شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) ڈاکٹر محمد یونس دانش جمعیت علمائے پاکستان (نورانی) کے مرکزی ترجمان ہیں، وہ جے یو پی کی مرکزی مجلس عاملہ اور مجلس شوریٰ کے بھی رکن ہیں، جمعیت علمائے پاکستان میں شمولیت سے قبل وہ انجمن طلبائے اسلام میں فعال تھے، جسکے وہ مرکزی سیکرٹری جنرل بھی رہے چکے ہیں۔شیعہ نیوز“ نے ڈاکٹر محمد یونس دانش کیساتھ اورماڑہ حملہ، پاک ایران تعلقات اور اسے نقصان پہنچانے کی سازش کے حوالے ایک مختصر نشست کی، اس موقع پر انکے ساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ادارہ

شیعہ نیوز: اورماڑہ حملہ اور پاک ایران تعلقات خراب کرنیکی سازش کے حوالے سے کیا کہنا چاہیں گے۔؟
ڈاکٹر محمد یونس دانش: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔۔۔ جب بھی پاکستان کے حکمران کسی برادر اسلامی ملک کا دورہ کرتے ہیں، تو پاکستان و اسلام دشمن ممالک دہشتگردی کے واقعات کے ذریعے اسے سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وزیراعظم ایران کا دو روزہ دورہ کر رہے ہیں، لہٰذا بھارت، امریکا، اسرائیل و دیگر دشمن ممالک چاہتے ہیں کہ پاکستان اور ایران ایکدوسرے کے قریب نہ آئیں، پاک ایران تعلقات مزید بہتر نہ ہوں، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات خراب ہوں، دونوں برادر اسلامی پڑوسی ممالک پاکستان اور ایران یک جان اور دو قالب ہیں، کیونکہ جب بھی کوئی مشکل وقت پڑا ہے، پاکستان نے ایران کا اور ایران نے پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ پاکستان ایران تعلقات خراب کرنے کیلئے ماضی میں بھی دہشتگرد کارروائیاں کی جاتی رہی ہیں، اورماڑہ حملہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، لیکن ماضی کی طرح اس بار بھی پاک ایران برادرانہ تعلقات خراب کرنے کی سازش ناکام ہوگئی ہے۔

شیعہ نیوز: کیا آپ سمجھتے ہیں اورماڑہ حملہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ ایران کو سبوتاژ کرنیکی سازش ہے۔؟
ڈاکٹر محمد یونس دانش: بالکل، اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ اورماڑہ حملے کا مقصد پاک ایران تعلقات کو نقصان پہنچانا اور وزیراعظم عمران خان صاحب جو کل دو روزہ دورے پر ایران جا رہے ہیں، اسے سبوتاژ کرنا ہے، اورماڑہ حملے میں ملوث دہشتگردوں کو بھارت کی مکمل سرپرستی حاصل ہے اور بھارت نے اس حملے کے ذریعے پوری کوشش کی کہ پاک ایران تعلقات خراب کئے جائیں، وزیراعظم عمران خان کا دورہ ایران خراب ہو، دونوں برادر اسلامی ہمسائے ممالک کے درمیان دوریاں پیدا کی جائیں۔

شیعہ نیوز: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ امید ہے ایران ان دہشتگردوں کیخلاف ایکشن لے گا، ایرانی وزیر خارجہ نے اس واقعے کی تحقیقات میں مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے، کیا آپ سمجھتے ہیں پاکستان اور ایران نے تعلقات خراب کرنیکی اس سازش کو ناکام بنا دیا ہے۔؟
ڈاکٹر محمد یونس دانش: یہ پہلا موقع نہیں ہے، اس سے پہلے بھی جب دہشتگرد عناصر نے پاکستان اور ایران کی سرزمین کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کیا، تو اس وقت بھی پاکستان اور ایران نے انتہائی سمجھداری کا ثبوت دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات خراب کرنے کی سازش کو ناکام بنایا تھا، اب جب بھارتی نے اورماڑہ حملے کے ذریعے پاک ایران تعلقات خراب کرنے کی سازش کی، تو پاکستان اور ایران نے مشترکہ طور پر اس بھارتی سازش کو ناکام بنا دیا ہے۔ پاکستان اور ایران کی عوام ہو یا حکومتیں، دونوں اچھی طرح سمجھتی ہیں کہ بھارت، امریکا، اسرائیل و دیگر استعماری و کفریہ قوتوں کو پاک ایران تعلقات ایک آنکھ نہیں بھاتے، پاک ایران تعلقات ان دشمن ممالک کی آنکھوں میں کانٹے کی مانند ہے۔

شیعہ نیوز: ایران نے پاکستان کو اورماڑہ حملے کیخلاف تحقیقات اور تعاون کی جو یقین دہانی کرائی ہے، اسے کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
ڈاکٹر محمد یونس دانش: ہم سمجھتے ہیں کہ ایران پر حملہ پاکستان پر حملہ ہے اور پاکستان پر حملہ ایران پر حملہ ہے، کیونکہ دونوں برادر اسلامی پڑوسی ممالک ہیں، لہٰذا اورماڑہ حملے کے بعد ایرانی ردعمل نے پاک ایران تعلقات خراب کرنے کی، دونوں ممالک کے درمیان نفرتیں پیدا کرنے، دوریاں پیدا کرنے کی سازشوں کو ناکام بنا دیا ہے، ضروری ہے کہ پاکستان اور ایران دہشتگردی کے خلاف اور قیام امن کیلئے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں۔

