شیعہ نیو ز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  شیعہ نیوز نیٹ ورک کی جانب سے تمام قارئین کی خدمت میں شب ولادت امام زمانہ عج کی مبارکباد پیش ہے۔

شب نیمئہ شعبان ولادت امام زمان (عج) کی رات یا شب برات کی اہمیت احادیث و روایات سے واضح ہے، اور یہ رات مسلمانوں کے جملہ مکاتب فکر کے ہاں اہم ترین رات ہے۔

خداوند عالم نے امام مہدی عج کی ولادت باسعادت کی خوشی کو کائنات حتی کہ تمام مسلمانوں خواہ شیعہ ہوں یا سنی کو میلاد اور خوشی کی کیفیت میں رکھا ہے۔

شیعہ مسلمان اس مبارک رات کو شب نیمٔہ شعبان و شب ولادت امام زمان کے طور پر مناتے ہی ہیں، تو دوسری طرف سنی مسلمان بھی اس رات کو شب برات کے عنوان سے متبرک جان کر میلاد اور خوشی میں شریک ہیں۔

اگرچہ شب قدر رمضان کی مبارک رات کی موجودگی میں شب برات کا بھی اسی عنوان سے منانا کوئی معنی نہیں رکھتا، لیکن شاید اللہ کا یہ اہتمام ہو کہ امام مہدی عج کی ولادت باسعادت کی خوشی ہر ایک مسلمان منائے، چاہے وہ امام مہدی عج کی نیمئہ شعبان تاریخ ولادت کا قائل ہو یا نہ ہو۔

سنی مکتب فکر کے ہاں کچھ روایات کے مطابق اس مبارک رات میں سال بھر کے اعمال کا حساب و کتاب اور قسمت کے فیصلے ہوتے ہیں،جب کہ معتبر روایات کے مطابق کہ جو تمام مکاتب فکر کے ہاں تواتر سے درج ہوئی ہیں، اس مبارک رات کو منجئی بشریت عالمی نجات دہندہ امام مہدی عج کی ولادت با سعادت کا موقع ہے۔

ملک بھر کی مساجد و امام بارگاہوں کو نہایت خوبصورتی سے سجایا گیا ہےجبکہ آج رات سے ہی محافل میلاد و عبادات کا سلسلہ شروع ہوجائیگا۔ مسلمان آج شب بھر عبادت خدا و ذکر امام ذمانہ عج میں بسر کریں گے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  ملک بھر میں آج (ہفتے کو) شب نیمۂ شعبان عقیدت و احترام سے منائی جائے گی۔

شب نیمہ شعبان کے مقدس موقع پر مساجد، امام بارگاہوں اور گھروں میں خصوصی عبادات کی جائیں گی جبکہ مختلف عبادت گاہوں میں خواتین کیلئے بھی باپردہ انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔ اجتماعی عبادات کیلئے مساجد، دینی مدارس اور گھروں میں خصوصی پروگرام ترتیب دیئے گئے ہیں جن میں انفرادی اور اجتماعی عبادات، نوافل کی ادائیگی اور تسبیح ذکر و اذکار شامل ہیں۔

کراچی میں مرکزی پروگرام بمناسبت شب ولادت امام مہدی عج نیٹی جیٹی پر منعقد کیا جائے گاجبکہ لاہور میں دریائے راوی پر شب ولادت امام مہدی علیہ السلام کی مناسبت سے جشن کا اہتمام ہوگا۔ مساجد اور امام بارگاہوں پر اضافی نفری تعینات ہوگی۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  آئی ایس او کی جانب سے سربراہ مجلس وحدت مسلمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری  کے اعزاز میں عشائیہ کا اہتمام کیا گیا۔ آئی ایس او پاکستان کے مرکزی صدر قاسم شمسی نے سیکرٹری جنرل منتخب ہونے پر علامہ راجہ ناصر عباس کو مبارکباد پیش کی اور  باہمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری ناصر عباس شیرازی، سیکرٹری سیاسیات اسد عباس نقوی، پنجاب کے نومنتخب سیکرٹری جنرل علامہ خالق اسدی، علامہ اعجاز بہشتی، علامہ اقبال کامرانی بھی موجود تھے۔آئی ایس او کے مرکزی صدر نے ایم ڈبلیو ایم کے رہنمائوں کو مرکزی سیکرٹریٹ آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے، تاکہ ملت کے اجتماعی معاملات بطریق احسن آگے بڑھ سکیں۔

