شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نےسانحہ ہزارگنجی کےخلاف جمعہ کو ملک گیر یوم احتجاج کا اعلان کردیا۔

 کوئٹہ میں پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے  علامہ راجہ ناصر کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں حکومت کی نہیں دہشتگردوں کی رٹ قائم ہے،ہزارگنجی دھماکے اور کوئٹہ میں موجودہ شیعہ ہزارہ برادری کی نسل کشی کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔ تسلسل کیساتھ جاری اس ظلم و بربریت کے خلاف جمعہ کو ملک گیر احتجاجی مظاہرے کریں گے۔

 انھوں نے کہا کہ آخر ہماری حکومتیں بلوچستان کو کیوں نظر انداز کرتی ہیں،یہاں کے امن پر پے در پے حملوں پر حکمرانوں کی خاموشی لمحہ فکریہ ہے ،مستقبل کے معاشی گیٹ وے کو نظر انداز کرنا انتہائی مضحقہ خیزہے، بلوچستان میں دہشتگردوں کی نرسری اورکالعدم گرہوں کو لگام نہ دینا حکمرانوں کی نااہلی ہے۔ کہاں ہے نیشنل ایکشن پلان؟؟؟ہمیں مصالحتی رویہ ترک کرتے ہوئے ملکی و قومی سلامتی کیلئے فیصلہ کن اقدامات کرنے ہونگے۔ہم خانوادہِ شہداء کے لواحقین کیساتھ بھر پور اظہار یکجہتی کرتے ہیں اور اس مشکل کی گھڑی میں انکو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گئے اور نہ ہی اس مقدس شہداء کے لہو کو سازشی عناصر کے ہاتھوں رائگاں جانے دیں گے۔کوئٹہ کے باشعور اور محب وطن عوام ان سازشوں کا ادراک کرتے ہوئے دشمن کے مضموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  مجلس وحدت مسلمین کے سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ ملک اور اسلام دشمن عناصر کا منصوبہ تھا کہ ملت جعفریہ کی سیاسی و مذہبی طاقت کو توڑ دیا جائے، اس مقصد کی خاطر ہمارے قائد علامہ عارف حسین الحسینی کو شہید کیا گیا، تکفیری گروہ بنائے گئے، تکفیری نعرے لگوائے گئے، عوامی سطح پر اہل تشیع کو منفور کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا گیا لیکن الحمد اللہ قوم نے اپنی ثابت قدمی سے دشمن کو اس کے ارادوں میں ناکام بنا دیا ہے۔ آج تکفیری خود تنہا ہیں۔

 مرکزی جانثاران امام مہدی عج کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے علامہ ناصر عباس نے کہا کہ دشمن چاہتا تھا کہ ملت جعفریہ کو سیاسی، مذہبی، سماجی اور معاشرتی لحاظ سے ختم کردیا جائے۔ پاکستان میں امریکا اور آل سعود نے شیعہ نسل کشی کرائی، کالعدم جماعتوں کو سپورٹ کیا گیا، بسوں سے شہریوں کو اتار کر شناختی کارڈ دیکھ کر قتل کیا گیا، بانیان پاکستان کی اولادوں کا قتل عام کیا گیا۔

علامہ ناصر عباس نے کہا کہ وطن و اہل وطن، دین و مذہب کے خلاف کسی سازش کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ خون کے آخری قطرے تک ملک و اسلام کی حفاظت کرتے رہیں گے، ہم نے اس ملک میں بہت پرآشوب حالات دیکھے ہیں لیکن ہماری جماعت اور ہماری قوم نے ان حالات میں بڑی استقامت کا مظاہرہ کیا۔ سانحہ روالپنڈی کا فتنہ کھڑا کیا گیا تاکہ اس کا سارا ملبہ ملت تشیع پر گرایا جائے لیکن وقت نے ثابت کیا کہ اس سانحہ میں بھی وہی لوگ خود ملوث تھے اور ڈی جی آئی ایس پی آر نے اصل حقیقت آشکار کر دی۔ پاکستان اور اہلیان پاکستان کے خلاف کسی فتنے کا ساتھ نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تکفیریوں کو قومی دھارے میں لانے کی کوشش کی جارہی ہے جس پر ہم واضح کردینا چاہتے ہیں کہ جب تک آئین پاکستان میں ترمیم کرکے تکفیر کو قابل تعزیر جرم قرار نہیں دیا جاتا، تکفیری عناصر ہزاروں مسلمانوں کے قتل پر لواحقین سے معافی نہیں مانگتے اس وقت ان قاتلوں کو معافی نہیں ملنی چاہیئے، کسی ملا اور حکمران کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ان کو معاف کرے۔ وارثان شہدا کو خون کا حساب دیا جائے۔

