• تفتان بارڈر پر حکومتی اقدامات سے زائرین کی تعداد میں اضافہ

  • یمن میں ایک ہزار پاکستانی فوجی بھیجنے کی خبریں درست نہیں

  • حکومت ذہن نشین رکھے اسرائیل کو کسی بھی صورت تسلیم نہیں کریں گے، قاسم شمسی

  • عراق، ایران کے خلاف امریکی پابندیوں پر عمل نہیں کرے گا

  • مولا علیؑ کی محبت ایمان کی علامت ہے

  • 1
  • 2
  • 3
  • 4
  • 5

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) ڈاکٹر محمد یونس دانش جمعیت علمائے پاکستان (نورانی) کے مرکزی ترجمان ہیں، وہ جے یو پی کی مرکزی مجلس عاملہ اور مجلس شوریٰ کے بھی رکن ہیں، جمعیت علمائے پاکستان میں شمولیت سے قبل وہ انجمن طلبائے اسلام میں فعال تھے، جسکے وہ مرکزی سیکرٹری جنرل بھی رہے چکے ہیں۔شیعہ نیوز“ نے ڈاکٹر محمد یونس دانش کیساتھ اورماڑہ حملہ، پاک ایران تعلقات اور اسے نقصان پہنچانے کی سازش کے حوالے ایک مختصر نشست کی، اس موقع پر انکے ساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ادارہ

شیعہ نیوز: اورماڑہ حملہ اور پاک ایران تعلقات خراب کرنیکی سازش کے حوالے سے کیا کہنا چاہیں گے۔؟
ڈاکٹر محمد یونس دانش: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔۔۔ جب بھی پاکستان کے حکمران کسی برادر اسلامی ملک کا دورہ کرتے ہیں، تو پاکستان و اسلام دشمن ممالک دہشتگردی کے واقعات کے ذریعے اسے سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وزیراعظم ایران کا دو روزہ دورہ کر رہے ہیں، لہٰذا بھارت، امریکا، اسرائیل و دیگر دشمن ممالک چاہتے ہیں کہ پاکستان اور ایران ایکدوسرے کے قریب نہ آئیں، پاک ایران تعلقات مزید بہتر نہ ہوں، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات خراب ہوں، دونوں برادر اسلامی پڑوسی ممالک پاکستان اور ایران یک جان اور دو قالب ہیں، کیونکہ جب بھی کوئی مشکل وقت پڑا ہے، پاکستان نے ایران کا اور ایران نے پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ پاکستان ایران تعلقات خراب کرنے کیلئے ماضی میں بھی دہشتگرد کارروائیاں کی جاتی رہی ہیں، اورماڑہ حملہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، لیکن ماضی کی طرح اس بار بھی پاک ایران برادرانہ تعلقات خراب کرنے کی سازش ناکام ہوگئی ہے۔

شیعہ نیوز: کیا آپ سمجھتے ہیں اورماڑہ حملہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ ایران کو سبوتاژ کرنیکی سازش ہے۔؟
ڈاکٹر محمد یونس دانش: بالکل، اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ اورماڑہ حملے کا مقصد پاک ایران تعلقات کو نقصان پہنچانا اور وزیراعظم عمران خان صاحب جو کل دو روزہ دورے پر ایران جا رہے ہیں، اسے سبوتاژ کرنا ہے، اورماڑہ حملے میں ملوث دہشتگردوں کو بھارت کی مکمل سرپرستی حاصل ہے اور بھارت نے اس حملے کے ذریعے پوری کوشش کی کہ پاک ایران تعلقات خراب کئے جائیں، وزیراعظم عمران خان کا دورہ ایران خراب ہو، دونوں برادر اسلامی ہمسائے ممالک کے درمیان دوریاں پیدا کی جائیں۔

شیعہ نیوز: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ امید ہے ایران ان دہشتگردوں کیخلاف ایکشن لے گا، ایرانی وزیر خارجہ نے اس واقعے کی تحقیقات میں مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے، کیا آپ سمجھتے ہیں پاکستان اور ایران نے تعلقات خراب کرنیکی اس سازش کو ناکام بنا دیا ہے۔؟
ڈاکٹر محمد یونس دانش: یہ پہلا موقع نہیں ہے، اس سے پہلے بھی جب دہشتگرد عناصر نے پاکستان اور ایران کی سرزمین کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کیا، تو اس وقت بھی پاکستان اور ایران نے انتہائی سمجھداری کا ثبوت دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات خراب کرنے کی سازش کو ناکام بنایا تھا، اب جب بھارتی نے اورماڑہ حملے کے ذریعے پاک ایران تعلقات خراب کرنے کی سازش کی، تو پاکستان اور ایران نے مشترکہ طور پر اس بھارتی سازش کو ناکام بنا دیا ہے۔ پاکستان اور ایران کی عوام ہو یا حکومتیں، دونوں اچھی طرح سمجھتی ہیں کہ بھارت، امریکا، اسرائیل و دیگر استعماری و کفریہ قوتوں کو پاک ایران تعلقات ایک آنکھ نہیں بھاتے، پاک ایران تعلقات ان دشمن ممالک کی آنکھوں میں کانٹے کی مانند ہے۔