انہوں نے کہا کہ ملت کو درپیش مسائل کا حل باہمی وحدت میں مضمر ہے۔ قاسم شمسی نے مزید کہا کہ دشمن انقلابی حلقوں کیخلاف سازشیں کرکے نظریاتی و انقلابی لوگوں کے مابین دوریاں پیدا کرکے اپنے مذموم ایجنڈے کو آگے بڑھانا چاہتا ہے، پاکستان میں موجود انقلابی قوتوں کو ایک دوسرے کی تقویت کا سبب بن کر دشمن کی سازش کو ناکام بنانا ہوگا تاکہ پاکستان میں رہبریت کی آرزو(وحدت) پوری ہو سکے۔

علامہ راجہ ناصر عباس نے آئی ایس او کی تعلیمی میدان میں خدمات کو سراہا اور کہا کہ آئی ایس او نوجوانوں کو دین سے روشناس کرانے کا اہم ترین فریضہ نبھا رہی ہے اور آئی ایس او سے مربوط نوجوان استعمار کی سازشوں کا ادراک رکھتے ہیں، اسی وجہ سے آئی ایس او پاکستان استعمار کی آنکھ میں کھٹکتی ہے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) صیہونی حکومت کے ایک سینیئر فوجی کمانڈر نے اعتراف کیا ہے کہ حزب اللہ اسرائیل پر روزانہ ایک ہزار میزائل برسانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔صیہونی حکومت کےناردرن کمانڈ آئی ڈی ایف کے سربراہ میجر جنرل یوئیل اسٹریک نے واللا نیوز ویب سائٹ سے گفتگو کے دوران کہا کہ حزب اللہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کے ہر طرح کے ممکنہ حملے کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہے۔مذکورہ اسرائیلی کمانڈر نے کہا کہ حزب اللہ اسرائیل کے اسٹریٹیجک ٹھکانوں پر زیادہ سے زیادہ میزائل برسانے کی توانائی رکھتا ہے اور اس کے پاس اس کے لئے ساز وسامان بھی موجود ہیں۔ اسرائیلی کمانڈر یوئیل اسٹریک نے کہا کہ مستقبل میں ممکنہ جنگ کے دوران اگر ضروری ہوا تو اسرائیل کی شمالی سرحدوں پر واقع سبھی رہائشی علاقوں کو خالی کرالیا جائے گا۔اس سے پہلے بھی صیہونی حکومت کے بعض فوجی کمانڈروں کا یہ بیان سامنے آچکا ہے کہ دوہزار انیس اسرائیل کے لئے سخت اور پیچیدہ سال ثابت ہوگا۔اسرائیل کے ایک اور فوجی کمانڈر تامیریدعی نے بھی اپنے بیان میں کہا تھا کہ حزب اللہ کے میزائل مقبوضہ فلسطین کے ہر علاقے کو نشانہ بنانے کی توانائی رکھتے ہیں۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) صیہونی حکومت کے ایک سینیئر فوجی کمانڈر نے اعتراف کیا ہے کہ حزب اللہ اسرائیل پر روزانہ ایک ہزار میزائل برسانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔صیہونی حکومت کےناردرن کمانڈ آئی ڈی ایف کے سربراہ میجر جنرل یوئیل اسٹریک نے واللا نیوز ویب سائٹ سے گفتگو کے دوران کہا کہ حزب اللہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کے ہر طرح کے ممکنہ حملے کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہے۔مذکورہ اسرائیلی کمانڈر نے کہا کہ حزب اللہ اسرائیل کے اسٹریٹیجک ٹھکانوں پر زیادہ سے زیادہ میزائل برسانے کی توانائی رکھتا ہے اور اس کے پاس اس کے لئے ساز وسامان بھی موجود ہیں۔ اسرائیلی کمانڈر یوئیل اسٹریک نے کہا کہ مستقبل میں ممکنہ جنگ کے دوران اگر ضروری ہوا تو اسرائیل کی شمالی سرحدوں پر واقع سبھی رہائشی علاقوں کو خالی کرالیا جائے گا۔اس سے پہلے بھی صیہونی حکومت کے بعض فوجی کمانڈروں کا یہ بیان سامنے آچکا ہے کہ دوہزار انیس اسرائیل کے لئے سخت اور پیچیدہ سال ثابت ہوگا۔