شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے سانحہ اوماڑہ میں قیمتی جانوں کے زیاں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے دہشتگردی کے واقعے کی مذمت کی ہے۔

ترجمان آئی ایس او جلال حیدرنے اپنے مذمتی بیان میں کہا ہے کہ پاکستان میں امن کیلئے انتہا پسندوں کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ انتہا پسندانہ سوچ کا خاتمہ بھی ضروری ہے،دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو آزاد نہ کیا جاتا تو ایسے واقعات جنم نہ لیتے۔

 انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں جاری دہشتگردی میں انڈیا،اسرئیل اور امریکہ پوری طرح ملوث ہیں اوماڑہ سانحہ میں ملوث دہشتگردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)   سربراہ مجلس وحدت مسلمین علامہ راجہ ناصر عباس کی اوماڑہ سانحہ کی مذمت ۔کوسٹل ہائی وے پر بربریت اور سفاکیت کی انتہا کردی گئی بزدل دہشتگردوں نے رات کے اندھیرے میں نہتے مسافروں کے خون سے ہولی کھیلی ہے ملک دشمن دہشتگرد کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ ان خیالات کااظہار سربراہ مجلس وحدت مسلمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے میڈیا سیل سے جاری بیان میں کیا۔

 انہوں نے کہاکہ بلوچستان سمیت ملک بھر میں دہشتگردوں کی سرکوبی کے لئے تمام سیاسی و عسکری قیادت کو مل بیٹھنا ہو گا اور نیشنل ایکشن پلان کا از سرنوجائزہ لینا ہو گا ۔جانبحق ہونے والوں کے لواحقین کے ساتھ اظہار تعزیت کرتے ہیں ۔سانحہ میں سیکورٹی فورسز کے جوانوں کی اس طرح سے شہادت نہایت تکلیف دہ ہے ۔بلوچستان میں جاری دہشتگردی میں انڈیا،اسرئیل اور امریکہ پوری طرح ملوث ہیں اوماڑہ سانحہ میں ملوث دہشتگردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)   سربراہ مجلس وحدت مسلمین علامہ راجہ ناصر عباس کی اوماڑہ سانحہ کی مذمت ۔کوسٹل ہائی وے پر بربریت اور سفاکیت کی انتہا کردی گئی بزدل دہشتگردوں نے رات کے اندھیرے میں نہتے مسافروں کے خون سے ہولی کھیلی ہے ملک دشمن دہشتگرد کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ ان خیالات کااظہار سربراہ مجلس وحدت مسلمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے میڈیا سیل سے جاری بیان میں کیا۔

 انہوں نے کہاکہ بلوچستان سمیت ملک بھر میں دہشتگردوں کی سرکوبی کے لئے تمام سیاسی و عسکری قیادت کو مل بیٹھنا ہو گا اور نیشنل ایکشن پلان کا از سرنوجائزہ لینا ہو گا ۔جانبحق ہونے والوں کے لواحقین کے ساتھ اظہار تعزیت کرتے ہیں ۔سانحہ میں سیکورٹی فورسز کے جوانوں کی اس طرح سے شہادت نہایت تکلیف دہ ہے ۔بلوچستان میں جاری دہشتگردی میں انڈیا،اسرئیل اور امریکہ پوری طرح ملوث ہیں اوماڑہ سانحہ میں ملوث دہشتگردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)   سید راحت حسین الحسینی نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کا سب سے بڑا مسئلہ سیاسی پسماندگی ہے، جو سیاستدان بن کر عوام کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں ان کا کوئی معیار نہیں ہے، سیاست اور ٹھیکیداری وہ اہم شعبے ہیں جن کی کارکردگی سے عوام براہ راست متاثر ہوتے ہیں اور بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں سیاستدان اور ٹھیکیدار بننے کے لئے کوئی معیار نہیں، اس لئے علاقے کے بےشمار مسائل کی بنیادی وجہ یہی ہے، روندو تھوار میں حضرت علی اکبرؑ کے یوم ولادت باسعادت کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نااہل اور بےحس لوگ سیاست میں آنے کے بعد عوام کو اپنے مفادات کے لئے تقسیم کرتے ہیں اور آفاقی سوچ نہ ہونے کی وجہ سے عوامی مسائل میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