شیعہ نیوز: وزیراعظم پاکستان عمران خان کل دو روزہ دورے پر ایران جا رہے ہیں، کیا کہیں گے اس حوالے سے۔؟
ڈاکٹر محمد یونس دانش: خطے اور عالمی حالات کے تناظر میں وزیراعظم عمران خان کا دورہ ایران انتہائی اہمیت کا حامل ہے، یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم کے دورہ ایران کو سبوتاژ کرنے کیلئے اورماڑہ حملہ کیا گیا، کیونکہ اس قسم کے دورہ جات سے دونوں ممالک کو مزید قریب آنے کا موقع ملے گا، ایک دوسرے کو سمجھنے، ایک دوسرے کو درپیش مسائل کو سمجھنے میں مدد ملے گی اور یہی پاک ایران نزدیکیاں بھارت، امریکا، اسرائیل و دیگر کفری قوتوں کیلئے زہر قاتل ہیں۔

شیعہ نیوز: وزیراعظم عمران خان دورہ ایران کتنا مؤثر ثابت ہوتا نظر آرہا ہے۔؟
ڈاکٹر محمد یونس دانش: وزیراعظم عمران خان کا دورہ ایران خوش آئند ہے اور وقت کی اہم ضرورت بھی۔ امید ہے کہ اس دورے کے دونوں ممالک پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہونگے، اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید بہتری آئے گی، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات خراب کرنے کی کوششوں، غلط فہمیاں پیدا کرنے کی سازشوں کو ناکام بنانے میں بہت مؤثر ثابت ہوگا۔ جیسا کہ میں پہلے عرض کیا کہ بھارت، امریکا اور اسرائیل چاہتے ہیں کہ پاک ایران تعلقات مزید بہتر نہ ہوسکیں، تعلقات خراب ہوں، دونوں ممالک ایک دوسرے سے دور رہیں، امید ہے کہ وزیراعظم عمران خان دورہ ایران میں ان سارے مسائل پر بات کرینگے، امید ہے دونوں ممالک کے درمیان جو بھی غلط فہمیاں ہیں، وہ دور ہونگی۔

شیعہ نیوز: پاکستان کو معاشی بحران کا سامنا ہے، اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان کے دورہ ایران کی اہمیت کے حوالے سے کیا کہنا چاہیں گے۔؟
ڈاکٹر محمد یونس دانش: وزیراعظم عمران خان کو چاہیئے کہ پاکستان میں توانائی بحران کے خاتمے کیلئے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی تکمیل کے حوالے سے ضرور بات کریں، جو ایران پہلے ہی اپنے حصے کی تعمیر کرکے سرحد تک پہنچا چکا ہے، اس منصوبے پر عملدرآمد کیا جائے، ایران سے کم قیمت پر تیل کے حصول کیلئے معاہدے کئے جائیں، پاک ایران معاشی و اقتصادی تعلقات کے فروغ کے حوالے سے بات کی جائے، پاک ایران تجارت میں اضافے کے حوالے سے بات کی جائے، تجارتی، اقتصادی، معاشی معاہدے کئے جائیں، فوجی کے ساتھ ساتھ اقتصادی اتحاد بھی بنائیں۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیاں میں قابض بھارتی فورسز نے ریاستی دہشت گردی میں مزید 2 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔
کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فورسز نے ضلع شوپیاں کے علاقے گاہاند میں سرچ آپریشن کے دوران کشمیری نوجوانوں کو شہید کیا۔رپورٹ کے مطابق آخری اطلاعات تک علاقے میں بھارتی فورسز کا آپریشن جاری تھا۔دوسری جانب انڈین ایکسپریس کی رپورٹ میں الزام لگایا گیا کہ دونوں کشمیری نوجوان مسلح مقابلے میں شہید ہوئے۔بھارتی پولیس سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ میں دعویٰ کیا کہ شہید کیے جانے والے نوجوانوں کا تعلق عسکری تنظیم سے تھا جبکہ ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ انہیں مبینہ طور پر مسلح مقابلے میں شہید کیا گیا۔ایک علیحدہ رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی کٹھ پتلی انتظامیہ نے ضلع کلگام میں پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے کالے قانون کے تحت جماعت اسلامی کے کارکن سمیت 4 افراد کو حراست میں لے لیا۔

