شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)نیوزی لینڈ کی مساجد پر حملہ کرنیوالے دہشت گرد کو روکنے والا پاکستان کا قابل فخر شہری نعیم راشد بھی حملے میں شہید ہوگیا۔ذرائع کے مطابق شہید نعیم راشد کا تعلق ایبٹ آباد سے تھا اور اس کا بیٹا طلحہ نعیم بھی حملے میں شہید ہوا ہے۔
نیوزی لینڈ میں ہوئے اس دہشت گرد حملے میں زخمیوں میں سے ایک کا تعلق کراچی سے جبکہ دوسرے کا حافظ آباد سے بتایا جاتا ہے۔حافظ آباد سے تعلق رکھنے والے محمد امین اپنے بیٹے کے ہمراہ جمعے کی نماز ادا کرنے گئے تھے، انہیں دو گولیاں لگی ہیں، امین ڈیڑھ ماہ قبل اپنے بیٹے اور پوتوں سے ملنے نیوزی لینڈ آئے تھے۔دوسری جانب کرائسٹ چرچ کی النور مسجد میں فائرنگ سے زخمی ہونے والے 27 سالہ اریب کا تعلق کراچی کے علاقے فیڈرل بی ایریا سے ہے وہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ فرم کی جانب سے نیوزی لینڈ بھیجا گیا تھا۔واضح رہے کہ نیوزی لینڈ کی دو مساجد پر نماز جمعہ کے دوران دہشت گرد حملے میں 49افراد جاں بحق اور 48 افراد زخمی ہوئے ہیں ، جاں بحق افراد میں سے زیادہ تر کا تعلق مشرق وسطی اور جنوبی ایشیا سے بتایا جاتا ہے۔غیر ملکی خبرایجنسی کے مطابق مرنے والوں میں 3 کا تعلق بنگلہ دیش اور 2 کا اردن سے ہے ،جبکہ 9 بھارتی شہری ، 5 پاکستانی ،3 ترک اور 2 افغان شہری لا پتہ ہیں ۔حملے کے زخمیوں میں انڈو نیشیا کے 2 شہری بھی شامل ہیں ۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کے بعد حکومت نے کالعدم تنظیموں کی مدد کرنے والی این جی اوز کے گرد بھی گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس حوالے سےایک اخبار میں شائع رپورٹ میں بتایا گیا کہ کا لعدم تنظیموں کے بعد این جی اوز کی آڑ میں فنڈنگ حاصل کر کے ذاتی اکاؤنٹس میں پیسے ٹرانسفر کرنے ، منی لانڈرنگ کرنے ، جائیدادیں بنانے اور این جی اوز کے نام پر پیسے اکٹھے کرکے کالعدم تنظیموں کے اہم افراد کو دینے والے افراد کے خلاف بھی آپریشن کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔
ایسی تمام این جی اوز اور ان کے ذمہ داران کے حوالے سے 3 اہم اداروں نے نہ صرف ابتدائی رپورٹ تیار کر لی بلکہ اس حوالے سے بھی رپورٹس تیار کی جا رہی ہیں کہ کن کن بینک اکاؤنٹس میں این جی اوز کے نام پررقم اکٹھی کی گئی جا رہی ہے ، اس کے ساتھ ساتھ این جی اوز کو چلانے والے کس تنظیم سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے کن کن سے روابط ہیں۔
یہ تمام رپورٹس آخری مراحل میں داخل ہو گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق 300 سے زائد ایسی این جی اوز سامنے آئی ہیں جو کہ نہ صرف ایسے کاموں میں ملوث ہیں بلکہ ان این جی اوز کو چلانے والے ان کے نام پر اکٹھی ہونے والی کڑوروں روپے کی فنڈنگ میں سے 15 فیصد این جی اوز پر استعمال اور 85 فیصد لینڈ مافیا کو انویسٹ کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس ضمن میں 130 ایسی این جی اوز بھی سامنے آئیں جو صرف کاغذات کی حد تک موجود ہیں لیکن ان کے بینک اکاؤنٹس موجود ہیں، زکوٰۃ اور دیگر فنڈنگ ان کے اکاؤنٹ میں جاتی ہے جبکہ 82 ایسی این جی اوز کا بھی انکشاف ہوا جو پاکستان کے اند ر مختلف ناموں سے کام کر رہی ہیں، زیادہ تر غیر ملکی فنڈنگ سے چلائی جا رہی ہیں، کاغذات میں مقصد اور ہے جبکہ حقیقت میں ہر پاکستان کے خلاف ہونے والے ایونٹ میں وہ فنڈنگ کرتے ہیں ۔
