شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے سانحہ اوماڑہ میں قیمتی جانوں کے زیاں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے دہشتگردی کے واقعے کی مذمت کی ہے۔

ترجمان آئی ایس او جلال حیدرنے اپنے مذمتی بیان میں کہا ہے کہ پاکستان میں امن کیلئے انتہا پسندوں کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ انتہا پسندانہ سوچ کا خاتمہ بھی ضروری ہے،دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو آزاد نہ کیا جاتا تو ایسے واقعات جنم نہ لیتے۔

 انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں جاری دہشتگردی میں انڈیا،اسرئیل اور امریکہ پوری طرح ملوث ہیں اوماڑہ سانحہ میں ملوث دہشتگردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)   سربراہ مجلس وحدت مسلمین علامہ راجہ ناصر عباس کی اوماڑہ سانحہ کی مذمت ۔کوسٹل ہائی وے پر بربریت اور سفاکیت کی انتہا کردی گئی بزدل دہشتگردوں نے رات کے اندھیرے میں نہتے مسافروں کے خون سے ہولی کھیلی ہے ملک دشمن دہشتگرد کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ ان خیالات کااظہار سربراہ مجلس وحدت مسلمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے میڈیا سیل سے جاری بیان میں کیا۔

 انہوں نے کہاکہ بلوچستان سمیت ملک بھر میں دہشتگردوں کی سرکوبی کے لئے تمام سیاسی و عسکری قیادت کو مل بیٹھنا ہو گا اور نیشنل ایکشن پلان کا از سرنوجائزہ لینا ہو گا ۔جانبحق ہونے والوں کے لواحقین کے ساتھ اظہار تعزیت کرتے ہیں ۔سانحہ میں سیکورٹی فورسز کے جوانوں کی اس طرح سے شہادت نہایت تکلیف دہ ہے ۔بلوچستان میں جاری دہشتگردی میں انڈیا،اسرئیل اور امریکہ پوری طرح ملوث ہیں اوماڑہ سانحہ میں ملوث دہشتگردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)   سربراہ مجلس وحدت مسلمین علامہ راجہ ناصر عباس کی اوماڑہ سانحہ کی مذمت ۔کوسٹل ہائی وے پر بربریت اور سفاکیت کی انتہا کردی گئی بزدل دہشتگردوں نے رات کے اندھیرے میں نہتے مسافروں کے خون سے ہولی کھیلی ہے ملک دشمن دہشتگرد کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ ان خیالات کااظہار سربراہ مجلس وحدت مسلمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے میڈیا سیل سے جاری بیان میں کیا۔

 انہوں نے کہاکہ بلوچستان سمیت ملک بھر میں دہشتگردوں کی سرکوبی کے لئے تمام سیاسی و عسکری قیادت کو مل بیٹھنا ہو گا اور نیشنل ایکشن پلان کا از سرنوجائزہ لینا ہو گا ۔جانبحق ہونے والوں کے لواحقین کے ساتھ اظہار تعزیت کرتے ہیں ۔سانحہ میں سیکورٹی فورسز کے جوانوں کی اس طرح سے شہادت نہایت تکلیف دہ ہے ۔بلوچستان میں جاری دہشتگردی میں انڈیا،اسرئیل اور امریکہ پوری طرح ملوث ہیں اوماڑہ سانحہ میں ملوث دہشتگردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)   سید راحت حسین الحسینی نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کا سب سے بڑا مسئلہ سیاسی پسماندگی ہے، جو سیاستدان بن کر عوام کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں ان کا کوئی معیار نہیں ہے، سیاست اور ٹھیکیداری وہ اہم شعبے ہیں جن کی کارکردگی سے عوام براہ راست متاثر ہوتے ہیں اور بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں سیاستدان اور ٹھیکیدار بننے کے لئے کوئی معیار نہیں، اس لئے علاقے کے بےشمار مسائل کی بنیادی وجہ یہی ہے، روندو تھوار میں حضرت علی اکبرؑ کے یوم ولادت باسعادت کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نااہل اور بےحس لوگ سیاست میں آنے کے بعد عوام کو اپنے مفادات کے لئے تقسیم کرتے ہیں اور آفاقی سوچ نہ ہونے کی وجہ سے عوامی مسائل میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

