شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے سانحہ ہزار گنجی، اوماڑہ اور ڈی آئی خان ٹارگٹ کلنگ کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے وفاقی دارالحکومت سمیت چاروں صوبوں گلگت بلتستان اور کشمیر کے تمام اہم شہروں میں ستر سے زیادہ مقامات پر احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ احتجاجی مظاہروں کا مقصد دہشتگردی سے متاثرہ خاندانوں سے اظہار یکجہتی اور دہشتگردی کے ناسور کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنا تھا۔

کراچی میں ایم ڈبلیو ایم کی جانب سے خوجہ جامع مسجد کھارادر، جامع مسجد نور ایمان ناظم آباد، جامع مسجد دربار حسینی ملیر میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں کثیر تعداد میں عوام نے شرکت کی۔ مظاہرین نے ملک میں جاری دہشت گردوں کی کاروائیوں کے خلاف نعرے بازی کی اور کراچی میں جبری گمشدہ افراد کی جلد بازیابی کے مطالبہ سمیت شیعہ عمائدین کے خلاف ریاستی آپریشن کی مذمت کی۔ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ بلوچستان کی ناامنی کے پیچھے ہندوستان ہے جس کو امریکہ اور اسرائیل کی مکمل آشیرباد حاصل ہے، سانحہ ہزار گنجی کے فوری بعد ہی کوسٹل ہائی وے پر دہشت گردوں کی بزدلانہ کاروائی میں سیکورٹی فورسز کے جوانوں کی شہادت نے سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھا دیا ہے، سانحہ ہزار گنجی کے مجرمان بھی وہی ہیں جنہوں نے کوسٹل ہائی وے پر سیکورٹی فورسز کے جوانوں کو قتل کیا ہے، ان کا مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے۔

مقررین نے کہا کہ ریاستی اداروں کی جانب سے چادر اور چار دیواری کو پامال کیا جارہا ہے جو ہرگز قابل قبول نہیں، اگر حکومت نے ملت جعفریہ کے جبری گمشدہ افراد کو رہا نہ کیا تو بہت جلد ملگ گیر احتجاجی تحریک چلائیں گے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  کراچی میں آئی ایس اوکی شیعہ قتل عام و جبری گمشدگی کے خلاف احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا۔

احتجاجی ریلی میں آئی ایس او پاکستان کے مرکزی صدر قاسم شمسی،سابق مرکزی صدر ناصر شیرازی،مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ احمد اقبال رضوی، آئی ایس او کراچی ڈویژن کے صدر محمد عباس،ایم ڈبلیو ایم کراچی ڈویژن کےڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ مبشر حسن سمیت عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ کوئٹہ میں دھماکہ ریاستی اداروں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ حکومتِ وقت ہوش کے ناخن لے اور ملتِ جعفریہ کیخلاف غیر منصفانہ و غیر عادلانہ رویے کو ترک کرے۔

 احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئےمقررین نے کوئٹہ دھماکہ میں16محب وطن پاکستانیوں کی شہادت کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ میں جاری شیعہ ہزارہ قبیلہ کی ٹارگٹ کلنگ ریاستی اداروں کی غفلت اور ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ دن دیہاڑے حکومتی اہلکاروں کی موجودگی میں شیعہ شناخت پر ٹارگٹ کیا جانا حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے کالعدم اور دہشت گرد تنظیموں سے حکومت کاروائی کی بجائے مذاکرات کرتی ہے جو محب وطن پاکستانیوں اور پاکستان کی سلامتی کے لئے زہر قاتل ہے۔

مقررین کا کہنا تھا کہ ملت تشیع پاکستان کی تاریخ خون سے سرخ ہے ہم نے ہمیشہ صبر واستقامت سے ظالمین کا سامنا کیا ۔ ان کامزید کہنا تھا کہ کالعدم تنظیموں کے سہولت کاروں کو قومی دھارے میں لانے کی پالیسی پر تحفظات ہیں کوئٹہ میں دہشتگرد عناصر کے خلاف فوجی آپریشن ناگزیرہوچکا ہے۔

مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت آئین کی بالادستی کی بات کرتی ہے،آرٹیکل 10 کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ایجنسیاں اگر کسی کو اُٹھائے تو 24گھنٹوں کے اندر عدالت کے سامنے پیش کرنا چاہیے مگر یہاں اُلٹا ہو رہا ہےکئی ماہ اور کئی سال گذر جاتے ہیں مگر جبری طور پر گمشدہ افراد کو عدالتوں میں پیش نہیں کیا جاتا،انکا مزید کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے ملک میں جنگل کا سا قانون نافذ کیا ہوا ہے،حکومتِ وقت ہوش کے ناخن لے اور ملتِ جعفریہ کیخلاف غیر منصفانہ و غیر عادلانہ رویے کو ترک کرے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) کراچی کے علاقے محمود آباد میں نامعلوم ملزمان کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق ہو گیا جبکہ کلفٹن اور سرجانی ٹاون میں کرنٹ لگنے سے دو افراد جاں بحق ہوگئے۔کورنگی لنک روڈ پر مبینہ مقابلے میں دو ڈاکو گرفتار کر لیے گئے، پولیس کا دعویٰ ہےکہ ملزمان نے سو سے زائد وارداتوں کا اعتراف کیا ہے۔شاہ فیصل کالونی سے خود کو حساس ادارے کا افسر ظاہر کرنے والا جعل ساز پکڑا گیا۔محمود آباد کے علاقے اعظم ٹاؤن کےقریب نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق ہو گیا۔ملزمان فائرنگ کے بعد باآسانی فرار ہو گئے، مقتول کی لاش کو جناح اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔کلفٹن کے علاقے اپر گزری میں زینت سینٹر کے قریب کرنٹ لگنے سے چپس فروش جاں بحق ہوگیا، متوفی کی شناخت رمضان کے نام سے ہوئی ہے۔سرجانی ٹاؤن کے سیکٹر الیون اے میں بھی کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق ہو گیا، جس کی شناخت فرحان کے نام سے ہوئی ہے۔کورنگی لنک روڈ پر پولیس نے مقابلے کے بعد 2 ڈاکوؤں جعفر جمالی اور صدیقی کو گرفتار کر کے اسلحہ برآمد کیا ہے، پولیس کے مطابق ملزمان نے سو سے زائد وارداتوں کا اعتراف کیا ہے۔شاہ فیصل کالونی میں پولیس نے کارروائی کر کے نوسرباز کو گرفتار کیا ہے، ملزم عبدالرحمان خود کو حساس ادارے کا اہلکار ظاہر کرتا تھا۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) شیعہ نسل کشی اور شیعہ جبری گمشدگیوں کی تازہ لہر کے خلاف کراچی پریس کلب پر شیعہ مسنگ پرسنز موومنٹ کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں لاپتہ عزاداروں کی تمام فیملیز، عزاداروں، اور انسانی حقوق و سول سوسائٹی کے رہنماوں نے شرکت کی۔

 مظاہرین شیعہ نسل کشی اور شیعہ جبری گمشدگیوں کے خلاف نعرے لگا رہے تھے اور ملک میں آئین کے آرٹیکل 10 کے عملی نفاز کا مطالبہ کرکے رات کی تاریکی میں پولیس اور خفیہ اداروں کی جانب سے بغیر وارنٹ شیعہ آبادیوں پر گرفتاریاں کرکے چار دیواری اور چادر کا تقدس پامال کرنے اور غائب کرنے کے خلاف غم و غصے کا اظہار کررہے تھے۔

