شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے امریکہ کے تازہ ایران مخالف اقدام پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی طرف سے خطے میں دہشتگرد گروہوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوششیں بے فائدہ ہیں۔ انہوں نے امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب کی طرف سے القاعدہ اور داعش کی کھلی حمایت پر مبنی اخباروں کے تراشوں کو اپنے پیغام کے ساتھ منسلک کرتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا کہ خطے میں جاری دہشتگردی کے خلاف جنگ کے شکست خوردہ ممالک تاریخ کو بدل نہیں سکتے۔ ایرانی انقلابی گارڈز سپاہ پاسداران کو امریکہ کی طرف سے دہشتگردی کی فہرست میں شامل کرنے کا مقصد داعش اور النصرہ وغیرہ جیسی دہشتگرد تنظیموں، جو انہی کی دست پروردہ ہیں، کو دوبارہ زندہ کرنا ہے، جو انہیں کبھی حاصل نہ ہوگا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید لکھا کہ کھیل ختم ہوچکا ہے! اب اس حقیقت کو قبول کر لینے کا وقت ہے کہ آپ اپنے حصے کے تمام انتخاب غلط طریقے سے استعمال کرچکے ہیں اور اب دوسروں کو قربانی کا بکرا بنانے سے آپ کے مرض کی دوا ممکن نہیں۔" یاد رہے کہ امریکی وزارت خارجہ نے سوموار کے دن اعلان کیا تھا کہ وہ ایرانی انقلابی گارڈز سپاہ پاسداران کو دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر رہی ہے، جبکہ ایران نے بھی اس امریکی اقدام کے جواب میں خطے میں موجود "سنٹکام" نامی امریکی افواج کو دہشتگرد گروہ قرار دے دیا تھا۔ واضح رہے کہ امریکی "سنٹکام" نامی افواج متعدد دہشتگرد گروہوں کی سرپرستی کے علاوہ اسلامی جمہوریہ ایران اور شام کی سرزمین پر موجود دہشتگرد گروہوں کی وسیع پیمانے پر علی الاعلان حمایت بھی کرتی آئی ہیں۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) سعودی عرب میں منشیات کی اسمگلنگ کے جرم میں پاکستانی میاں بیوی کے سر قلم کر دیئے گئے۔ریاض کے وزرات خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق سعودی عرب کی عدالت میں ہیروئن اسمگلنگ کے مجرم دونوں میاں بیوی کو سزائے موت کی سزا ہوئی تھی۔

جاری کردہ پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ محمد مصطفیٰ اور ان کی اہلیہ فاطمی اعجاز کو ’ہیروئن اسمگلنگ کے دوران حراست میں لیا گیا تھا‘۔سعودی وزارت نے بتایا کہ ’مذکورہ گرفتاری عدالت میں ظاہر کی گئی جہاں تحقیقات کے نتیجے میں دونوں کو مجرم قرار دیا گیا‘۔اس حوالے سے بتایا گیا کہ سزائے موت کو سپریم کورٹ میں بھی چینلج کیا گیا تاہم عدالت عظمیٰ نے سزا برقرار رکھی۔بعدازاں رائل آرڈ کے بعد دونوں میاں بیوی کو جدہ میں سزائے موت دے دی گئی۔جسٹس پروجیکٹ پاکستان (جے پی پی) نے سعودی عدالت کے فیصلے پر احتجاج کیا اور کہا کہ ’گزشتہ پانچ برسوں میں پہلی خاتون پاکستانی کو سزا دی گئی‘۔جے پی پی کے مطابق اس حقیقت کے برعکس کہ دونوں ممالک قیدیوں کے تبادلے پر مذاکرات کررہے ہیں، میاں بیوی کے سر قلم کردیئے گئے۔ان کے مطابق اوورسزایمپلائمنٹ والے معمولی اجرت پر روز گار کمانے والوں کو جھانسہ دے کر اسمگلنگ کرواتے ہیں۔جے پی پی نے الزام عائد کیا کہ وفاقی حکومت اپنے مقدمات میں اپنے شہریوں کو تنہا چھوڑ دیتے ہیں جبکہ وزیراعظم نے بھی ایسے مقدمات میں ملزمان کی قانون مدد فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔جے پی پی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے حکومت پر زوردیا کہ تمام سفارتی تعلقات کو استعمال میں لاتے ہوئے سعودی حکومت کو پاکستانیوں کی سزائے موت روکنے پر آمادہ کرے۔خیال رہے سعودی عرب میں سزائے موت دیے جانے کی شرح دنیا میں بلند ترین شمار کی جاتی ہے جہاں دہشت گردی، ریپ، مسلح ڈکیتی اور منشیات کی اسمگلنگ پر سزائے موت دی جاتی ہے۔انسانی حقوق کے ماہرین سعودی عرب میں ملزمان کے ٹرائل کے حوالے سے کئی بار سوال اٹھا چکے ہیں، تاہم سعودی حکومت کا موقف ہے کہ سزائے موت مزید جرائم کو روکنے کے لیے موثر ہے۔سعودی عرب میں 2016 میں مجموعی طور پر 144 افراد کو سزا دی گئی تھی تاہم انسانی حقوق کے گروپ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق 2016 میں سعودی عرب میں 150 سے زائد افراد کو سزائے موت دی گئی۔رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ 2015 میں سعودی عرب میں 158 افراد کو سزائے موت دی گئی تھی، جو گزشتہ دو دہائیوں میں سب سے زیادہ تھی۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مبینہ طور پر یہ دعویٰ کیا ہے کہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے ان کے دورہ سعودی عرب کے دوران میلانیا ٹرمپ کے ہاتھ کو تھام کر اس پر کئی بار بوسہ دیا۔