آغا راحت حسین نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان کی بدقسمتی ہے کہ ماہرین کے مطابق جی بی میں 50 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے اس کے باوجود یہاں تاریکی کا راج ہے، علاقائی وسائل کو استعمال کر کے ان سے فائدے حاصل کرنے کے لئے کوئی جامع پالیسی نہیں ہے، دریائے سندھ سے پاکستان بھر کو پانی مل رہا ہے لیکن گلگت بلتستان جہاں سے یہ دریا نکلتا ہے پینے کے لئے پانی میسر نہیں، گلگت میں عوام ٹینکر سے پانی خریدتے ہیں جو کہ لمحہ فکریہ ہے، جبکہ کوئی فنڈ آتا ہے تو سیاستدان سے لے کر کلرک اور چپڑاسی تک کا کمیشن مختص ہوتا ہے اور عوام کو کچھ بھی نہیں ملتا، گلگت بلتستان میں سیاسی پسماندگی اور بحران کے سب سے بڑے ذمہ دار سیاسی پارٹیوں کے وفاقی سربراہان ہیں، جو الیکشن کے دنوں آکر سبز باغ دکھا کر غائب ہو جاتے ہیں اور اگلے الیکشن میں پھر بےشرمی اور بےحسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئے وعدوں کے ساتھ وارد ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مذہب اور تعصب کو ہوا دے کر خود غائب ہو جاتے ہیں، یہاں کے عوام کو ان تمام موسمی نمائندوں جو مذہب اور علاقہ پرستی کو ہوا دیتے ہیں، کو مسترد کرنا چاہیئے، سوشل میڈیا پر منظم سازش کے تحت نفرت انگیر بیانات دیئے جا رہے ہیں اور ان سے پوچھنے والا کوئی نہیں، متعلقہ اداروں کو اس حوالے سے جاگنے کی ضرورت ہے۔ سرکاری اسامیوں پر مذہبی بنیاد پر تعیناتیاں کی جارہی ہیں جو کہ انتہائی افسوس ناک ہے۔ محفل میلاد کی تقریب کے بعد انہوں نے جامعہ بھبھانیہ کا دورہ بھی کیا اور طالبات سے مختصر خطاب کیا۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) پولیس نےشہید علی رضا عابدی پر فائرنگ کرنے والے ملزم کی شناخت حاصل کرلی ہے۔

پولیس کے مطابق شہید علی رضاعابدی کو 17 سالہ لڑکے نے آٹھ لاکھ روپے لے کر قتل کیا۔‎انسداد دہشت گردی عدالت نے مفرورملزمان حسنین، بلال، غلام مصطفی عرف کالی چرن اور فیضان کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیئے۔محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے مفرور ملزمان سے متعلق رپورٹ پیش کردی ہے۔ عدالت نے ملزمان کو آئندہ سماعت پر گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔سی ٹی ڈی آفیسر کے مطابق 17 سالہ مفرور ملزم بلال نے شہیدعلی رضا عابدی پر فائرنگ کی۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم بلال کی تصاویر بھی حاصل کرلی گئیں ہیں تاہم مفرور ملزمان روپوش ہیں جلد گرفتار کیا جائے گا۔پولیس کے مطابق ‎قتل کے لیے ملزمان کو آٹھ لاکھ روپے دیئے گئے اور حسينی بلڈنگ کے پاس نامعلوم شخص نے رقم ادا کی۔