شیعہ مسنگ پرسنز موومنٹ کے چیئرمین راشد رضوی نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف تو کالعدم تکفیری دہشتگرد جماعتوں کو مکمل آزاد چھوڑ دیا ہے تاکہ وہ شیعہ کافر کے نعرے مار کر جس شیعہ کو جب چاہیں قتل کردیں، ہم یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ یا تو ریاستی ادارے نااہل ہیں یا پھر ان دہشتگردوں کی سرپرستی خود ریاستی ادارے کررہے ہیں اور یہی بات عالمی ادارے بھی مسلسل بول رہے ہیں۔

راشد رضوی کا کہنا تھا کہ کراچی میں لاپتہ عزاداروں کی جگہ جگہ بھوک ہڑتالوں کے باوجود مزید ماورائے عدالت جبری گمشدگیاں بڑھ گئی ہیں اور صرف مارچ 2019ء کے مہینے میں ریاستی اداروں نے شیعہ آبادیوں گلبہار، دستگیر، شاہ فیصل کالونی، کورنگی، ملیر جعفرطیار پر لشکر کشی کرکے مزید 8 شیعہ افراد کو گھروں سے اغواء کرکے لاپتہ کردیا گیا ہے جس میں جنگ اخبار کا نمائندہ مطلوب حسین بھی شامل ہے، ہمیں بتایا جائے کہ یہ ریاست پاکستان ہے یا پھر ریاست غائبستان؟ جسے جب چاہے غائب کردیا جاتا ہے اور حکمرانوں سے لے کر پولیس تک سب آپس میں ملے ہوئے ہیں۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) کراچی ایئر پورٹ پر گزشتہ کئی سال سے کھڑے ناکارہ طیارے پرندوں کا گھر بن گئے جس کے باعث طیاروں کی حفاظت کو خدشات لاحق ہوگئے، ناکارہ طیارے پارکنگ کے مسائل کا سبب بھی بن رہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کے ایئرپورٹ پر کھڑے ناکارہ طیارے خطرے کی علامت بن گئے، ناکارہ طیاروں کے باعث اڑتے جہازوں کو خطرات لاحق ہیں۔ناکارہ طیارے کھڑے رہنے سے کئی مسائل جنم لے رہے ہیںِ، خراب طیاروں میں پرندوں نے گھونسلے بھی بنا لیے۔ پرندوں کی وجہ سے جہازوں سے پرندے ٹکرانے کے واقعات بھی رونما ہورہے ہیں۔ایئرپورٹ پر کھڑے طیاروں میں سے کسی کا انجن خراب تو کسی کے پر غائب ہیں۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ناکارہ طیارے ہٹانے کے لیے متعلقہ اداروں کو متعدد خطوط لکھے ہیں۔سول ایوی ایشن ذرائع کا کہنا ہے کہ طیاروں پر ٹیکس ادئیگی کے کروڑوں روپے واجب الادا ہیں، سول ایوی ایشن ناکارہ طیاروں کو ہٹانے یا بیچنے کا فیصلہ از خود نہیں کر سکتی، ناکارہ طیاروں کو ہٹانے کی ذمہ دار کسٹم کلکٹریٹ ہے۔ایوی ایشن ذرائع کے مطابق کئی ناکارہ طیارے ویٹ اور ڈرائی لیز پر حاصل کیے گئے تھے۔ غیر ملکی کمپنیاں ناکارہ طیاروں کو بھاری ٹیکس ادائیگی کے باعث نہیں ہٹا رہیں، طیارے گزشتہ کئی سال سے کراچی ایئرپورٹ پر کھڑے ہیں۔انتظامیہ ناکارہ طیاروں سے پرندوں کو دور رکھنے کے لیے بھاری رقم بھی خرچ کر رہی ہے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)نیوزی لینڈ کی مساجد پر حملہ کرنیوالے دہشت گرد کو روکنے والا پاکستان کا قابل فخر شہری نعیم راشد بھی حملے میں شہید ہوگیا۔ذرائع کے مطابق شہید نعیم راشد کا تعلق ایبٹ آباد سے تھا اور اس کا بیٹا طلحہ نعیم بھی حملے میں شہید ہوا ہے۔
