شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)طالبان شدت پسندوں نے جنوبی افغانستان میں رات گئے پاکستان کی سرحد کے قریب واقع فوجی چیک پوائنٹ پر حملہ کر کے 20 افغان فوجیوں کو ہلاک کردیا۔ قندھار میں صوبائی کونسل کے رکن محمد یوسف نے بتایا کہ پیر کی رات ضلع شورابک میں کیے گئے اس حملے کے نتیجے میں 8اہلکار زخمی بھی ہوئے۔

صوبائی گورنر آفس کے ایک آفیشل نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں افغان فوجی بھی شامل ہیں لیکن وہ ہلاکتوں کی صحیح تعداد نہیں بتا سکتے۔طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے حملے کی ذمے داری قبول کی اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے ہتھیاروں پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ادھر شمالی صوبے کے گورنر کے ترجمان زبیح اللہ امانی نے بتایا کہ ساری پل میں پولیس اور فوج کے مشترکہ اڈے پر طالبان نے حملہ کر کے سیکیورٹی فورسز کے کم از کم 5اہلکاروں کو ہلاک کردیا۔انہوں نے بتایا کہ یہ حملہ ضلع سنگ چرک میں پیر کی رات کیا گیا جس میں 7افراد زخمی بھی ہوئے۔اس حملے کے حوالے سے طالبان کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا جبکہ امانی نے دعویٰ کیا کہ حملے میں 4شدت پسند بھی مارے گئے۔شمالی صوبے سمن گن کی پولیس کے سربراہ کے ترجمان سید ہاشم بیان نے کہا کہ ایک افغان سیکیورٹی اہلکار نے اپنے دو ساتھیوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا اور خود طالبان شدت پسندوں سے جا ملا۔انہوں نے کہا کہ حملہ آور نے پیر کی دوپہر بھاگنے سے قبل ایک فوجی گاڑی اور اسلحے پر قبضہ کیا اور فرار ہو گیا۔طالبان نے فوجی کے اس اقدام کی تعریف کرتے ہوئے تصدیق کی کہ وہ ضلع داری صف میں ان کا حصہ بن گیا ہے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) افغانستان میں طالبان کے مختلف صوبوں میں حملوں میں 17 افغان پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے پی‘ کے مطابق افغان حکام نے ملک کے مختلف حصوں میں طالبان کے تازہ حملوں میں تقریباً 17 پولیس اہلکاروں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کردی۔شمالی صوبے بدخشاں کے ترجمان نیک محمد نے بتایا کہ جمعہ کو ضلع ارگانج کوہا میں طالبان کے حملے میں 3 پولیس اہلکار ہوئے، جہاں تاحال فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔
صوبائی پولیس سربراہ غلام داود تاراخیل نے بتایا کہ ’طالبان نے صوبہ غزنی میں بڑا حملہ کیا اور 2 چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا‘۔انہوں نے بتایا کہ ’مذکورہ حملے میں تقریباً 9 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے‘۔ان کا کہنا تھا کہ طالبان کو کئی گھنٹوں بعد ’بھاری جانی نقصان کے ساتھ شکست‘ دے دی گئی۔دوسری جانب صوبائی ڈپٹی کونسل چیف اسد اللہ کاکڑ نے بتایا کہ صوبہ زابل کے ضلع شنکئی میں طالبان کے حملے میں 5 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔اس حوالے سے طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے تینوں حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔واضح رہے کہ رواں ماہ کی 24 تاریخ کو افغانستان کے صوبے قندوز میں طالبان کے حملے میں 2 امریکی ہلاک جبکہ امریکی فضائی حملوں میں 4 افغان اہلکاروں کے علاوہ بچوں اور خواتین سمیت 14 شہری ہلاک ہوگئے تھے۔قندوز میں دو امریکیوں کی ہلاکت کے بعد امریکی جنگی طیاروں نے ضلع گل ٹیپا کے مضافات میں ایک گھر کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 8 بچے اور 4 خواتین سمیت 14 پناہ گزین ہلاک ہوئے۔پینٹاگون کی جانب سے جاری اعلامیے میں دو امریکی فوجیوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی تھی۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) افغان حکومت نے سرحد پر اپنے فرائض انجام دینے والے 58 فوجیوں کی طالبان کے ہاتھوں یرغمال ہونے کی تصدیق کردی۔ گزشتہ چند روز سے افغان فوجیوں اور طالبان کے درمیان لڑائی جاری تھی اس کے دوران فوجیوں نے پڑوسی ملک ترکمانستان میں بھی ان کا پیچھا بھی کیا جس پر ترکمانستان نے فوجیوں کو واپس جانے پر مجبور کردیا تھا۔افغانستان وزارت دفاع نے کئی دنوں سے افغان صوبے بادغیس کے ضلع بالا مرغب میں جاری لڑائی کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس کے بعد بیان جاری کردیا۔
