شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) عرفان علی

پاکستان اور ایران کے تعلقات کے حوالے سے مختلف لابیوں کی مختلف خواہشات سامنے آتی رہی ہیں اور اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ باوجود این کہ یہ لابیاں امریکا، جعلی ریاست اسرائیل، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے مشترکہ بیانیہ پر پاکستان کا جعلی ٹھپہ لگا کر پھیلا رہی ہیں، انکے اس بیانیہ میں شامل جھوٹ، الزامات اور ان کی بنیاد پر غلط نتیجہ گیری کے جواب میں بعض ایسی معلومات اور بعض ایسے نکات پیش خدمت ہیں کہ جس سے میرے جیسا عام پاکستانی شہری مذکورہ لابیوں کی ان خواہشات کے برعکس نتیجے پر پہنچتے ہیں۔ پچھلی تحریر میں قیام پاکستان سے ایرانی انقلاب سے قبل تک کے تعلقات پر ایک مختصر جائزہ پیش کیا گیا تھا۔ اب انقلاب اسلامی ایران کے بعد کے تعلقات سے متعلق چند اہم نکات کا جائزہ مقصود ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کے اسکالرز اور طلباء بخوبی آگاہ ہیں کہ پاکستان کی خارجہ و دفاع پالیسی کو انڈیا سینٹرک قرار دیا جاتا ہے۔ یعنی پاکستان کی دفاعی ڈاکٹرائن میں پڑوسی ملک بھارت (ہندوستان یا انڈیا) کی حیثیت دشمن، مرکزی حریف یا ولن(ان میں سے جو آپ مناسب سمجھیں) کی سی رہتی آئی ہے اور اسکی وجوہات بھی ہیں کہ اس سے جنگیں ہوچکی ہیں اور کشمیر کے تنازعے کی وجہ سے دائمی کشیدگی بھی چلی آرہی ہے۔

اس بناء پر کہا جاتا ہے کہ ریاست پاکستان کا تھریٹ پرسیپشن انڈیا سینٹرک رہا ہے۔ دوستی و اتحاد کے لحاظ سے ریاست پاکستان مغربی آربٹ (محور) میں ہی رہتی آئی ہے۔ انقلاب اسلامی سے قبل ایران بھی اسی مغربی آربٹ میں تھا، لیکن انقلاب کی کامیابی کے فوراً بعد ایران نے علامتی نہیں بلکہ واقعی اپنی پالیسی میں جوہری تبدیلی کر دی، لیکن ریاست پاکستان پچھلے چالیس برسوں سے براہ راست یا بالواسطہ انہی طاقتوں کی ساتھی رہی، جو انقلاب سے پہلے تو ایران کو مغربی آربٹ میں ہونے کی بنیاد پر اور خطے میں سوویت یونین کے خلاف ایک اتحادی کی حیثیت سے بظاہر اچھے تعلقات رکھے ہوئے تھے، اس طرح پاکستان اور ایران دونوں ہی خطے میں سوویت کمیونزم کے خلاف مغربی بلاک کے خدمتگار ممالک بھی تھے اور اس زاویئے سے بھی اگر جائزہ لیں تو دونوں ہی ملکوں کو استعمال کیا گیا، جبکہ انکی کوئی ٹھوس مدد نہیں کی گئی، انکی مشکلات برطرف کرنے میں مغربی بلاک کی بڑی طاقتوں نے کوئی خاص اور یادگار معاونت نہیں کی۔ ایرانی انقلاب کے بعد ریاست پاکستان نے افغانستان کی جنگ میں مغربی بلاک جس کا قائد امریکا تھا اور اس بلاک کے سب سے اہم مسلم اتحادی سعودی عرب کے مشترکہ ایجنڈا کے لئے خدمات پیش کیں، یعنی با الفاظ دیگر پاکستان کے امریکی بلاک اور سعودی عرب سے تعلقات کی نوعیت برابری کی بنیاد پر نہیں تھی بلکہ پاکستان کی حیثیت عربی غربی اتحاد کے اینٹی سوویٹ یونین پروجیکٹ کے سہولت کار کی تھی۔