ذرائع کے مطابق یہاں تک ایک رپورٹ میں لکھا گیا کہ لاہور، کراچی، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ اور دیگر بڑے شہروں میں تھلیسیمیا، ڈائلسز اور دیگر بیماریوں کے حوالے سے ایسی نامور این جی اوز سامنے آئی ہیں جہاں کروڑوں کی فنڈنگ ہوتی ہے لیکن 15 فیصد این جی اوز کے کاموں میں استعمال اور باقی ہڑپ ہو رہی ہیں اور اس پر سرکاری افسروں سے لے کر دیگر اداروں کے لوگ بھی اپنا حصہ وصول کرتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس حوالے سے ایک ایسی رپورٹ بھی سامنے آئی جس میں معروف صحافیوں کا نام استعمال کر کے بھی کئی این جی اوز چلائی جا رہی ہیں ۔ ذرائع کے مطابق اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ رمضان المبارک کے مہینہ سے پندرہ دن پہلے اچانک یہ نامور این جی اوز حرکت میں آتی ہیں اور پھر اس کے بعد کروڑوں روپے کی فنڈنگ حاصل کر کے رمضان کے فوری بعد ان کے دفاتر بھی بند ہو جاتے ہیں ۔ اداروں کی رپورٹ میں کئی ایسی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے نام لکھے گئے ہیں، جن کے حوالے سے کہا گیا کہ ان ہاؤسنگ سوسائٹیز میں مختلف این جی اوز چلانے والے افراد کے مہنگے پلاٹ ہیں۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)کراچی کے علاقے ملیر میں نامعلوم وجوہات کی بنا پر 3 منزلہ عمارت منہدم ہوگئی، جس کے ملبے سے ایک شخص کی لاش اور 4 زخمیوں کو نکال لیا گیا جبکہ متعدد افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
پیر کی صبح جعفر طیار سوسائٹی میں 3 منزلہ عمارت گرنے کی اطلاعات موصول ہوئیں، جس کے بعد امدادیں ٹیمیں اور دیگر حکومتی مشینری جائے وقوع پر روانہ کردی گئیں۔ابتدائی طور پر ریسکیو اہلکاروں اور علاقہ مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ملبہ ہٹانے کی کوشش کی۔ریسکیو حکام کا کہنا تھا کہ عمارت کے ملبے سے 4 زخمیوں کو نکال لیا گیا جبکہ بعد ازاں ایک شخص کی لاش بھی ملبے سے نکالی گئی۔حکام کے مطابق عمارت 30 سال پرانی تھی اور اس میں 3 خاندان رہائش پذیر تھے اور ملبے تلے مزید کئی افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔ادھر گورنر سندھ عمران اسمٰعیل اور وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ملیر جعفر طیار سوسائٹی میں عمارت گرنے کا نوٹس لے لیا۔صوبے کی دونوں اعلیٰ شخصیات کی جانب سے ہدایت کی گئی کہ ملبے تلے دبے افراد کو فوری طور پر نکالنے کے لیے انتظامات یقینی بنائے جائیں جبکہ کمشنر کراچی خود امدادی کاموں کی نگرانی کریں۔وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے مزید ہدایت کی کہ ہر صورت میں انسانی جان کو بچایا جائے۔اس واقعے کے حوالے سے میئر کراچی وسیم اختر کا کہنا تھا کہ عمارت گرنے کا واقعہ صبح سویرے پیش آیا، فائر بریگیڈ کا عملہ ایسی صورت حال سے نمٹنے کی اہلیت رکھتا ہے۔وسیم اختر کا کہنا تھا کہ انسداد تجاوزات ٹیم کو بھی امدادی کارروائیوں میں استعمال کریں گے جبکہ بلدیہ عظمیٰ کا عملہ گرنے والی عمارت کی جگہ پہنچ چکا ہے۔علاوہ ازیں سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) ملیر نے واقعے کے بارے میں بتایا کہ منہدم عمارت میں 3 خاندان رہائش پذیر تھے۔