پولیس نے بتایا کہ شہید‎علی رضا عابدی کے قتل ميں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل جلا دی گئی۔عدالت نے گرفتار ملزمان کو مقدمے کی نقول فراہم کردی ہیں۔ گرفتار شدگان ميں محمد فاروق، محمد غزالی، ابوبکر اورعبدالحسيب شامل ہیں۔واضح رہے شہید علی رضا عابدی کو گزشتہ برس 25 دسمبر کو ان کے گھر کے باہر قتل کیا گيا تھا۔واقعہ اس وقت پیش آیا جب ملزمان شہید علی رضا عابدی کا تعاقب کرتے ہوئے ان کے گھر تک پہنچے اور جسے ہی انہوں نے گھر کے دروازے پر گاڑی روکی موٹر سائیکل پر سوار ملزمان نے فائرنگ کر دی اورجس سے وہ شدید زخمی ہوگئے۔انہیں فوری طور پر اسپتال پہنچا دیا گیا تھا لیکن انہیں لگنے والی گولیاں جان لیوا ثابت ہوئیں اور وہ جانبر نہ ہوسکے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)   وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے اورماڑہ میں دہشتگردی کی شدید مذمت کی ہے۔

 شہریار آفریدی نے اپنے مذمتی بیان میں کہا کہ دشمن پاکستان کو ایف اے ٹی ایف اور دیگر عالمی فورم پر نقصان پہنچانا چاہتا ہے، بزدل دہشتگردوں نے غیر ملکی آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے وطن فروشی کا ثبوت دیا۔ انہوں نے اسلام آباد سے جاری بیان میں کہا ہے کہ دہشتگردوں کو کمین گاہوں سے نکال کر عبرت کا نشان بنائیں گے، آج پھر سیاسی جماعتوں اور اداروں کو دہشتگردی کے خلاف حکومت کے ہاتھ مضبوط کرنا ہوں گے۔

لاہور سے ابو فجر کی رپورٹ

 امام کعبہ شیخ ڈاکٹر عبداللہ عواد الجہنی پاکستان کا دورہ مکمل کرکے سعودی عرب پہنچ چکے ہیں۔ وہ اسلام آباد سے لاہور پہنچنے تھے، جہاں مختلف تقریبات میں شرکت کے بعد سعودی عرب روانہ ہوئے۔ لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، صوبائی وزیر مذہبی امور سید سعید الحسن، پاکستان علماء کونسل کے سربراہ حافظ طاہر اشرفی، سعودی سفیر نواف سعید المالکی اور صوبہ پنجاب کے اعلیٰ حکام نے امام کعبہ کو الوداع کیا۔ امام کعبہ موسم کی خرابی کے باعث جہاز کی بجائے براستہ موٹروے اسلام آباد سے لاہور پہنچے تھے۔ لاہور میں ان کا قیام پرل کانٹینیٹل ہوٹل میں تھا۔

امام کعبہ نے گورنر ہاوس میں قائم مقام گورنر پنجاب چودھری پرویز الہیٰ سے ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ وہاں سے وہ راوی روڈ پر مرکز جمعیت اہلحدیث پہنچنے، جہاں پروفیسر ساجد میر سمیت اہلحدیث رہنماوں نے ان کا استقبال کیا۔ امام کعبہ نے وہاں "پیغام قرآن ٹی وی" کا افتتاح کیا اور اپنے اعزاز میں ایک تقریب سے بھی خطاب کیا۔ خطاب میں انہوں نے پاک سعودیہ دوستی کے حوالے سے اس طرح گفتگو کی جیسے وہ سیاسی شخصیت ہوں۔

امام کعبہ وہاں سے مسلم ٹاون موڑ پر واقع دیوبند مکتب فکر کی دینی درسگاہ "جامعہ اشرفیہ" پہنچے، جہاں مولانا فضل رحیم اشرفی سمیت دیگر علماء نے ان کا استقبال کیا اور امام کعبہ نے جامعہ اشرفیہ میں نماز عشاء کی امامت اور طلباء سے مختصر خطاب بھی کیا۔