نیوزی لینڈ میں ہوئے اس دہشت گرد حملے میں زخمیوں میں سے ایک کا تعلق کراچی سے جبکہ دوسرے کا حافظ آباد سے بتایا جاتا ہے۔حافظ آباد سے تعلق رکھنے والے محمد امین اپنے بیٹے کے ہمراہ جمعے کی نماز ادا کرنے گئے تھے، انہیں دو گولیاں لگی ہیں، امین ڈیڑھ ماہ قبل اپنے بیٹے اور پوتوں سے ملنے نیوزی لینڈ آئے تھے۔دوسری جانب کرائسٹ چرچ کی النور مسجد میں فائرنگ سے زخمی ہونے والے 27 سالہ اریب کا تعلق کراچی کے علاقے فیڈرل بی ایریا سے ہے وہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ فرم کی جانب سے نیوزی لینڈ بھیجا گیا تھا۔واضح رہے کہ نیوزی لینڈ کی دو مساجد پر نماز جمعہ کے دوران دہشت گرد حملے میں 49افراد جاں بحق اور 48 افراد زخمی ہوئے ہیں ، جاں بحق افراد میں سے زیادہ تر کا تعلق مشرق وسطی اور جنوبی ایشیا سے بتایا جاتا ہے۔غیر ملکی خبرایجنسی کے مطابق مرنے والوں میں 3 کا تعلق بنگلہ دیش اور 2 کا اردن سے ہے ،جبکہ 9 بھارتی شہری ، 5 پاکستانی ،3 ترک اور 2 افغان شہری لا پتہ ہیں ۔حملے کے زخمیوں میں انڈو نیشیا کے 2 شہری بھی شامل ہیں ۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کے بعد حکومت نے کالعدم تنظیموں کی مدد کرنے والی این جی اوز کے گرد بھی گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس حوالے سےایک اخبار میں شائع رپورٹ میں بتایا گیا کہ کا لعدم تنظیموں کے بعد این جی اوز کی آڑ میں فنڈنگ حاصل کر کے ذاتی اکاؤنٹس میں پیسے ٹرانسفر کرنے ، منی لانڈرنگ کرنے ، جائیدادیں بنانے اور این جی اوز کے نام پر پیسے اکٹھے کرکے کالعدم تنظیموں کے اہم افراد کو دینے والے افراد کے خلاف بھی آپریشن کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔
ایسی تمام این جی اوز اور ان کے ذمہ داران کے حوالے سے 3 اہم اداروں نے نہ صرف ابتدائی رپورٹ تیار کر لی بلکہ اس حوالے سے بھی رپورٹس تیار کی جا رہی ہیں کہ کن کن بینک اکاؤنٹس میں این جی اوز کے نام پررقم اکٹھی کی گئی جا رہی ہے ، اس کے ساتھ ساتھ این جی اوز کو چلانے والے کس تنظیم سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے کن کن سے روابط ہیں۔
یہ تمام رپورٹس آخری مراحل میں داخل ہو گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق 300 سے زائد ایسی این جی اوز سامنے آئی ہیں جو کہ نہ صرف ایسے کاموں میں ملوث ہیں بلکہ ان این جی اوز کو چلانے والے ان کے نام پر اکٹھی ہونے والی کڑوروں روپے کی فنڈنگ میں سے 15 فیصد این جی اوز پر استعمال اور 85 فیصد لینڈ مافیا کو انویسٹ کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس ضمن میں 130 ایسی این جی اوز بھی سامنے آئیں جو صرف کاغذات کی حد تک موجود ہیں لیکن ان کے بینک اکاؤنٹس موجود ہیں، زکوٰۃ اور دیگر فنڈنگ ان کے اکاؤنٹ میں جاتی ہے جبکہ 82 ایسی این جی اوز کا بھی انکشاف ہوا جو پاکستان کے اند ر مختلف ناموں سے کام کر رہی ہیں، زیادہ تر غیر ملکی فنڈنگ سے چلائی جا رہی ہیں، کاغذات میں مقصد اور ہے جبکہ حقیقت میں ہر پاکستان کے خلاف ہونے والے ایونٹ میں وہ فنڈنگ کرتے ہیں ۔