امریکی جریدے نیوزویک کے مطابق رواں ہفتے شائع ہونے والی ایک کتاب دی ہل ٹو ڈائی آن : دی بیٹل فار کانگریس اینڈ دی فیوچر آف ٹرمپ امریکا میں بتایا گیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ دعویٰ گزشتہ سال کے آخر میں ٹرمپ ہوٹل میں ہونے والی ایک تقریب کے دوران کیا جس میں ریپبلکن نمائندگان نے شرکت کی۔امریکی صدر نے ریپبلکن اراکین اور ڈونرز کے سامنے مئی 2017 میں سعودی عرب کے دورے کے بارے میں بتاتے ہوئے اپنی اہلیہ کا ایک واقعہ بیان کیا جو اس سے پہلے کبھی رپورٹ نہیں ہوا تھا۔کتاب کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کے ایک ساتھی نے میلانیا ٹرمپ کو بتایا تھا کہ اگر وہ اپنا ہاتھ آگے بڑھائیں گی تو شاہ سلمان مصافحے سے گریز کریں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا 'تو میں اپنے طیارے سے اترا، میں نے سعودی فرمانروا سے ہاتھ ملایا، مگر ان کی تعظیم میں جھکا نہیں، اس کے بعد میلانیا نے ہاتھ آگے بڑھایا، یاد رہے کہ ہمیں بتایا گیا تھا کہ شاہ سلمان میلانیا سے مصافحہ نہیں کریں گے'۔

انہوں نے مزید کہا 'مگر شاہ سلمان نے میلانیا کا ہاتھ تھام لیا اور 3 بار چوم لیا'۔
امریکی صدر کے اس دورے کی ویڈیوز یوٹیوب پر موجود ہیں اور ان میں کہیں بھی یہ نظر نہیں آتا کہ شاہ سلمان نے امریکی خاتون اول کے ہاتھ کو بوسہ دیا، دونوں نے ہاتھ ملایا اور بس۔نیوز ویک کی جانب سے رابطہ کیے جانے پر وائٹ ہاؤس حکام نے اس بارے میں کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا تھا۔جریدے کے مطابق یہ بھی واضح نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی اہلیہ اور سعودی فرمانروا کا یہ واقعہ مذاق کے طور پر بیان کیا یا وہ سنجیدہ تھے کیونکہ امریکی صدر اکثر لوگوں کو محظوظ کرنے کے لیے واقعات بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ حقائق کے حوالے سے بھی لاپروائی کرجاتے ہیں۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)پچھلے پانچ برس میں دولت اسلامیہ نامی جنگ جو تنظیم جسے دوسرے الفاظ میں داعش یا دولت اسلامیہ عراق و شام بھی کہا جاتا ہے ، عراق و شام میں خوب تباہی مچائی۔ اس تباہی میں ان کے ساتھ کچھ خواتین بھی شامل ہوگئیں۔ ایسی ہی ایک خاتون کا نام شمیمہ بیگم ہے جو برطانیہ سے نکلیں اور براستہ ترکی جاکر دولت اسلامیہ سے مل گئیں۔ اب اس جنگ کے اختتامی مراحل میں جب داعش کا تقریباً خاتمہ ہوچکا ہے، شمیمہ برطانیہ واپسی کی خواہش مند ہیں اور ان کے شوہر چاہتے ہیں کہ ان کے بچے اور اہلیہ ہالینڈ میں رہیں۔