سوویت کمیونزم کا خطرہ یا خدشہ، اس سے متعلق بھی بہت سی کہانیاں موجود ہیں، لیکن خطرہ تو ایران کو بھی تھا اور انقلابی حکومت نے سوویت یونین سے دو اعلیٰ ترین سطح کے معاہدے منسوخ کر دیئے تھے۔ اسکے ساتھ ہی ایران کی سرحدوں پر سوویت یونین کے خلاف امریکا کے جاسوسی نظام کو بھی ختم کر دیا تھا۔ ایران نے بیک وقت دونوں بڑی طاقتوں یعنی امریکا اور سوویت یونین سے وہ سارے تعلقات منقطع کر دیئے تھے، جو ایران کے داخلی امور میں مداخلت پر مبنی تھے یا جس سے اسکی غیر جانبداری پر حرف آرہا تھا۔ یعنی ایران غیر ملکی مفادات اور پراکسی وار لڑنے والوں کے لئے نو گر ایریا بنا دیا گیا۔ ایران آزادانہ افغانستان کے مزاحمت کاروں کی مدد کرتا رہا اور پاکستان کی طرح ایران نے بھی افغان مہاجرین کو پناہ بھی دی، لیکن ایران کے معاملات ایرانی قیادت کے ہاتھ میں رہے جبکہ پاکستان کے معاملات میں امریکی و سعودی دخیل رہے۔ اس پر اسٹیو کول نے بن لادن خاندان سے متعلق اپنی تصنیف میں روشنی ڈالی ہے جبکہ یہ معلومات سعودی حکمران شخصیات یا انکے قریبی معتمد کی بیان کردہ ہے، جو اس تصنیف میں ریفرنس کے ساتھ بیان کی گئی ہیں، تفصیلات کے لئے دی بن لادنز کا مطالعہ فرمائیں۔ یہی نہیں بلکہ سوویت کمیونزم کے خلاف امریکی منصوبہ افغانستان میں سوویت دراندازی سے قبل ہی طے پاچکا تھا اور سی آئی اے کے اس وقت کے گیری اسکروئن نے بھی اسے بیان کیا ہے اور اسکے لئے انکی تصنیف دی فرسٹ ان پڑھئے۔

یاد رہے کہ معاہدہ بغداد جو بڑی طاقتوں کی ایما پر سوویت کمیونزم کے خلاف منظور کیا گیا اور جس کو سینٹو اتحاد کہا جاتا ہے، انقلاب کے بعد ایران نے اس سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا تو پاکستان نے بھی سینٹو کو خیرباد کہنے میں تاخیر نہیں کی، لیکن باقی پالیسیوں پر غیر ملکی فیکٹرز اثر انداز رہے اور یوں پاکستان کی مجموعی پالیسی آزاد نہ رہی۔ البتہ سوویت فیکٹر یا افغان فیکٹر یا عربی غربی فیکٹر جو مناسب سمجھیں، ان تین میں سے کوئی بھی نام استعمال کرسکتے ہیں کہ مارشل لاء ڈکٹیٹر جنرل ضیاء نے اس فیکٹر کے تحت پاکستان کی آزادی و خود مختاری، لسانی و مذہبی ہم آہنگی بلکہ پورے پاکستان کی معاشرتی فیبرک کا بیڑہ غرق کر دیا۔ منشیات اور خطرناک آتشیں اسلحے نے پاکستان کا رخ کر لیا اور اسکا فال آؤٹ آج تک پاکستان بھگت رہا ہے۔ پاکستان کے سابق بیوروکریٹ روئیداد خان کے مطابق جنرل ضیاء کے پاس پاکستان کے آئین اور جمہوری اقدار کے لئے سوائے حقارت کے کچھ نہیں تھا، جبکہ انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ سابق صدر جنرل ایوب خان کے قریبی معتمد اور بیوروکریٹ الطاف گوہر نے جنرل ضیاء کو سب سے بڑا منافق قرار دیا تھا۔