بھارتی انتظامیہ نے جاوید احمد خان، رمیز شاہ، گلزار احمد غنی اور جماعت اسلامی کے رضا کار محمد رمضان شیخ کو حراست میں لے کر جموں کی کوٹ گھلوال جیل منتقل کردیا۔حراست میں لیے جانے والے افراد کے اہل خانہ نے بتایا کہ محمد رمضان شیخ کو انتظامیہ نے کالے قانون کے تحت تیسری مرتبہ حراست میں لیا ہے۔کشمیر میڈیا سروس کی ایک اور رپورٹ کے مطابق انڈین پیرا ملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی آیف) نے مقبوضہ کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں 13 سالہ اویس احمد میر کو فائرنگ کرکے قتل کردیا۔رپورٹ کے مطابق سی آر پی ایف کے اہلکاروں نے گزشتہ دنوں ساتویں جماعت کے طالب علم پر فائرنگ کی تھی۔مقامی افراد نے الزام لگایا کہ جس وقت زخمی لڑکے کو ہسپتال منتقل کیا جارہا تھا تو انڈین فورسز نے اسے ہسپتال منتقل کرنے سے بھی روکا جس کی وجہ سے وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔مقامی افراد نے واقع کی تحقیقات مجسٹریٹ سے کروانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔


خیال رہے کہ نئی دہلی کی جانب سے پاکستان پر آزادی کی اس لڑائی کو ایندھن فراہم کرنے کا الزام عائد کیا جاتا ہے، جس میں اب تک ہزاروں معصوم شہری جاں بحق ہوچکے ہیں۔پاکستان اس الزام کی سختی سے تردید کرتا آیا ہے اور اس کا موقف ہے کہ وہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی صرف سفارتی سطح پر حمایت کرتا ہے۔یاد رہے کہ بھارت کی سپریم کورٹ نے پلوامہ حملے کے بعد بھارتی شہریوں کے ہاتھوں تشدد کا شکار بننے والے کشمیریوں کے لیے مکمل تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پلوامہ حملے کے بعد تقریباً 700 کشمیری طالب علم، مزدور اور تاجر واپس مقبوضہ کشمیر لوٹ چکے ہیں۔واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس کی بس پر حملے میں 44 پیراملٹری اہلکاروں کی ہلاکت پر بھارت نے پاکستان پر حملے کا الزام عائد کردیا تھا۔اس سے قبل دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے بھارتی فورسز پر حملے سے متعلق بھارتی وزارت خارجہ کے بیان کو ’پاکستان پر الزام تراشی کا وتیرہ‘ قرار دے دیا تھا۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) سعودی عرب میں منشیات کی اسمگلنگ کے جرم میں پاکستانی میاں بیوی کے سر قلم کر دیئے گئے۔ریاض کے وزرات خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق سعودی عرب کی عدالت میں ہیروئن اسمگلنگ کے مجرم دونوں میاں بیوی کو سزائے موت کی سزا ہوئی تھی۔

جاری کردہ پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ محمد مصطفیٰ اور ان کی اہلیہ فاطمی اعجاز کو ’ہیروئن اسمگلنگ کے دوران حراست میں لیا گیا تھا‘۔سعودی وزارت نے بتایا کہ ’مذکورہ گرفتاری عدالت میں ظاہر کی گئی جہاں تحقیقات کے نتیجے میں دونوں کو مجرم قرار دیا گیا‘۔اس حوالے سے بتایا گیا کہ سزائے موت کو سپریم کورٹ میں بھی چینلج کیا گیا تاہم عدالت عظمیٰ نے سزا برقرار رکھی۔بعدازاں رائل آرڈ کے بعد دونوں میاں بیوی کو جدہ میں سزائے موت دے دی گئی۔جسٹس پروجیکٹ پاکستان (جے پی پی) نے سعودی عدالت کے فیصلے پر احتجاج کیا اور کہا کہ ’گزشتہ پانچ برسوں میں پہلی خاتون پاکستانی کو سزا دی گئی‘۔جے پی پی کے مطابق اس حقیقت کے برعکس کہ دونوں ممالک قیدیوں کے تبادلے پر مذاکرات کررہے ہیں، میاں بیوی کے سر قلم کردیئے گئے۔ان کے مطابق اوورسزایمپلائمنٹ والے معمولی اجرت پر روز گار کمانے والوں کو جھانسہ دے کر اسمگلنگ کرواتے ہیں۔جے پی پی نے الزام عائد کیا کہ وفاقی حکومت اپنے مقدمات میں اپنے شہریوں کو تنہا چھوڑ دیتے ہیں جبکہ وزیراعظم نے بھی ایسے مقدمات میں ملزمان کی قانون مدد فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔جے پی پی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے حکومت پر زوردیا کہ تمام سفارتی تعلقات کو استعمال میں لاتے ہوئے سعودی حکومت کو پاکستانیوں کی سزائے موت روکنے پر آمادہ کرے۔خیال رہے سعودی عرب میں سزائے موت دیے جانے کی شرح دنیا میں بلند ترین شمار کی جاتی ہے جہاں دہشت گردی، ریپ، مسلح ڈکیتی اور منشیات کی اسمگلنگ پر سزائے موت دی جاتی ہے۔انسانی حقوق کے ماہرین سعودی عرب میں ملزمان کے ٹرائل کے حوالے سے کئی بار سوال اٹھا چکے ہیں، تاہم سعودی حکومت کا موقف ہے کہ سزائے موت مزید جرائم کو روکنے کے لیے موثر ہے۔سعودی عرب میں 2016 میں مجموعی طور پر 144 افراد کو سزا دی گئی تھی تاہم انسانی حقوق کے گروپ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق 2016 میں سعودی عرب میں 150 سے زائد افراد کو سزائے موت دی گئی۔رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ 2015 میں سعودی عرب میں 158 افراد کو سزائے موت دی گئی تھی، جو گزشتہ دو دہائیوں میں سب سے زیادہ تھی۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)طالبان شدت پسندوں نے جنوبی افغانستان میں رات گئے پاکستان کی سرحد کے قریب واقع فوجی چیک پوائنٹ پر حملہ کر کے 20 افغان فوجیوں کو ہلاک کردیا۔ قندھار میں صوبائی کونسل کے رکن محمد یوسف نے بتایا کہ پیر کی رات ضلع شورابک میں کیے گئے اس حملے کے نتیجے میں 8اہلکار زخمی بھی ہوئے۔