شمیمہ بیگم کے شوہر ہالینڈ کے شہری ہیں، اس وقت ان کی عمر ستائس سال ہے یعنی جب پانچ یا سات سال پہلے وہ داعش میں شامل ہوئے تو اس وقت ان کی عمر بہ مشکل بیس یا بائیس برس ہوگی۔ ستائیس سالہ گوریڈیک اس وقت شمال مشرقی شام میں ایک کُرد حراستی مرکز میں قید ہیں۔ اب اگر یہ دونوں میاں بیوی برطانیہ یا ہالینڈ جانے میں کام یاب ہو بھی جاتے ہیں تو ان دونوں کو کئی برس کی قید کا سامنا کرنا ہوگا۔

ان جیسے کئی جوڑے داعش کے جھانسے میں آکر لڑنے محاذ جنگ پر چلے گئے تھے، مگر اب وہ کہتے ہیں کہ، انہوں نے داعش کو مکمل طور پر چھوڑ دیا ہے، گوکہ اس کی کوشش وہ پہلے بھی کرچکے تھے، مگر داعش نے انہیں نکلنے نہیں دیا تھا مگر اب چونکہ داعش عملی طور پر مفلوج ہوچکی ہے اور اس کے جنگ جو یا تو مارے گئے یا تائب ہوچکے ہیں اس لئے یہ لوگ بھی اب اپنی پرانی زندگی میں لوٹ جانا چاہتے ہیں۔اسی طرح کے یورپی مرد و خواتین داعش میں شامل تو ہوگئے، لڑتے بھی رہے ،مگر ان کا اب کہنا ہے کہ، داعش کے رہ نمائوں نے ان پر کبھی بھروسہ نہیں کیا اور انہیں یورپ یا امریکا کے جاسوس سمجھتے رہے۔

اگر صرف شمیمہ بیگم ہی کی مثال لی جائے تو معلوم ہوتا ہے اس طرح کی خواتین ابھی نوعمر ہی تھیں کہ ایک طرح کی انقلابی رومانیت کا شکار ہوگئیں۔ شمیمہ بیگم اس وقت صرف انیس سال کی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ برطانیہ چھوڑتے وقت وہ زیادہ سے زیادہ پندرہ برس کی ہوں گی۔ ان کا ٹھکانہ آخر میں باغوز نامی شہر تھا ،جہاں وہ رقہ سے فرار ہوکر پہنچے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ رقہ میں انتہا پسندوں نے انہیں بھی تشدد کا نشانہ بنایا ،حالاں کہ وہ خود اپنی یورپ کی پرسکون زندگی چھوڑ کر باغیوں میں شامل ہوئے تھے۔

رقہ کے بعد داعش کا آخری پڑائو باغوز میں تھا، جہاں گوریڈیک نے خود کو شامی جنگ جوئوں کے رحم اور کرم پر پایا، جب کہ اس کی اہلیہ شمیمہ بیگم اپنے نومولود بچے کے ساتھ ایک پناہ گزین کیمپ میں پہنچ گئی تھیں، وہاں سے انہیں ایک نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس طرح کے جنگ جو محاذ جنگ سے بھی نوعمر لڑکیوں سے شادی کرنے سے دریغ نہیں کرتے کیوں کہ وہ لڑکیاں خود اس مقصد کے لئے خود کو پیش کردیتی ہیں۔خود شمیمہ بیگم کے اعترافی بیان کے مطابق جب وہ پندرہ سال کی عمر میں داعش میں شامل ہوئیں تو انہوں نے جنگ جو رہ نمائوں سے درخواست کی کہ ان کا نکاح کسی بھی مرد سے پڑھا دیا جائے ،جس پر ان کی پہلی شادی ہوئی مگر شوہر لڑتے ہوئے مارا گیا پھر ان کے یہاں ولادت ہوئی تو بچہ بھی کافی دیکھ بھال اور دوائوں کی عدم دست یابی کے باعث بیمار ہوکر مرگیا ۔ ان کی دوسری بار شادی کی گئی اب شمیمہ بیگم کہتی ہیں کہ انہوں نے بہت جلدی کی اگر وہ شادی نہ کرتیں تو صورت حال مختلف ہوتی۔اب ان کو اس بات پر دکھ ہے کہ ان کی تصاویر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں گردش کررہی ہیں ۔ایک ایسی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جس کا انہوں نے اندازہ نہیں لگایا تھا۔ اس طرح کی خواتین کی ایک مجبوری یہ ہے کہ اب انہیں کوئی ملک تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہے۔ شمیمہ بیگم کے والدین بنگالی ہیں، جو عرصے سے برطانیہ میں مقیم ہیں اور برطانیہ ہی میں شمیمہ کی ولادت ہوئی۔ اب جب برطانیہ نے شمیمہ کی شہریت منسوخ کی تو اعلان کیا کہ چوں کہ شمیمہ کی والدہ اب بھی بنگلہ دیش کی شہریت رکھتی ہیں اس لئے شمیمہ بھی بنگلہ دیش جاسکتی ہیں۔