آغا راحت حسین نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان کی بدقسمتی ہے کہ ماہرین کے مطابق جی بی میں 50 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے اس کے باوجود یہاں تاریکی کا راج ہے، علاقائی وسائل کو استعمال کر کے ان سے فائدے حاصل کرنے کے لئے کوئی جامع پالیسی نہیں ہے، دریائے سندھ سے پاکستان بھر کو پانی مل رہا ہے لیکن گلگت بلتستان جہاں سے یہ دریا نکلتا ہے پینے کے لئے پانی میسر نہیں، گلگت میں عوام ٹینکر سے پانی خریدتے ہیں جو کہ لمحہ فکریہ ہے، جبکہ کوئی فنڈ آتا ہے تو سیاستدان سے لے کر کلرک اور چپڑاسی تک کا کمیشن مختص ہوتا ہے اور عوام کو کچھ بھی نہیں ملتا، گلگت بلتستان میں سیاسی پسماندگی اور بحران کے سب سے بڑے ذمہ دار سیاسی پارٹیوں کے وفاقی سربراہان ہیں، جو الیکشن کے دنوں آکر سبز باغ دکھا کر غائب ہو جاتے ہیں اور اگلے الیکشن میں پھر بےشرمی اور بےحسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئے وعدوں کے ساتھ وارد ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مذہب اور تعصب کو ہوا دے کر خود غائب ہو جاتے ہیں، یہاں کے عوام کو ان تمام موسمی نمائندوں جو مذہب اور علاقہ پرستی کو ہوا دیتے ہیں، کو مسترد کرنا چاہیئے، سوشل میڈیا پر منظم سازش کے تحت نفرت انگیر بیانات دیئے جا رہے ہیں اور ان سے پوچھنے والا کوئی نہیں، متعلقہ اداروں کو اس حوالے سے جاگنے کی ضرورت ہے۔ سرکاری اسامیوں پر مذہبی بنیاد پر تعیناتیاں کی جارہی ہیں جو کہ انتہائی افسوس ناک ہے۔ محفل میلاد کی تقریب کے بعد انہوں نے جامعہ بھبھانیہ کا دورہ بھی کیا اور طالبات سے مختصر خطاب کیا۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)   وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے اورماڑہ میں دہشتگردی کی شدید مذمت کی ہے۔

 شہریار آفریدی نے اپنے مذمتی بیان میں کہا کہ دشمن پاکستان کو ایف اے ٹی ایف اور دیگر عالمی فورم پر نقصان پہنچانا چاہتا ہے، بزدل دہشتگردوں نے غیر ملکی آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے وطن فروشی کا ثبوت دیا۔ انہوں نے اسلام آباد سے جاری بیان میں کہا ہے کہ دہشتگردوں کو کمین گاہوں سے نکال کر عبرت کا نشان بنائیں گے، آج پھر سیاسی جماعتوں اور اداروں کو دہشتگردی کے خلاف حکومت کے ہاتھ مضبوط کرنا ہوں گے۔

لاہور سے ابو فجر کی رپورٹ

 امام کعبہ شیخ ڈاکٹر عبداللہ عواد الجہنی پاکستان کا دورہ مکمل کرکے سعودی عرب پہنچ چکے ہیں۔ وہ اسلام آباد سے لاہور پہنچنے تھے، جہاں مختلف تقریبات میں شرکت کے بعد سعودی عرب روانہ ہوئے۔ لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، صوبائی وزیر مذہبی امور سید سعید الحسن، پاکستان علماء کونسل کے سربراہ حافظ طاہر اشرفی، سعودی سفیر نواف سعید المالکی اور صوبہ پنجاب کے اعلیٰ حکام نے امام کعبہ کو الوداع کیا۔ امام کعبہ موسم کی خرابی کے باعث جہاز کی بجائے براستہ موٹروے اسلام آباد سے لاہور پہنچے تھے۔ لاہور میں ان کا قیام پرل کانٹینیٹل ہوٹل میں تھا۔