صوبائی گورنر آفس کے ایک آفیشل نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں افغان فوجی بھی شامل ہیں لیکن وہ ہلاکتوں کی صحیح تعداد نہیں بتا سکتے۔طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے حملے کی ذمے داری قبول کی اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے ہتھیاروں پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ادھر شمالی صوبے کے گورنر کے ترجمان زبیح اللہ امانی نے بتایا کہ ساری پل میں پولیس اور فوج کے مشترکہ اڈے پر طالبان نے حملہ کر کے سیکیورٹی فورسز کے کم از کم 5اہلکاروں کو ہلاک کردیا۔انہوں نے بتایا کہ یہ حملہ ضلع سنگ چرک میں پیر کی رات کیا گیا جس میں 7افراد زخمی بھی ہوئے۔اس حملے کے حوالے سے طالبان کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا جبکہ امانی نے دعویٰ کیا کہ حملے میں 4شدت پسند بھی مارے گئے۔شمالی صوبے سمن گن کی پولیس کے سربراہ کے ترجمان سید ہاشم بیان نے کہا کہ ایک افغان سیکیورٹی اہلکار نے اپنے دو ساتھیوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا اور خود طالبان شدت پسندوں سے جا ملا۔انہوں نے کہا کہ حملہ آور نے پیر کی دوپہر بھاگنے سے قبل ایک فوجی گاڑی اور اسلحے پر قبضہ کیا اور فرار ہو گیا۔طالبان نے فوجی کے اس اقدام کی تعریف کرتے ہوئے تصدیق کی کہ وہ ضلع داری صف میں ان کا حصہ بن گیا ہے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) وزیر اعظم عمران خان نے بھارت اور اسرائیل کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ووٹ لینے کے لیے دونوں ملکوں کی قیادت اپنے عوام کو گمراہ کر رہی ہے۔وزیر اعظم نے منگل کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بھارتی اور اسرائیلی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کی قیادت الیکشن میں فتح کے لیے اپنے عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ اسرائیل میں آج انتخابات ہیں جبکہ بھارت میں 11اپریل سے انتخابی عمل شروع ہونے والا ہے اور دونوں ہی ملکوں کی حکتوں جانب سے الیکشن میں کامیابی کے جارحیت کا استمال کیا جا رہا ہے۔وزیر اعظم نے اپنے پیغام میں کہا کہ جب بھارت و اسرائیل میں رہنما محض ووٹوں کے لیے اخلاقی دیوالیہ پن میں کمشیر/مغربی پٹی پر عالمی قوانین، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اپنے آئین کے برعکس قبضہ جمائے رکھنے کا نعرہ لگاتے ہیں تو کیا عوام کو غصہ نہیں آتا اور وہ ان سے پوچھتے نہیں کہ انتخاب جیتنے کیلئے آخر کس حد تک جاؤ گے؟۔واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں مودی حکومت مظالم کا سلسلہ ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور پلوامہ حملے کے بعد قابض بھارتی افواج کے انسانیت سوز رویے میں اضافہ ہوا ہے۔دوسری جانب اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو کا کہنا ہے کہ اگر وہ دوبارہ اقتدار میں آئے تو غربِ اردن میں یہودی آبادیوں کو اسرائیل کا حصہ بنا دیں گے۔عالمی قوانین کے تحت یہ بستیاں غیرقانونی ہیں لیکن اسرائیل ان قوانین کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے اور اسے اسرائیل کا حصہ بنانے کے درپے ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل گذشتہ ماہ امریکہ نے شام سے 1967 میں قبضہ کی ہوئی گولان کی پہاڑیوں کو اسرائیل کا حصہ تسلیم کر لیا تھا جبکہ اس سے قبل یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت بھی تسلیم کر لیا گیا تھا۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)امریکی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستانی طیارہ مار گرانے اور بالاکوٹ میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے ثبوت پیش کرنے میں ناکامی کے سنگین سیاسی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔مائیکل کوگلمین ایک ماہر ہیں اور واشنگٹن کے وُڈ رو ولسن سینٹر سے منسلک ہیں جس نے 2019 کی پاک-بھارت صورتحال پر ایک دستاویز جاری کی تھی۔