سوویت یونین کے سقوط کے بعد بھی پاکستان کی افغان پالیسی ایسی رہی کہ جس پر پاکستانیوں کو اعتراض رہا۔ حتیٰ کہ جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے، افغان جہاد کے حامی ہفت روزہ تکبیر نے اور اہم عہدوں پر فائز شخصیات نے وقتاً فوقتاً اس افغان پالیسی اور طالبان پر بھی تنقید کی، اس پر سابق وزیر خارجہ سرتاج عزیز اور سابق سفارتکار ریاض خان کی تصانیف سے بھی رجوع کیا جاسکتا ہے، کیونکہ سابق سفارتی حکام نے تو امریکی سعودی فنڈنگ سے بننے والی مساجد و مدارس تک کے بارے میں لکھا ہے۔ اس طرح نائن الیون تک یہ معاملات چلتے رہے اور نائن الیون کے بعد ریاست پاکستان کی جو پالیسی بنی تو عوامی نیشنل پارٹی کے پختون سربراہ اسفندیار ولی نے تاریخی جملہ کہا کہ ہم نے اپنی پالیسی نہیں بدلی بلکہ ریاست پاکستان نے اپنی پالیسی تبدیل کرلی ہے۔

حالانکہ تبدیلی کیا تھی، پہلے بھی کسی اور کا ہی پروجیکٹ تھا اور بعد میں بھی انہی کا رہا اور افغانستان پر جنگ مسلط کر دی گئی جبکہ پاکستان کو ایک اور مرتبہ عربی غربی اتحاد کے پروجیکٹ کا سہولت کار بنا دیا گیا۔ پاکستانی حکام کے آفیشل بیانات ریکارڈ پر ہیں، امریکی غربی بلاک (خاص طور پر سابق امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن اور سابق برطانوی وزیر خارجہ رابن کک) کے بیانات ریکارڈ پر ہیں کہ وہ یہ اعتراف کرچکے ہیں کہ افغانستان کے معاملے میں ان سے غلطیاں ہوئیں، مس کیلکیولیشن کی، جن تکفیریوں کا آج دہشت گرد کہہ رہے ہیں، یہ انہی کی پیداوار ہیں۔ پھر بھی ان میں سے کسی نے اپنی پالیسی واقعی تبدیل نہیں کی اور اپنے اپنے ملکوں میں عوام کو بے وقوف بناتے رہے۔

پاکستان کا اصل ایشو انڈیا فیکٹر تھا، لیکن جنرل ضیاء کی وجہ سے افغانستان کا اضافی بوجھ بھی پاکستان پر آگیا، جس کا ملبہ آج تک پاکستان پر گرتا ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کی تمام تر خدمات و سہولت کاری کے بعد بھی عربی غربی اتحاد نے نہ تو کشمیر تنازعہ حل کرکے دیا اور نہ ہی بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی کوئی ٹھوس نوعیت کی مدد و معاونت کی۔ نائن الیون کے بعد امریکی حکم پر پاکستان نے لبیک کہا۔ تب مارشل لاء ڈکٹیٹر جنرل ضیاء کی طرح جنرل پرویز مشرف زبردستی کے حکمران تھے۔ نائن الیون کے بعد کی پاکستان کی خدمات برائے غربی عربی اتحاد در افغانستان کی روداد کے لئے اس وقت کے سی آئی اے کے اسٹیشن چیف برائے اسلام آباد رابرٹ ایل گرینائر کی یادداشتوں پر مشتمل تصنیف ’’اے سی آئی اے ڈائری۔۔، ایٹی ایٹ ڈیز ٹو قندھار‘‘ کا مطالعہ فرمائیں۔

ریاست پاکستان نے ہر مشکل وقت میں غربی عربی اتحاد کے مفادات کا تحفظ کیا، انکے مفادات پر پاکستان کا لیبل لگایا جاتا رہا، لیکن اس عرصے میں غربی عربی اتحاد اور خاص طور پر امریکا اور خلیجی جی سی سی ممالک کے بھارت کے ساتھ تعلقات میں توسیع ہوتی چلی گئی اور اب حال یہ ہے کہ پاکستان کی جغرافیائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت نے در اندازی کی، اسرائیلی بم گرائے، لیکن غربی عربی اتحاد اور خاص طور پر امریکا، سعودیہ و متحدہ عرب امارات نے بھارتی جارحیت کی مذمت نہیں کی، بھارت کے سہولت کار بن کر پاکستان سے مطالبات منواتے چلے گئے اور ان دنوں بھارتی سیکرٹری خارجہ واشنگٹن کے دورے پر ہیں تو وہاں سے امریکی وزیر خارجہ مائیکل پومپیو نے حکم صادر فرمایا ہے کہ پاکستان ان دہشت گردوں کے خلاف فوری اور مزید اقدامات کرے، جو بھارت کی نظر میں دہشت گرد ہیں۔