ادھر بنگلا دیش نے اعلان کیا شمیمہ بیگم بنگلا دیش کی شہری نہیں ہیں اس لئے وہ بنگلا دیش نہیں آسکتیں اور اگر انہوں نے آنے کی کوشش کی تو انہیں ملک میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا فوری طور پر واپس بھیج دیا جائے گا۔

شمیمہ کا خاندان اس کوشش میں ہے کہ برطانیہ کی وزارت داخلہ کو مجبور کیا جائے کہ وہ شمیمہ بیگم کی شہریت منسوخ کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کرکے انہیں برطانیہ آنے کی اجازت دے۔ برطانیہ کے وزیر داخلہ اس سلسلے میں اب تک بڑی سختی سے کام لے رہے ہیں اور شمیمہ کے خاندان کی درخواست پر عمل نہیں کررہے۔

برطانیہ کی حزب مخالف پارٹی لیبر پارٹی کے رہ نما جیرمی کورین نے اس سلسلے میں نرمی سے کام لینے کا مشورہ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شمیمہ جب برطانیہ سے گئی تھی تو ناسمجھ تھی اب اتنے تجربات کے بعد وہ درست راستے پر آگئی ہوگی۔

ادھر ہالینڈ نے شمیمہ کے شوہر گوریڈیک کی شہریت منسوخ نہیں کی ہے، اس لئے اس جوڑے کے ہالینڈ جانے کے زیادہ امکانات ہیں۔

اسی طرح کا ایک اور قصہ ہدیٰ موتہانہ کا ہے جسے ’’دولت اسلامیہ کی دلہن‘‘ یا ’’داعش برائڈ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ امریکا کی شہری ہیں اور اب ان کے والد نے اپنی بیٹی کے امریکا واپسی کے لئے مقدمہ کیا ہے۔ ہدیٰ موتہانہ بھی شمیمہ کی طرح فرار ہوکر داعش میں شامل ہوگئی تھیں۔ احمد علی موتہانہ جو ہدیٰ کے والد ہیں ایک مقدمہ دائر کرچکے ہیں، جس میں انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے ہدیٰ کی شہریت منسوخ کرنے کی غیرقانونی کوشش کی ہے۔

ہدیٰ ایک طالبہ تھی، مگر اب وہ نہ صرف تائب ہوچکی ہے، بل کہ امریکا واپس آکر اپنے خلاف الزامات کا سامنا کرنے پر بھی تیار ہیں لیکن صدر ٹرمپ نے ان کا امریکا میں داخلہ روکنے کے احکام جاری کئے ہیں، کیوں کہ انہیں خدشہ یہ ہے کہ ہدیٰ ایک بار پھر داعش کے لئے پروپیگنڈہ شروع کردے گی۔

امریکی ریاست الابامہ سے تعلق رکھنے والی ہدیٰ بھی صرف انیس سال کی عمر میں پڑھائی چھوڑ کر کالج سے فیس کی رقم واپس لے کر امریکا سے فرار ہوگئی تھی اور اس کی خبر اپنے والدین کو بھی نہیں دی تھی۔

اب پانچ سال بعد ہدیٰ ڈیڑھ سال کے بچے کی ماں ہے۔ وہ اور اس کا خاندان اب ہدیٰ کو امریکا واپسی کے لئے جدوجہد کررہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان پر مقدمات چلائے جاسکتے ہیں لیکن ان کی امریکا واپسی کو نہیں روکا جاسکتا۔ برطانوی وزیر داخلہ کی طرح امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ مائیک یومیبو کا کہنا ہے کہ ہدیٰ کو کوئی حق نہیں کہ وہ امریکی پاسپورٹ یا ویزے کا مطالبہ کریں۔ ہدیٰ کے والد یمن سے تعلق رکھتے تھے اور اقوام متحدہ کے سفارت کار تھے۔ یاد رہے کہ 2004ء میں امریکا نے ہدیٰ کو امریکی شہری تسلیم کرتے ہوئے پاس پورٹ جاری کیا تھا جب وہ صرف نو برس کی تھیں اور اس کی پیدائش بھی امریکا میں ہوئی تھی۔

شمیمہ کی طرح ہدیٰ بھی اس وقت ایک پناہ گزین کیمپ میں ہیں انہوں نے بھی شمیمہ کی طرح ایک سے زیادہ شادیاں کیں مگر اب اپنے کئے پر تائب ہیں۔