شیعہ نیوز )پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ(وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ علی رضا عابدی قتل کیس میں ایئرپورٹ سے اہم گرفتاری ہوئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کی قیادت میں پیپلزپارٹی کے وفد نے شہید علی رضا عابدی کی رہائش گاہ پر ان کے والد سید اخلاق عابدی سے ملاقات کرکے تعزیت کی، جبکہ وزیراعلیٰ سندھ نے علی رضا عابدی کے والد کو اب تک کی تحقیقات کے حوالے سے آگاہ کیا۔

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ بہت افسوسناک واقعہ تھا، علی رضا عابدی بہت ملنسار انسان تھے، ہم انہیں تو واپس نہیں لا سکتے، لیکن ظالم کو سزا ملنی چاہیئے، ایئرپورٹ سے اہم گرفتاریاں ہوئی ہیں، آپ اطمینان رکھیں، علی رضا عابدی کے قاتلوں کو جلد گرفتار کیا جائے گا اور اس شہر میں کسی کو بھی امن خراب کرنے نہیں دوں گا۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ مجھے خفیہ اداروں کی جانب سے کوئی تھریٹ نہیں ملی تھی، جب ایم کیو ایم پاکستان کے تحت منعقدہ میلاد کی محفل میں دھماکہ ہوا اور اس کے بعد پی ایس پی کے کارکنان پر حملہ ہوا تو میں نے اجلاس بلا لیا، اجلاس میں بھی علی رضا عابدی کے تھریٹ کے حوالے سے خبر موصول نہیں ہوئی۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکرٹری وقار مہدی کا کہنا تھا کہ علی رضا عابدی جیسے ذہین نوجوان کا قتل سازش اور المناک ترین حادثہ ہے، ان کے قاتلوں کو انجام تک پہنچا کر دم لیں گے اور شہر میں خونی کھیل کھیلنے والوں کو عبرت کا نشان بنا دیں گے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) معروف شیعہ سیاسی رہنماء علی رضا عابدی کو ان کے گھر کے باہر قاتلانہ حملے میں شہید کردیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایم کیو ایم سے سابقہ رکھنے والے شیعہ رہنماء علی رضا عابدی کی رہائشگاہ خیابان غازی ڈیفنس کے باہر نامعلوم دہشتگردوں نے ان پر فائرنگ کر دی جس سے وہ شدید زخمی ہوگئے، انہیں تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تھاجہاں وہ جانبر نہ ہوسکے۔

قاتلانہ حملہ ان کے گھر کے باہر اس وقت ہوا، جب وہ اپنی گاڑی سے اتر رہے تھے۔ علی رضا عابدی کو سر اور گردن میں 2، 2 گولیاں لگی تھیں۔ پولیس جائے وقوع سے شواہد اکٹھے کر رہی ہے۔ علی رضا عابدی کی میت کو جناح اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واقعہ کا نوٹس لے کر آئی جی سندھ کلیم امام سے رپورٹ طلب کرلی۔

واضح رہے کہ علی رضا عابدی 2013ء میں کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 251 سے 80 ہزار سے زائد ووٹ لیکر کامیاب ہوئے تھے، جو نئی حلقہ بندیوں کے بعد این اے 244 ہوچکا ہے۔ علی رضا عابدی نے ایم کیو ایم قیادت سے اختلافات کے باعث رواں برس ستمبر میں پارٹی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دیدیا تھا۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے کالعدم جماعت سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے دہشتگردوں کو الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت کے خلاف سول سوسائٹی پاکستان نے کراچی میں الیکشن کمیشن کے صوبائی دفتر کے باہر احتجاج کا اعلان کردیا۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے کالعدم ملک دشمن جماعت سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں کو پاکستان راہ حق پارٹی کے نام سے الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت کے خلاف سول سوسائٹی پاکستان کی جانب سے پیر 16 مئی کو سہ پہر 3 بجے کراچی میں الیکشن کمیشن کے صوبائی دفتر کے باہر احتجاج کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ کالعدم سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے دہشتگردوں نے ملک میں سعودی ایما پر شیعہ و سنی مسلمانوں کا قتل عام کیا اور ملک میں نا امنی کی صورتحال پیدا کی جس پر ان جماعتوں کو کالعدم قرار دیا گیا مگر ایک بار پھر ان دہشتگردوں کو نام بدل کر دوسرے ناموں سے الیکشن لڑنے کی اجازت دی گئی ہے جس پر ملک کی پر امن عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) شیعہ علماء کونسل سندھ کے زیر اہتمام صوبے بھر میں عالمی یوم القدس کے موقع پر احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں، جبکہ مرکزی القدس ریلی ایس یو سی کراچی کے زیر اہتمام شاہین کمپلیکس تا کراچی پریس کلب نکالی گئی، جس کی قیادت ایس یو سی کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کی۔ القدس ریلی کے شرکاء نے بینرز اٹھا رکھے تھے، جن پر اسرائیل و امریکا مخالف نعرے درج تھے، ریلی کے اختتام پر کراچی پریس کلب کے باہر القدس جلسہ منعقد ہوا، اس موقع پر متحدہ مجلس عمل کے مرکزی نائب صدر و ایس یو سی کے سربراہ علامہ ساجد نقوی، مرکزی سیکرٹری جنرل ایم ایم اے و مرکزی سیکریٹری جنرل جماعت اسلامی لیاقت بلوچ، جے یو پی کے مرکزی رہنما مولانا اویس نورانی، علامہ شبیر حسن میثمی، صدر ایس یو سی سندھ علامہ ناظر عباس تقوی، ڈویژنل صدر علامہ کامران حیدر عابدی، ڈویژنل جنرل سیکرٹری محمد یعقوب شہباز، در محمد کربلائی، امیر جماعت اسلامی سندھ معراج الہدیٰ صدیقی، عارف ترابی و دیگر نے خطاب کیا۔

ریلی کے شرکاء سے مرکزی خطاب کرتے ہوئے علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ نصف صدی سے مسلمانوں کی مشترکہ میراث قبلہ اول بیت المقدس پر اسرائیلی جبر و تشدد ایک ہی منظر اور ایک ہی نقشہ پیش کر رہا ہے، قبلہ اول کی آزادی صرف عالم اسلام یا کسی خاص خطے یا ملک کا مسئلہ نہیں، بلکہ انسانیت سے مربوط مسئلہ ہے، لیکن ذمہ داری کے لحاظ سے اس کا تعلق براہ راست امت مسلمہ سے بنتا ہے، اس لئے دنیا بھر کی مسلم اقوام کیلئے چیلنج کی حیثیت حاصل کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ناقابل انکار حقیقت ہے کہ اتحاد امت ہی مسلمانوں کی مشکلات کا حل ہے، مسلم ممالک مشترکہ مسائل پر ایک مؤقف اختیار کریں، تو اسلام کی عظمت و سربلندی کا خواب شرمندہ تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی اور لبنانی عوام کی اسلامی مزاحمتی تحریکیں اس وقت اپنی جدوجہد کو جس موڑ پر پہنچا چکی ہیں، اس مرحلے پر کہا جا سکتا ہے کہ اب ماضی کی نسبت عالمی سطح پر مسئلہ فلسطین نئے انداز اور نئی جدوجہد سے ابھر کر سامنے آیا ہے، دنیا اب نئے زاویے سے مسئلہ فلسطین کی طرف متوجہ ہو چکی ہے۔

