شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  مجلس وحدت مسلمین  پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ احمد اقبال رضوی نے  ڈیرہ اسماعیل خان میں مسلسل شیعہ نسل کشی کے خلاف سڑکوں پر آنے کا عندیہ دے دیا۔

علامہ احمد اقبال رضوی کا کہنا تھا کہ ڈی آئی خان مسلسل فرقہ ورانہ ٹارگٹ کلنگ کے خلاف جمعہ کے روز ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔ کے پی کے حکومت نے ڈی آئی خان کو دہشت گردوں کے رحم کرم پر چھوڑ دیا ہے ۔ایک ماہ میں تیرہ افراد ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بن چکے ہیں ۔

 انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخواہ کا علاقہ ڈیرہ اسماعیل خان گذشتہ کئی عرصے سے ملت جعفریہ کی مقتل گاہ بن چکا ہے،آئے دن بے گناہ شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ جاری ہے، ستم ظریفی یہ ہے کہ دہشتگرد اب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی وردیوں میں ملبوس آتے ہیں،اور باآسانی واردات کرکے فرار ہوتے ہیں،ڈیرہ اسماعیل خان کے تحصیل پروہ میں دہشتگردوں نے پولیس وین پر حملہ کیا ایس ایچ اور کو شہید کیا اور ساتھ میں پمفلٹ بانٹ کر گئے جس میں باقاعدہ یہ درج تھا کہ ہم شیعہ آبادیوں اور افراد کو نشانہ بنائیں گے۔

علامہ احمد اقبال کا کہنا تھا کہ اس وقت ڈیرہ ااسماعیل خان کے رہائشی ایک کرب کے عالم میں زندگی گزار نے پر مجبور ہیں۔گزشتہ رات ہی ڈیرہ اسماعیل خان میں تین موٹر سائیکلوں پر سوار دہشتگرد وں نے تحصیلدار حق نواز کے جواں بیٹے کو اغوا کرنے کی کوشش کی مزاحمت پر انکے دو چچا شہید اور بھائی کو زخمی کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ دن پہلے ڈیرہ میں ہی ذاکراہلِ بیتؑ قیصر شائق جو کہ ٹی ایم اے کے ملازم تھے کو بھی دن دیہاڑے گولیوں کا نشانہ بنایا گیا اور قاتل باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔

خیبر پختونخواہ میں جاری اس دہشتگردی کی لہر کو روکنے میں قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل ناکام نظر آتے ہیں۔ایک طرف نیشنل ایکشن پلان عملدرآمد کی باتیں ہو رہی ہیں تو دوسری طرف ملت جعفریہ کے بے گناہ افراد کا قتل عام جاری ہیں۔راوالپنڈی چاندنی چوک پر بھی بھرے بازار میں خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان کوکل رات گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔قانون نافذ کرنے والے ادارے اس قتل کے محرکات کو بھی سامنے لائیں۔

علامہ احمد اقبال کا کہنا تھا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں ہم مکمل بے رحمانہ فوجی آپریشن کا مطالبہ کرتے ہیںاور پولیس کی صفوں میں موجود دہشتگردوں کے سہولت کاروں کے خلاف بھی کاروائی کا مطالبہ کرتے ہیں ،جن کے بارے میں خود حکومتی رپورٹس موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مجبور نہ کیا جائے کہ ہم ایک بار پھر سے اپنے مطالبات کے لئے سٹرکوں پر نکل آئیں ۔ریاست عوام کی جان مال کی تحفظ کے ذمہ دار ہیں
وزیر اعظم خود اس ظلم بربریت پر ایکشن لیں اور ڈیرہ اسماعیل خان کے مظلومین کو تحفظ فراہم کریں۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  پاکستان میں شیعہ نسل کشی کا سلسلہ نہ رک سکا،کوہاٹ میں شیعہ وکیل نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد دفتر جاتےہوئے شھید کردیے گئے۔

ملک عزیز پاکستان میں بانیان پاکستان کی اولادوں کی نسل کشی کا سلسلہ رک نہیں سکا، کوہاٹ میں شیعہ وکیل ایڈوکیٹ آصف حسین کو نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد مسجد سے دفتر جاتےہوئے کالعدم لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں نے فائرنگ کر کے شہید کردیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ایک دہائی سے پاکستان میں ملت تشیع کے قابل اور متحرک افراد کو منظم منصوبہ بندی کے تحت چن چن کر قتل کیا جارہا ہے جبکہ ملت تشیع کے قاتل کالعدم سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے دہشتگرد آزاد اور دندناتے پھرتے ہیں۔

