شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)   علامہ قاضی نیاز حسین نقوی  مرکزی نائب صدر وفاق المدارس الشیعہ پاکستان و ملی یکجہتی کونسل نے نیوزی لینڈ اور یمن میں مساجد پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی عالمی مسئلہ بن چکا ہے، اس طرف توجہ نہ دی گئی تو پوری دنیا میں بدامنی کا راج ہوگا۔ مسجد اللہ کا گھر ہے جہاں خالق کائنات کی عبادت کیساتھ لوگوں کی تربیت کا بھی اہتمام ہوتا ہے، اسلام امن کا داعی ہے جس نے کسی بھی مذہب کیخلاف دہشتگردی یا نفرت کا اظہار نہیں کیا اسلام نے ہمیشہ تحمل اور برداشت کا درس دیا ہے، پیغمبر اکرم کے دور میں مسلمانوں کے یہودیوں اور مسیحیوں کیساتھ اچھے تعلقات رہے ہیں۔

 ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی پھیلانے والے استعماری ایجنٹ ہیں، نیوزی لینڈ جیسے پر امن ملک میں دہشتگردی کا ہونا واضح کرتا ہے کہ یہ منصوبہ بندی کے تحت مذاہب کو آپس میں لڑانے کی سازش کی جا رہی ہے، جس کے پیچھے امریکی اور اسرائیلی ایجنسیاں ہیں۔

علامہ قاضی نیاز نقوی نے کہا کہ اسلام کے ماننے والے دہشتگرد نہیں ہو سکتے، اسی طرح امید کرتے ہیں کہ مسیحی قیادت بھی دہشت گردوں سے برات کا اظہار کرے گی۔ انہوں نے کہا ہے کہ یمن میں دہشت گردی پھیلانے والے کون ہیں ؟ مسجدوں پر حملے کرنے والے مسلمان نہیں ہوسکتے۔ اللہ تعالیٰ کے گھر پر حملہ اور معصوم لوگوں کی جانیں لینے والے ظالم کسی رعایت کے مستحق نہیں ۔ان کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے۔ بدامنی کے حالات کے پیش نظر او آئی سی اور اقوام متحدہ کو ان دونوں واقعات کا نوٹس لینا چاہیے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)   انٹرپول نے محمد بن سلمان کے مشیر خاص سعود القحطانی سمیت 20 افراد کے ریڈ وارنٹ جاری کردیےہیں۔

تفصیلات کے مطابق انٹرپول نے سعودی صحافی جمال خاشوگجی کے قتل میں ملوث سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے مشیر خاص سعود القحطانی اور ترکی میں سعودی عرب کے سابق قونصل جنرل محمد العتیبی سمیت 20 افراد کے ریڈ وارنٹ جاری کردیے ہیں۔ انٹرپول کے مطابق یہ افراد سعودی جمال خاشوگجی کے قتل اور ان کے جسم کے ٹکڑے کرنے میں ملوث ہیں۔

انٹرپول کا کہنا ہے کہ یہ افراد دنیا میں جس بھی ملک میں ہوں انہیں گرفتار کرلیا جائے اور عدالت کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ مجرموں کو سزا دی جاسکے۔ ان تمام 20 افراد کا تعلق سعودی عرب سے ہے۔ اس سے قبل سعودی عرب نےکہا تھا کہ جمال خاشوگجی کے قتل میں ملوث افراد کو سعودی عرب میں ہی اندرونی طور پر سزا دی جائے گی۔

یادرہے کہ سعودی حکومت ابتدائی دنوں میں جمال خاشوگجی کے قتل سے انکاری رہی تھی لیکن بعد میں ترکی کی حکومت کی جانب سے ثبوت پیش کیے جانے اور تحقیقات کے مطالبے پر سعودی عرب نے جمال خاشوگجی کے قتل کو تسلیم کرلیا تھا لیکن اس کے مرکزی کردار محمد بن سلمان کو سزا دینے کے بجائے ان کے مشیر اور دیگر ذمہ داروں کو اس قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔

واضح رہے کہ قتل کے مجرم سعود القحطانی کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا لیکن زرائع کے مطابق وہ اب بھی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں اور انہیں مختلف مواقع پر مشورے دیتے رہتے ہیں۔