دوسرے روز امام کعبہ کے اعزاز میں وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے پُرتکلف ضیافت کا اہتمام کیا اور ایوان وزیراعلیٰ میں ملاقات بھی کی۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر بھی امام کعبہ نے وہی جملے دوہرائے، جو وہ ہر محفل میں بول رہے تھے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گہرے تعلقات ہیں، سعودی عرب نے ہر مشکل میں پاکستان کی مدد کی ہے۔ سعودی عرب والے پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ امام کعبہ نے سعودی عرب کے احسانات تو گنوا دیئے لیکن پاکستان کی خدمات کا ذکر تک نہیں کیا کہ پاکستان کے سابق آرمی چیف راحیل شریف سعودی اتحاد کی قیادت میں بے گناہ یمنیوں پر حملے کر رہے ہیں۔ یہ اعتراف نہیں کیا کہ سعودی عرب پر مشکل وقت آئے تو قربانی کا بکرا پاکستان ہی بنتا ہے۔ امام کعبہ نے یہ بھی نہیں بتایا کہ سعودی عرب میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری بھی پاکستانی ہی کرتے ہیں، بس یہ بتا دیا کہ سعودی عرب میں مقیم ہزاروں پاکستانی بھاری زرمبادلہ پاکستان بھجواتے ہیں۔

بعض اہلحدیث حلقوں کی جانب سے امام کعبہ کے دورے پر تنقید بھی کی گئی۔ نقاد حلقوں کا کہنا تھا کہ کعبہ تمام مسلمانوں کیلئے مقدس ترین مقام ہے۔ امام کعبہ کی اہمیت تمام مسلمانوں کیلئے یکساں ہے مگر امام کعبہ نے امت کو یکساں نہیں رکھا۔ امام کعبہ نے پاکستان میں آکر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ کعبہ کے نہیں بلکہ صرف اہلحدیث (وہابیوں) کے امام ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ امام کعبہ کو چاہیئے تھا کہ وہ تمام مسالک کے علماء سے ملاقاتیں کرتے۔ امت کو ایک نظر سے دیکھتے مگر امام کعبہ نے صرف وہابی مکتب فکر کے ایک مخصوص گروہ کی تقریبات میں شرکت کرکے اپنی غیر جانبداری کو داغدار کر لیا ہے۔ امام کعبہ نے اپنے منصب کیساتھ انصاف نہیں کیا۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) عراق کے وزیر اعظم نے اپنے ملک میں ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی اقتصادی سرگرمیوں کے بارے میں امریکی وزیر خارجہ کے بیان کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا۔عراق کے وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ عراق کے اقتصادی تعلقات اور تجارتی لین دین کا عمل وسیع پیمانے پر جاری ہے تاہم یہ اقدام ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ساتھ اقتصادی تعلقات رکھے جانے سے بالکل مختلف ہے۔

انھوں نے عراق کی معیشت میں ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سرگرم عمل ہونے کے دعوے کو مسترد کر دیا۔عادال عبدالمہدی نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ کا دعوی محض ایک جھوٹ ہے۔مائیک پمپیؤ نے حال ہی میں ایک مضحکہ خیز دعوے میں کہا ہے کہ عراق کی بیس فیصد معیشت، ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ہاتھ میں ہے۔

امریکہ نے حال ہی میں ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی پر دباؤ میں اضافہ اور اس کے خلاف الزام تراشی کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔اسی سلسلے میں امریکی صدر ٹرمپ نے حال ہی میں ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کا نام دہشت گرد گروہوں کی اپنی فہرست میں شامل کر دیا۔ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی، علاقے میں امریکی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے خلاف مہم میں بنیادی کردار ادا کرتی رہی ہے۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے عراق و شام کی حکومتوں کی درخواست پر ان ممالک میں تکفیری دہشت گردوں کے خلاف مہم میں بہترین مشاورت کا بھی کردار ادا کیا ہے اور اس کا یہی کردار امریکہ کے لئے خوش آئند واقع نہیں ہوا جس کی بنا پر بوکھلا کر اس نے ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی پر دباؤ میں اضافہ اور اس کے خلاف الزام تراشی کا سلسلہ تیز کر دیا۔