دوسری طرف ایران ہے کہ جس کا تھریٹ پرسیپشن پاکستان سے مختلف رہتا آیا ہے۔ ایران ہر ملک سے دو طرفہ باعزت اور برابری کی بنیاد پر تعلقات کا قائل ہے، سوائے جعلی ریاست اسرائیل کے۔ ایرانی قوم نے ایک طویل عرصے برطانیہ، سوویت یونین، امریکا اور ایک دور میں فرانس کے ہاتھوں اپنی آزادی و خود مختاری پر ڈاکے اور اپنے وسائل کی لوٹ مار دیکھی ہے، اس لئے بحیثیت قوم، وہ ان بڑی طاقتوں اور انکے طفیلیوں کے حوالے سے بہت زیادہ محتاط ہیں۔ البتہ اسلامی ممالک کے لئے نرم ہیں۔ صدام نے جو جنگ مسلط کی اور جو آٹھ سال جاری رہی، ان آٹھ برسوں میں وہ سارے ممالک جن کو پاکستان اتحادی اور دوست قرار دیتا آیا ہے، وہ سبھی صدام کے پشت پناہ رہے ہیں۔ ایران نے انقلاب کے بعد ان ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کی تھی، لیکن یہ سب امریکی ڈکٹیشن پر صدام کے سہولت کار ہوا کرتے تھے۔ پاکستانیوں نے اپنی پوری تاریخ میں کل ملا کر جتنی جنگیں لڑی ہیں، انکا دورانیہ ایران کی اس ایک جنگ کے برابر تو کیا آدھا یا چوتھائی بھی نہیں ہے۔ ایران کے جانی و مالی نقصانات بھی پاکستان کے جنگی نقصانات سے کہیں زیادہ ہیں۔ صدام کی اس جنگ میں سعودی عرب کا کردار سمجھنا ہے تو صرف ایک صفحہ پاکستان کے سابق سفارتکار جمشید مارکر کی یادداشتوں کا پڑھ لیجیے ’’خاموش سفارتکاری، ایک پاکستانی سفارتکار کی یادداشتیں‘‘ کے بیسویں باب بعنوان فرنس میں انہوں نے بیان کیا ہے۔

ایران کے خلاف سعودی عرب کی حمایت برائے صدام کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، لیکن ایک پاکستانی سفارتکار کی معتبر گواہی کے بعد سعودی وزیر مملکت برائے امور خارجہ کی ایران مخالف ہرزہ سرائی اور وہ بھی پاکستان میں بیٹھ کر ایسا کرنا، اور بھارت کی جارحیت کے خلاف ایک لفظ نہ کہنا بلکہ تحمل کی تلقین کرنا، یہ حقیقت سمجھنے کے لئے کافی ہے کہ یہ ایران نہیں تھا جس نے سعودی عرب کے خلاف کسی جنگ میں شراکت داری کی تھی، بلکہ 1980ء تا 1988ء صدام کی جنگ میں سعودی عرب ایران کے خلاف تھا اور پاکستان میں بیٹھ کر بھی سعودی وزیر نے بھارت کے خلاف کوئی منفی ردعمل ظاہر نہیں کیا تھا بلکہ ایران ہی کے خلاف بیان دیا تھا، یعنی سعودی وزیر نے پاکستان کے مفاد میں کوئی بیان نہیں دیا تھا۔ ایک آزاد و خود مختار مملکت کے لئے اس سے بڑھ کر کیا ذلت و رسوائی ہوگی کہ کسی دوسرے ملک کا وزیر اس کی سرزمین پر اس کے کسی ایسے پڑوسی ملک کے خلاف بیان دے کہ جس کے ساتھ بقول ریاستی ادارے کے ترجمان کے انتہائی بہترین تعلقات ہیں یعنی ایران کے۔۔۔