امریکہ کی جارج ٹائون یونیورسٹی کے پروفیسر مہران کامرو نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں سعودی ولی عہد بن سلمان کو عصر حاضر کا صدام قرار دیتے ہوئے مغربی دنیا کو مخاطب کر کے کہا ہے کہ جس طرح صدام کو دنیا کا بدترین ڈکٹیٹر اور قاتل بنانے میں مغربی طاقتوں کا ہاتھ ہے بن سلمان کو بھی عصر حاضر کا صدام بنایا جا رہا ہے۔ امریکی پروفیسر مہران کامرو کا کہنا تھا کہ جمال خاشقچی کے قتل کے بعد بن سلمان اور مغرب معاشقہ ختم ہو جانا چاہیے تھا لیکن امریکہ سمیت بعض طاقتوں کو خطے کی سیاست کے لیے صدام جیسے کردار کی اشد ضرورت رہتی ہے۔ بن سلمان کے مظالم کا اگرچہ ابھی آغآز ہے لیکن اپنے افتتاحی میچوں میں جس طرح اس نے اپنی کارگردگی کا مظاہرہ کیا ہے اس بے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ بن سلمان انسان کشی اور امریکی غلامی میں صدام سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گا۔عراقی ڈکٹیٹر اور قاتل صدام 1979ء سے لیکر 2003ء تک عراق کے سیاہ و سفید کا مالک رہا اور اس نے اس برسوں میں عراق سمیت پورے علاقے میں قتل و غارت کا بازارگرم کیے رکھا۔ عراق کے اندر شیعہ مسلمانوں، کردوں اور حکومت مخالف مختلف گروہوں کو جس انداز سے صدام تکریتی نے اپنے مظالم کا نشانہ بنایا اور انہیں سیاسی و سماجی میدانوں سے نکال کر باہر کرنے کی کوشش کی عراق کے قبرستان بالخصوص عراق کے مختلف علاقوں سے دریافت ہونے والی اجتماعی قبریں اس کی گواہی دے رہی ہیں۔ آل حکیم خاندان ہو یا شہید آیت اللہ باقر الصدر اور انکی ہمشیرہ بنت الھدی کا قتل ہو سب میں صدام کا وحشی اور قاتل چہرہ مزید نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے۔ ایران کے خلا ف آٹھ سالہ جارحیت اور لاکھوں افراد کا قتل ہو یا کویت پر چڑھائی سب صدام کا کیا دھرا ہے۔

صدام کے مظالم کا اگر سرسری ذکر بھی کیا جائے تو اس کے لیے کئی کتابیں درکار ہیں آج صدام کی روش کو ایک اور عرب شہزادہ اپنے لیے مشعل راہ قرار دے رہا ہے، یہ سعودی شہزادہ بھی صدام کی طرح اپنے ملک اور ہمسایہ ملک میں وہی کام کر رہا ہے جو بعثتی صدام نے انجام دیئے،  سعودی عرب کے شیعہ نشین علاقوں میں آج وہی صورت حال ہے جو صدام دور میں عراق کی شیعہ مسلمانوں کی تھی، آل سعود کی جیلیں اور عقوبت خانے بھی صدام کی خفیہ جیلیوں کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ صدام نے اپنے ہمسایہ ملک ایران پر جارحیت کا ارتکاب کیا تھا آج آل سعود نے غریب ہمسایہ ملک کو گذشتہ چار سال سے اپنے وحشیانہ مظالم کا نشانہ بنایا ہوا ہے۔ صدام اپنے مخالف علماء، دانشوروں اور سیاستدانوں کو ایک لمحے کے لیے بھی برداشت نہیں کرتا تھا آج آل سعود کا خاندان بھی شہید باقر النمر جیسی کسی آواز کو بلند ہونےسے پہلے ہی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیتا ہے۔ بن سلمان اور صدام ایک ہی سکہ کے دو رخ نظر آتے ہیں لیکن بن سلمان کو صدان کا انجام نہیں بھولنا چاہیے، بن سلمان آج جن طاقتوں کے بل بوتے پر شام، یمن، بحرین، قطر، عراق او ایران کے خلاف محاذ بنا رہا ہے یہ قوتیں صدام جیسے انسانوں کو چوہے کی طرح بلوں میں پناہ لینے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ بن سلمان اگر صدام کے راستے پر چلے گا تو اس کا انجام بھی صدام جیسا ہی ہو گا اور صدام کے انجام کا ذکر ہی عرب حکمرانوں کی نیندیں اڑا دیتا ہے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)ان کے والد سیّد سبطین احمد نقوی کا گھرانہ خطاطی کے حوالے سے زمانہ دراز سے مشہور تھا، 1940ء کی دہائی میں وہ ادب کی ترقی پسند تحریک میں شامل ہوچکے تھے، ان کی شخصیت میں پوشیدہ فنکارانہ صلاحیتوں کو سب سے پہلے پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم حسین شہید سہروردی نے شناخت کیا۔