اس طرح کے واقعات مسلمان گھرانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہیں۔ کیوں کہ اکثر مسلم والدین جو یورپ یا امریکا میں جاکر آباد ہوتے ہیں اپنے بچوں خاص طور پر لڑکیوں پر بے جا پابندیاں عائد کرتے ہیں جس سے بچیاں باغی ہوجاتی ہیں۔ جو والدین ماضی کی طرح زندگی گزارنا چاہتے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ امریکا اور یورپ کا رخ ہی نہ کریں۔

ایک طرف تو بچے مغربی معاشروں کی آزادی سے متاثر ہوتے ہیں اور دوسری طرف والدین ان آزادیوں پر قدغن لگاتے ہیں جس سے بچے باغی ہوکر گھروں سے بھاگنے لگتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات پاکستان جیسے ممالک میں بھی ہوتے ہیں ۔ ان کا حل صرف یہی ہے کہ والدین اپنے بچوں کو گھٹن کے ماحول میں نہ رکھیں،تاکہ وہ گھروں سے بھاگنے پر مجبور نہ ہوں، ورنہ شمیمہ اور ہدیٰ کی طرح اور بہت سے بچے نہ اِدھر کے رہتے ہیں اور نہ اُدھر کے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)سعودی عرب نے امریکا کی جانب سے ایران کی پاسداران انقلاب کو بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے فیصلہ کا خیر مقدم کیا ہے۔
برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق شاہی خاندان کی قیادت میں سعودی عرب کی جانب سے ایران پر اس کے اور دیگر مشرق وسطیٰ کے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا الزام لگایا جاتا ہے۔اس کے علاوہ ایران اور سعودی عرب کئی برسوں سے پراکسی جنگ بھی لڑرہے ہیں، جس میں دونوں شام اور یمن میں جاری تنازع میں ایک دوسرے کے مخالفین کی پشت پناہی کررہے ہیں۔ادھر سعودی خبررساں ادارے ایس پی اے نے وزارت خارجہ کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 'امریکی فیصلہ ریاست کے اس مطالبے کی ترجمانی کرتا ہے جس میں بین الاقوامی برادری سے کہا گیا تھا کہ ایران کی جانب سے دہشت گردوں کی حمایت کو روکنا ضروری ہے'۔خیال رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ریاستی ادارے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا تھا۔امریکی صدر نے کہا تھا کہ 'یہ مثالی اقدام اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ صرف ایران دہشت گردی کو فروغ نہیں دے رہا بلکہ پاسداران انقلاب ریاستی آلہ کار کے طور پر دہشت گردی کے فروغ میں فعال کردار ادا کر رہی ہے۔'اس اعلان کے بعد امریکی اسٹیٹ سیکریٹری مائیک پومپیو نے تمام بینکوں اور کاروباری افراد کو پاسداران انقلاب سے تعلقات کے نتائج سے خبردار کیا تھا۔خیال رہے کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ امریکا نے کسی دوسرے ملک کے ریاستی ادارے کو دہشت گرد قرار دیا گیا۔پاسداران انقلاب کو دہشت گرد قرار دیے جانے کے ساتھ ساتھ اس پر پابندیاں بھی عائد کی گئیں، جن کے تحت ایرانی مسلح فوج کے اثاثے منجمد کیے جائیں گے۔اس کے ساتھ ہی امریکی شہریوں پر پاسداران انقلاب کے ساتھ کاروبار کرنے پر بھی پابندی عائد کی گئی۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)اقوام متحدہ کے نیوکلیئر انسپکٹر نے سعودی عرب سے اس کے پہلے ایٹمی ری ایکٹر پر حفاظتی اقدامات سے متعلق گارنٹی طلب کرلی۔خیال رہے کہ حال ہی میں نئی سیٹلائیٹ تصاویر میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ سعودی عرب نے دارالحکومت ریاض کے مضافات میں ایک ایٹمی ری ایکٹر تعمیر کرلیا ہے، جو رواں برس کے اختتام تک فعال ہوجائے گا۔تاہم انٹرنیشنل اٹومک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) یوکیا آمانو کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے ایٹمی ری ایکٹر میں کچھ چھپا ہوا نہیں ہے، بلکہ ریاض نے ویانا میں موجود اقوام متحدہ کے اس ذیلی ادارے سے 2014 میں اجازت طلب کی تھی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آئی اے ای اے نے سعودی عرب کی جامع حفاظتی معاہدے کے لیے حوصلہ افزائی کی تھی، جس میں یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ ایٹمی مادہ ہتھیار بنانے میں استعمال نہیں ہوگا۔ڈی جی آئی اے ای اے کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے دیگر ممالک کے ساتھ ایٹمی مواد حاصل کرنے کے معاہدے کمزور ہیں، اور یہ تب تک بہتر ہے جبکہ ریاض دیگر ممالک سے بڑی تعداد میں مواد کے لیے معاہدہ نہ کرلے۔انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کو نئے جامع حفاظتی معاہدہ کرنے اور پرانے معاہدے منسوخ کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے جواب میں ریاض نے مثبت یا منفی جواب نہیں دیا۔اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ریاض اس بارے میں سوچ و بچار کیا جارہا ہے، جس کا ہم انتظار کر رہے ہیں۔