شیعہ نیوز )پاکستای شیعہ خبر رساں ادارہ( کراچی میں ایک بار پھر بڑھتی ہوئی شیعہ نسل کشی کے خلاف مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈویژن کے زیر اہتمام آل شیعہ پارٹیز پریس کانفرنس کا انعقاد آج بروز جمعرات 24 جنوری کو صوبائی سیکریٹریٹ کلیٹن گارڈن، سولجربازار میں کیا جائیگا۔

آل شیعہ پارٹیز پریس کانفرنس میں ایم ڈبلیوایم پاکستان کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکٹری علامہ سید احمد اقبال رضوی، سربراہ جعفریہ الائنس پاکستان علامہ عباس کمیلی، سربراہ مجلس علمائے شیعہ علامہ مرزا یوسف حسین، جنرل سیکٹری ہیت آئمہ مساجد و علمائے امامیہ پاکستان علامہ سید باقر عباس زیدی، سربراہ مجلس ذاکرین امامیہ علامہ نثار احمد قلندری، ذاکر اہلبیتؑ علامہ فرقان حیدر عابدی، ریجنل صدر امامیہ آرگنائزیشن کراچی ڈویژن ضیاء عباس، ڈویژنل صدر امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کراچی ڈویژن محمد عباس، صدر مرکزی تنظیم عزاداری پاکستان ایس ایم نقی و دیگر شیعہ رہنما شریک ہوں گے اور شہر قائد میں ہونے والی شیعہ کلنگ کی نئی لہر پر متفقہ لائحہ عمل بیان کریں گے۔

تحریر: توقیر کھرل

اے میرے ہم وطن پاکستانیوں!

2013ء کی یہ چیختی تصویریں ہم کوئٹہ کے ہزارہ کمیونٹی کی ہیں، جب ہمارے ورثاء 86 اجساد علمدار چوک پہ رکھ کر انتہا پسندانہ سوچ کے خلاف سراپا احتجاج تھے۔ محب وطن پاکستانیوں نے ہم شہداء کا خون رائیگان نہیں جانے دیا تھا۔ وقت کے فرعونوں اور یزیدیوں کے خلاف احتجاج جاری رکھا اور احتجاج کی صدا کو ہوا میں تحلیل نہیں ہونے دیا اور ہماری ارواح ساتویں آسمان پہ شاد تھیں۔ ہم دیکھ رہے تھے کہ کوئٹہ کے مظلوموں کا احتجاج ملک بھر میں پھیل گیا تھا، محب وطن پاکستانیوں نے یہ ثابت کیا تھا کہ جو لوگ مظلومانہ جدوجہد کرتے ہیں، وہی کامیاب ٹھہرتے ہیں۔

اے محب وطن پاکستانیوں!

تم نے جنازوں کو سڑک پہ رکھ کر پرامن احتجاج کیا اور ثابت کیا تھا کہ اصل طاقت ظلم میں نہیں مظلومیت میں ہے، لیکن افسوس کہ جن ملک دشمن گروہوں نے ہم محب وطن پاکستانیوں کو نفرت کا نشانہ بنایا تھا، وہ آج ہمارے ملک کے محافظوں کی نماز باجماعت کے پیش امام بن چکے ہیں۔

ہم سوال کرتے ہیں

ہمارے خون کی ہولی کھیلنے والوں سے وطن کے محافظ صف اول میں تصویریں بنواتے ہیں اور امن کی بات کرتے ہیں، بھلا شر مطلق تکفیریوں سے امن کی کیسی توقع؟

شہدائے کوئٹہ 10 جنوری 2013ء

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) عمران خان کا نیا پاکستان کربلا کا منظر پیش کرنے لگا، ڈی آئی خان میں شیعیان علیؑ کے خون سے ہولی کھیلنے کا سلسلہ رک نہ سکا، آج مزید ایک شیعہ کو شہید کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کمشنری بازار میں محلہ قصابان میں دودھ فروش افتخار حسین کوتکفیری دہشتگردوں نے فائرنگ کر کے شہید کردیا۔ اس سے قبل بھی گزشتہ جمعہ کو مطیع اللہ عرف موتی کو موٹر سائیکل سوار دہشت گردوں نے شہید کر دیا تھا جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پر آگئی تھی مگر عمران خان کے نئے پاکستان کی نااہل انتظامیہ نے اس پر اب تک کوئی ایکشن نہیں لیا۔