اسرائیل کے ایک اور فوجی کمانڈر تامیریدعی نے بھی اپنے بیان میں کہا تھا کہ حزب اللہ کے میزائل مقبوضہ فلسطین کے ہر علاقے کو نشانہ بنانے کی توانائی رکھتے ہیں۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) صیہونی حکومت کے ایک سینیئر فوجی کمانڈر نے اعتراف کیا ہے کہ حزب اللہ اسرائیل پر روزانہ ایک ہزار میزائل برسانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔صیہونی حکومت کےناردرن کمانڈ آئی ڈی ایف کے سربراہ میجر جنرل یوئیل اسٹریک نے واللا نیوز ویب سائٹ سے گفتگو کے دوران کہا کہ حزب اللہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کے ہر طرح کے ممکنہ حملے کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہے۔مذکورہ اسرائیلی کمانڈر نے کہا کہ حزب اللہ اسرائیل کے اسٹریٹیجک ٹھکانوں پر زیادہ سے زیادہ میزائل برسانے کی توانائی رکھتا ہے اور اس کے پاس اس کے لئے ساز وسامان بھی موجود ہیں۔ اسرائیلی کمانڈر یوئیل اسٹریک نے کہا کہ مستقبل میں ممکنہ جنگ کے دوران اگر ضروری ہوا تو اسرائیل کی شمالی سرحدوں پر واقع سبھی رہائشی علاقوں کو خالی کرالیا جائے گا۔اس سے پہلے بھی صیہونی حکومت کے بعض فوجی کمانڈروں کا یہ بیان سامنے آچکا ہے کہ دوہزار انیس اسرائیل کے لئے سخت اور پیچیدہ سال ثابت ہوگا۔اسرائیل کے ایک اور فوجی کمانڈر تامیریدعی نے بھی اپنے بیان میں کہا تھا کہ حزب اللہ کے میزائل مقبوضہ فلسطین کے ہر علاقے کو نشانہ بنانے کی توانائی رکھتے ہیں۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) صیہونی حکومت کے ایک سینیئر فوجی کمانڈر نے اعتراف کیا ہے کہ حزب اللہ اسرائیل پر روزانہ ایک ہزار میزائل برسانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔صیہونی حکومت کےناردرن کمانڈ آئی ڈی ایف کے سربراہ میجر جنرل یوئیل اسٹریک نے واللا نیوز ویب سائٹ سے گفتگو کے دوران کہا کہ حزب اللہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کے ہر طرح کے ممکنہ حملے کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہے۔مذکورہ اسرائیلی کمانڈر نے کہا کہ حزب اللہ اسرائیل کے اسٹریٹیجک ٹھکانوں پر زیادہ سے زیادہ میزائل برسانے کی توانائی رکھتا ہے اور اس کے پاس اس کے لئے ساز وسامان بھی موجود ہیں۔ اسرائیلی کمانڈر یوئیل اسٹریک نے کہا کہ مستقبل میں ممکنہ جنگ کے دوران اگر ضروری ہوا تو اسرائیل کی شمالی سرحدوں پر واقع سبھی رہائشی علاقوں کو خالی کرالیا جائے گا۔اس سے پہلے بھی صیہونی حکومت کے بعض فوجی کمانڈروں کا یہ بیان سامنے آچکا ہے کہ دوہزار انیس اسرائیل کے لئے سخت اور پیچیدہ سال ثابت ہوگا۔اسرائیل کے ایک اور فوجی کمانڈر تامیریدعی نے بھی اپنے بیان میں کہا تھا کہ حزب اللہ کے میزائل مقبوضہ فلسطین کے ہر علاقے کو نشانہ بنانے کی توانائی رکھتے ہیں۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) سول نافرمانی کی جاری تحریک کے دوران پرتشدد مظاہروں کی کوریج کرنے والی معروف خاتون صحافی لیرا مککی کو آئرلینڈ میں گولیاں مار کر قتل کردیا گیا ہے۔عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق آئرلینڈ کے شہر ’لندن ڈیری‘ میں نامعلوم مسلح ملزمان نے 29 سالہ خاتون صحافی لیرا مککی کو اس وقت گولیوں کا نشانہ بنایا جب وہ جاری سول نافرمانی کی تحریک کے دوران ہونے والے پرتشدد مظاہروں کی کوریج کررہی تھیں۔