اس کے باوجود ان لابیوں کا جن کا آغاز میں تذکرہ کیا گیا، ان کا سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور امریکا کی بھارت نواز پالیسیوں کا دفاع کرتے رہنا، انکے لئے حسن ظن، مثبت رائے رکھنا اور ایران کو سنگل آؤٹ کرنا جبکہ بھارت کے جو بڑے تجارتی شراکت دار ہیں، ان کو کو مذکورہ لابیاں دوست اور بھائی و اتحادی قرار دیتی ہیں، ان کا احترام کرتی ہیں، یہ عدل و انصاف کے خلاف ہے بلکہ یہ منافقت و دوغلاپن ہے۔ ان ممالک کا بھارت کے ساتھ تعلق ایران کی نسبت زیادہ ہے، لیکن ان لابیوں کو صرف ایران بھارت تعلقات کی فکر کھائے جا رہی ہے، جبکہ ایران پر اقتصادی پابندیاں ہیں اور دیگر ممالک پر پابندیاں نہیں ہیں۔ ایران، بھارت اور پاکستان تینوں زیادہ قریبی پڑوسی ہیں، امریکا، سعویہ و امارات کب سے پاکستان و بھارت کے پڑوسی ہوگئے۔؟

پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ بھارت نے امریکی دباؤ پر اپنا قومی مفاد مقدم رکھ کر ایران کے ساتھ تجارت کی ہے تو ایران ایک ایسے ملک کو کیوں مقدم رکھے کہ جس کی اپنی تجارت ایران کی نسبت بھارت سے زیادہ ہے، جی ہاں خود پاکستان! پاکستان نے بھارت کیساتھ دو بلین ڈالر سے زائد تجارت کی ہے، جس میں بھی عدم توازن بھارت کے حق میں ہے، کیونکہ پاکستان نے سوا ارب ڈالر سے زائد مالیت کی خریداری بھارت سے کی ہے، جبکہ ایران سے پاکستان کی کل تجارت سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایک ارب ڈالر بھی نہیں تھی! سعودی عرب اور بھارت کے مابین دوطرفہ تجارت کا حجم سال 2017-18ء میں تقریباً ساڑھے ستائیس بلین ڈالر رہا جبکہ اسی دورانیہ میں ایران بھارت دوطرفہ تجارت کا حجم تیرہ اعشاریہ آٹھ بلین ڈالر رہا۔

یعنی خود پاکستان اور سعودیہ تو بھارت کے ساتھ ایران سے بھی زیادہ تعلقات رکھیں، لیکن ایران نہ رکھے، کیا یہ کسی عاقل، بالغ، ہوشمند، عقلمند فرد کی خواہش ہوسکتی ہے یا پھر کسی منافق کی! پاکستان کی گوادر بندرگاہ سمیت بلوچستان کی ساحلی پٹی کو بجلی ایران دے، چابہار میں افتتاحی تقریب میں پاکستانی وزیر کو ایرانی صدر اپنے ساتھ کھڑا رکھے اور امریکی، سعودی، اماراتی ڈکٹیشن پر پاکستان ایران سے آنے والی گیس پائپ لائن کی تعمیر پر کام ہی شروع نہ کرے، ایران کہے کہ اسکی گیس بھارت تک جائے تو بھارت دشمن ہے اور جب امریکی سعودی ڈکٹیشن آئے تو اسی دشمن بھارت کو تاپی گیس پائپ لائن منصوبے سے گیس کی فراہمی کے لئے پائپ لائن کی اجازت دے دی جائے! پہلے ہم یعنی پاکستانی خود سے تو مخلص ہو جائیں پھر ایران ایران کا رٹا لگائیں۔

پھر صوبہ بلوچستان کے حوالے سے جو بھارتی ادارے "را" کی بلوچستان ڈیسک تو امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں بھارتی ہائی کمیشن میں موجود تھی، جو بقول بلوچ صحافی احمر مستی خان کے ناجش بھوشن چلا رہا تھا۔ اسی امریکا نے سلالہ میں پاکستان کے فوجی مارے، اسی امریکا نے بقول امریکی صحافی بوب ورڈز کے افغانستان میں تین ہزار افراد پر مشتمل ٹاپ سیکرٹ کوورٹ آرمی چلائی اور اسکا نام کاؤنٹر ٹیررازم پرسوٹ ٹیم (مخفف سی ٹی پی ٹی) تھا۔ یہ ایسے افغان باشندوں پر مشتمل تھی، جنہیں جو امریکی ادارے سی آئی اے کے تنخواہ دار، تربیت یافتہ تھے اور انہی کے کنٹرول میں تھے۔ بوب وڈورڈز کے الفاظ میں
They killed or captured Taliban insurgents and often went into tribal areas to eliminate. They conducted dangerous and highly controversial cross-border operations into neighbouring Pakistan.