واضح رہے کہ عمران خان نے تکفیری مائنڈ سیٹ اور پاکستان میں طالبان و داعش کے سربراہ ملا سمیع الحق کو سینیٹ انتخابات کے لیے چنا ہے، اس سے قبل بھی عمران خان نے ابو طالبان ملا سمیع الحق کے مدرسے کے لیے حکومتی فنڈ سے خطیر رقم جاری کی تھی۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) معروف امریکی تجزیہ کار کیتھ پریسٹن (Keith Preston) نے کہا ہے کہ آل سعود رژیم کی جانب سے العوامیہ کے شہر قطیف میں شیعہ نسل کشی کا حقیقی سبب ان کا وہابی طرز فکر ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی حکام نے وہابی طرز فکر کی بنیاد پر یمن اور قطیف میں شیعہ نسل کشی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ یاد رہے گذشتہ چند ہفتوں سے سعودی فورسز نے شیعہ اکثریتی علاقے العوامیہ کے شہر قطیف کا محاصرہ کر رکھا ہے اور طاقت کے زور پر وہاں کے مقامی افراد کو زبردستی نقل مکانی پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ اب تک سعودی سیکورٹی فورسز کی جانب سے 30 بیگناہ شیعہ شہریوں کو شہید کیا جا چکا ہے جبکہ بڑی تعداد میں افراد کو جلاوطنی پر مجبور کر دیا گیا ہے۔

کیتھ پریسٹن نے اس سوال کے جواب میں کہ سعودی حکومت کی جانب سے العوامیہ کا محاصرہ کر کے شیعہ مسلمانوں کے خلاف فوجی طاقت استعمال کرنے اور سینکڑوں شیعہ شہریوں کو اپنا گھر چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور کر دینے کی اصل وجہ کیا ہے؟ کہا: "آل سعود رژیم جو اقدامات العوامیہ میں انجام دے رہی ہے وہ یمن میں انجام پانے والے ان کے اقدامات سے مشابہت رکھتے ہیں۔ یہ بھی اسی منصوبے کا حصہ ہے۔ سعودی حکومت اپنے ملک اور یمن میں شیعہ مسلمانوں کے قتل عام کے ذریعے ایران کے خلاف جنگ میں مصروف ہے۔ یمن اور قطیف میں سعودی رژیم کی جانب سے شیعہ مسلمانوں کے قتل عام کی وجہ واضح ہے۔ یہ ایک منظم قتل عام ہے جس کا مقصد خطے میں شیعہ آبادی کا خاتمہ اور قلع و قمع ہے۔ ان سعودی اقدامات کے پیچھے دو بنیاد محرکات موجود ہیں۔ پہلا محرک سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی ایران اور یمن سے دشمنی اور کینہ توزی ہے۔ وہ اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ یمن اور سعودی عرب میں موجودہ شیعہ مسلمان ایران کے اثرورسوخ میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔"

امریکی سیاسی تجزیہ کار کیتھ پریسٹن نے مزید کہا: "سعودی حکام امیدوار ہیں یمن میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو روک سکتے ہیں۔ سعودی اقدامات کی اصل وجہ ایران اور سعودی عرب میں ٹکراو اور کشمکش کے تسلسل کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر وسیع سیاسی تنازعات میں پوشیدہ ہے۔ ایران، شام کی طرح ایک ایسا ملک ہے جو واشنگٹن کے مقابلے میں مزاحمت کر رہا ہے اور اپنے معاشرے کی ترقی اور تجدید چاہتا ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب اور خطے میں اس کے اتحادی ممالک نے واشنگٹن سے اتحاد کر رکھا ہے۔ یمن میں حوثی قبائل کے برسراقتدار آنے سے سعودی حکومت شدید پریشان ہے کیونکہ اس کی نظر میں ایران کی حامی نئی طاقت ابھر کر سامنے آئی ہے۔

سعودی حکام یمن اور قطیف میں شیعہ مسلمانوں کا خاتمہ کر دینا چاہتے ہیں تاکہ خطے میں ایران کے حامی جذبات ختم کر سکیں۔ دوسرا محرک مذہبی ہے اور اس کی بنیاد وہابی طرز فکر پر ہے۔ وہابیت پر مبنی نظریات کی بنیاد پر شیعہ کافر جانے جاتے ہیں اور ان کا خون بہانا جائز ہے۔ لہذا سعودی حکومت شیعہ مسلمانوں کو نابود کرنا چاہتی ہے۔"