امام کعبہ نے گورنر ہاوس میں قائم مقام گورنر پنجاب چودھری پرویز الہیٰ سے ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ وہاں سے وہ راوی روڈ پر مرکز جمعیت اہلحدیث پہنچنے، جہاں پروفیسر ساجد میر سمیت اہلحدیث رہنماوں نے ان کا استقبال کیا۔ امام کعبہ نے وہاں "پیغام قرآن ٹی وی" کا افتتاح کیا اور اپنے اعزاز میں ایک تقریب سے بھی خطاب کیا۔ خطاب میں انہوں نے پاک سعودیہ دوستی کے حوالے سے اس طرح گفتگو کی جیسے وہ سیاسی شخصیت ہوں۔

امام کعبہ وہاں سے مسلم ٹاون موڑ پر واقع دیوبند مکتب فکر کی دینی درسگاہ "جامعہ اشرفیہ" پہنچے، جہاں مولانا فضل رحیم اشرفی سمیت دیگر علماء نے ان کا استقبال کیا اور امام کعبہ نے جامعہ اشرفیہ میں نماز عشاء کی امامت اور طلباء سے مختصر خطاب بھی کیا۔

دوسرے روز امام کعبہ کے اعزاز میں وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے پُرتکلف ضیافت کا اہتمام کیا اور ایوان وزیراعلیٰ میں ملاقات بھی کی۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر بھی امام کعبہ نے وہی جملے دوہرائے، جو وہ ہر محفل میں بول رہے تھے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گہرے تعلقات ہیں، سعودی عرب نے ہر مشکل میں پاکستان کی مدد کی ہے۔ سعودی عرب والے پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ امام کعبہ نے سعودی عرب کے احسانات تو گنوا دیئے لیکن پاکستان کی خدمات کا ذکر تک نہیں کیا کہ پاکستان کے سابق آرمی چیف راحیل شریف سعودی اتحاد کی قیادت میں بے گناہ یمنیوں پر حملے کر رہے ہیں۔ یہ اعتراف نہیں کیا کہ سعودی عرب پر مشکل وقت آئے تو قربانی کا بکرا پاکستان ہی بنتا ہے۔ امام کعبہ نے یہ بھی نہیں بتایا کہ سعودی عرب میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری بھی پاکستانی ہی کرتے ہیں، بس یہ بتا دیا کہ سعودی عرب میں مقیم ہزاروں پاکستانی بھاری زرمبادلہ پاکستان بھجواتے ہیں۔

بعض اہلحدیث حلقوں کی جانب سے امام کعبہ کے دورے پر تنقید بھی کی گئی۔ نقاد حلقوں کا کہنا تھا کہ کعبہ تمام مسلمانوں کیلئے مقدس ترین مقام ہے۔ امام کعبہ کی اہمیت تمام مسلمانوں کیلئے یکساں ہے مگر امام کعبہ نے امت کو یکساں نہیں رکھا۔ امام کعبہ نے پاکستان میں آکر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ کعبہ کے نہیں بلکہ صرف اہلحدیث (وہابیوں) کے امام ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ امام کعبہ کو چاہیئے تھا کہ وہ تمام مسالک کے علماء سے ملاقاتیں کرتے۔ امت کو ایک نظر سے دیکھتے مگر امام کعبہ نے صرف وہابی مکتب فکر کے ایک مخصوص گروہ کی تقریبات میں شرکت کرکے اپنی غیر جانبداری کو داغدار کر لیا ہے۔ امام کعبہ نے اپنے منصب کیساتھ انصاف نہیں کیا۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  پنجاب کے علاقے شجاع آباد میں دیوبندی قاری عبداللہ تین ماہ سے لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنارہا تھاجسے آج گرفتار کرلیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق شجاع آباد کے علاقے نیوہاؤسنگ کالونی سے 13 سال کی طالبہ میمونہ سے مبینہ جنسی زیادتی کرنے والے مدرسے کے قاری کو گرفتار کرلیاگیاہے ۔بچی کے والد اعجاز اور والدہ نوشین کے مطابق بچی ذہنی طور پر کمزور ہے اور ٹھیک سے بول بھی نہیں سکتی تو اسلامی تعلیم کے لیے مدرسے میں قاری کے پاس بھیج دیا بچی گزشتہ 15 دن سے مدرسے جانے سے انکار کررہی تھی اور روتی تھی ،والدہ کے پیار سے پوچھنے پر بچی نے بتایا کہ مدرسے کا قاری بچی کے ہاتھ باندھ کر اس سے جنسی زیادتی کرتا ہے اور 3 ماہ سے ملزم بچی کو جنسی زیاتی کا نشانہ بنا رہاہے۔