اپنے تعارفی نوٹ میں واشنگٹن کے ادارے نے خبردار کیا کہ حالیہ پاک-بھارت کشیدگی نے دنیا کو خبردار کردیا ہے کیونکہ جوہری صلاحیت کے حامل دونوں ممالک نے بحران کے دوران کشیدگی بڑھانے کے حوالے سے اپنے عزائم کا اظہار کر چکے ہیں۔کوگلمین نے خبردار کیا کہ بھارت کی جانب سے اپنے دعوے ثابت کرنے میں ناکامی کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔امریکی ماہر نے یہ انکشاف ایک ایسے موقع پر کیا کہ جب ایک دن قبل ہی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے انکشاف کیا تھا کہ بھارت دوبارہ پاکستان میں ایک اور جارحیت کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔انہوں نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ کچھ ٹھوس شواہد ہیں، جو بھارت کے 2 بنیادی دعوؤں کی نفی کرتے ہیں جو بھارت نے پاکستان کے ساتھ محاذ آرائی کے حوالے سے کیے تھے، بالاکوٹ میں دہشت گرد اہداف کو نشانہ بنانا اور پاکستان کا طیارہ مار گرانا، اس کے انتخابات سے قبل سنگین سیاسی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔


کوگلمین نے ساتھ ساتھ کرسٹوفر کیری کی ٹوئٹ کی جانب بھی اشارہ کیا، جو نیویارک کی اسٹیٹ یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں، اور انہوں نے لکھا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ امریکا جانتا ہے کہ وہ ایک ایف-16 سے محروم ہو گیا ہے لیکن وہ اپنے تجارتی فائدے اور فخر کے سبب یہ تسلیم کرنے سے انکاری ہے، میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ امریکی بیورو کریسی میں پاکستان کے متعدد دشمن ہیں اور شاید (کیپیٹول) ہل میں اور زیادہ ہیں اور میرے خیال میں اگر پاکستان ایف-16 سے محروم ہوتا تو امریکی بخوشی اس خبر کو لیک کر دیتے۔