علامہ ناصر عباس جعفری نے حکومت کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر مسنگ پرسن کا مسئلہ حل نہ کیا گیا تو وہ دوبارہ بھوک ہڑتال پر بیٹھ سکتے ہیں، دنیا بھر میں اپنے مظلوموں کی آواز کو پہنچائیں گے۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں شیعہ کلنگ جاری ہے مگر ایک چھوٹے سے شہر میں اس پر قابو نہیں پایا جا رہا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پر واضح کیا ہے کہ وہ اقدامات کریں، ہم حکمرانوں کو بار بار کہہ رہے ہیں کہ وہ اس مسئلے پر توجہ دیں۔ ہم گلگت و بلتستان کے حقوق کیلئے ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ جی بی کے شہریوں کو ان کی آئینی شناخت ملنی چاہئے۔ ہم اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ پاکستان کے تمام مظلوموں کی آواز بنیں گے، ہم مسلک، مذہب، رنگ نسل سے بالاتر ہوکر سب کے لیے جدوجہد کا اعلان کرتے ہیں۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)    مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ سید باقرعباس زیدی نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے اپنی تاسیس سے لے کر اب تک ہمیشہ ملک میں آئین و جمہوری اقدار کی پاسداری کی ہے اور ملک دشمن عناصر،تکفیریت،دہشت گردی، لاقانونیت، کیخلاف آواز اٹھائی اور حقیقی عوامی مسائل کے حل کے لئے عملی کوششیں کی ہیں۔

علامہ باقر عباس کا کہنا تھا کہ کراچی، کوئٹہ، ڈیرہ اسماعیل خان، راولپنڈی اور ملک کے دیگر شہریوں میں مسلسل جاری شیعہ ٹارگٹ کلنگ ہے۔ گذشتہ 2 ہفتے کے دوران کراچی میں وجاہت عباس، ڈیرہ اسماعیل خان میں قیصرعباس شاہ، دلاور علی، غلام عباس اور غلام قاسم، راولپنڈی میں ثاقب بنگش، کوہاٹ میں آصف حسین ایڈوکیٹ جبکہ کل کوئٹہ میں بلوچستان یونیورسٹی کے سپرنٹنڈنٹ حسین شاہ کو بے دردی سے گھات لگا کر نشانہ بنایا گیا۔ سر عام ٹارگٹ کلنگ کی یہ واردتیں لمحہ فکریہ ہیں،حکومت ٹارگٹ کلنگ کی روک تھام میں ناکام نظر آتی ہے۔ شیعہ ٹارگٹ کلنگ کے ان حالیہ واقعات کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ پے در پے واقعات کے باوجود سکیورٹی اداروں سے ان شہروں میں سیکورٹی رٹ قائم نا ہو سکی گذشتہ چند روز سے دہشتگردی کا ایک نا رکنے والا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا۔ شہر قائد میں معروف اہل سنت عالم دین مفتی تقی عثمانی پر قاتلانہ حملہ کیا گیا جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ ہم اس سانحے میں شہید ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں کے اہل خان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ بھارت نے حالیہ جنگی جارحیت کی ناکام کوشش میں پاکستان کی مسلح افواج کے ہاتھوں جس ذلت کا سامنا کیا ہے۔ اس سے مودی سرکار بلبلائی ہوئی ہے اور اپنی شکست کا بدلالینے کیلئے پاکستان میں موجود اپنے ایجنڈوں کے ذریعے ملکی سلامتی اور استحکام کو تہہ وبالا کرنے کے درپہ ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ مفتی تقی عثمانی پر قاتلانہ حملے بعد شیعہ علمائے کرام، قائدین اور اکابرین کو بھی سخت سکیورٹی تھریٹس ہیں۔ افسوس عظیم علمائے کرام کی قیمتی جانوں کے نقصان کے باوجود حکومت اور سکیورٹی ادارے فعال شیعہ علماء، اکابرین اور قائدین کی حفاظت میں کوتاہی برت رہے ہیں،طویل عرصہ سے شہر قائد میں شیعہ علماء اور قائدین کی سکیورٹی واپس کی گئی ہے جسے سخت سکیورٹی خدشات کے باوجود بحال نہیں کیا جارہا۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں تمام ترذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوگی۔ ہم وزیر اعلیٰ سندھ اور آئی جی سندھ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت اور سکیورٹی ادارے ہمارے صبر کا مزید امتحان نا لیں۔ ہمیں مجبور نہ کیا جائے کہ ہم اس دہشت گردی کیخلاف ناختم ہونیوالے احتجاج کا سلسلہ شروع کریں۔ ہم وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ حالیہ شیعہ ٹارگٹ کلنگ میں ملوث قاتلوں کو فور ی طور پر گرفتار کیا جائے اور شہداء کے خاندانوں کی مالی سرپرستی کی جائے۔ وہ فعال شیعہ علمائے کرام، قائدین اور اکابرین کی فول پروف سکیورٹی کا فوری بدوبست کریں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچاجاسکے۔