یوکیا آمانو نے کہا کہ اس وقت ان کے پاس ایٹمی مواد موجود نہیں ہے، تاہم اس وقت عالمی قوانین کی خلاف ورزی نہیں ہورہی۔انہوں نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب رواں برس کے اختتام تک ایٹمی ری ایکٹر کے لیے مواد حاصل کرلے گی، تاہم اس کے فعال ہونے میں تاخیر بھی ہوسکتی ہے۔امریکا کے سیکریٹری توانائی رکی پیری نے گزشتہ ماہ سینیٹ کو بتایا کہ امریکا کی 6 کمپنیوں نے سعودی عرب کے نیوکلیئر پلانٹ میں کام کرنے کی اجازت طلب کی تھی۔خیال رہے کہ امریکی کمپنیوں نے اجازت ایسے وقت میں مانگی تھی جب سعودی عرب نے نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے پُرامن استعمال کے حوالے سے گارنٹی کے نام نہاد سیکشن 123 کے تحت اجازت طلب نہیں کی تھی۔اس موقع پر ڈیموکریٹس کے نمائندے بریڈ شرمن نے سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جس اقتدار پر آپ بھروسہ نہیں کر سکتے تو ایسے اقتدار پر ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق بھروسہ نہیں کرنا چاہیے۔خیال رہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے عالمی برادری کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس کا روایتی حریف ایران ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل کرے گا تو وہ بھی یہ ٹیکنالوجی حاصل کرلیں گے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)لندن میں مقیم انسانی حقوق پر کام کرنے والی ایک تنظیم القسط کے مطابق سعودی عرب نے دوہری شہریت رکھنے والے دو افراد (جن کی سعودی عرب اور امریکہ کی شہریت ہے) اور ایک حاملہ خاتون سمیت کم از کم سات افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔گرفتار کیے گئے افراد کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اگرچہ وہ نمایاں سماجی کارکن نہیں، لیکن وہ ایسے مصنفین اور بلاگرز ہیں جو ملک میں اصلاحات پر بحث و مباحثے کے لیے جانے جاتے ہیں۔

القسط کا کہنا ہے کہ فروری سے ان افراد کو سفری پابندی کا سامنا بھی تھا۔حالیہ گرفتاریاں ایک ایسے وقت پر کی گئی ہیں جب جیلوں میں خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے پہلے سے موجود سماجی کارکنوں کے مستقبل سے متعلق تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔سنہ 2018 کے اوائل میں شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے بعد گزشتہ ماہ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے 10 کارکنوں پر مقدمہ چلایا گیا۔ ان میں سے تین کو پچھلے ہفتے ضمانت پر رہا کیا گیا تھا۔ اس مقدمے کو بین الاقوامی تنقید کا سامنا ہے اور اقوامِ متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل میں 36 ممالک ان افراد کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

گرفتار کیے گئے افراد کون ہیں؟
حالیہ گرفتاریوں پر سعودی حکام کی طرف سے ابھی تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔القسط کے مطابق گرفتار کیے گئے افراد میں چھ مرد اور ایک خاتون شامل ہیں۔ کچھ رپورٹس کے مطابق ان افراد کی تعداد آٹھ ہے۔گرفتار افراد میں سے ایک خدیجہ الحربی ہیں جو حقوق نسواں کی حامی مصنفہ اور حاملہ ہیں اور امریکی اور سعودی شہریت رکھنے والے صلاح الحیدر، جن کی والدہ ان کارکنوں میں سے ایک ہیں جن کو حال ہی میں رہا کیا گیا۔خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹس کے مطابق الحیدر کا خاندان امریکہ کی ریاست ورجنیا میں رہتا ہے لیکن وہ اپنی بیوی اور بچے کے ساتھ سعودی عرب میں مقیم ہیں۔گرفتار کیے گئے دوسرے امریکی اور سعودی شہری بدد الابراہیم ہیں جو ایک مصنف اور ڈاکٹر ہیں۔گذشتہ اکتوبر ترک دارالحکومت استنبول میں واقع سعودی سفارت خانے میں صحافی جمال خشوجی کے قتل کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس واقعے کے بعد سے سعودی عرب کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کو بہت باریک بینی سے دیکھا جا رہا ہے۔اس قتل کی تفتیش کرنے والے ترک تفتیش کار اور بہت سے دوسرے افراد ولی عہد محمد بن سلمان کو اس قتل کا ذمہ دار مانتے ہیں، جنہیں سعودی عرب میں طاقت کا اصلی سرچشمہ سمجھا جاتا ہے۔