باوجود این، پاکستان کی افغانستان کے ساتھ تجارت کا حجم دو بلین ڈالر سے زیادہ ہے۔ امریکی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق امریکا سے پاکستان کی تجارت 2017ء میں چھ اعشاریہ چار بلین ڈالر تھی۔ ان نکات سے صرف اس حقیقت کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ یہ لابیاں جو ایران کو سنگل آؤٹ کرکے تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں، ان سے پوچھنا چاہیئے کہ "را" کا بلوچستان نیٹ ورک امریکا میں بھارتی سفارتی مشن سے چلائے جانے کے باوجود، متحدہ عرب امارات و سعودی عرب کا بھارت سے بہترین تعلقات کے باوجود، افغانستان کی سرزمین سے پاکستان پر حملوں، سلالہ میں پاک فوج کے جوانوں کو شہید کرنے کے باوجود، امریکی سرپرستی میں کراس بارڈر ٹیررازم کے باوجود، پاکستانی جغرافیائی حدود کی بارہا خلاف ورزی اور پاکستان کے خلاف بیانات و اقدامات کے باوجود، متحدہ عرب امارات کے وزیر انور قرقاش کی پاکستان کو دھمکیوں کے باوجود، پاکستان کو فائنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ میں لانے کے حق میں سعودی عرب کے ووٹ کے باوجود، اگر یہ سارے ملک پاکستان کے دوست، بھائی، اتحادی، معزز و معتبر ہوسکتے ہیں تو ایران ان سے سوگنا زیادہ حق رکھتا ہے کہ اس کو پاکستان کا دوست، بھائی و اتحادی سمجھا جائے، کیونکہ ایران نے کسی ملک سے تعلقات ختم کرنے کی ڈکٹیشن نہیں دی ہے، صرف اتنا کہا ہے کہ جس طرح ان کی پاکستان سے ملحق سرحدیں ہمارے لئے یعنی پاکستان کے لئے محفوظ بنا دی گئی ہیں، بالکل اسی طرح پاکستان کی ایران سے ملحق سرحدیں بھی ان کے لئے محفوظ بنا دی جائیں، یہ مطالبہ امریکی، سعودی و امارتی دھمکیوں کی طرح تو نہیں ہے۔