پریس کانفرنس کے موقع پر ایم ڈبلیوایم کے رہنما مولانا صادق جعفری، مولانا علی انور جعفری، مولانا غلام عباس، علامہ مبشر حسن، ناصر الحسینی، احسن عباس رضوی سمیت دیگربھی موجود تھے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  مجلس وحدت مسلمین کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ احمد اقبال رضوی نے کہا ہے کہ کوئٹہ سریاب روڈ پر سرعام ٹارگٹ کلنگ کی واردتیں لمحہ فکریہ ہیں۔ سید حسین شاہ کی ٹارگٹ کلنگ میں شہادت کی شدید مذمت کرتے ہیں پے در پے واقعات کے باوجود کوئٹہ انتظامیہ سے ایک سریاب روڈ پر سیکورٹی رٹ قائم نا ہو سکی، دہشت گرد بلاخوف خطر سڑکوں پر چوکیوں کو باوجود اسلحہ سے لیس پھرتے ہیں ۔

 علامہ احمد اقبال رضوی نے کہا کہ کہاجا رہا ہے کہ بلوچستان میں کوئی نوگو ایریا نہیں رہا لیکن دیکھنے میں یہ آیا کہ آئے روز صوبائی دارلحکومت میں دہشت گرد کسی نہ کسی شہری کو خون میں نہلا کر با آسانی فرار ہوجاتے ہیں شہر میں موجودجا بجا چوکیاں صرف شہریوں کو تنگ کرنے اور مال بردار گاڑیوں سے بھتہ لینے کا کارنامہ سرانجام دے رہی ہیں ۔بلوچستان حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سید حسین شاہ کے قاتلوں کو فور ی طور پر گرفتار کیا جائے ۔اور شہید کے خاندان کی مالی سرپرستی کی جائے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  گذشتہ روز ملتانی محلہ اورنگی ٹاؤن میں تکفیری دہشت گردوں کی فائرنگ سے شہید ہونے والے ماتمی عزادار وجاہت عباس کی نماز جنازہ مسجد حیدر کرار اورنگی میں ادا کردی گئی۔

شہید وجاہت عباس کی نماز جنازہ مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈویژن کے سیکریٹری جنرل علامہ صادق جعفری کی زیر اقتداء ادا کردی گئی، شہیدوجاہت عباس کو آہوں اور سسکیوں میں مقامی قبرستان میں سپردخاک کردیا گیا، اس موقع پر جعفریہ الائنس کے ایڈیشنل جنرل سیکریٹری شبر رضا ، ایم ڈبلیوایم کراچی ڈویژن کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ مبشر حسن سمیت علمائے کرام سیاسی وسماجی شخصیات ،علاقہ عوام اور پسماندگان بڑی تعداد میں شریک تھے۔بعد ازاں ایم ڈبلیوایم کے وفد نے شہید کے گھرجاکر اہل خانہ سے تعزیت کا اظہارکیا اور فاتحہ خوانی کی۔

یاد رہے کہ شہید وجاہت عباس چند روز قبل اٹلی سے اپنے بھائی کی شادی میں شرکت کی غرض سے پاکستان واپس آئے تھے جنہیں دو روز قبل سپاہ صحابہ کے ملک دشمن تکفیری دہشت گردوں نے فائرنگ کرکے شہید کردیا تھا اور خوشی کے دنوں میں اس گھرانہ کو ناقابل تلافی صدمے سے دوچار کردیاتھا۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن کے رہائشی وجاہت عباس کو کالعدم سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں نےفائرنگ کر کے شہید کردیا۔