شیعہ نیوز: ایران نے پاکستان کو اورماڑہ حملے کیخلاف تحقیقات اور تعاون کی جو یقین دہانی کرائی ہے، اسے کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
ڈاکٹر محمد یونس دانش: ہم سمجھتے ہیں کہ ایران پر حملہ پاکستان پر حملہ ہے اور پاکستان پر حملہ ایران پر حملہ ہے، کیونکہ دونوں برادر اسلامی پڑوسی ممالک ہیں، لہٰذا اورماڑہ حملے کے بعد ایرانی ردعمل نے پاک ایران تعلقات خراب کرنے کی، دونوں ممالک کے درمیان نفرتیں پیدا کرنے، دوریاں پیدا کرنے کی سازشوں کو ناکام بنا دیا ہے، ضروری ہے کہ پاکستان اور ایران دہشتگردی کے خلاف اور قیام امن کیلئے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں۔

شیعہ نیوز: وزیراعظم پاکستان عمران خان کل دو روزہ دورے پر ایران جا رہے ہیں، کیا کہیں گے اس حوالے سے۔؟
ڈاکٹر محمد یونس دانش: خطے اور عالمی حالات کے تناظر میں وزیراعظم عمران خان کا دورہ ایران انتہائی اہمیت کا حامل ہے، یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم کے دورہ ایران کو سبوتاژ کرنے کیلئے اورماڑہ حملہ کیا گیا، کیونکہ اس قسم کے دورہ جات سے دونوں ممالک کو مزید قریب آنے کا موقع ملے گا، ایک دوسرے کو سمجھنے، ایک دوسرے کو درپیش مسائل کو سمجھنے میں مدد ملے گی اور یہی پاک ایران نزدیکیاں بھارت، امریکا، اسرائیل و دیگر کفری قوتوں کیلئے زہر قاتل ہیں۔

شیعہ نیوز: وزیراعظم عمران خان دورہ ایران کتنا مؤثر ثابت ہوتا نظر آرہا ہے۔؟
ڈاکٹر محمد یونس دانش: وزیراعظم عمران خان کا دورہ ایران خوش آئند ہے اور وقت کی اہم ضرورت بھی۔ امید ہے کہ اس دورے کے دونوں ممالک پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہونگے، اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید بہتری آئے گی، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات خراب کرنے کی کوششوں، غلط فہمیاں پیدا کرنے کی سازشوں کو ناکام بنانے میں بہت مؤثر ثابت ہوگا۔ جیسا کہ میں پہلے عرض کیا کہ بھارت، امریکا اور اسرائیل چاہتے ہیں کہ پاک ایران تعلقات مزید بہتر نہ ہوسکیں، تعلقات خراب ہوں، دونوں ممالک ایک دوسرے سے دور رہیں، امید ہے کہ وزیراعظم عمران خان دورہ ایران میں ان سارے مسائل پر بات کرینگے، امید ہے دونوں ممالک کے درمیان جو بھی غلط فہمیاں ہیں، وہ دور ہونگی۔