دوسری جانب عراق میں سید عمار حکیم کی زیر قیادت الائنس نے منگل کی رات ایک بیان میں ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے خلاف امریکہ کے دشمنانہ اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے امریکہ کے اس اقدام کے خطرناک نتائج پر انتباہ دیا۔

ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے خلاف امریکہ کے دشمنانہ اقدام پر عراق کی حکومت اور مختلف جماعتوں نیز شخصیات کی جانب سے وسیع پیمانے پر ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے اور امریکی اقدام کی شدید مذمت کی گئی ہے۔چنانچہ ایران کی قومی سلامتی کی اعلی کونسل نے بھی امریکی اقدام کے جواب میں مغربی ایشیا میں امریکہ کی سینٹرل کمانڈ کی فوج اور اس سے وابستہ یونٹوں کو دہشت گرد قرار دے دیا ہے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اعلان کیا ہے کہ وہ موجودہ انتخابات میں 2008 کے خونریز بم دھماکے میں ملوث ہونے کے الزامات کا سامنا کرنے والی امیدوار کو میدان میں اتاریں گے۔خبر ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق 48 سالہ خاتون پنڈت پراگیا سنگھ ٹھاکر ضمانت پر رہا ہیں، جنہیں بم دھماکے کے مقدمات کا سامنا ہے جہاں 6 افراد ہلاک ہوئے تھے۔انہوں نے اعلان کیا کہ وہ بھوپال شہر سے بی جے پی کے ٹکٹ پر انتخابات میں حصہ لیں گی۔پراگیا سنگھ ٹھاکر قومی سطح پر ہیڈلائنز کا حصہ اس وقت بنی تھیں جب ریاست مہاراشٹرا کے مغربی علاقے میں مالیگاؤں شہر میں ایک مسجد کے قریب دھماکا ہوا تھا جس میں 100 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔دھماکے کے بعد انہیں گرفتار کرلیا گیا تھا اور حکام کا کہنا تھا کہ وہ اس حملے کی ماسٹرمائنڈ ہیں۔خیال رہے کہ بھارتی قانون کے مطابق عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کرنے والے افراد کو فیصلہ سنائے جانے تک انتخابات میں امیدوار بننے کی اجازت دیتا ہے۔پراگیا سنگھ ٹھاکر نے روایتی ہندو زرد لباس پہن کر بھوپال میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے خلاف تمام سازشیں ناکام ہوئیں، میں پنڈت ہوں اور ملک میں انصاف اور عزت کو یقینی بنانے کے لیے کام کروں گی‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے پورا بھروسہ ہے، میں سیاست اور اس مذہبی جنگ کے لیے پوری طرح سے تیار ہوں‘۔پراگیا سنگھ ٹھاکر 2017 میں ضمانت پر رہا ہوئی تھیں، وہ اپنے خلاف ایک الزام سے بری بھی ہوچکی ہیں تاہم دیگر مقدمات میں انہیں اب بھی ٹرائل کا سامنا ہے۔خیال رہے کہ بھوپال میں بی جے پی کا اثر و رسوخ زیادہ ہے اور اسے بی جے پی کا گڑھ بھی سمجھا جاتا ہے۔پراگیا سنگھ ٹھاکر کے مدمقابل کانگریس کے متنازع امیدوار دگوجایا سنگھ ہیں۔ہندو قوم پرست ان پر اصطلاح ’زرد دہست گردی‘ استعمال کرنے کا الزام لگاتے ہیں جو ان کے مطابق قابل اعتراض ہے۔واضح رہے کہ بھارت کے انتخابات 7 مرحلوں میں مکمل ہوں گے تاہم بھوپال میں ووٹنگ کا مرحلہ تاحال طے نہیں کیا گیا ہے۔دنیا کی دوسری بڑی آبادی کے حامل ملک میں انتخابات اگلے ماہ مکمل ہوں گے اور نتائج 23 مئی کو متوقع ہیں۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) اس سے پہلے کہ وہ پہاڑوں میں پناہ لیں۔