30 جون 1920ء کو ہندوستان کے ممتاز علمی شہر امروہہ (اترپردیش) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم آبائی شہر امروہہ ہی میں حاصل کی، بعد ازاں آگرہ یونیورسٹی سے بی اے کیا۔ تقسیم ہند کے بعد آپ اپنے خاندان کے ہمراہ کراچی آ گئے۔

1940ء کی دہائی میں وہ ترقی پسند ادیبوں اور فن کاروں کی تحریک میں شامل ہوئے۔

صادقین کی خطاطی اور مصوری اتنی منفرد اور اچھوتی تھی کہ ان کے دور ہی میں ان کے شہ پاروں کی نقل ہونے لگی تھی اور بہت سے مصوروں نے جعلی پینٹنگز بنا کر اور ان پر صادقین کا نام لکھ کر خوب مال کمایا جبکہ خود صادقین نے شاہی خاندانوں اور غیر ملکی و ملکی صاحبِ ثروت افراد کی جانب سے بھاری مالی پیشکشوں کے باوجود اپنے فن پاروں کا بہت کم سودا کیا۔

ان کے فن پاروں کی پہلی نمائش 1954ء میں کوئٹہ میں ہوئی تھی جس کے بعد فرانس، امریکا، مشرقی یورپ، مشرق وسطیٰ اور دنیا کے دیگر ملکوں میں بھی ایسی نمائشیں منعقد ہوئیں۔ مارچ 1970ء میں آپ کو تمغہ امتیاز اور 1985ء میں ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔ آپ کو سب سے پہلے کلام غالب کو تصویری قالب میں ڈھالنے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ آپ کی خطاطی و مصوری کے نمونے فیصل مسجد اسلام آباد، فریئر ہال کراچی، نیشنل میوزیم کراچی، صادقین آرٹ گیلری اور دنیا کے ممتاز عجائب گھروں میں موجود ہیں۔

ان کی دیوار گیر مصوری کے نمونوں (میورلز) کی تعداد کم وبیش 35 ہے جو آج بھی اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فریئر ہال کراچی، لاہور میوزیم، پنجاب یونیورسٹی، منگلا ڈیم، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، بنارس ہندو یونیورسٹی، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف جیولوجیکل سائینسز، اسلامک انسٹی ٹیوٹ دہلی اور ابو ظہبی پاور ہاؤس کی دیواروں پر سجے شائقینِ فن کو مبہوت کر رہے ہیں، صادقین نے جناح اسپتال اور پی آئی اے ہیڈ کوارٹرز کے لیے بھی ابتدا ہی میں میورلز تخلیق کیے تھے جو پُر اسرار طور پر غائب ہوچکے ہیں۔

صادقین نے قرآنِ کریم کی آیات کی جس مؤثر، دل نشیں اور قابلِ فہم انداز میں خطاطی کی وہ صرف انہی کا خاصہ ہے، بالخصوص سورہ رحمن کی آیات کی خطاطی کو پاکستانی قوم اپنا سرمایۂ افتخار قرار دے سکتی ہے، غالب اور فیض کے منتخب اشعار کی منفرد انداز میں خطاطی اور تشریحی مصوری ان ہی کا خاصہ ہے، انہیں فرانس، آسٹریلیا اور دیگر ملکوں کی حکومتوں کی جانب بھی سے اعزازات سے نوازا گیا۔