کوگلمین نے اس پر ٹوئٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں اس سے اتفاق کرتا ہوں، اگر پاکستان کا ایف-16 طیارہ گرایا گیا ہوتا تو امریکی حکومت میں سے کوئی بخوشی اس خبر کو لیک کردیتا۔انہوں نے امریکی صحافی کے انکشاف کی جانب بھی اشارہ کیا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے پاس کچھ ہے جسے وہ ووٹنگ سے محض کچھ دیر قبل استعمال کریں گے۔کوگلمین نے مزید کہا کہ بالاکوٹ کی کارروائی اور اس کے نتیجے میں جو کچھ ہوا، اسے عوام نے جس طرح لیا، وہ بھارت کے نزدیک مطلوبہ سے بہت کم تھا۔بھارتی میڈیا رپورٹ کر رہا ہے کہ پاکستان نے اپنا نقصان چھپانے کے لیے اردن سے ایف-16 طیارہ لیا جس پر کوگلمین نے کہا کہ یہ ممکن نہیں کیونکہ اردن، پاکستان کو غیر قانونی طور پر ایف-16 بیچنے کے لیے امریکا کی جانب سے ملنے والی سالانہ 1.275 ارب ڈالر کی امداد کو خطرے میں نہیں ڈال سکتا۔واضح رہے کہ اس بحث کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب امریکی فارن پالیسی میگزین نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کرتے ہوئے بھارت کے اس دعوے کو مسترد کردیا تھا کہ اس نے 27 فروری کو پاکستان کا ایک ایف-16 طیارہ مار گرایا ہے جہاں ایک دن قبل بھارت نے پاکستان کے بالا کوٹ میں جارحیت کرتے ہوئے شدت پسندوں کے کیمپ تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا لیکن وہ بھی غلط ثابت ہوا تھا۔وُڈ رو ولسن سینٹر کی جانب سے جاری دستاویزات میں امریکی ماہرین نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دوبارہ کشیدگی کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ایک ماہر نے کہا کہ بہت کچھ بھارت میـں انتخابات پر منحصر ہے، اگر حکمران جماعت دوبارہ منتخب ہو جاتی ہے تو حالات مزید سنگین ہو جائیں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگلی کشیدگی مزید بدترین ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ دونوں فریقین بخوشی کشیدگی بڑھانے کے عزائم ظاہر کر چکے ہیں۔کوگلمین نے خبردار کیا کہ اگر بھارت میں ایک اور دہشت گردی کا حملہ ہوتا ہے تو اس کے نتیجے میں بھارت کا ردعمل انتہائی تباہ کن ہو سکتا ہے، اگر ایسا ہوا تو آپ کو جوہری جنگ کے منظر نامے کے بارے پریشانی شروع ہو جانی چاہیے۔وُڈ رو ولسن کے ایک اور ماہر آرون ڈیوڈ ملر نے ہنری کسنجر کے اس مشہور مزاحیہ جملے کا حوالہ دیا کہ اسرائیل کی کوئی خارجہ پالیسی نہیں، صرف ڈومیسٹک پالیسی ہے اور میں کشمیر پر یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ وہ پاکستان اور بھارت دونوں کا ساتھ دیں گے۔ان دستاویزات میں سے ایک میں سابق بھارتی سیکریٹری خارجہ اور امریکی سفیر نیروپوما رائے کا حوالہ دیا گیا جنہوں نے کہا تھا کہ اکثر بھارتی اپنے ملک کو دہشت گردی سے متاثرہ سمجھتے ہیں اور بھارت میں کوئی بھی حکومت اس مشہور رائے اور تاثر کے خلاف نہیں جا سکتی جہاں بھارت کا میڈیا بھی اس تاثر کو ہوا دے رہا ہے۔پاکستان کے سابق سیکریٹری خارجہ سلمان بشیر نے خبردار کیا کہ مسائل کے حل کے لیے طاقت کا استعمال خطرناک ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ طاقت کے استعمال سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گی، پاکستان کا یہ ماننا ہے کہ ہماری امن کی خواہش کو ہماری کمزوری تصور نہیں کیا جائے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے دعویٰ کیا ہے کہ کچھ مخالف سیاسی جماعتیں ووٹ لینے کے لیے مسلمانوں کے عدم تحفظ کا سہارا لے رہی ہیں، من موہن سنگھ کے دور میں ایک سَچر کمیٹی قائم کی گئی تھی جو گجرات آئی تھی، اس وقت میں وہاں کا وزیر اعلیٰ تھا اور انہوں نے مجھ سے پوچھا تھا کہ میں نے مسلمانوں کے لیے کیا کیا ہے، میں نے اس سوال کا جواب دیا تھا کہ میری حکومت نے مسلمانوں کے لیے کچھ نہیں کیا اور نہ ہی مستقبل میں کچھ کرے گی، میری انتظامیہ نے ہندوؤں کے لیے بھی کچھ نہیں کیا، یہ صرف عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتی ہے۔
