سے وابستہ ہیں، اس لئے ان کیخلاف ہونیوالی کارروائی حقیقی نہیں ہوتی، کیونکہ اس حمام میں تمام سیاسی جماعتیں ننگی ہیں۔ اب بظاہر تو یہ لگ رہا ہے کہ ان کالعدم تنظیموں کیخلاف حقیقی کارروائی ہوگی، کیونکہ پہلی بار حکومت اور ریاستی ادارے ایک پیج پر ہیں۔ ماضی میں اگر نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل نہیں ہوا تو اس کی ایک بنیادی وجہ حکومت اور فوج کا الگ الگ رخ بھی تھا، مگر یہ پہلی بار ہوا ہے کہ حکومت اور فوج ایک پیج پر ہیں اور دونوں یکسو ہیں کہ کالعدم تنظیموں کیخلاف کارروائی ہر صورت میں کی جائے گی اور نیشنل ایکشن پلان پر بھی اس کی روح کے مطابق عمل ہوگا۔ امید پر دنیا قائم ہے، جہاں اتنے تجربات دیکھے ہیں، چلیں اب بھی دیکھ لیتے ہیں کہ موجودہ حکومت نیشنل ایکشن پلان کا یہ اونٹ کس کروٹ بٹھاتی ہے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) سعودی عرب میں خواتین کے حقوق کے لیے آواز اُٹھانے والی کارکنان پر مقدموں کی وجہ سے ملک کے انسانی حقوق کے ریکارڈ پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔مقدمے میں پیش ہونے والی خواتین میں لجين الھذلول شامل ہیں جو سعودی خواتین کو گاڑی چلانے کا حق دلوانے کی مہم میں پیش پیش رہیں۔ اُنہیں پچھلے سال مئی میں حراست میں لیا گیا۔ان کے خلاف دشمن عناصر کی حمایت کرنے کا الزام شامل ہے جس پر لمبی قید کی سزا مل سکتی ہے۔

اِن خواتین کو رہا کرنے کے مطالبات دنیا بھر سے آ رہے ہیں۔ پچھلے ہفتے 30 سے زیادہ ممالک کی جانب سے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل میں سعودی عرب پر ان خواتین کو حراست میں لینے پر تنقید کی گئی۔استنبول میں سعودی قونصل خانہ میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد سعودی عرب میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مزید توجہ مرکوز ہوگئی ہے۔بدھ کو 10 کے قریب خواتین نے ریاض کی ایک عدالت میں پیش ہونا تھا۔ زیر حراست کارکن الھذلول کے علاوہ عزیزہ ال یوسف، ایمان النجفان اور ہطون الفاسی شامل ہیں۔ صحافیوں اور سفارت کاروں کو عدالتی کارروائی دیکھنے کی اجازت نہیں تھی۔سعودی عرب میں انسانی حقوق کی پامالی کئی دہائیوں سے مسئلہ رہی ہے۔ حکام کی جانب سے شہریوں کو پکڑ لیا جاتا ہے اور وکلا تک رسائی نہیں دی جاتی۔ انہیں یہ تک نہیں بتایا جاتا کہ ان پر الزام کیا ہے۔ پریشان کن بات یہ ہے کہ تفتیش کے دوران ان کے ساتھ زیادتیاں کی جاتی ہیں اور زبردستی اقبال جرم کروا لیا جاتا ہے۔سعودی حکومت کا رویہ ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ وہ تشدد کے تمام الزامات کو رد کر دیتے ہیں اور ایسا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ عالمی تنقید کو ملک کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی قرار دے کر رد کر دیتے ہیں۔سعودی عرب کے سکیورٹی کے بارے میں کچھ خدشات بجا ہیں لیکن حقوق نسواں کی کارکنان جو خواتین کے گاڑی چلانے کی مہم کا حصہ رہی ہیں ان پر مقدمہ ملک کے بارے میں عالمی سطح پر قائم رائے کے لیے دھچکہ ہے۔خواتین کو حراست میں لینے کا سلسلہ پچھلے سال مئی میں ڈرائیونگ پر پابندی اُٹھنے سے ذرا پہلے شروع ہوا۔