اور جو یہ کہتے ہیں کہ ایران یہ کرے، ایران وہ کرے، وہ پہلے ایران کے بھی ویسے ہی خدمتگار و سہولت کار بن کر دکھائیں، جیسے وہ پچھلے چالیس برسوں سے امریکا، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے لئے بنتے رہے ہیں اور امریکا، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سے بھی وہ بھارت کے خلاف وہ مطالبات منوا لیں جو پچھلے چالیس برسوں کی خدمت گذاری اور سہولت کاری کے باوجود نہیں منوا سکے ہیں۔ رہ گئی بات سعودی و اماراتی مفادات کی تو پوری دنیا جانتی ہے کہ عرب مسلمان ملکوں کی خارجہ پالیسی میں اولین ایجنڈا فلسطین کی آزادی رہا ہے اور خود سعودی عرب نے اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی اسرائیل کے خلاف اور فلسطین کی آزادی اور مقبوضہ بیت المقدس یعنی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانے کے لئے قائم کی تھی۔ پورے فلسطین پر، لبنان اور شام کے بعض حصوں پر اسرائیل کا ناجائز قبضہ ہے اور عرب اسلامی مفاد یہ ہے کہ اس اسرائیلی قبضے کو ختم کرایا جائے، مگر سعودی و اماراتی شاہ و شیوخ اسرائیل کو غیر رسمی طور تسلیم کرچکے ہیں ، خفیہ و اعلانیہ روابط قائم کرچکے ہیں۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اسرائیلی و امریکی مفاد پر اپنا ٹھپہ لگایا ہے، لیکن عرب بھی اور مسلمان بھی جانتے ہیں کہ ایران سے نہیں بلکہ اسرائیل سے اور اس کے سرپرست امریکا سے ان کو خطرات لاحق ہیں۔ افغانستان، عراق، فلسطین، شام و لبنان و یمن ہر جگہ اسرائیلی امریکی مفاد کی جنگ لڑی جا رہی ہے اور سعودی و اماراتی حکومتیں ان کی سہولت کار ہیں۔ نہ تو عرب لیگ اور نہ ہی او آئی سی، ان میں سے کوئی بھی ایران کے خلاف نہیں بنائی گئی تھی، کیونکہ عربوں اور مسلمانوں کا مفاد یہی تھا اور آج بھی ہے کہ فلسطین آزاد ہو، لیکن اسرائیلی امریکی مفاد یہ ہے یمن، شام، لبنان پر بھی وہ یا ان کے سعودی اماراتی اتحادی یا ان کے طفیلیے حاوی ہو جائیں۔ چلیں مسلمان نہ سہی عربوں کی حیثیت سے ہی سہی، سنی کی حیثیت سے ہی سہی، فلسطین 1948ء سے سعودی مدد کا منتظر ہے، مگر آل سعود ہیں کہ انکی غیرت جاگ کے نہیں دے رہی! جب یہ سنی عربوں کے ہی نہیں تو سنی کشمیریوں یا پاکستانیوں کے کیا ہوں گے!؟

 

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) پنجاب کے ضلع ساہیوال میں شیعہ ٹارگٹ کلنگ کا ایک اور افسوسناک واقعہ، ملک دشمن کلعدم تکفیری تنظیم سپاہ صحابہ / اہلسنت والجماعت کے دہشتگردوں کی فائرنگ سے شیعہ رہنماء ڈاکڑ قاسم رضا شہید، اطلاعات کے مطابق ساہیوال میں کالعدم تکفیری دہشتگرد اہلسنت والجماعت / سپاہ صحابہ نے فائرنگ کرکے ایم ڈبلیو ایم کے ضلعی رہنماء ڈاکٹر قاسم کو شہید کردیا ہے۔ شہید ڈاکڑ قاسم اپنے کلینک میں مصروف تھے کہ انہیں فون کال آئی کہ چوک میں ان کا کوئی مہمان آیا ہے، جب ڈاکڑ قاسم متعلقہ جگہ پہنچے تو گھات لگائے بیٹھے مسلح دہشت گردوں نے گولیوں کی بوچھاڑ کر دی فائرنگ کے نتیجے میں ڈاکٹر قاسم موقع پر ہی شہید ہوگئے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) کرم ایجنسی: شیعہ اکثریتی علاقہ پارا چنار کی سبزی بازار میں عالمی تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کا دہشتگردانہ حملہ 20 افراد شہید جبکہ 47 سے زائد زخمی ہیں، ابتدائی اطلاعات کے مطابق پارا چنار کی عیدگاہ مارکیٹ سبزی بازار میں دھماکہ ہوا ہے جس میں اب تک 20 افراد شہید ہو چکے ہیں۔ جبکہ 47 سے زائد زخمی ہیں۔

زخمیوں کو مقامی افراد اور امدادی ٹیموں کے اہلکاروں نے فوری طور پر ایجنسی ہیڈ کوارٹر اسپتال منتقل کردیا، پولیٹیکل انتظامیہ کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب سبزی بازار پر لوگوں کا سبزی خریدنے کیلئے رش لگا ہوا تھا، دہشتگردوں نے بارودی مواد کو پھولوں کے کریٹ میں نصب کیا تھا۔

واضح رہےکہ اس سے قبل دسمبر 2015 میں بھی پارا چنار کے عید گاہ لنڈا بازار میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 22 افراد شہید ہوئے تھے،جس کی ذمہ داری عالمی تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کی ذیلی تنظیم لشکر جھنگوی العالمی نے قبول کی تھی۔