کیتھ پریسٹن نے اس سوال کے جواب میں کہ سعودی عرب میں رونما ہونے والے حالیہ واقعات محمد بن سلمان کو طاقت کی منتقلی کے بعد پیش آئے ہیں، آپ ان حالات کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟ کہا: "محمد بن سلمان نے سعودی عرب کی خارجہ اور داخلہ سیاست میں پیش آنے والے مسائل خاص طور پر یمن کی جنگ اور تہران ریاض تعلقات کے بارے میں شدت پسندانہ موقف اختیار کر رکھا ہے لہذا اس میں کوئی تعجب والی بات نہیں کہ یمن اور العوامیہ میں شیعہ مسلمانوں پر حملے محمد بن سلمان کے برسراقتدار آنے کے فوراً بعد شروع ہو جاتے ہیں۔ آپ اس بات پر غور کریں کہ شیعہ مسلمانوں کے خلاف حملوں کی شدت میں اضافہ اور محمد بن سلمان کی جانب سے مجوزہ اصلاحات نہ صرف ان کا ولیعہد کے عہدے پر ترقی پانے کے بعد سامنے آئی ہیں بلکہ سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان اسلحہ کی فروخت کے جدید معاہدے کے بعد بھی سامنے آئی ہیں۔ یہ تمام عوامل موجودہ حالات کے معرض وجود میں آنے میں کارفرما ہیں۔"

امریکی تجزیہ کار کیتھ پریسٹن نے کہا: "آل سعود خاندان نے ایک جوان شہزادے کو ولیعہد کیلئے انتخاب کیا ہے۔ یہ جوان ولیعہد سعودی عرب میں اصلاحات کے نفاذ اور تبدیلیوں کے ذریعے ملک کو اس مغربی ثقافتی ماڈل اور نیولبرل اقتصادی ماڈل کے قریب کرنا چاہتا ہے جسے امریکہ کی حمایت حاصل ہے۔ محمد بن سلمان کی ولیعہد کے طور پر تقرری امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دورہ سعودی عرب کے ایک ماہ بعد انجام پائی ہے جس میں دونوں ممالک کے درمیان 110 ارب ڈالر اسلحہ خریدنے کا معاہدہ طے پایا تھا۔ اب محمد بن سلمان کے ولیعہد بن جانے کے بعد یمن اور قطیف میں سعودی حملوں کی شدت میں مزید اضافہ مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔"

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) خطیب جامع مسجد پاراچنار علامہ فدا حسین مظاہری نے کہا ہے کہ دہشت گرد ملکی سالمیت کو داو پر لگانے کے لئے قبائلی روایات سے ہٹ کر اب خواتین اور بچوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔ کرم ایجنسی میں دہشت گردی کے پے در پے واقعات سے وطن عزیز کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ پاراچنار کے مرکزی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے علامہ فدا حسین مظاہری نے کہا کہ حکومت ریاست میں حق حاکمیت کهو چکی ہے، اس لئے وہ فوری طور پر مستعفی ہو جائے۔ حکمرانوں کی اس سے بڑی ناکامی اور کیا ہو سکتی ہے کہ پاراجنار کرم ایجنسی میں یہ دسواں بڑا دھماکہ ہے مگر وہ ابھی تک ایک دھماکے کے ملزمان اور ان کے سہولت کاروں کو گرفتار نہ کرسکی۔ علامہ فدا حسین نے کہا کہ کرم ایجنسی کے عوام جنازوں پہ جنازے اٹها رہے ہیں مگر دہشت گردوں کو لگام دینے والا کوئی نہیں، ایک طرف ہماری نسل کشی ہورہی ہے جبکہ دوسری طرف حکومت نے بے حسی کی انتہا کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دہشت گرد پیدا کرنے والی فیکٹریوں کو مسمار نہ کیا گیا اور جنت کے ٹکٹیں بانٹنے والوں کو لگام نہ دیا گیا تو اس سے پاکستان کی سالمیت بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ حکومت عوام سے جینے کا حق چھیننے والوں کے خلاف کارروائی کرے۔

 

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) پاراچنار کرم ایجنسی میں بارودی دھماکہ میں قیمیتی جانوں کی ضیاع سکیورٹی اداروں کی ناکامی کا ثبوت ہے،اس المناک سانحے کی شدید مذمت کرتے ہیں،ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے سانحہ کرم ایجنسی پر اپنے مذمتی بیان میں کیا انہوں نے کہا کہ سترہ بے گناہوں کی شہادت پر حکمرانوں کی خاموشی افسوس ناک ہے،کرم ایجنسی کے عوام کو دہشتگردوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ہے۔