صادقین کی خطاطی اور مصوری اتنی منفرد اور اچھوتی تھی کہ ان کے دور ہی میں ان کے شہ پاروں کی نقل ہونے لگی تھی اور بہت سے مصوروں نے جعلی پینٹنگز بنا کر اور ان پر صادقین کا نام لکھ کر خوب مال کمایا جبکہ خود صادقین نے شاہی خاندانوں اور غیر ملکی و ملکی صاحبِ ثروت افراد کی جانب سے بھاری مالی پیشکشوں کے باوجود اپنے فن پاروں کا بہت کم سودا کیا۔

فن خطاطی اور مصور کے ساتھ ساتھ ان کو جس چیز سے بہت لگاو تھا وہ شاعری تھی شاعری کے فن پاروں میں ان کی دو کتابیں یاد گار ہیں،

رقعات صادقین

رباعیات صادقین

صادقین کو اللہ تعالی نے پیدا ہی اس کام کے لیے کیا تھا، وہ ایک ایسا درویش صفت انسان تھا جسے اپنے کام کے سوا کسی چیز سے کچھ تعلق نہ تھا، کئی لوگوں نے ان کے بارے میں لکھا ہے کہ جب صادقین سے ملاقات ہوئی تو دو گھنٹے کی خاموش کے بعد واپس لوٹ آئے، صادقین اپنے کام میں 12گھنٹوں سے زیادہ صرف کرتے کبھی کبھی 36 گھنٹے کام کرتے، واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ انہیں صرف ایک چیز کی فکر ہوتی تھی کہ میرے رنگ ختم ہو گئے ہیں، بکثرت کام کی وجہ سے ان کو متعدد بیماریاں لاحق تھیںجن میں بڑا مسئلہ ان کے جگر کی خرابی تھی ، جب ان کا انتقال ہوا وہ اس وقت بھی کراچی کے فرئیر ہال کی دیوار پر کام کر رہے تھے، یہ 10 فروری کا ایک سرد دن تھا وہ کام کرتے کرتے اچانک زمین پر گر پڑے قرب و جوار کے لوگوں نے ان کو پکڑا، دیکھا ہوش دلائی، مگر مقرر یہی تھا کہ فرئیر ہال کی یہ دیوار نامکمل ہی رہ جائے ، طبی امداد کے لیے لے جائے گئے مگر اس بار ہو شفاخانہ سے لوٹے نہیں ڈاکٹروں نے بتایا کہ دنیا کے سب سے بڑے صاحب دل کا دل دھوکہ دے گیا ہےاب وہ ہم میں نہیں رہےصادقین ’’صادقِ حقیقی‘‘ سےجا ملے۔صادقین ہمارے دلوں میں اس طرح بسے ہوئے ہیں ان کے بارے میں یہ کہنے کو جی ہی نہیں کرتا کہ وہ 10 فروری 1987کو کام کرتے ہوئے گرے اور سخی حسن کے قبرستان میں محو خواب ہیں۔