بیان میں کہا گیا کہ ’بدقسمتی سے 58 بارڈر سیکورٹی جوانوں کو دشمن نے یرغمال بنا لیا، افغان حکومت کا مزید کہنا تھا کہ ان فوجیوں کی رہائی تک سرچ آپریشن جاری رہے گا۔واضح رہے کہ اس سے قبل رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ طالبان نے اب تک کی سب سے بڑی تعداد یعنی 150 فوجیوں کو یرغمال بنا لیا ۔نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق بادغیس میں جاری آپریشن کے دوران ایک ہفتے میں 16 فوجی ہلاک جبکہ 190 فوجیوں کو یرغمال بنایا جاچکا ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے پیر کے روز کو افغان فوجیوں کا ایک پورا دستہ یا تو یرغمال بن گیا یا ہلاک ہوگیا۔افغان پولیس کمانڈر صالح محمد مباریز کے مطابق بالا مرغاب شہر میں چند دن سے طالبان اور افغان بارڈر فورسز کے درمیان لڑائی جاری تھی جس کے نتیجے میں ہفتے کہ روز 50 فوجیوں نے ہتھیار ڈال دیے جبکہ 100 فوجیوں نے ترکمانستان کی سرحدی علاقے میں طالبان کا پیچھا کیا تھا جس پر انہیں واپس آنے پر مجبور کردیا گیا تھا۔اس بارے میں کمپنی کے ڈپٹی کمانڈر لیفٹیننٹ حبیب اللہ نے تصدیق کی کہ ترکمانستان نے طالبان کو کہا کہ ہم آپ کو فوجیوں کے ہتھیار جبکہ افغان حکومت کو فوجی واپس کردیتے ہیں لیکن طالبان نے ہتھیار افغان حکومت جبکہ فوجی ان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) افغانستان میں سکیورٹی فورسزنے زبردست کارروائی کرتے ہوئے گزشتہ 24 گھنٹوں میں کم از کم 45 طالبان کو ہلاک کردیا ہے۔ ہلاک ہونے والوں سے کافی مقدار میں ہتھیار اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)کابل میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے افغان چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال مزید بہتر ہوسکتی ہے اگر طالبان دیگر شدت پسند تنظیموں سے روابط ختم کردیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قطر میں امریکا اور طالبان کے درمیان جاری مذاکرات کے نتیجے میں ہونے والے معاہدے کی خبریں اگر درست ہیں تو افغانستان کے آدھے مسائل حل ہوجائیں گے اور امید ہے کہ ایسا ہی ہو۔افغان چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ دہشت گرد تنظیمیں مذاکرات کی آڑ میں ایک طرف تو افغانستان میں خون ریزی کو بڑھا رہی ہیں اور دوسری جانب اپنے اپنے ممالک کے مفادات کو پورا کررہی ہیں۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)غیر ملکی نیوز ایجنسی کے مطابق ضلع ننگر ہار کے گاؤں ناصر خل میں ہونے والے امریکی فضائی حملے میں 2 گھر بھی تباہ ہو گئے جب کہ جاں بحق ہونے والوں میں بچے بھی شامل ہیں۔گورنر ننگر ہار نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فضائی حملے میں طالبان کا اہم کمانڈر بھی مارا گیا۔اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان میں جاری جنگ کے دوران گزشتہ برس سب سے زیادہ شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔ سال 2018 میں ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد 3 ہزار 804 تھی۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)افغان میڈیا کے مطابق افغان اسپیشل فورسز نے صوبے ننگر ہار کے ضلع خوگیانی میں آپریشن کیا۔افغان اسپیشل فورسز کے اس آپریشن میں 11 طالبان ہلاک جب کہ 4 زخمی ہو گئے۔افغان میڈیا کا یہ بھی کہنا ہے کہ خوگیانی میں کی گئی اس کارروائی کے دوران نارکوٹکس اور ہیروئن کی لیبارٹریاں بھی تباہ کردی گئی ہیں۔

 

 