اس سے پہلے کہ مغربی سرحدیں انہیں ہلاکت کی تربیت دیں۔

اس سے پہلے کہ اب نویں کلاس میں فزکس اور کیمسٹری کے پروجیکٹ بنانے والے بارود، سیمنٹ اور پتھروں کے آمیزے بنائیں۔

اس سے پہلے کہ یہ معصوم لڑکپن میں انسانیت کے دشمنوں کے ہاتھوں میں کھلونا بن جائیں۔

پاکستان میں قیادت کے دعویدارو۔

منافع کی ہوس میں مبتلا صنعت کارو، تاجرو۔

ریٹنگ کی طلب میں اہلِ میڈیا۔

علم کے ان سچے طلب گاروں، سائنسدان بننے کا خواب دیکھنے والوں، پھٹے یونیفارم میں اپنے وطن کی خدمت کے جذبے سے سرشار طالب علموں کے سر پر ہاتھ رکھو۔ اپنے اختیارات اور اپنی دولت سے ان منصوبوں کو صنعتی طاقت میں تبدیل کر دو۔ آپ کی نظریں تو ان پر نہیں ہیں جبکہ سرحد پار بہت سی طاقتوں نے ان پر نگاہیں جمائی ہوئی ہیں۔

میں اس وقت بلوچستان کے ایک دور افتادہ مگر ایران اور افغانستان دونوں کی سرحدوں سے بہت قریب، نوشکی کے کرکٹ اسٹیڈیم میں پہلا سائنسی، ادبی اور ثقافتی میلہ دیکھ رہا ہوں۔ کتابوں کے اسٹال لگے ہیں۔ انگریزی، اُردو، بلوچی، پشتو زبانوں میں کتابیں۔ بہت غریب ہیں یہ لوگ۔ چھوٹا سا شہر ہے۔ تیس ہزار کے قریب آبادی مگر لگتا ہے کہ سب یہاں اُمڈ آئے ہیں۔ کتابیں بک بھی رہی ہیں۔ ایسے اسٹال تو میں کراچی کے سالانہ کتاب میلے میں بھی دیکھتا ہوں۔ نیشنل بک فائونڈیشن کے میلے میں بھی۔ جو آئندہ ہفتے پھر سجنے والا ہے لیکن مجھے نوشکی اور آس پاس کے قصبوں کے سرکاری ہائی اسکولوں کے اسٹال اپنی جانب کھینچ رہے ہیں۔ پُرخلوص اسکول ٹیچر محبت سے گلے مل رہے ہیں۔ اسکول یونیفارم میں آٹھویں، نویں، دسویں جماعت کے بچے بڑے اعتماد سے سائنسی تجربے کر رہے ہیں۔ اچانک قومی ترانہ بجنے لگا ہے۔ ہم سب احترام سے کھڑے ہو گئے ہیں لیکن یہ تجسس ہے کہ آواز کہاں سے آ رہی ہے۔ سایۂ خدائے ذوالجلال میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک طالب علم بیٹری سے ایک ٹیپ ریکارڈ کو جوڑے ہوئے ہے۔ کسی طالب علم نے ’ویکیوم کلینر‘ اپنے طور پر بنایا ہے کہیں کا پائپ، کہیں کی بڑی بوتل بیٹری سے جوڑی ہے۔ بٹن دباتا ہے۔ نیچے بکھرے کاغذ کے ٹکڑے پائپ کے ذریعے بوتل میں جمع ہو رہے ہیں۔ ایک نے واٹر فلٹر بنایا ہوا ہے۔ ایک نے ’نیوران‘ کا تجربہ کر رکھا ہے۔ ایک ڈی این اے پر تحقیق کر رہا ہے۔ ایک نے لاوا ابالنا شروع کر دیا ہے۔ ایک نے پیری اسکوپ تیار کی ہوئی ہے۔ ایک پھیپھڑوں کا عمل بتارہا ہے۔ زیادہ تر طالب علم نویں جماعت کے ہیں۔ مشتاق احمد، علی گل، محمد سلیمان، اختر محمد، عبدالرزاق، محمد عارف، ابرار حسین، یار جان، محمد زکریا۔ میں حیرت زدہ ہوں کہ ان ویرانوں میں کیسے کیسے نگینے موجود ہیں۔ ان کے اسکول ٹیچر قزلباش فواد ہیں۔ گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول کلی مینگل جہاں ہم نے قومی ترانہ سنا، وہ گورنمنٹ بوائز ماڈل اسکول بہادر آباد نوشکی کے طلبہ کی محنت تھی۔ ان کے ہیڈ ماسٹر مقبول احمد شاہ کی آنکھوں میں بھی ایک چمک دکھائی دے رہی ہے۔