شیعہ نیوز: پاکستان کو معاشی بحران کا سامنا ہے، اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان کے دورہ ایران کی اہمیت کے حوالے سے کیا کہنا چاہیں گے۔؟
ڈاکٹر محمد یونس دانش: وزیراعظم عمران خان کو چاہیئے کہ پاکستان میں توانائی بحران کے خاتمے کیلئے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی تکمیل کے حوالے سے ضرور بات کریں، جو ایران پہلے ہی اپنے حصے کی تعمیر کرکے سرحد تک پہنچا چکا ہے، اس منصوبے پر عملدرآمد کیا جائے، ایران سے کم قیمت پر تیل کے حصول کیلئے معاہدے کئے جائیں، پاک ایران معاشی و اقتصادی تعلقات کے فروغ کے حوالے سے بات کی جائے، پاک ایران تجارت میں اضافے کے حوالے سے بات کی جائے، تجارتی، اقتصادی، معاشی معاہدے کئے جائیں، فوجی کے ساتھ ساتھ اقتصادی اتحاد بھی بنائیں۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) اقوامِ متحدہ اور دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی تنظیموں کی جانب سے شہریت منسوخ کرنے پر شدید تنقید کے بعد بحرین کے بادشاہ نے 551 بحرینی باشندوں کی شہریت بحال کرنے کے احکامات دے دیے۔ بحرین کی سرکاری خبررساں ایجنسی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ’عزت مآب شاہ حماد بن عیسیٰ الخلیفہ نے عدالتی احکامات کے تحت منسوخ کی جانے والی 551 سزا یافتہ افراد کی شہریت بحال کرنے کے احکامات دے دیے‘۔

امریکی اتحادی ملک بحرین میں سیاسی اصلاحات کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین کے خلاف حکام کے کریک ڈاؤن کے نتیجے میں سال 2011 سے بد امنی کا سلسہ جاری ہے۔اس وقت سے اب تک سینکڑوں مظاہرین کو جیل بھیجا جاچکا ہے اور جو افراد دہشت گردی کے معاملات میں ملوث پائے گئے ان سے شہریت چھین لی گئی۔بحرین کی جانب سے ان افراد کو تربیت دینے اور حکومت گرانے کے لیے کیے جانے والے مظاہروں کے پیچھے ایران کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا جاتا ہے تاہم ایران نے ان الزامات کی ہمیشہ تردید کی۔بحرین نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ شاہ حماد، جن کے پاس عدالتی احکامات منسوخ کرنے کے اختیارات موجود ہیں، نے درخواست کی ہے کہ مجاز حکام کو جرائم کی نوعیت کے اعتبار سے اعتماد میں لیا جائے۔اس کے ساتھ انہوں نے وزارت داخلہ کو بھی ہدایت کی کہ ہر مقدمے کی چھان بین کر کے ان افراد کی فہرست تیار کی جائے جن کی شہریت بحال کی جاسکتی ہے۔
انسانی حقوق کے گروہوں کا کہنا ہے کہ 2012 میں مظاہرین کے خلاف عدالتی کارروائی کے آغاز کے بعد سے اب تک تقریباً 900 افراد، جن میں اکثریت اہلِ تشیع مکتبہ فکر سے تعلق رکھتی ہے، کی شہریت منسوخ کی جاچکی ہے۔خیال رہے کہ شیعہ اکثریتی آبادی والے ملک بحرین پر تقریباً 2 صدیوں سے زائد عرصے سے سنی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والا شاہی خاندان الخلیفہ حکمرانی کررہا ہے۔اتوار کا فیصلہ بحرین کی عدالت کی جانب سے ایک طویل مقدمہ بازی کے بعد 138 افراد کو قید کی سزا سنانے اور ان کی شہریت منسوخ کرنے کے فیصلے پر سامنے آیا جس کی انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مذمت کی۔عدالتی ذرائع کے مطابق یہ سزا یافتہ افراد اہلِ تشیع مکتبہ فکر سے تھے اور ان کا تعلق 169 افراد کے ایسے گروہ سے تھا جن پر ایران کے پاسداران انقلاب سے تعلق میں دہشت گردی کا گروہ بنانے کا الزام تھا۔بحرین ادارہ برائے حقوق اور جمہوریت کے مطابق یہ اب تک کا لوگوں کا سب سے بڑا گروہ تھا جسے 2012 سے چلنے والے ایک مقدمے کے نتیجے میں سزا سنائی گئی اور شہریت واپس لے لی گئی۔یہاں یہ بات مدِ نظر رہے کہ 2011 سے بحرین میں تمام اپوزیشن گروہوں پر پابندی لگادی گئی تھی یا انہیں تحلیل کردیا گیا تھا۔

شیعہ نیو ز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  شیعہ نیوز نیٹ ورک کی جانب سے تمام قارئین کی خدمت میں شب ولادت امام زمانہ عج کی مبارکباد پیش ہے۔

شب نیمئہ شعبان ولادت امام زمان (عج) کی رات یا شب برات کی اہمیت احادیث و روایات سے واضح ہے، اور یہ رات مسلمانوں کے جملہ مکاتب فکر کے ہاں اہم ترین رات ہے۔