صادقین نے تادم مرگ شادی نہیں کی تھی ان کی کوئی بیوی نہ تھی کوئی ماہ رخ نہیں تھی، حالانکہ ان سے قبل سب کا کہنا اور ماننا تھا کہ انہوں نے ماہ رخوں کے لیے مصوری سیکھی ہے، صادقین کی بیوی نہ تھی ان کو اولاد نہیں تھی،مگر کیا ہی خوب آدمی تھا جس کے لیے تمام آنکھیں اشکبارتھیںجس کے لیے لاکھوں ہاتھ بارگاہ ایزدی میں بلند ہوکر دل کی گہرائیوں سے دعاوں کے پنچھی آزاد کرتے ہیں، اس کو بچھڑے ہوئے 32 برس ہو گئےمگر کلمات خیر بادبان کھولے اس کی تلاش میں روز نکل کھڑے ہوتے ہیں۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)بھارت کی سی آر پی فورس پر ایک اور حملہ ہوا ہے۔تفصیلات کے مطابق بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں ہونے والے حملے کے نتیجے میں ایک بھارتی فوج ہلاک، جبکہ 5 زخمی ہوئے۔بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ملٹری فورس سی آر پی پر بھارت کی شورش زدہ ریاست چھتیس گڑھ میں حملہ کیا گیا۔ حملے کے دوران سی آر پی ایف کے کئی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق حملہ چھتیس گڑھ کے باغیوں کی جانب سے اس وقت کیا گیا جب بھارتی ملٹری فورس سی آر پی ایف کے اہلکار گشت میں مصروف تھے۔اس دوران پہلے ایک ریمورٹ کنٹرول بم سے دھماکہ کیا گیا، جبکہ بعد ازاں مسلسل فائرنگ سے حملہ کیا گیا۔فائرنگ کے نتیجے میں ایک بھارتی فوجی اہلکار ہلاک ہوگیا، جبکہ 5 زخمی ہوئے۔بھارتی فوج پر حملہ کرنے والے باغی اس کاروائی کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ مقبوضہ کشمیر میں بھی بھارتی ملٹری فورس سی آر پی پر خود کش حملہ کیا گیا ہے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی انتظامیہ نے کریک ڈاؤن کرتے ہوئے ڈھائی ماہ کے دوران 700 سے زائد کشمیری شہریوں، مذہبی رہنماؤں اور سرگرم کارکنوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق قابض بھارتی انتظامیہ نے 77دنوں کے دوران کشمیریوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا۔ حریت رہنما یاسین ملک سمیت 21 کشمیریوں پر کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ بھی لاگو کیا گیا ہے۔ قابض انتظامیہ نے گرفتار کشمیریوں کو وادی کشمیر سے باہر کی جیلوں میں منتقل کر دیا ہے۔ حریت رہنماؤں نے اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی اداروں سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین صورت حال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)ہالینڈ کی پولیس نے یوٹریکٹ میں ٹرام میں فائرنگ کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔ ٹرام میں فائرنگ کے واقعے میں کم از کم تین افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے تھے۔یوٹریکٹ کے پولیس سربراہ راب وان بری نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ گرفتارکیے جانے والے شخص کو کہاں رکھا گیا ہے۔ڈچ پولیس ایک 37 سالہ ترک شہری غوگمن طانش کو تلاش کر رہی تھی۔ہالینڈ کی انسداد دہشتگردی پولیس نے کہا ہے کہ بظاہر یہ دہشگردی کا واقع ہے۔اس سے پہلے پولیس نے کہا تھا کہ حملہ آور ایک سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں جنھیں پولیس ڈھونڈنے کی کوشش کررہی ہے۔

ٹرام میں فائرنگ کرنے والا شخص واردات کے بعد کار میں بیٹھ کر جائے وقوعہ سے سےفرار ہو گیا تھا۔اس واقعے کے بعد یو ٹریکٹ میں تمام ٹرامزسروسز کو معطل کر دیا گیا اور سکولوں سے کہا گیا کہ وہ اپنے دروازے بند رکھیں۔ٹرام میں فائرنگ کا یہ واقع مقامی وقت کے مطابق پونے گیارہ بجے (جی ایم ٹی 10:40) رونما ہوا۔ڈچ انسداد دہشتگردی پولیس کے رابطہ کارپیٹر یاپ البرسبرگ نے کہا تھا کہ یہ ممکن ہے کہ حملہ آور ایک سے زیادہ ہوں۔ہالینڈ میں خطرے کا درجہ سب سے انتہائی بلند سطح تک بڑھا دیا گیا ہے اور ایئرپورٹ اور مساجد کے حفاظت کےلیے پیرا ملٹری پولیس تعینات کر دی گئی ۔اطلاعات کے مطابق مسلح پولیس جائے وقوع کے قریبی علاقے اوکتوبرپلین چوک کے قریب کے ایک گھر میں گھسنے کی تیاری کر رہی تھی ۔پولیس نے ٹرام سٹیشن کے نزدیکی علاقے کو گھیرے میں لے کر لوگوں سے اپیل کی ہے وہ اس علاقے کی طرف نہ جائیں تاکہ ایمرجنسی سروسز اپنا کام کر سکیں۔مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ڈچ انسداد دہشگردی کے رابطہ کار نے ایمرجنسی اجلاس طلب کر لیا ہے۔وزیر اعظم مارخ رتے نے کہا ہے کہ اس حملے سے ہمارا ملک لرزگیا ہے، پولیس اور استغاثہ اصل حقائق جاننےکی کوشش کر رہے ہیں۔نیدرلینڈ کی وزیر اعظم نے کہا کہ ابھی تک جو کچھ معلوم ہوا ہے وہ یہ ایک شخص نے ٹرام میں بیٹھے ہوئے لوگوں پر فائرنگ کی ہے۔