کتنے عظیم ہیں یہ ہم وطن۔ ہمارے ساتھ حکومت بلوچستان کے ایک سابق سیکریٹری، شاعر، درد مند سرور جاوید ہیں۔ وہ ان طالب علموں سے سائنس کے حوالے سے سوالات کر رہے ہیں۔ یہ فرفر اُردو میں جواب دے رہے ہیں۔ انگریزی اصطلاحیں انگریزی میں بتا رہے ہیں۔ رات ایک مشاعرہ بھی ہوا ہے جس میں پشاور، اسلام آباد، لاہور، بہاولپور، حیدر آباد اور کراچی سے بھی شعرا نے اپنا کلام سنایا مگر نوشکی کے مقامی اور بلوچستان کے دوسرے اضلاع سے آئے ہوئے شعراء کی اُردو، بلوچی، براہوئی اور پشتو زبانوں میں نظموں اور غزلوں نے بہت متاثر کیا۔ قاضی مبارک مقبول ترین شاعر ہیں۔ ان کی جرأت دیکھ کر حبیب جالب اور رندی دیکھ کر ساغر صدیقی یاد آتے ہیں۔ مقالے بھی پڑھے جا رہے ہیں۔ بہت اچھے انتظامات ہیں جواں سال ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق ساسولی کا خلوص اس کا مرکزی محرّک ہے۔ مشاعرے، مذاکرے اور سیمینار تو ہوتے رہتے ہیں مجھے تو ان اسکولوں کے بچوں نے مسحور کر دیا ہے۔ میں سوچوں میں ڈوب گیا ہوں۔ ایوب خان، یحییٰ، بھٹو صاحب کے دَور میں پہاڑوں پر جانے والے۔ ضیاء الحق کی طرف سے بلوچستان سازش کیس ختم ہونے کے باوجود بلوچستان کی محرومیاں۔ پھر مشرف کے دَور میں المناک واقعات۔ سب یاد آرہا ہے۔ اب سمجھ میں آرہا ہے کہ نوجوان پہاڑوں میں جانے پر کیوں مجبور ہوتے ہیں۔ وہ بچپن سے ہی باغی پیدا نہیں ہوتے۔ ان کے بھی خواب یہی ہوتے ہیں کہ وہ اپنے علاقے میں خدمات انجام دے کر نام روشن کریں، اپنے ماں باپ کا سہارا بنیں۔ اپنی بہنوں کے ہاتھ پیلے کریں۔ اپنے بھائیوں کا بازو بنیں لیکن جب ان بچوں کے سر پر کوئی ہاتھ نہیں رکھتا تب بلوچستان کی سرحد کے ساتھ ساتھ افغانستان میں بھارت کے قونصل خانے ان کے خوابوں کو بدل کر رکھ دیتے ہیں۔ ان کی یہ تحقیقی صلاحیتیں، تخلیقی جوہر، انجینئرانہ ذہانت سے فائدہ وہ اٹھاتے ہیں۔