خداوند عالم نے امام مہدی عج کی ولادت باسعادت کی خوشی کو کائنات حتی کہ تمام مسلمانوں خواہ شیعہ ہوں یا سنی کو میلاد اور خوشی کی کیفیت میں رکھا ہے۔

شیعہ مسلمان اس مبارک رات کو شب نیمٔہ شعبان و شب ولادت امام زمان کے طور پر مناتے ہی ہیں، تو دوسری طرف سنی مسلمان بھی اس رات کو شب برات کے عنوان سے متبرک جان کر میلاد اور خوشی میں شریک ہیں۔

اگرچہ شب قدر رمضان کی مبارک رات کی موجودگی میں شب برات کا بھی اسی عنوان سے منانا کوئی معنی نہیں رکھتا، لیکن شاید اللہ کا یہ اہتمام ہو کہ امام مہدی عج کی ولادت باسعادت کی خوشی ہر ایک مسلمان منائے، چاہے وہ امام مہدی عج کی نیمئہ شعبان تاریخ ولادت کا قائل ہو یا نہ ہو۔

سنی مکتب فکر کے ہاں کچھ روایات کے مطابق اس مبارک رات میں سال بھر کے اعمال کا حساب و کتاب اور قسمت کے فیصلے ہوتے ہیں،جب کہ معتبر روایات کے مطابق کہ جو تمام مکاتب فکر کے ہاں تواتر سے درج ہوئی ہیں، اس مبارک رات کو منجئی بشریت عالمی نجات دہندہ امام مہدی عج کی ولادت با سعادت کا موقع ہے۔

ملک بھر کی مساجد و امام بارگاہوں کو نہایت خوبصورتی سے سجایا گیا ہےجبکہ آج رات سے ہی محافل میلاد و عبادات کا سلسلہ شروع ہوجائیگا۔ مسلمان آج شب بھر عبادت خدا و ذکر امام ذمانہ عج میں بسر کریں گے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  ملک بھر میں آج (ہفتے کو) شب نیمۂ شعبان عقیدت و احترام سے منائی جائے گی۔

شب نیمہ شعبان کے مقدس موقع پر مساجد، امام بارگاہوں اور گھروں میں خصوصی عبادات کی جائیں گی جبکہ مختلف عبادت گاہوں میں خواتین کیلئے بھی باپردہ انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔ اجتماعی عبادات کیلئے مساجد، دینی مدارس اور گھروں میں خصوصی پروگرام ترتیب دیئے گئے ہیں جن میں انفرادی اور اجتماعی عبادات، نوافل کی ادائیگی اور تسبیح ذکر و اذکار شامل ہیں۔

کراچی میں مرکزی پروگرام بمناسبت شب ولادت امام مہدی عج نیٹی جیٹی پر منعقد کیا جائے گاجبکہ لاہور میں دریائے راوی پر شب ولادت امام مہدی علیہ السلام کی مناسبت سے جشن کا اہتمام ہوگا۔ مساجد اور امام بارگاہوں پر اضافی نفری تعینات ہوگی۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  آئی ایس او کی جانب سے سربراہ مجلس وحدت مسلمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری  کے اعزاز میں عشائیہ کا اہتمام کیا گیا۔ آئی ایس او پاکستان کے مرکزی صدر قاسم شمسی نے سیکرٹری جنرل منتخب ہونے پر علامہ راجہ ناصر عباس کو مبارکباد پیش کی اور  باہمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری ناصر عباس شیرازی، سیکرٹری سیاسیات اسد عباس نقوی، پنجاب کے نومنتخب سیکرٹری جنرل علامہ خالق اسدی، علامہ اعجاز بہشتی، علامہ اقبال کامرانی بھی موجود تھے۔آئی ایس او کے مرکزی صدر نے ایم ڈبلیو ایم کے رہنمائوں کو مرکزی سیکرٹریٹ آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے، تاکہ ملت کے اجتماعی معاملات بطریق احسن آگے بڑھ سکیں۔

انہوں نے کہا کہ ملت کو درپیش مسائل کا حل باہمی وحدت میں مضمر ہے۔ قاسم شمسی نے مزید کہا کہ دشمن انقلابی حلقوں کیخلاف سازشیں کرکے نظریاتی و انقلابی لوگوں کے مابین دوریاں پیدا کرکے اپنے مذموم ایجنڈے کو آگے بڑھانا چاہتا ہے، پاکستان میں موجود انقلابی قوتوں کو ایک دوسرے کی تقویت کا سبب بن کر دشمن کی سازش کو ناکام بنانا ہوگا تاکہ پاکستان میں رہبریت کی آرزو(وحدت) پوری ہو سکے۔