ایودھیا کے متنازع علاقے میں مندر کی خواہش ہے اورایساکون نہیں چاہے گا، یہ صرف میں نہیں بلکہ ہر کوئی چاہتا ہے کہ رام مندر بنے۔کانگریس کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ (اے ایف ایس پی اے) میں ترمیم کا وعدہ سب کو یاد ہوگالیکن وہ انہوں نے وفا نہیں کیا اس لیے کہتا ہوں کہ وہ آئین سے کھیلنا اور ملک کو توڑنا چاہتے ہیں۔بھارتی ٹی وی کو انٹرویو میں ایودھیا تنازع اور مسلمانوں کے دیگر معاملات پر کچھ نہ کرنے کے الزام سے متعلق سوال کے جواب میں نریندر مودی نے کہا کہ مخالف جماعتیں ووٹ لینے کے لیے مسلمانوں کے عدم تحفظ کا سہارا لے رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت تمام بھارتی شہریوں کے مفادات کے لیے کام کرتی ہے، ساتھ ہی اصرار کیا کہ ان کی انتظامیہ ہر طبقے کی ترقی پر یقین رکھتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کچھ لوگ مسلمانوں کے عدم تحفظ کو ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ من موہن سنگھ کے دور میں ایک سَچر کمیٹی قائم کی گئی تھی جو گجرات آئی تھی، اس وقت میں وہاں کا وزیر اعلیٰ تھا اور انہوں نے مجھ سے پوچھا تھا کہ میں نے مسلمانوں کے لیے کیا کیا ہے۔نریندر مودی نے کہا کہ میں نے اس سوال کا جواب دیا تھا کہ میری حکومت نے مسلمانوں کے لیے کچھ نہیں کیا اور نہ ہی مستقبل میں کچھ کرے گی، میری انتظامیہ نے ہندوؤں کے لیے بھی کچھ نہیں کیا، یہ صرف عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتی ہے۔ایودھیا کے متنازع علاقے میں مندر کی خواہش سے متعلق نریندر مودی نے کہا کہ کون نہیں چاہے گا، یہ صرف میں نہیں بلکہ ہر کوئی چاہتا ہے کہ رام مندر بنے۔بھارتی وزیراعظم نے مزید کہا کہ وہ مذکورہ معاملے پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کریں گے۔کانگریس پارٹی کے سربراہ راہول گاندھی کا نام نہ لینے سے متعلق سوال کے جواب میں نریندر مودی نے ایک بار پھر ان کا نام لیے بغیر کہا کہ میں ایک عام خاندان سے ہوں جن کے کم ذرائع ہیں، صاحب ایک بڑے خاندان سے ہیں، میں ان کا نام لینے کی ہمت نہیں کروں گا۔ انہوں نے اپوزیشن جماعت کانگریس کے انتخابی منشور پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کانگریس نے اپنے منشور کے ذریعے شارٹ کٹ اپنایا ہے۔نریندر مودی نے کانگریس کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ (اے ایف ایس پی اے) میں ترمیم کے وعدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ آئین سے کھیلنا اور ملک کو توڑنا چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ میری انتظامیہ بھی ایسی صورتحال پسند کرے گی جب اے ایف ایس پی اے کے قانون کی ضرورت نہیں پڑے گی لیکن اکثر مقامات پر کچھ چیزیں غیر مستحکم ہوتی ہیں۔دوسری مرتبہ اقتدار میں آنے کے امکانات سے متعلق انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ محسوس کرتے ہیں کہ حکومتیں دوسری مدت میں کوئی کام نہیں کرتیں، لیکن میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ چاہے دوسری مدت ہو یا دسویں میں عوام کے لیے آخری سانس تک کام کروں گا۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) بھارتی اخبار اکنامسٹ ٹائمز نے لکھا ہے کہ تفتیش کاروں کو معلوم ہوا ہے کہ 27 فروری کو سری نگر کے قریب بڈگام میں ایم آئی 17 وی 5 ہیلی کاپٹر کے تباہ ہونے سے قبل ممکنہ طور پر اسرائیلی ساختہ بھارتی ایئر ڈیفنس میزائل فائر کیا گیا تھا، جس کے نتیجے ہیلی کاپٹر میں موجود بھارتی ایئر فضائیہ کے 6 اہلکار اور زمین پر موجود ایک شہری ہلاک ہوا۔بھارتی اخبار اکنامسٹ ٹائمز کے مطابق تفتیش کار پاکستانی طیاروں کے ساتھ ہونے والی فضائی جھڑپ کے دوران پیش آنے والے واقعات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