یہ تجربے سندھ، پنجاب اور کے پی کے بڑے شہروں میں طالب علم کرتے ہیں تو انہیں سرپرست مل جاتے ہیں۔ اگرچہ سندھ، پنجاب اور کے پی کے چھوٹے شہروں قصبوں کے طالب علم بھی شفقت سے محروم رہتے ہیں مگر وہاں بڑی بڑی آبادیاں ہیں۔ روزگار کے متبادل ذرائع موجود ہیں۔ یہاں بلوچستان میں ارضی حقائق اور زمینی منظر نامہ بہت مختلف ہے۔ میلوں میل پہاڑ ہیں۔ ریگ زار ہیں۔ فاصلے بہت زیادہ۔ آبادی بہت کم۔ روزگار کے متبادل ذرائع بالکل نہیں۔ بلوچستان کے یہ نوجوان خصوصی توجہ چاہتے ہیں۔ ان کے گھر والے تو ان کی فیس بھی نہیں دے سکتے۔ کتابیں یونیفارم بھی مہیا نہیں کر سکتے۔ تعلیم اور صحت کے نام پر لاکھوں ڈالر وصول کرنے والی این جی اوز بھی یہاں نظر نہیں آتیں۔ کوئٹہ سے نوشکی آنے والی آر سی ڈی شاہراہ پر اسکول، کالج، اسپتال تو کہیں دکھائی نہیں دیتے۔ البتہ دارُالعلوم ہر چند کلومیٹر پر موجود ہیں۔

پاکستان میں شامل ہونے کے 72سال بعد بھی ان شہروں میں بڑے کارخانے تو الگ بات چھوٹی صنعتیں بھی نہیں ہیں۔ لیبارٹری نہیں ہے۔ یہ بچے اپنے شہر اپنے بلوچستان، اپنے ملک سے محبت کرتے ہیں۔ ایم این اے، ایم پی اے ووٹ لینے کے بعد نہیں آتے۔ ادیب، شاعر باغیانہ شاعری کرکے سمجھتے ہیں اپنا فرض ادا کر دیا۔ صحافی وزیراعلیٰ، وفاقی وزراء کی خوشنودی حاصل کرکے مطمئن ہیں۔ متعلقہ سرکاری محکموں بالخصوص وزارتِ تعلیم کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ پھر سائنسی اداروں، سائنسدانوں کو اس طرف توجہ دینا چاہئے۔ ہم نے تو علم سے، سائنس سے یہ لگن نوشکی میں دیکھی ہے۔ یقیناً خاران، مکران، ساروان اور دوسرے علاقوں میں بھی بچوں کے یہی خواب ہوں گے۔ کارپوریٹ سیکٹر آگے آئے۔ اگر حکومت نے ان کے سر پر ہاتھ نہیں رکھا، صنعتکاروں نے ان کے پروجیکٹس کی سرپرستی نہیں کی تو یقیناً را کے ایجنٹ انہیں گود لے لیں گے۔ پھر وہی بم دھماکے، ہلاکتیں، فرقہ وارانہ تعصب۔ راستے میں ہم نے اس بس کا ڈھانچہ بھی دیکھا جسے زائرین سمیت اڑا دیا گیا تھا۔ ہم یہ منظر اگر دوبارہ نہیں دیکھنا چاہتے تو بلوچستان کے ہائی اسکولوں میں نویں، دسویں کے بچوں پر شفقت کا ہاتھ رکھیں۔ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی۔