ریلی سے خطاب کرتے ہوئے دیگر مقررین نے کہا کہ امت مسلمہ کا اتحاد ہی بیت المقدس کو اسرائیل کے شکنجے سے آزاد کرا سکتا ہے، تمام عالم اسلام کو چاہیے کہ بیت المقدس کی آزادی کیلئے عملی اقدامات اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا دہشتگردی کا بانی اور موجد ہے، جبکہ لاکھوں فلسطینیوں کا خونِ ناحق بھی امریکی ہاتھوں پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل مظلوم فلسطینیوں کا قتل عام کر رہا ہے، جبکہ امریکا اسرائیل کو اربوں ڈالرز کا اسلحہ فوجی مدد کے نام پر دیکر مظلوم انسانیت کے قتل عام کا مرتکب ہو رہاہے۔ انہوں نے کہا کہ مظلوم فلسطینیوں اور مسلمانوں کا اہم مقدس مقام قبلہ اول آزادی کے انتظار میں ہے۔ خطابات کے دوران شرکاء نے امریکا مردہ باد، اسرائیل نامنظور ،فلسطین کی آزادی تک جنگ رہے گی و دیگر فلک شگاف نعرے لگائے، جبکہ آخر میں امریکی و اسرائیلی پرچم بھی نذرِ آتش کئے گئے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) مجلس وحدت مسلمین کراچی کے سیکریٹری اطلاعات سید احسن عباس رضوی نے کراچی سمیت سندھ کے مختلف حصوں میں بجلی کی طویل دورانیے کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ خصوصاً کراچی میں جاری بجلی کے مصنوعی بحران کا جلد خاتمہ نہ ہونے کی صورت میں پہلے مرحلے میں آگہی و تشہیری مہم اور دوسرے مرحلے میں احتجاجی مہم کا آغاز کریں گے، انہوں نے وفاقی وزیر بجلی و پانی اور چیف جسٹس آف پاکستان سے کراچی میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اپنے مذمتی بیان میں احسن رضوی نے کہا کہ سندھ حکومت عوام کو سہولیات کی فراہمی کی بجائے آئے دن ان کی مشکلات میں اضافے کا باعث بن رہی ہے، کراچی میں گرمی کے آغاز کے ساتھ ہی بارہ بارہ گھنٹے بجلی کی بندش حکومت کی ’’مثالی کارکردگی‘‘ پر سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی سمیت صوبے بھر میں میٹرک کے امتحانات کا آغاز ہو چکا ہے اور کے الیکٹرک کی ’’مہربانیاں‘‘ طلباء و طالبات کی تیاری کے دوران ان کیلئے درد سر بنی ہوئی ہیں۔

احسن عباس رضوی نے کہا کہ ناعاقبت اندیش حکمرانوں اور کے الیکٹرک انتظامیہ نے گذشتہ سالوں میں ہیٹ اسٹروک اور لوڈشیڈنگ کے باعث قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع سے سبق نہیں سیکھا، عوام کو صاف پانی، بجلی، گیس، صحت و صفائی اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی آئنی ذمہ داری ہے، لیکن ہر دور میں بے حس حکمرانوں نے اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے بجائے انہیں اخباری دعوؤں تک ہی محدود رکھا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی جماعت ہونے کی دعویدار پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کی طرف سے عوام کیلئے کھڑی کی جانے والی مشکلات آئندہ عام انتخابات میں جماعت کی مقبولیت کیلئے سخت نقصان دہ ثابت ہوں گی۔ رہنما ایم ڈبلیو ایم نے مطالبہ کیا کہ سندھ حکومت لوڈشیڈنگ پر قابو پانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کرے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) شہر قائد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے تین شیعہ اسیران کو سزائے موت، جبکہ دو کو اکیس اکیس سال قید کی سزا سنا دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کی انسداد دہشتگردی عدالت کی خاتون جج نے اپنے فیصلے میں فرقان، بوتراب اور فیصل نامی شیعہ اسیران کو سزائے موت، جبکہ رفعت اور اظہر نامی شیعہ اسیران کو اکیس اکیس سال قید کی سزا سنائی ہے۔ پانچوں شیعہ اسیران سینٹرل جیل کراچی میں قید ہیں۔ اسیران کی جانب سے آئندہ چند روز میں سندھ ہائیکورٹ میں انسداد دہشتگردی عدالت کے فیصلے کیخلاف درخواست دائر کی جائے گی۔ اسیران کے خانوادوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف تو کراچی سمیت ملک بھر میں ہم شیعہ مسلمانوں کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور دہشتگردوں کو رہا کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب ہمارے بے گناہ اسیران کو جھوٹے مقدمات میں پھنسایا جا رہا ہے۔

عدالتی کارروائی کے دوران اسیران کیخلاف کسی قسم کے ٹھوس ثبوت یا شواہد پیش نہیں کئے جا سکے، نہ ہی کوئی عینی شاہد گواہ پیش کیا جا سکا، یہاں تک کہ ہمارے اسیران کی ضمانت تک منظور ہوسکتی تھی، لیکن ہم نے ضمانت کروانے کے بجائے باعزت بری ہونے اور تمام جھوٹے مقدمات کے خاتمے کو ترجیح دی، تاکہ آئندہ دوبارہ کسی بھی بہانے سے ہمارے اسیران کو تنگ نہ کیا جائے، لیکن اچانک اسی دوران ہمارے اسیران کو سزائے موت و عمر قید جیسی سزا سنا دی گئی، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فیصلہ کسی دباؤ یا خوف کے نتیجے میں دیا گیا ہے، ہم اس فیصلے کے خلاف آئندہ چند روز میں سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرینگے، ہمیں پوری امید ہے کہ ہائیکورٹ سے ہمیں ضرور انصاف ملے گا اور ہمارے تمام بے گناہ اسیران سارے جھوٹے مقدمات سے باعزت بری ہونگے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) مجلس وحدت مسلمین سندھ کے سیکرٹری سیاسیات علی حسین نقوی نے کہا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمت کم ترین سطح پر آگئی ہے، جس کا فائدہ عوام کو ملنا چاہیئے، اس لئے حکومت پٹرول کی فی لیٹر قیمت 40 روپے مقرر کرکے عوام کو ریلیف دے۔ اپنے ایک بیان میں علی حسین نقوی نے کہا کہ جب عالمی منڈی میں تیل کے نرخ میں اضافہ ہوتا ہے، تو پاکستان میں فوری طور پر نرخ بڑھا دیئے جاتے ہیں، لیکن جب عالمی سطح پر نرخ کم ہوتے ہیں، تو حکومتِ پاکستان نرخ کم نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے اضافی ٹیکسوں کے نفاذ کی صورت میں عوام سے بھتہ وصول کیا، اب نواز لیگ سستا پٹرول خرید کر عوام کو مہنگا بیچ کر بھتہ وصولی میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوگرا لٹیروں کا گڑھ بن چکا ہے، پاکستان میں پرائس کنٹرول اینڈ مینجمنٹ کا کوئی نظام عملاً دکھائی نہیں دیتا، عوام چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف جسٹس پاکستان سے اپیل کرتے ہیں کہ حکمران جماعت کی اس بھتہ وصولی کا سختی سے نوٹس لیں اور عالمی منڈی میں کم ہونی والی پیڑولیم مصنوعات کی قیمتوں کے ثمرات پاکستان کے غریب عوام کو بھی میسر لائیں جائیں۔