تفصیلات کے مطابق شہر قائد میں کالعدم سپاہ صحابہ لشکر جھنگوی کے تکفیری دہشت گردایک مرتبہ پھر بے لگام ہوگئے ہیں، ملتانی محلّہ 9e اورنگی ٹاؤن کے رہائشی عزادار  وجاہت حسین شہید کو فائرنگ کرکےکردیا گیا۔ شہید وجاہت اپنے بھائی کی شادی کی سلسلے میں چند روز قبل پاکستان واپس آئے تھے۔

دہشتگردوں کی فائرنگ کے فوری بعد وجاہت حسین کوزخمی حالت میں عباسی شہید اسپتال منتقل کیاگیاجہاں ڈاکٹرزنے ان کی شہادت کی تصدیق کردی بعد ازاں شہید کا جسد خاکی امام بارگاہ شاہ کربلاؑرضویہ سوسائٹی ناظم آباد منتقل کردیا گیا۔

 شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  مجلس وحدت مسلمین  پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ احمد اقبال رضوی نے  ڈیرہ اسماعیل خان میں مسلسل شیعہ نسل کشی کے خلاف سڑکوں پر آنے کا عندیہ دے دیا۔

علامہ احمد اقبال رضوی کا کہنا تھا کہ ڈی آئی خان مسلسل فرقہ ورانہ ٹارگٹ کلنگ کے خلاف جمعہ کے روز ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔ کے پی کے حکومت نے ڈی آئی خان کو دہشت گردوں کے رحم کرم پر چھوڑ دیا ہے ۔ایک ماہ میں تیرہ افراد ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بن چکے ہیں ۔

 انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخواہ کا علاقہ ڈیرہ اسماعیل خان گذشتہ کئی عرصے سے ملت جعفریہ کی مقتل گاہ بن چکا ہے،آئے دن بے گناہ شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ جاری ہے، ستم ظریفی یہ ہے کہ دہشتگرد اب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی وردیوں میں ملبوس آتے ہیں،اور باآسانی واردات کرکے فرار ہوتے ہیں،ڈیرہ اسماعیل خان کے تحصیل پروہ میں دہشتگردوں نے پولیس وین پر حملہ کیا ایس ایچ اور کو شہید کیا اور ساتھ میں پمفلٹ بانٹ کر گئے جس میں باقاعدہ یہ درج تھا کہ ہم شیعہ آبادیوں اور افراد کو نشانہ بنائیں گے۔

علامہ احمد اقبال کا کہنا تھا کہ اس وقت ڈیرہ ااسماعیل خان کے رہائشی ایک کرب کے عالم میں زندگی گزار نے پر مجبور ہیں۔گزشتہ رات ہی ڈیرہ اسماعیل خان میں تین موٹر سائیکلوں پر سوار دہشتگرد وں نے تحصیلدار حق نواز کے جواں بیٹے کو اغوا کرنے کی کوشش کی مزاحمت پر انکے دو چچا شہید اور بھائی کو زخمی کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ دن پہلے ڈیرہ میں ہی ذاکراہلِ بیتؑ قیصر شائق جو کہ ٹی ایم اے کے ملازم تھے کو بھی دن دیہاڑے گولیوں کا نشانہ بنایا گیا اور قاتل باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔

خیبر پختونخواہ میں جاری اس دہشتگردی کی لہر کو روکنے میں قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل ناکام نظر آتے ہیں۔ایک طرف نیشنل ایکشن پلان عملدرآمد کی باتیں ہو رہی ہیں تو دوسری طرف ملت جعفریہ کے بے گناہ افراد کا قتل عام جاری ہیں۔راوالپنڈی چاندنی چوک پر بھی بھرے بازار میں خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان کوکل رات گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔قانون نافذ کرنے والے ادارے اس قتل کے محرکات کو بھی سامنے لائیں۔

علامہ احمد اقبال کا کہنا تھا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں ہم مکمل بے رحمانہ فوجی آپریشن کا مطالبہ کرتے ہیںاور پولیس کی صفوں میں موجود دہشتگردوں کے سہولت کاروں کے خلاف بھی کاروائی کا مطالبہ کرتے ہیں ،جن کے بارے میں خود حکومتی رپورٹس موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مجبور نہ کیا جائے کہ ہم ایک بار پھر سے اپنے مطالبات کے لئے سٹرکوں پر نکل آئیں ۔ریاست عوام کی جان مال کی تحفظ کے ذمہ دار ہیں
وزیر اعظم خود اس ظلم بربریت پر ایکشن لیں اور ڈیرہ اسماعیل خان کے مظلومین کو تحفظ فراہم کریں۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  پاکستان میں شیعہ نسل کشی کا سلسلہ نہ رک سکا،کوہاٹ میں شیعہ وکیل نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد دفتر جاتےہوئے شھید کردیے گئے۔