 بچی کے والد کی جانب سے تھانہ سٹی کے ایس ایچ او اشرف گل کو درخواست دی گئ تو پولیس نے قانونی کاروائی شروع کردی ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں زیادتی ثابت ہونے پر پولیس نے ملزم قاری عبداللہ کوگرفتار کر کے 13سالہ بچی میمونہ سے ہونے والی جنسی زیادتی کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ملک بھر کے دیگر مدرسوں میںدیوبندی ملاؤں کے ہاتھوں بچے اور بچیوں کی عصمت دری کے مختلف واقعات درج ہوئے ہیں لیکن ان درندوں کو سزا نہیں مل پاتی اور یہ با آسانی رہا ہوجاتے ہیں۔

شیعہ نیوز نیٹ ورک کی جانب سے اپنے تمام قارئین کی خدمت میں ولادت شبیہ پیمبر حضرت علی اکبرؑ مبارک ہو۔

11شعبان المعظم وہ تاریخ ہے جب حضرت امام حسین علیہ السلام کی آغوش مبارک میں علی اکبرؑ جیسا فرزند آیا، جنہوں نے اپنی پوری زندگی اپنے بابا کے مقصد پر یوں قربان کر دی کہ آج کے جوانوں کے لئے نمونہ بن گئے اور اسی بنیاد پر آج کی تاریخ کو اسلامی دنیا میں علی اکبر علیہ السلام سے منسوب کرتے ہوئے یوم جوان کے نام سے جانا جاتا ہے۔

 یوں تو ہر دن ہی جوانوں کا ہے کہ ان کے وجود میں حرکت ہوتی ہے، شادابی و فرحت سے انکا وجود سرشار ہوتا ہے اور ہر آنے والے دن کو وہ اپنی توانائیوں کی بنیاد پر یادگار بنا دیتے ہیں لیکن آج کی تاریخ اس لئے اہم ہے کہ انہی سے مخصوص ہے، روز جوان جہاں جوانوں کی اہمیت کو بیان کرتا ہے، وہیں حضرت علی اکبر جیسے جوان کی یاد بھی دلاتا ہے جنہوں نے اپنی جوانی دین پر لٹا دی اور ہر شریف النفس جوان کے دل کی دھڑکن بن گئے اور یہی وجہ ہے کہ آج ہم  اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ شام میں حق و باطل کے درمیان سجے معرکہ میں جوانوں کا جوش و ولولہ کیسا ہے جنکے عزم و ہمت کو ہمارا سلام۔

حضرت علی اکبر علیہ السلام کی راہ پر چلتے ہوئے اپنی جوانی کو راہ اسلام پر لٹا دینے والوں کو سلام، جنہوں نے دنیا کی زرق وبرق کو ترک کر کے دفاع حرم حضرت زینب سلام اللہ علیہا کو اپنی زندگی کا نصب العین بنا لیا، یہی وجہ ہے کہ شہداء حرم بی بی زینب سلام اللہ علیہا کی ایک بڑی تعداد ہمیں ان جوانوں کی نظر آتی ہے جن کی عمریں حضرت علی اکبر علیہ السلام کی عمر سے نزدیک ہیں۔ یقینا کل اگر حضرت علی اکبر علیہ السلام نے حقانیت کی راہ پر مر مٹ کر امر ہو جانے کا سبق نہ دیا ہوتا تو آج یہ روح پرور سماں نہ ہوتا، جو ہم شام،عراق،یمن،بحرین اور اسی طرح دنیا کے دیگر ممالک میں دیکھ رہے ہیں۔