علامہ راجہ ناصر عباس نے آئی ایس او کی تعلیمی میدان میں خدمات کو سراہا اور کہا کہ آئی ایس او نوجوانوں کو دین سے روشناس کرانے کا اہم ترین فریضہ نبھا رہی ہے اور آئی ایس او سے مربوط نوجوان استعمار کی سازشوں کا ادراک رکھتے ہیں، اسی وجہ سے آئی ایس او پاکستان استعمار کی آنکھ میں کھٹکتی ہے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) صیہونی حکومت کے ایک سینیئر فوجی کمانڈر نے اعتراف کیا ہے کہ حزب اللہ اسرائیل پر روزانہ ایک ہزار میزائل برسانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔صیہونی حکومت کےناردرن کمانڈ آئی ڈی ایف کے سربراہ میجر جنرل یوئیل اسٹریک نے واللا نیوز ویب سائٹ سے گفتگو کے دوران کہا کہ حزب اللہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کے ہر طرح کے ممکنہ حملے کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہے۔مذکورہ اسرائیلی کمانڈر نے کہا کہ حزب اللہ اسرائیل کے اسٹریٹیجک ٹھکانوں پر زیادہ سے زیادہ میزائل برسانے کی توانائی رکھتا ہے اور اس کے پاس اس کے لئے ساز وسامان بھی موجود ہیں۔ اسرائیلی کمانڈر یوئیل اسٹریک نے کہا کہ مستقبل میں ممکنہ جنگ کے دوران اگر ضروری ہوا تو اسرائیل کی شمالی سرحدوں پر واقع سبھی رہائشی علاقوں کو خالی کرالیا جائے گا۔اس سے پہلے بھی صیہونی حکومت کے بعض فوجی کمانڈروں کا یہ بیان سامنے آچکا ہے کہ دوہزار انیس اسرائیل کے لئے سخت اور پیچیدہ سال ثابت ہوگا۔اسرائیل کے ایک اور فوجی کمانڈر تامیریدعی نے بھی اپنے بیان میں کہا تھا کہ حزب اللہ کے میزائل مقبوضہ فلسطین کے ہر علاقے کو نشانہ بنانے کی توانائی رکھتے ہیں۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) صیہونی حکومت کے ایک سینیئر فوجی کمانڈر نے اعتراف کیا ہے کہ حزب اللہ اسرائیل پر روزانہ ایک ہزار میزائل برسانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔صیہونی حکومت کےناردرن کمانڈ آئی ڈی ایف کے سربراہ میجر جنرل یوئیل اسٹریک نے واللا نیوز ویب سائٹ سے گفتگو کے دوران کہا کہ حزب اللہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کے ہر طرح کے ممکنہ حملے کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہے۔مذکورہ اسرائیلی کمانڈر نے کہا کہ حزب اللہ اسرائیل کے اسٹریٹیجک ٹھکانوں پر زیادہ سے زیادہ میزائل برسانے کی توانائی رکھتا ہے اور اس کے پاس اس کے لئے ساز وسامان بھی موجود ہیں۔ اسرائیلی کمانڈر یوئیل اسٹریک نے کہا کہ مستقبل میں ممکنہ جنگ کے دوران اگر ضروری ہوا تو اسرائیل کی شمالی سرحدوں پر واقع سبھی رہائشی علاقوں کو خالی کرالیا جائے گا۔اس سے پہلے بھی صیہونی حکومت کے بعض فوجی کمانڈروں کا یہ بیان سامنے آچکا ہے کہ دوہزار انیس اسرائیل کے لئے سخت اور پیچیدہ سال ثابت ہوگا۔اسرائیل کے ایک اور فوجی کمانڈر تامیریدعی نے بھی اپنے بیان میں کہا تھا کہ حزب اللہ کے میزائل مقبوضہ فلسطین کے ہر علاقے کو نشانہ بنانے کی توانائی رکھتے ہیں۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) صیہونی حکومت کے ایک سینیئر فوجی کمانڈر نے اعتراف کیا ہے کہ حزب اللہ اسرائیل پر روزانہ ایک ہزار میزائل برسانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔صیہونی حکومت کےناردرن کمانڈ آئی ڈی ایف کے سربراہ میجر جنرل یوئیل اسٹریک نے واللا نیوز ویب سائٹ سے گفتگو کے دوران کہا کہ حزب اللہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کے ہر طرح کے ممکنہ حملے کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہے۔