ذرائع کے مطابق یہاں تک ایک رپورٹ میں لکھا گیا کہ لاہور، کراچی، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ اور دیگر بڑے شہروں میں تھلیسیمیا، ڈائلسز اور دیگر بیماریوں کے حوالے سے ایسی نامور این جی اوز سامنے آئی ہیں جہاں کروڑوں کی فنڈنگ ہوتی ہے لیکن 15 فیصد این جی اوز کے کاموں میں استعمال اور باقی ہڑپ ہو رہی ہیں اور اس پر سرکاری افسروں سے لے کر دیگر اداروں کے لوگ بھی اپنا حصہ وصول کرتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس حوالے سے ایک ایسی رپورٹ بھی سامنے آئی جس میں معروف صحافیوں کا نام استعمال کر کے بھی کئی این جی اوز چلائی جا رہی ہیں ۔ ذرائع کے مطابق اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ رمضان المبارک کے مہینہ سے پندرہ دن پہلے اچانک یہ نامور این جی اوز حرکت میں آتی ہیں اور پھر اس کے بعد کروڑوں روپے کی فنڈنگ حاصل کر کے رمضان کے فوری بعد ان کے دفاتر بھی بند ہو جاتے ہیں ۔ اداروں کی رپورٹ میں کئی ایسی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے نام لکھے گئے ہیں، جن کے حوالے سے کہا گیا کہ ان ہاؤسنگ سوسائٹیز میں مختلف این جی اوز چلانے والے افراد کے مہنگے پلاٹ ہیں۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)کراچی کے علاقے ملیر میں نامعلوم وجوہات کی بنا پر 3 منزلہ عمارت منہدم ہوگئی، جس کے ملبے سے ایک شخص کی لاش اور 4 زخمیوں کو نکال لیا گیا جبکہ متعدد افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
پیر کی صبح جعفر طیار سوسائٹی میں 3 منزلہ عمارت گرنے کی اطلاعات موصول ہوئیں، جس کے بعد امدادیں ٹیمیں اور دیگر حکومتی مشینری جائے وقوع پر روانہ کردی گئیں۔ابتدائی طور پر ریسکیو اہلکاروں اور علاقہ مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ملبہ ہٹانے کی کوشش کی۔ریسکیو حکام کا کہنا تھا کہ عمارت کے ملبے سے 4 زخمیوں کو نکال لیا گیا جبکہ بعد ازاں ایک شخص کی لاش بھی ملبے سے نکالی گئی۔حکام کے مطابق عمارت 30 سال پرانی تھی اور اس میں 3 خاندان رہائش پذیر تھے اور ملبے تلے مزید کئی افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔ادھر گورنر سندھ عمران اسمٰعیل اور وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ملیر جعفر طیار سوسائٹی میں عمارت گرنے کا نوٹس لے لیا۔صوبے کی دونوں اعلیٰ شخصیات کی جانب سے ہدایت کی گئی کہ ملبے تلے دبے افراد کو فوری طور پر نکالنے کے لیے انتظامات یقینی بنائے جائیں جبکہ کمشنر کراچی خود امدادی کاموں کی نگرانی کریں۔وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے مزید ہدایت کی کہ ہر صورت میں انسانی جان کو بچایا جائے۔اس واقعے کے حوالے سے میئر کراچی وسیم اختر کا کہنا تھا کہ عمارت گرنے کا واقعہ صبح سویرے پیش آیا، فائر بریگیڈ کا عملہ ایسی صورت حال سے نمٹنے کی اہلیت رکھتا ہے۔وسیم اختر کا کہنا تھا کہ انسداد تجاوزات ٹیم کو بھی امدادی کارروائیوں میں استعمال کریں گے جبکہ بلدیہ عظمیٰ کا عملہ گرنے والی عمارت کی جگہ پہنچ چکا ہے۔علاوہ ازیں سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) ملیر نے واقعے کے بارے میں بتایا کہ منہدم عمارت میں 3 خاندان رہائش پذیر تھے۔