وکیل استغاثہ کے دفتر نے ان خواتین کے خلاف الزامات کی تفصیلات نہیں بتائیں مگر ان کے مطابق ان کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہیں جو ملک کی سکیورٹی، استحکام اور عوامی اتحاد کے لیے نقصان دہ ہے۔گلف سینٹر فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ ان خواتین کے خلاف مقدمہ شفاف نہیں ہوگا اور وہ ان کی بہبود کے بارے میں سخت فکرمند ہیں۔نومبر میں انسانی حقوق کے اداروں نے رپورٹ کیا تھا کہ چار خواتین نے یہ الزام لگایا کہ تفتیش کاروں نے اُن پر تشدد کیا جس میں بجلی کا کرنٹ، کوڑے مارنا اور جنسی طور پر ہراساں اور حملہ کیا جانا شامل ہے۔ سعودی عرب کے نائب وکیل استغاثہ نے ان الزامات کو جھوٹا قرار دیا۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) جرمنی میں مقیم سعودی عرب کے شاہی خاندان کے فرد شہزادہ خالد بن فرحان السعود نے سعودی عرب کے موجودہ بادشاہی نظام کے خلاف تحریک کا اعلان کر دیا ہے۔
شہزادہ خالد پچھلی ایک دہائی سے خود ساختہ جلا وطنی میں ہیں۔انھوں نے برطانوی اخبار انڈیپینڈنٹ کو ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ بے پناہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ناانصافی کو روکنے کے لیے سعودی عرب میں دستوری بادشاہت کا نفاذ چاہتے ہیں۔ جہاں انتخابات کے ذریعے وزیر اعظم اور کابینہ کی مقرری ہو۔انھوں نے کہا کہ 'سعودی عرب میں ہمیں باقی جمہوریتوں کی طرح نیا نظام چاہیے، (ایسا نظام) جس میں لوگ حکومت کو منتخب کرنے اور نئے سعودی عرب بنانے کا حق رکھتے ہوں۔'انٹرویو میں انھوں نے سمجھایا کہ سعودی عرب میں برطانیہ کی طرح بادشاہت موجود رہے گی، لیکن اصلی طاقت عوام کے پاس ہو گی۔انھوں نے اپنی تنظیم کا نام 'دی فریڈم موومنٹ آف عریبین پیننسولا پیپل' رکھا ہے۔ وہ سعودی عرب سے فرار ہونے والے حکومت کے ناقدین کی مدد بھی کرنا چاہتے ہیں۔شہزادہ خالد نے کہا کہ وہ سعودی عرب کے لیے انسانی حقوق، احتساب اور عدالتی نظام کا وژن رکھتے ہیں لیکن اس وقت وہ آئین اور یورپ میں مقیم سعودیوں کی مدد پر توجہ دینا چاہتے ہیں۔انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کے والد اور ان کی بہن اس وقت سعودی عرب میں گھر میں نظر بند ہیں۔

شہزادہ خالد کون ہیں؟
شہزادہ خالد بن فرحان السعود، سعودی شاہی خاندان کے اس حصے میں شامل ہیں جو موجودہ بادشاہ اور ولی عہد کی مخالفت کرتا ہے۔ وہ سنہ 2013 سے جرمنی میں مقیم ہیں اور کئی سالوں سے اپنے ملک میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔2017 میں انھوں نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ ’میرے خاندان کے چار افراد یورپ میں تھے۔ ہم نے (شاہی) خاندان اور اس کی سعودی عرب میں قائم حکومت پر تنقید کی۔ ہم میں سے تین اغوا ہو گئے۔ صرف میں رہ گیا ہوں۔‘گذشتہ سال سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بارے میں شہزادہ خالد نے ڈی ڈبلیو کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے سعودی حکام پر تنقید کی۔گذشتہ سال انھوں نے انڈیپینڈنٹ اخبار سے بات کرتے ہوئے یہ الزام لگایا تھا کہ حاشقجی کی گمشدگی سے دس دن قبل سعودی حکام نے انھیں بھی اغوا کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل ناقدین کو خاموش کروانے کے لیے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی کارروائیوں کا حصہ تھا۔