خبررساں اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق ری پبلکن باغیوں سے ہو سکتا ہے۔عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق حملہ آور اس قدر مشتعل اور جنونی تھے کہ جب خاتون صحافی کی مدد کے لیے ایمبولینس پہنچی تو اس پر پٹرول بم پھینک کر اسے بھی نذر آتش کردیا۔مقامی میڈیا کے مطابق پولیس نے لیرا مککی کے قتل کا مقدمہ آئرش ری پبلکن آرمی کے خلاف درج کرلیا ہے۔ پولیس نے اس واقع کو دہشت گردی قرار دیا ہے۔آئرلینڈ میں بنیادی جھگڑا اس بات کا ہے کہ آئرش ’انتہا پسند‘ لندن ڈیری کو صرف ڈیری کہنا چاہتے ہیں جب کہ دیگر کے خیال میں شہر کو پرانے نام لندن ڈیری سے پکارا جانا زیادہ بہتر ہے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) انتہا پسند اورمسلم و اقلیت دشمن ’مودی سرکار‘ کے دورمیں بھارتی حکام بھی اپنے ہی بھارتی شہریوں کے آئینی و قانونی حقوق کو پامال کرنے پہ تل گئے ہیں۔انھی وجوہات کی بنا پر کبھی مسلمانوں کے کاروبار کو بند کرایا جارہا ہے، کبھی بزرگ مسلمانوں کی جان بخشی خنزیر کھلا کر کی جارہی ہے تو کبھی انتہا پسند ہندوؤں کے جتھے مسلمانوں کو دن دیہاڑے ظلم و بربریت کا نشانہ بنا رہے ہیں لیکن حکومتی اہلکار اپنے فرائض بھول کرخاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔حکومتی اہلکاروں کی مذہبی تعصب پسندی، جنونیت اور مسلم دشمنی کی ایک اور بدترین مثال گزشتہ روز اس وقت سامنے آئی جب بھارت کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل کے جیلر نے مسلمان قیدی کی پیٹھ پر گرم دھات سے ہندوؤں کا مذہبی نشان ’اوم‘ دغوا دیا۔بھارت کے ذرائع ابلا غ کے مطابق تہاڑ جیل میں قید نبیر نامی مسلمان قیدی نے اپنے وکیل کے توسط سے دہلی کی کڑکڑ ڈومہ کورٹ کو بتایا ہے کہ بیرک میں انڈکشن چولہا کام نہ کرنے کی شکایت پر جیل سپرنٹنڈنٹ راجیش چوہان نے اسے پہلے بری طرح زد و کوب کیا اور اس کے بعد برہنہ پیٹھ پر دھات کی سلاخ سے جبراً ہندوؤں کا مذہبی نشان ’اوم‘ کا نشان دغوا دیا۔نبیر نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ جیل انتظامیہ نے اسے دو دن تک فاقہ کشی پہ مجبور کیا اور کھانے کے لیے کچھ بھی نہیں دیا۔تہاڑ جیل کے مسلمان قیدی نے یہ شکایت بھی کی ہے کہ مسلمان ہونے کی پاداش میں اسے نازیبا الفاظ کہے گئے اور اوراس کا استحصال کیا گیا۔بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق مسلمان قیدی کی شکایت پر دوران سماعت کڑکڑڈومہ کورٹ میں جج نے بذات خود اس کی پیٹھ پر بنے اوم کے نشان کا معائنہ کیا اور اس کے بعد تہاڑ جیل کی انتظامیہ کو نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا۔مسلمان قیدی نبیر کی شکایت پر دہلی کی کڑکڑڈومہ کورٹ نے جیل انتظامیہ کو دو دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کا حکم صادر کیا ہے۔کڑ کڑ ڈومہ کورٹ میں آئندہ سماعت پیر کو ہوگی۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) ایم ڈبلیو ایم سکردو کا سانحہ ہزارگنجی ،اوماڑہ اور ڈی آئی خان ٹارگٹ کلنگ کے سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی کال پر احتجاجی مظاہرہ کیا۔

تفصیلات کے مطابق سکردو احتجاجی مظاہرے سےمجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے رہنمائوں نے کہا کہ سانحہ ہزار گنجی کے بعد حکومتی رویہ قابل افسوس ہے، کاش ہمارے حکمران ہزارہ برادری کو بھی تحفظ فراہم کرنے میں کامیاب ہو جاتے۔ اُنہوں نے کہا کہ گذشتہ کئی سالوں سے ہزارہ برادری عدم تحفظ کا شکار ہے، کبھی بسوں سے اُتار کر مارا جاتا ہے، کبھی سنوکر کلب کو اُڑا دیا جاتا ہے، کبھی پوری پوری بس کو جلا دیا جاتا ہے، اُنہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت ہمیں تحفظ فراہم کرنے میں بالکل ناکام ہوچکی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس حکومت سے بہت ساری توقعات وابستہ تھیں، لیکن اس حکومت نے اپنے ابتدائی ایام میں ہی عوام کی اُمیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