شیعہ نیوز )پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ(وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ علی رضا عابدی قتل کیس میں ایئرپورٹ سے اہم گرفتاری ہوئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کی قیادت میں پیپلزپارٹی کے وفد نے شہید علی رضا عابدی کی رہائش گاہ پر ان کے والد سید اخلاق عابدی سے ملاقات کرکے تعزیت کی، جبکہ وزیراعلیٰ سندھ نے علی رضا عابدی کے والد کو اب تک کی تحقیقات کے حوالے سے آگاہ کیا۔

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ بہت افسوسناک واقعہ تھا، علی رضا عابدی بہت ملنسار انسان تھے، ہم انہیں تو واپس نہیں لا سکتے، لیکن ظالم کو سزا ملنی چاہیئے، ایئرپورٹ سے اہم گرفتاریاں ہوئی ہیں، آپ اطمینان رکھیں، علی رضا عابدی کے قاتلوں کو جلد گرفتار کیا جائے گا اور اس شہر میں کسی کو بھی امن خراب کرنے نہیں دوں گا۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ مجھے خفیہ اداروں کی جانب سے کوئی تھریٹ نہیں ملی تھی، جب ایم کیو ایم پاکستان کے تحت منعقدہ میلاد کی محفل میں دھماکہ ہوا اور اس کے بعد پی ایس پی کے کارکنان پر حملہ ہوا تو میں نے اجلاس بلا لیا، اجلاس میں بھی علی رضا عابدی کے تھریٹ کے حوالے سے خبر موصول نہیں ہوئی۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکرٹری وقار مہدی کا کہنا تھا کہ علی رضا عابدی جیسے ذہین نوجوان کا قتل سازش اور المناک ترین حادثہ ہے، ان کے قاتلوں کو انجام تک پہنچا کر دم لیں گے اور شہر میں خونی کھیل کھیلنے والوں کو عبرت کا نشان بنا دیں گے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) معروف شیعہ سیاسی رہنماء علی رضا عابدی کو ان کے گھر کے باہر قاتلانہ حملے میں شہید کردیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایم کیو ایم سے سابقہ رکھنے والے شیعہ رہنماء علی رضا عابدی کی رہائشگاہ خیابان غازی ڈیفنس کے باہر نامعلوم دہشتگردوں نے ان پر فائرنگ کر دی جس سے وہ شدید زخمی ہوگئے، انہیں تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تھاجہاں وہ جانبر نہ ہوسکے۔

قاتلانہ حملہ ان کے گھر کے باہر اس وقت ہوا، جب وہ اپنی گاڑی سے اتر رہے تھے۔ علی رضا عابدی کو سر اور گردن میں 2، 2 گولیاں لگی تھیں۔ پولیس جائے وقوع سے شواہد اکٹھے کر رہی ہے۔ علی رضا عابدی کی میت کو جناح اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واقعہ کا نوٹس لے کر آئی جی سندھ کلیم امام سے رپورٹ طلب کرلی۔

واضح رہے کہ علی رضا عابدی 2013ء میں کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 251 سے 80 ہزار سے زائد ووٹ لیکر کامیاب ہوئے تھے، جو نئی حلقہ بندیوں کے بعد این اے 244 ہوچکا ہے۔ علی رضا عابدی نے ایم کیو ایم قیادت سے اختلافات کے باعث رواں برس ستمبر میں پارٹی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دیدیا تھا۔