انھوں نے انڈیپینڈنٹ اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں الزام لگایا کہ سعودی حکام نے جمال خاشقچی کے قتل سے کچھ روز قبل ان کے گھر والوں کو کہا کہ اگر وہ قاہرہ میں سعودی قونسل خانے میں ان کے اہلکاروں کے ساتھ ملاقات پر رضامند ہوئے تو انھیں اس کے بدلے لاکھوں ڈالر دیے جائیں گے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) سعودی عرب نے تیل کی پیداوار میں کمی کا اعلان کردیا، بین الاقوامی منڈیوں میں تیل کی فی بیرل قیمتوں میں اضافے کا خطرہ منڈلانے لگا۔سعودی حکام نے اعلان کیا ہے کہ رواں ماہ کے اختتام پر سعودی عرب روزانہ کی بنیاد پر تیل کی پیداوار میں کمی کردے گا،سعودی تیل کی پروڈکشن کم ہونے سے تیل کی پیداوار کا حجم دس ملین بیرل یومیہ کی جگہ سات ملین بیرل سے بھی کم ہوجائے گا،سعودی حکام نے تیل کی پیداوار کے کمی کے فیصلے سے اپنے بین الاقوامی کسٹمرز کو آگاہ کردیا ہے۔جس کے باعث عالی سطح پر تیل کی فی بیرل قیمتوں میں اضافے کا خطرہ ہے، سعودی عرب کے وزیر توانائی خالد الفالح نے رواں سال فروری میں آگاہ کیا تھا کہ مملکت مارچ میں یومیہ 98 لاکھ بیرل خام تیل پیدا کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امن پر تحقیق کرنے والے اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (SIPRI) نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 2014 سے 2018 کے درمیان ہتھیاروں کی خرید و فروخت میں 2009 سے 2013 کے مقابلے میں 8 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
سیپری کی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ہتھیاروں کی فروخت کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک امریکا ہے، جو مجموعی طور پر 36 فیصد ہتھیار فروخت کر رہا ہے۔ امریکا کے بعد روس، فرانس، جرمنی اور چین اسلحے کی فروخت میں بالترتیب بڑے ممالک ہیں۔ ان پانچوں ممالک نے مجموعی طور پر دنیا بھر میں اسلحے کی فروخت میں 75 فیصد حصہ ڈالا۔خلیج فارس کے ممالک میں اسلحے کی خریداری میں 2009 سے 2013 کے مقابلے میں 2014 سے 2018 کے درمیان 87 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا، جب کہ سعودی عرب 2009 سے 2013 کے مقابلے میں گزشتہ چار برسوں میں 192 فیصد اضافے کے ساتھ اب بھی دنیا میں سب سے زیادہ ہتھیار خریدنے والا ملک ہے۔واضح رہے کہ سیپری ہر چار سال بعد ہتھیاروں کی خرید و فروخت سے متعلق اعداد و شمار جاری کرتا ہے ۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)النشرہ کی رپورٹ کے مطابق قطر کے امور خارجہ کے مشیر سلطان بن سعد المریخی نے قطر کے خلاف پابندیاں عائد کرنے والے چارعرب ممالک سعودی عرب، مصر، امارات اور بحرین پر شدید تنقید کی ہے۔
قطری مشیر خارجہ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب، مصر ، امارات اور بحرین کی دھمکیوں سے قطر پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے صرف قوموں میں نفرت اور تفرقہ بڑھےگا۔ سلطان بن سعد المریخی نے کہا کہ مذاکرات ہی مسائل اور مشکلات کو حل کرنے کا واحد راستہ ہے۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ فلسطین دنیائے عرب کا پہلا مسئلہ ہے اور یمن کے عوام پر مسلط کردہ جنگ اور مصائب کے حل کے لئے بھی قطرکوششں کر رہا ہے۔