سکیورٹی سروسز نے یوٹریکٹ یونیورسٹی میڈیکل سینٹر سے کہا ہے کہ وہ زخمیوں کے علاج کے لیے ایک ایمرجنسی وارڈ مختص کریں۔ایک عینی شاہد نے کہا ہے کہ حملہ آور اندھا دھند فائرنگ کر رہا تھا۔ایک اور عینی شاہد نے ڈچ سرکاری نشریاتی ادارے این او ایس کو بتایا ہے کہ اس نے ایک زخمی عورت کو دیکھا ہے جس کے ہاتھ اور کپڑے خون آلود تھے اور اس نے عورت کو اپنی کار لا کر مدد کی۔ عینی شاہد نے بتایا کہ جب پولیس موقع پر پہنچی تو زخمی عورت بے ہوش تھی۔ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ اس واقعے میں کتنے لوگ زخمی ہوئے ہیں اور ان میں سے کتنے شدید زخمی ہیں۔اوٹریجٹ میں تمام ٹریمزسروسز کو بند معطل کر دیا گیا ہے اور سکولوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے دروازے بند رکھیں۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  حکومت نے فوجی عدالتوں، نیشنل ایکشن پلان اور کالعدم تنظیموں کے خلاف نئی حکمت عملی کیلئے 28 مارچ کو اہم اجلاس طلب کرلیا۔ شاہ محمود قریشی نے اجلاس میں شرکت کیلئے شہباز شریف سمیت دیگر پارٹی رہنماوں کو دعوت نامے ارسال کر دیئے۔

تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی سے گفتگو میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ 28 مارچ کو نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے اجلاس طلب کر لیا ہے، سیاسی اکابرین سے دو نکاتی ایجنڈے پر بات ہوگی، جبکہ کالعدم جماعتوں اور ان کی شخصیات کے حوالے سے بھی اہم لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں میں توسیع ہوگی، حکومت کو کوئی مسئلہ نہیں، قوم کو وزیراعظم پر اعتماد ہے، ہمیں اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔ دوسری جانب اجلاس میں شرکت کیلئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپوزیشن رہنما شہباز شریف کو بھی خط ارسال کر دیا۔ خط میں 28 مارچ کو نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ اجلاس شام 4 بجے پارلیمنٹ ہاوس کمیٹی روم نمبر 2 میں ہوگا۔