اسی بارے میں بھاتی دفاعی تجزیہ کار سمجھے جانے والے منو پبی نے ہیلی کاپٹر کے تباہ ہونے سے قبل آخری لمحات کے بارے میں رپورٹ کیا کہ آئی ایف ایف (آڈینٹیٹی، فرینڈ یا فوئی) سسٹم کے بند یا کھلے ہونے سے متعلق دیکھا جارہا ہے اور اس بات کا بھی احتیاط سے تعین کیا جارہا کہ اس وقت کیا غلطی ہوئی تھی۔اخبار نے انتہائی باخبر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایئرفورس کے لوگوں کی جانب سے یہ واضح کردیا گیا کہ اگر تحقیقات میں اہلکار جرم کے مرتکب پائے گئے تو وہ ان اہلکاروں کے خلاف کورٹ مارشل کے آغاز سے نہیں گھبرائیں گے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ بات سامنے آئی کہ اب تحقیقات کا مرکز اس بات کا تعین کرنا ہے کہ اگر فرینڈلی فائر سے اثاثوں کے تحفظ کے لیے بنائی گئی متعدد تہیں ناکام ہوئیں تو کس طرح مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے بچنے کے لیے نظام کو بہتر کیا جائے۔اکنامسٹ ٹائمز نے اپنے ذرائع کو نقل کرتے ہوئے بتایا کہ ’27 فروری کی صبح سرحد پار پاکستانی ایئر فورس کے 25 سے زائد طیاروں کی نشاندہی‘ کے بعد بھارت کے زیر تسلط جموں اور کشمیر اور سرحد کے ساتھ دیگر حصوں میں فضائی دفاعی انتباہ جاری کیا گیا اور اس کے بعد اسرائیلی ساختہ تصور کیے جانے والے میزائل کو چلایا گیا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ اس انتباہ میں ’اشارہ دیا گیا کہ پاکستانی طیارے بھارتی فوجی اہداف پر حملہ کرنے کے لیے سرحد پار کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں اور اس خدشے کا اظہار بھی کیا گیا کہ ان سے منسلک مسلح یو اے ویز ملک میں بھی گرائے جاسکتے ہیں‘۔بھارتی اخبار کے مطابق سست رفتار ہدف جیسے ایم آئی 17 وی 5 ہیلی کاپٹر ایئربیس پر نچلے سطح پر اڑنے والے مسلح یو اے ویز کا ممکنہ طور پر غلطی سے شکار ہوسکتا ہے۔ذرائع کے مطابق ’جب فضائی دفاع کا انتباہ جاری ہوتا ہے تو کچھ چیزیں کی جاتی ہیں، ٹرانسپورٹ ایئرکرافٹ اور ہیلی کاپٹرز کے لیے مخصوص کیے گئے قوانین پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے اور اڑنے والے ایئرکرافٹ کو حدبندی کیے گئے راستوں سے داخلہ اور انخلا کرنا ہوتا ہے جبکہ ایئرکرافٹ کو آئی ایف ایف نظام بھی کھلا رکھنا ہوتا ہے۔اکنامسٹ ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ ’ ہیلی کاپٹر 10 منٹ کے دورانیہ میں اس وقت تباہ ہوا جب لائن آف کنٹرول پر بھاتی فضائیہ کے طیارے پاکستانی فضائیہ کے طیاروں کے ساتھ فضائی لڑائی میں شامل تھے اور اس وقت بھارت کا ایئر ڈیفنس سسٹم آپریشنل الرٹ پر تھا‘۔رپورٹ کے مطابق’ بھارتی حکام کی جانب سے باضابطہ طور پر حادثے کا ذکر تو کیا گیا لیکن فضائی لڑائی اور پاکستان کے ساتھ حالیہ کشیدگی پر اپنے سرکاری بیان میں اس کا ذکر نہیں کیا گیا‘اپنے سرکاری بیان میں بھارت نے نوشہرہ میں پاکستانی فوج کے ساتھ فضائی لڑائی کو تسلیم کیا لیکن یہ کہا کہ ہیلی کاپٹر کے واقعے میں ان کے لڑاکا طیارے شامل نہیں تھے۔بھارت کے اخبار نے مزید لکھا کہ ’ایم آئی 17 دنیا بھر میں سروس میں مضبوط ہیلی کاپٹرز میں سے ایک ہے اور یہ عام طور پر خطرناک صورتحال میں تکنیکی مسائل کا سامنا نہیں کرتا جبکہ اس بارے میں عینی شاہدین نے بتایا کہ ہیلی کاپٹر کے تباہ ہونے سے قبل فضا میں ایک زوردار دھماکا سنا گیا، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ممکنہ طور پر اس واقعے میں کوئی دوسری چیز شامل تھی‘۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) ایران کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا، امریکا نے ایک بار پھر ایران پر نئی پابندیاں عائد کردیں۔
تفصیلات کے مطابق امریکی پابندیوں کے تناظر میں ایرانی معیشت سنگین بحران کا شکار ہوچکی ہے جبکہ موجودہ حکومت سے متعلق بھی عوام میں مایوسی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیاں بدستور جاری رہیں تو ایران مزید تنہا ہوسکتا ہے اور ملکی معیشت تباہ ہوسکتی ہے۔امریکا نے ایسے پچیس افراد اور کاروباری اداروں کو ان پابندیوں کا نشانہ بنایا ہے، جو ایران کے ساتھ کاروبار جاری رکھے ہوئے تھے۔پابندیوں کا شکار ہونے والی کاروباری شخصیات اور ادارے ایران سمیت ترکی اور متحدہ عرب امارات میں اپنی معاشی اور تجاری سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کے بعد ایران مزید دباؤ کا شکار ہوجائے گا، موجودہ حالات میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے۔خیال رہے کہ جن مالیاتی اداروں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں، ان میں انصار بینک، اطلس ایکسچینج اور ایران کی اطلس نامی ایک کمپنی بھی شامل ہیں۔رواں سال امریکا کی جانب سے جوہری معاہدے سے نکلنے اور ایران پر دوبارہ پابندیاں لگانے کے بعد سے یورپی یونین تہران کے ساتھ محتاط انداز میں معاملات چلا رہا تھا۔حال ہی میں امریکا یورپی یونین کے کئی ممالک پر دباؤ ڈال رہا تھا کہ وہ بھی ایران پر اپنی جانب سے پابندیاں عائد کریں تاکہ کسی قسم کا کوئی کارروبار جاری نہ رکھا جائے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) بھارتی ایئر فورس (آئی اے ایف) کے سربراہ بی ایس دھنوا نے پیر کو کہا ہے کہ رافیل طیارے برصغیر میں سب سے بہترین جنگجو طیارے ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ایک بار رافیل طیارے آ جائیں پھر پاکستان ایل او سی اور سرحد پر آنے کی جرات بھی نہیں کرے گا،ایک ٹی وی چینل سے گفتگو میں بی ایس ڈھانوا نے کہا کہ رافیل ہمارے فضائی دفاع کو مزید مضوط بنائے گا۔ اور پاکستان ہمارے لائن کنٹرول یا سرحد کے قریب بھی نہیں بھٹکیں گے۔ہم طیاروں میں اس طرح کی صلاحیت پیدا کر رہے ہیں جس کا جواب پاکستان کے لیے دینا مشکل پو جائیگا۔بھارتی فضائیہ کے چیف نے مزیزد کہا کہ ہممیں ستمرب کے مہینے میں رافیل طیارے ملیں گے۔رافیل ہماری جنگی صلاحیتوں میں زبردست اضافے کا سبب بنے گا۔اور یہ طیارے پاکستان اور بھارت کے پاس موجودہ بہترین طیاروں میں سب سے اوپر ہوں گے۔خیال رہے پاکستان کی جوابی کارروائی کے بعد بھارت نے روس کو رافیل طیاروں کا ا?رڈردیا تھا۔ بھاتی ائیرچیف مارشل بی ایس دھنوانے کہا تھا کہ بھارتی ائیرفورس کو ستمبر میں روسی ساختہ رافیل طیارے مل جائیں گے،بھارتی ٹی وی کے مطابق نئی دہلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئیبھارتی ائیر چیف مارشل بی ایس دھنوا نے کہ تھا اکہ بھارتی ائیر فورس کو مزید بہتر اورجدید بنانے کے لیے روسی ایوی ایشن کو 36رافیل طیارے فراہم کرنے کا ا?رڈردے دیا ہے تاہم بھارتی ائیر چیف مارشل بی ایس دھنوا نے اس حوالے سے مزید کوئی تفصیلا ت فراہم نہیں کی تھیں۔ بھارتی ایئر فورس (آئی اے ایف) کے سربراہ بی ایس دھنوا نے پیر کو کہا ہے کہ رافیل طیارے برصغیر میں سب سے بہترین جنگجو طیارے ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ایک بار رافیل طیارے آ جائیں پھر پاکستان ایل او سی اور سرحد پر آنے کی جرات بھی نہیں کرے گا