سربراہ ایم ڈبلیو ایم نے کہاکہ کرم ایجنسی کے مظلوم عوام داعش اور دیگر دہشتگردوں کے نشانے پر ہیں،لیکن قانون نافذ کرنے والے اور سکیورٹی ادارے الٹا پرامن عوام کو ہراساں کرنے میں مصروف ہیں،پاراچنار میں چیک پوسٹوں سے رضاکاروں کو ہٹا کر دہشتگردوں کو سیف سائیڈ دی گئی ہے،ہم ایک عرصے سے کہہ رہے ہیں کہ جب تک ان غدار دہشت گردوں کے سہولت کاروں اور ان کی نرسریوں کے خلاف کاروائی نہیں ہوتی یہ حملے ہوتے رہیں گے اور قیمتی جانوں کا ضیاع ہوتا رہے گا ، اگرنیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد ہوتا تو آج اس طرح کی مذموم کاروائیاں نہ ہوتیں ،کرم ایجنسی پارا چنار میںیہ دسواں دھماکہ ہے، پاراچنارکے مظلومین کو تحفظ دینے میں سکیورٹی ادارے وہاں کا پولیٹیکل ایجنٹ اور اسکی ٹیم ناکام ہو چکی ہے،ضرب عضب اورآپریشن ردالفساد کے باوجود پاراچنار کے محب وطن عوام پر پے درپے حملے پوری قوم کے لئے لمحہ فکریہ ہے،پاراچنار میں ہونے والے مسلسل دہشتگردانہ حملوں پر حکومت میڈیا اور سکیورٹی اداروں کی خاموشی بہت سے سوالات کو جنم دے رہا ہے۔

 

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) اسلامی تحریک پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کرم ایجنسی کے علاقہ گودر میں مسافر کوچ کو ریمورٹ کنٹرول بم دھماکے میں خواتین اور بچوں سمیت 10 افراد سے زائد جانی ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کرم ایجنسی میں ایک تسلسل اور منصوبہ بندی کے تحت محب وطن شہریوں اور آبادیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اس علاقہ کو دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑا ہوا ہے، جس کے باعث وقفے وقفے سے کرم ایجنسی میں دہشتگردی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ شیعہ علماء کونسل پنجاب کے صدر علامہ سبطین حیدر سبزواری سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ ساجد نقوی کا کہنا تھا کہ ملک میں جاری آپریشن ضرب عضب و ردّالفساد کے بعد بھی کرم ایجنسی میں دہشتگردی کے پے در پے واقعات کا رونما ہونا افسوسناک اور ریاستی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ قانون نافذ کرنیوالے ریاستی اداروں کو پہلے اپنے ملک سے دہشتگردوں کے مکمل خاتمے کیلئے عملی طور پر ٹھوس اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں امن و سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے شدت پسندی کا خاتمہ نہایت ضروری ہے اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ علامہ ساجد نقوی نے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے شہداء کی بلندی درجات اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی۔

 

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) گودر سے صدہ شہر جاتے ہوئے ایک پک اپ گاڑی پر بارود سے حملہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں 17 شیعہ مومنین شہید اور 10 زخمی ہوئے ہیں جن میں معصوم بچے بھی شامل ہیں۔ واضح رہے کہ ۲۵ روز قبل ۳۱ مارچ بروز جمعہ پارچنا ر کےمرکزی بازار میں دھماکہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد شہید ہوئے تھے،جبکہ بعد از دھماکہ احتجاج کرنے والے مومنین پر بھی ایف اہلکاروں نے کرنل عمر کی ہدایت پر فائرنگ کردی تھی ، پارچنار کی عوام نے کرنل عمر کی برطرفی کا مطالبہ کیا تھا لیکن ریاستی اداروں نے اس پر کان تک نہیں دھرے اور آج ایک با ر پھر ایف کی کڑی سیکورٹی کے باوجود دہشتگردوںنے بارود نصب کرکے ۲۰ سے زائد شیعہ مسلمانوں کو قتل کردیا ۔

دھیاں رہے کہ پاکستان میں منظم شیعہ نسل کشی جاری ہے۔سینٹرل کرم، پاڑہ چمکنی میں صرف ایک شیعہ گاؤں ہے اور وہاں آج بم نصب کرکے دھماکہ کیاگیا ہے۔پولیٹیکل انتظامیہ کے بعد ایف سی بھی لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہوئی ہے۔ یاد رہے امن و امان بہتر کرنے کے سلسلے میں ایف سی کے کرنل عمر دو دن پہلے سینٹرل کرم کا دورہ کیا تھااور آج اسکے بعد یہاں دھماکہ ہوا ہے۔