ملک عزیز پاکستان میں بانیان پاکستان کی اولادوں کی نسل کشی کا سلسلہ رک نہیں سکا، کوہاٹ میں شیعہ وکیل ایڈوکیٹ آصف حسین کو نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد مسجد سے دفتر جاتےہوئے کالعدم لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں نے فائرنگ کر کے شہید کردیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ایک دہائی سے پاکستان میں ملت تشیع کے قابل اور متحرک افراد کو منظم منصوبہ بندی کے تحت چن چن کر قتل کیا جارہا ہے جبکہ ملت تشیع کے قاتل کالعدم سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے دہشتگرد آزاد اور دندناتے پھرتے ہیں۔

شیعہ نیوز )پاکستای شیعہ خبر رساں ادارہ( کراچی میں ایک بار پھر بڑھتی ہوئی شیعہ نسل کشی کے خلاف مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈویژن کے زیر اہتمام آل شیعہ پارٹیز پریس کانفرنس کا انعقاد آج بروز جمعرات 24 جنوری کو صوبائی سیکریٹریٹ کلیٹن گارڈن، سولجربازار میں کیا جائیگا۔

آل شیعہ پارٹیز پریس کانفرنس میں ایم ڈبلیوایم پاکستان کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکٹری علامہ سید احمد اقبال رضوی، سربراہ جعفریہ الائنس پاکستان علامہ عباس کمیلی، سربراہ مجلس علمائے شیعہ علامہ مرزا یوسف حسین، جنرل سیکٹری ہیت آئمہ مساجد و علمائے امامیہ پاکستان علامہ سید باقر عباس زیدی، سربراہ مجلس ذاکرین امامیہ علامہ نثار احمد قلندری، ذاکر اہلبیتؑ علامہ فرقان حیدر عابدی، ریجنل صدر امامیہ آرگنائزیشن کراچی ڈویژن ضیاء عباس، ڈویژنل صدر امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کراچی ڈویژن محمد عباس، صدر مرکزی تنظیم عزاداری پاکستان ایس ایم نقی و دیگر شیعہ رہنما شریک ہوں گے اور شہر قائد میں ہونے والی شیعہ کلنگ کی نئی لہر پر متفقہ لائحہ عمل بیان کریں گے۔

تحریر: توقیر کھرل

اے میرے ہم وطن پاکستانیوں!

2013ء کی یہ چیختی تصویریں ہم کوئٹہ کے ہزارہ کمیونٹی کی ہیں، جب ہمارے ورثاء 86 اجساد علمدار چوک پہ رکھ کر انتہا پسندانہ سوچ کے خلاف سراپا احتجاج تھے۔ محب وطن پاکستانیوں نے ہم شہداء کا خون رائیگان نہیں جانے دیا تھا۔ وقت کے فرعونوں اور یزیدیوں کے خلاف احتجاج جاری رکھا اور احتجاج کی صدا کو ہوا میں تحلیل نہیں ہونے دیا اور ہماری ارواح ساتویں آسمان پہ شاد تھیں۔ ہم دیکھ رہے تھے کہ کوئٹہ کے مظلوموں کا احتجاج ملک بھر میں پھیل گیا تھا، محب وطن پاکستانیوں نے یہ ثابت کیا تھا کہ جو لوگ مظلومانہ جدوجہد کرتے ہیں، وہی کامیاب ٹھہرتے ہیں۔

اے محب وطن پاکستانیوں!

تم نے جنازوں کو سڑک پہ رکھ کر پرامن احتجاج کیا اور ثابت کیا تھا کہ اصل طاقت ظلم میں نہیں مظلومیت میں ہے، لیکن افسوس کہ جن ملک دشمن گروہوں نے ہم محب وطن پاکستانیوں کو نفرت کا نشانہ بنایا تھا، وہ آج ہمارے ملک کے محافظوں کی نماز باجماعت کے پیش امام بن چکے ہیں۔

ہم سوال کرتے ہیں

ہمارے خون کی ہولی کھیلنے والوں سے وطن کے محافظ صف اول میں تصویریں بنواتے ہیں اور امن کی بات کرتے ہیں، بھلا شر مطلق تکفیریوں سے امن کی کیسی توقع؟

شہدائے کوئٹہ 10 جنوری 2013ء