سعودی حکام اس قتل کو ایک باغی کارروائی مانتے ہیں اور اس میں محمد بن سلمان کی کسی بھی طرح کی مداخلت سے انکار کرتے ہیں۔ جنوری میں 11 افراد پر سعودی عرب میں اس قتل کا مقدمہ چلایا گیا تھا۔حالیہ گرفتاریوں کو ولی عہد محمد بن سلمان پر تنقید کو ختم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ادھر یہ بات بھی درست ہے کہ ولی عہد نے خود کئی اصلاحات متعارف کروائی ہیں۔سعودی عرب میں عوامی سطح پر اصلاحات کے باوجود، خواتین کے حقوق کے بارے میں عالمی برادری میں خاصی تفتیش پائی جاتی ہے۔سنہ 2018 میں ورلڈ اکنامک فارم نے صنفی براری کی درجہ بندی کے لحاظ سے 149 ممالک میں سعودی عرب کو 141 نمبر پر پایا۔سعودی خواتین آج بھی محرم کی اجازت کے بغیر سفر نہیں کر سکتیں، نہ انہیں شادی کرنے یا بینک اکاؤنٹ کھولنے کی آزادی ہے۔اس سال کے آغاز میں اپنے خاندان سے بھاگ جانے والی ایک سعودی نوجوان لڑکی کا کیس بھی خاصی عالمی توجہ کا مرکز بنا تھا۔تھائی لینڈ کے امیگریشن حکام نے جب انہیں سعودی عرب واپس بھیجنے کی کوشش کی تو 19 سالہ رافیل القنون نے بنکاک کے ایک ہوٹل کے کمرے میں خود کو بند کر لیا تھا۔بلآخر انہیں اقوامِ متحدہ کی جانب سے مدد فراہم کی گئی اور وہ تب سے کینیڈا میں پناہ گزین کے طور پر رہ رہی ہیں۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) برطانوی اخبار دی گارجین نے دعویٰ کیا ہے کہ ’سعودی عرب میں سیاسی قیدی کو جیل میں غذائی کمی، جلانا، زخم دینا سمیت جسمانی تشدد کا سامنا ہے‘۔اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق ’قیدیوں کے طبی معائنے پر مشتمل رپورٹ سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو پیش کی جائے گی جس میں سفارشات بھی شامل ہیں‘۔

اس حوالے سے اخبار نے کہا کہ ’فرمانروا شاہ سلمان کی جانب سے تمام قیدیوں خصوصاً جسمانی تشدد کے باعث زیادہ متاثرہ قیدیوں کی فوری رہائی کا حکم صادر ہو سکتا ہے‘۔ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دی گارجین اخبار نے بتایا کہ ’فرمانروا شاہ سلمان کے حکم پر ہی ایک کمیشن کو 60 سے زائد سیاسی قیدیوں کی طبی رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت ملی تھی۔مزید کہا گیا کہ شاہ سلمان نے اپنے صاحبزادے ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد 200 سے زائد مرد اور خواتین کو گرفتار کرنے کے حکم نامے کا جائزہ لینے کا ہدایت کردی۔باخبرذرائع کے مطابق سعودی کی رائل کورٹ نے ولی عہد بن سلمان کے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے قیدیوں کی صحت سے متعلق مفصل رپورٹ تیار کی۔دی گارجین کے مطابق قیدیوں کا طبی معائنہ رواں برس جنوری میں ہوا اور طبی رپورٹ میں فرمانروا کے لیے تین اہم سفارشات کو بھی شامل کیا گیا جس میں آگے کا لائحہ عمل بتایا گیا۔