مذکورہ اسرائیلی کمانڈر نے کہا کہ حزب اللہ اسرائیل کے اسٹریٹیجک ٹھکانوں پر زیادہ سے زیادہ میزائل برسانے کی توانائی رکھتا ہے اور اس کے پاس اس کے لئے ساز وسامان بھی موجود ہیں۔ اسرائیلی کمانڈر یوئیل اسٹریک نے کہا کہ مستقبل میں ممکنہ جنگ کے دوران اگر ضروری ہوا تو اسرائیل کی شمالی سرحدوں پر واقع سبھی رہائشی علاقوں کو خالی کرالیا جائے گا۔اس سے پہلے بھی صیہونی حکومت کے بعض فوجی کمانڈروں کا یہ بیان سامنے آچکا ہے کہ دوہزار انیس اسرائیل کے لئے سخت اور پیچیدہ سال ثابت ہوگا۔اسرائیل کے ایک اور فوجی کمانڈر تامیریدعی نے بھی اپنے بیان میں کہا تھا کہ حزب اللہ کے میزائل مقبوضہ فلسطین کے ہر علاقے کو نشانہ بنانے کی توانائی رکھتے ہیں۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) صیہونی حکومت کے ایک سینیئر فوجی کمانڈر نے اعتراف کیا ہے کہ حزب اللہ اسرائیل پر روزانہ ایک ہزار میزائل برسانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔صیہونی حکومت کےناردرن کمانڈ آئی ڈی ایف کے سربراہ میجر جنرل یوئیل اسٹریک نے واللا نیوز ویب سائٹ سے گفتگو کے دوران کہا کہ حزب اللہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کے ہر طرح کے ممکنہ حملے کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہے۔مذکورہ اسرائیلی کمانڈر نے کہا کہ حزب اللہ اسرائیل کے اسٹریٹیجک ٹھکانوں پر زیادہ سے زیادہ میزائل برسانے کی توانائی رکھتا ہے اور اس کے پاس اس کے لئے ساز وسامان بھی موجود ہیں۔ اسرائیلی کمانڈر یوئیل اسٹریک نے کہا کہ مستقبل میں ممکنہ جنگ کے دوران اگر ضروری ہوا تو اسرائیل کی شمالی سرحدوں پر واقع سبھی رہائشی علاقوں کو خالی کرالیا جائے گا۔اس سے پہلے بھی صیہونی حکومت کے بعض فوجی کمانڈروں کا یہ بیان سامنے آچکا ہے کہ دوہزار انیس اسرائیل کے لئے سخت اور پیچیدہ سال ثابت ہوگا۔اسرائیل کے ایک اور فوجی کمانڈر تامیریدعی نے بھی اپنے بیان میں کہا تھا کہ حزب اللہ کے میزائل مقبوضہ فلسطین کے ہر علاقے کو نشانہ بنانے کی توانائی رکھتے ہیں۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) سول نافرمانی کی جاری تحریک کے دوران پرتشدد مظاہروں کی کوریج کرنے والی معروف خاتون صحافی لیرا مککی کو آئرلینڈ میں گولیاں مار کر قتل کردیا گیا ہے۔عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق آئرلینڈ کے شہر ’لندن ڈیری‘ میں نامعلوم مسلح ملزمان نے 29 سالہ خاتون صحافی لیرا مککی کو اس وقت گولیوں کا نشانہ بنایا جب وہ جاری سول نافرمانی کی تحریک کے دوران ہونے والے پرتشدد مظاہروں کی کوریج کررہی تھیں۔
خبررساں اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق ری پبلکن باغیوں سے ہو سکتا ہے۔عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق حملہ آور اس قدر مشتعل اور جنونی تھے کہ جب خاتون صحافی کی مدد کے لیے ایمبولینس پہنچی تو اس پر پٹرول بم پھینک کر اسے بھی نذر آتش کردیا۔مقامی میڈیا کے مطابق پولیس نے لیرا مککی کے قتل کا مقدمہ آئرش ری پبلکن آرمی کے خلاف درج کرلیا ہے۔ پولیس نے اس واقع کو دہشت گردی قرار دیا ہے۔آئرلینڈ میں بنیادی جھگڑا اس بات کا ہے کہ آئرش ’انتہا پسند‘ لندن ڈیری کو صرف ڈیری کہنا چاہتے ہیں جب کہ دیگر کے خیال میں شہر کو پرانے نام لندن ڈیری سے پکارا جانا زیادہ بہتر ہے۔