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) قطر میں افغان طالبان کے دفتر کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ اگر افغانستان میں امریکہ اور افغان حکومت سے کوئی جنگ نہ ہو تو داعش کا ایک ماہ میں کام تمام کردیں گے۔

برطانونی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کے قطر دفتر کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ اگر افغانستان میں امریکہ اور افغان حکومت سے کوئی جنگ نہ ہوں تو داعش کا کام ایک ماہ میں تمام کرسکتے ہیں۔ افغان طالبان نے کہا کہ امریکہ کے جانے کے بعد افغانستان میں امن کے لیے داعش کوئی بڑا خطرہ ثابت نہیں ہوسکتی، بلکہ امن معاہدے کی صورت میں وہ ایک ماہ میں افغانستان سے داعش کا مکمل طور پر صفایا کرسکتے ہیں۔

 سہیل شاہین کابرطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہنا تھا کہ داعش کو افغان حکومت اور امریکہ کی مدد و پشت پناہی حاصل ہے اوریہ بات ہم نہیں کررہے بلکہ افغان حکومت میں شامل ان کے اپنے ممبران پارلمینٹ بار بار یہ بات سب کے سامنے دہرا چکے ہیں۔ سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ افغانستان میں داعش کبھی بھی کوئی بڑی قوت نہیں رہی ہے، ہم حال ہی میں افغانستان کے شمال سے ان کا خاتمہ کررہے تھے لیکن امریکہ اور افغان حکومت ان کو دوسری جگہوں پر لے گئے اور ایک مرتبہ پھر ان کو زندہ کردیا۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) افغانستان میں اتحادی فوج نے ڈرون حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں 2طالبان کمانڈر ہلاک ہو گئے۔

افغان میڈیا کے مطابق افغان صوبے کنڑ میں اتحادی فوج نے ڈرون حملے میں طالبان کے ریڈ یونٹ کمانڈروں کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، حملہ گزشتہ روز اسمار ضلع کے نواح میں کیا گیا۔

ہلاک ہونے والے طالبان کے کمانڈروں کی شناخت محمد یوسف اور ملا ایوب کے نام سے ہوئی ہے، حملے میں گاڑی میں موجود ہتھیار بھی تباہ کر دیئے گئے ہیں۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) امریکہ کےایک معروف سیاسی تجزیہ نگار کا کہنا ہےکہ افغانستان پر امریکہ لشکر کشی اورمسلسل فوجی موجودگی کے باعث اس ملک میں طالبان دہشتگرد پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئے ہیں۔ایرانی ذرائع ابلاغ کےساتھ انٹرویو میں ’’مائیکل کویل مین‘‘ نے کہاکہ افغانستان پر امریکہ لشکر کشی اورمسلسل فوجی موجودگی کے باعث اس ملک میں طالبان دہشتگرد پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ افغانستان سے متعلق سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ طالبان دہشتگرد گروہ اُمید سے زیادہ طاقتور بن گیا ہے اورٹرمپ کی حکمت عملی بھی اس ملک کے حوالے سے ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ امریکہ کی قیادت میں نیٹو افواج کی طرف سے طالبان پر قریب دودہائیوں سے جاری بمباری کے باوجود طالبان کمزور نہیں ہوا ہے اور افغانستان کے ایک وسیع علاقے میں اس کا قبضہ برقرار ہے۔انہوں نے کہاکہ افغانستان پر لشکر کشی کے بعدآج 40 سے 50 فیصد ملک کے چھوٹے بڑے شہروں پر طالبان کا قبضہ ہے۔انہوں نے کہاکہ طالبان دہشتگرد گروہ کو کابل میں ایک ایسی حکومت کا سامنا ہے جوپوے ملک میں امن واستحکام قائم کرنے میں پوری طرح ناکام ہے۔انہوں نے کہاکہ کابل حکومت آج داخلی اورذاتی تنازعات میں اس طرح پھنسی ہوئی ہے کہ وہ عوام کو بنیادی خدمات فراہم کرنے میں بھی ناکام ہورہی ہے۔انہوں نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ افغانستان کے حوالے سے امریکہ کی اسٹریٹجی کے نتائج پوری طرح واضح ہیں کہا کہ جنگ کے ذریعے ملک میں امن واستحکام کی بحالی ناممکن ہے اور ٹرمپ انتظامیہ کو افغانستان کے ہمسایہ ممالک کےساتھ مل کر ملک میں امن وسیکورٹی کی بحالی کی کوشش کرنی چاہئے۔انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کے موجودہ مسائل کے حل کیلئے لوگوں کو اقتصادی طورپر مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