اخبار کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ ادارے نے طبی رپورٹ دیکھی ہے جس میں سے ایک قیدی کے بیان سے واضح ہوتا کہ متعدد قیدی سنگین نوعیت کے طبی مسائل سے دوچار ہیں۔اس سے قبل ایک رپورٹ شائع ہوئی جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ان کے بیٹے اور ملک کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے مابین یمن میں جنگ سمیت دیگر اہم مسائل پر ’شدید اختلافات‘ جنم لے چکے ہیں۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ’دونوں اہم شخصیات کے درمیان اختلافات کی فضا ترکی میں سعودی قونصل خانے میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد پیدا ہوئی‘۔خیال رہے کہ گزشتہ دو برس سے متعدد رپورٹس منظر عام پر آئی ہیں جس میں سعودی عرب میں ماورائے قانون رضاکاروں کو بھی گرفتار کیا گیا۔13 مارچ کو سعودی عرب میں حکام نے ایک برس سے زیرحراست 10 خواتین سماجی رضاکاروں کو پہلی مرتبہ عدالت میں پیش کیا تھا۔کرمنل کورٹ میں پیش کی گئی 10 سماجی رضاکاروں میں لجین الھذلول، خاتون الفسی، عزیزہ الیوسف اور ایمن النفجان بھی شامل تھیں۔اس حوالے سے عدالتی صدر ابراہیم السیریٰ نے بتایا کہ ’زیرحراست تمام ملزمان نے پہلی مرتبہ اپنے خلاف عائد کردہ الزامات سنے‘۔سماجی رضاروں کے اہلخانہ کو کورٹ میں داخلے کی اجازت دی گئی تاہم رپورٹرز اور مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے سفیروں پر پابندی تھی۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) جرمنی نے سعودی عرب کو اسلحے کی فراہمی پر پابندی میں مزید چھ ماہ کی توسیع کردی۔تفصیلات کے مطابق جرمن حکام نے فیصلہ کیا ہے کہ سعودی عرب کو مزید چھ ماہ تک اسلحہ فروخت نہیں کیا جائے گا، مروجہ پابندی میں توسیع کردی گئی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ جرمن حکام نے فیصلہ کیا ہے کہ رواں سال 30 ستمبر تک سعودی عرب جرمن اسلحے کو درآمد نہیں کرسکے گا، اس توسیع کے بعد ہی فروخت کے بارے میں سوچا جائے گا۔جرمن چانسلر انجیلا مرکل کے ترجمان اسٹیفان زائبرٹ کا کہنا ہے کہ مذکورہ پابندی میں توسیع کے دوران ریاض کو اسلحہ برآمد کرنے کے حوالے سے کوئی بھی درخواست منظور نہیں کی جائے گی۔جرمن چانسلر کی صدارت میں گذشتہ روز کابینہ کا اجلاس ہوا تھا جس میں جمال خاشقجی کے قتل سمیت سعودی عرب پر اسلحے کی پابندی پر تبادلہ خیال ہوا۔اجلاس کے دوران ہی متفقہ طور پر اجلاس میں شریک رہنماؤں نے سعودی عرب پر عائد پابندی میں توسیع کا فیصلہ کیا۔یہ پابندی گزشتہ برس دو اکتوبر کو ترکی کے شہر استنبول کے سعودی قونصل خانے میں ریاض حکومت کے ناقد سعودی صحافی اور امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار جمال خاشقجی کے قتل کے بعد عائد کی گئی تھی۔خیال رہے کہ شروع میں جرمنی نے سعودی عرب کو جرمن ساختہ اسلحہ جات کی ترسیل پر یہ پابندی دو ماہ کے لیے لگائی تھی، جس کے بعد وفاقی جرمن حکومت نے مزید توسیع کر دی تھی۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری سے گرفتار یاسین عرف چھوٹا ڈان ٹارگٹ کلر نے اہم راز اگل دیے اور بتایا سعودی عرب میں مقیم مطلوب ٹارگٹ کلرپاکستان میں دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگ کی ہدایات دیتے ہیں۔

 تفصیلات کے مطابق ابراہیم حیدری سے گرفتار یاسین عرف چھوٹا ڈان ٹارگٹ کلر نے اہم راز اگل دیے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمسعودی عرب میں روپوش ٹارگٹ کلر عالم بنگالی کیلئے کام کرتا رہا اور یاسین عرف چھوٹا ڈان سانحہ چکرا گوٹھ کے بعد سعودی عرب فرار ہوا، سعودی عرب میں مقیم مطلوب ٹارگٹ کلر عالم بنگالی نے ملزم کو سہولتیں دیں۔ ملزم نے قتل اور اغوا سمیت 14 وارداتیں کیں جس میں 2010ء میں کورنگی روڈ پر کلاشکوف سے پولیس پر فائرنگ کا بھی اعتراف کیا۔

پولیس کے مطابق ملزم کو سعودی عرب سے عالم بنگالی ہدایتیں دیتا تھا۔ یاد رہے گذشتہ ہفتے کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ نے کراچی کے علاقے سرجانی میں مختلف کارروائیوں میں 4 ٹارگٹ کلرز کوگرفتار کیا تھا، ٹارگٹ کلرز کا تعلق جماعت اسلامی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں سے بتایا گیا تھا۔ ایس پی سی ٹی ڈی کا کہنا تھا کہ گرفتار ٹارگٹ کلرز نے تفتیش کے دوران 8 سے زائد ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں کا اعتراف کیا۔