ہمارا کروڑوں سلام و درود حسین ابن علی علیہ السلام کے اس جوان بیٹے ‎حضرت علی اکبر (ع) پر جنہوں نے "اولسنا علی الحق" کہہ کر ہمارے جوانوں کو سمجھا دیا کہ تم اگر حق پر ہو تو پرواہ نہیں ہونی چاہیئے کہ تم موت پر جا پڑو یا موت تم پر آ جائے۔ آج جہاں ایک طرف جوانوں سے منسوب اس دن میں ذکر و یاد علی اکبر سزاوار ہے،وہیں بہت مناسب ہے کہ ہم اپنے سماج اور معاشرہ میں غور کریں کہ جوانوں کے مسائل کیا ہیں، انہیں کن مسائل و مشکلات کا سامنا ہے اور ان کا راہ حل کیا ہے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  امریکی ڈیموکریٹ پارٹی کے سینیٹر برنی سینڈرز نے امریکی صدر ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یمن کے نہتے عربوں کو مدد کی ضرورت ہے، بموں کی نہیں!۔ امریکہ میں 2020 میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے امیدوار نے ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے امریکی کانگریس کی یمن سے فوجی انخلا کی  قرارداد کو ویٹو کرنے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یمن جنگ سے امریکہ کی فوجی علیحدگی انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے اہم تھی ۔ برنی سینڈرز نے کہا کہ یمنی عوام کو غذا ، خوراک اور طبی امداد کی ضرورت ہے انھیں اس وقت بموں کی ضرورت نہیں۔

واضح رہے کہ امریکی فوج کے یمن جنگ سے انخلا کے سلسلے میں ٹرمپ نے امریکی کانگریس کی رپورٹ کو ویٹو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قرارداد سے میرے اختیارات محدود کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ یمن پر سعودی عرب کی مسلط کردہ جنگ میں امریکہ اور اسرائیل بھی سعودی عرب کی مدد کررہے ہیں۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نےسانحہ ہزارگنجی کےخلاف جمعہ کو ملک گیر یوم احتجاج کا اعلان کردیا۔

 کوئٹہ میں پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے  علامہ راجہ ناصر کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں حکومت کی نہیں دہشتگردوں کی رٹ قائم ہے،ہزارگنجی دھماکے اور کوئٹہ میں موجودہ شیعہ ہزارہ برادری کی نسل کشی کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔ تسلسل کیساتھ جاری اس ظلم و بربریت کے خلاف جمعہ کو ملک گیر احتجاجی مظاہرے کریں گے۔

 انھوں نے کہا کہ آخر ہماری حکومتیں بلوچستان کو کیوں نظر انداز کرتی ہیں،یہاں کے امن پر پے در پے حملوں پر حکمرانوں کی خاموشی لمحہ فکریہ ہے ،مستقبل کے معاشی گیٹ وے کو نظر انداز کرنا انتہائی مضحقہ خیزہے، بلوچستان میں دہشتگردوں کی نرسری اورکالعدم گرہوں کو لگام نہ دینا حکمرانوں کی نااہلی ہے۔ کہاں ہے نیشنل ایکشن پلان؟؟؟ہمیں مصالحتی رویہ ترک کرتے ہوئے ملکی و قومی سلامتی کیلئے فیصلہ کن اقدامات کرنے ہونگے۔ہم خانوادہِ شہداء کے لواحقین کیساتھ بھر پور اظہار یکجہتی کرتے ہیں اور اس مشکل کی گھڑی میں انکو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گئے اور نہ ہی اس مقدس شہداء کے لہو کو سازشی عناصر کے ہاتھوں رائگاں جانے دیں گے۔کوئٹہ کے باشعور اور محب وطن عوام ان سازشوں کا ادراک کرتے ہوئے دشمن کے مضموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