شاہ محمود قریشی نے خط میں کہا ہے کہ دسمبر 2014ء میں آرمی پبلک اسکول پشاور کے المناک واقعے کے بعد نیشنل ایکشن پلان مرتب ہوا تھا، یہ پلان تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت کے نتیجے میں قومی اتفاق رائے کا مظہر تھا، دہشت گردی کے عفریت کے خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان کے مختلف پہلو ہیں، کسی دوسرے ملک کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے دینے کے عوامی وعدے کی پاسداری بھی قومی ایکشن پلان میں شامل ہے۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی پابندیوں سے متعلق ذمہ داریوں پر عمل درآمد اور انسداد دہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق عالمی تقاضوں پر عمل درآمد بھی قومی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ہماری جہد مسلسل کے اعادے کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کو کانفرنس میں شرکت کی دعوت دیتا ہوں، یہ مشاورت پاکستان کی قومی حکمت عملی پر تیزی سے عمل درآمد کیلئے ہمارے عزم کے تسلسل اور اس کی اہمیت کو دنیا میں اجاگر کرے گی، نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد واضح طور پر پاکستان کے عوام کے طویل المدتی مفاد میں ہے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) افغان حکومت نے سرحد پر اپنے فرائض انجام دینے والے 58 فوجیوں کی طالبان کے ہاتھوں یرغمال ہونے کی تصدیق کردی۔ گزشتہ چند روز سے افغان فوجیوں اور طالبان کے درمیان لڑائی جاری تھی اس کے دوران فوجیوں نے پڑوسی ملک ترکمانستان میں بھی ان کا پیچھا بھی کیا جس پر ترکمانستان نے فوجیوں کو واپس جانے پر مجبور کردیا تھا۔افغانستان وزارت دفاع نے کئی دنوں سے افغان صوبے بادغیس کے ضلع بالا مرغب میں جاری لڑائی کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس کے بعد بیان جاری کردیا۔
بیان میں کہا گیا کہ ’بدقسمتی سے 58 بارڈر سیکورٹی جوانوں کو دشمن نے یرغمال بنا لیا، افغان حکومت کا مزید کہنا تھا کہ ان فوجیوں کی رہائی تک سرچ آپریشن جاری رہے گا۔واضح رہے کہ اس سے قبل رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ طالبان نے اب تک کی سب سے بڑی تعداد یعنی 150 فوجیوں کو یرغمال بنا لیا ۔نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق بادغیس میں جاری آپریشن کے دوران ایک ہفتے میں 16 فوجی ہلاک جبکہ 190 فوجیوں کو یرغمال بنایا جاچکا ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے پیر کے روز کو افغان فوجیوں کا ایک پورا دستہ یا تو یرغمال بن گیا یا ہلاک ہوگیا۔افغان پولیس کمانڈر صالح محمد مباریز کے مطابق بالا مرغاب شہر میں چند دن سے طالبان اور افغان بارڈر فورسز کے درمیان لڑائی جاری تھی جس کے نتیجے میں ہفتے کہ روز 50 فوجیوں نے ہتھیار ڈال دیے جبکہ 100 فوجیوں نے ترکمانستان کی سرحدی علاقے میں طالبان کا پیچھا کیا تھا جس پر انہیں واپس آنے پر مجبور کردیا گیا تھا۔اس بارے میں کمپنی کے ڈپٹی کمانڈر لیفٹیننٹ حبیب اللہ نے تصدیق کی کہ ترکمانستان نے طالبان کو کہا کہ ہم آپ کو فوجیوں کے ہتھیار جبکہ افغان حکومت کو فوجی واپس کردیتے ہیں لیکن طالبان نے ہتھیار افغان حکومت جبکہ فوجی ان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  اصغریہ آرگنائزیشن پاکستان کا 32 واں سالانہ تین روزہ ’’سیرت علیؑ نجات بشریت‘‘ مرکزی کنونشن ثقافتی مرکز بھٹ شاہ میں اختتام پذیر، کارکنان و اہم قومی شخصیات کی بھرپور شرکت۔

 تفصیلات کے مطابق اصغریہ آرگنائزیشن پاکستان کے 32 ویں سالانہ تین روزہ ولایت حق مرکزی کنونشن کے آخری روز علامہ حیدر علی جوادی کی زیر صدارت یوم علی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، کانفرنس سے خطاب علامہ حیدر علی جوادی، مجلس وحدت مسلمین سندھ کے سیکرٹری جنرل علامہ مقصود ڈومکی، امامیہ آرگنائزیشن پاکستان کے چیئرمین رضی العباس شمسی، علامہ علی بخش سجادی، علامہ مختیار رضوی، علامہ محمد محسن مہدوی، استاد اخلاق احمد اخلاق، مولانا مولا بخش ہالائی، سید ساجد علی شاہ کاظمی، علامہ سرفراز مہدی، غلام رضا جعفری، خانم سیدہ ذکیہ حسینی پرنسپل جامعۃ الزہرا، فضل حسین اصغری، ظہیر حسین حیدری و دیگر نے خطاب کیا، جبکہ سال بھر بہترین کارکردگی دکھانے والے کارکنان کو شیلڈ پیش کی گئیں۔

مرکزی کنونشن کے آخری روز انتخاب کے بعد اختتام پر اصغریہ آرگنائزیشن پاکستان اور اصغریہ شعبہ خواتین کے مرکزی صدور کا اعلان علامہ حیدر علی جوادی نے کیا، کارکنان کی اکثریت رائے سے نسیم عباس منتظری اصغریہ آرگنائزیشن کے، جبکہ سیدہ افشاں شفقت شعبہ خواتین کی نئی میر کارواں منتخب ہوگئیں، نومنتخب مرکزی صدور سے علامہ حیدر علی جوادی نے حلف لیا۔