اب تک کے شہداء کے نام

1۔ اسرار حسین ولد غلام حسین ـ شلوزان 2۔ منظر علی ولد نظر علی ـ کچکینہ 3۔ سید قوسین ولد امام علی شاہ ـ مہورہ 4۔ ظاہر حسین ولد ذاکر حسین ـ چھپر زیڑان 5۔ ساجد حسین ولد جنان حسین ـ چھپر زیڑان 6۔ شفاعت حسین ولد مرجان علی ـ سرہ گلہ کڑمان 7۔ معسکر علی ولد حسن علی ـ پیواڑ ـ یوسف خیل 8۔ محسن علی ولد غلام نبی ـ ہزارہ ـ پاراچنار سٹی 9۔ ریاست ولد مسکین ـ پنجاب 10۔ چھوٹا بچہ نامعلوم  10 سالہ 11۔ چھوٹا بچہ نامعلوم 12 سالہ 12۔ تجمل حسین ولد دادک ـ بالش خیل 13۔ شجاعت علی ولد عمران ـ شلوزان 14۔ باقر حسین ولد باقر حسین ـ چھپر زیڑان 15۔ سید باقر شاہ ولد سید نذرت شاہ ـ خوشی پاراچنار سٹی

 

Image may contain: one or more people, people sitting and people sleeping

Image may contain: one or more people, people standing, crowd and outdoor

 

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ پولیس اے ڈی خواجہ نے 'رخصت کے بعد دوبارہ ذمے داریاں سنبھال لیں اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت میں ہونے والے ایپکس کمیٹی کے 18ویں اجلاس میں شرکت کی۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت اے ڈی خواجہ کو ہٹانا چاہتی ہے، لیکن وفاقی حکومت اس کے خلاف ہے۔تاہم وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا اس معاملے پر کہنا تھا کہ آئی جی سندھ 15 دن کی چھٹی پر گئے تھے اور انھوں نے خود اس کی درخواست دی تھی۔بعدازاں سندھ ہائی کورٹ نے حکم امتناع جاری کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو اے ڈی خواجہ کو رخصت پر بھیجنے سے روک دیا تھا۔

یاد رہے کہ آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ 19 دسمبر کو 'رخصت پر چلے گئے تھے، میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی جی سندھ کو اس لیے 'جبری رخصت پر بھیجا گیا کیوں کہ سندھ حکومت کے پولیس کانسٹیبلز کی بھرتیوں اور پولیس افسران کی معطلی کے معاملے پر ان سے اختلافات تھے۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مشیر اطلاعات سندھ مولا بخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ 'آئی جی سندھ بڑے سکون کے ساتھ اجلاس میں بیٹھے تھے اور بار بار کہہ رہے تھے کہ مجھ پر سندھ حکومت کا کوئی دباؤ نہیں۔ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ کو اسٹریٹ کرائمز کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم دے دیا۔وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی سندھ کو حکم دیا کہ 'مجھے اسٹریٹ کرائم فری کراچی چاہیئے۔اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی کے عوام کو ہر جرم کی شکایت پولیس اور رینجرز کی ہیلپ لائن پر درج کروانے کی بھی ہدایت کی۔

اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کروانے میں مکمل تعاون نہیں کر رہی، ٹی وی پر ابھی تک دہشت گردوں کی خبریں چلتی ہیں، انٹرنیٹ کے غلط استعمال کی روک تھام بھی نہیں ہوسکی اور کالعدم تنظیموں کے لوگ ابھی تک کھلے عام جلسے کر رہے ہیں، لیکن وفاقی حکومت اس حوالے سے کوئی واضح پالیسی اختیار نہیں کر رہی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وفاقی حکومت کو خط لکھا جائے کہ غیر قانونی اسلحہ بنانے کی فیکٹریوں اور دکانوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے، کیونکہ سندھ میں اب تک جتنا بھی اسلحہ پکڑا گیا، اس کا 40 فیصد مقامی طور پر تیار کیا گیا تھا۔

ہوم سیکریٹری سندھ شکیل منگنیجو نے اجلاس کو بتایا کہ:

سندھ سے گرفتار 16 تکفیری دہشت گردوں کو پھانسی دی جاچکی ہے۔
فوجی عدالتوں کی جانب سے 16 تکفیری دہشتگردوں کو سزائے موت سنائی جاچکی ہے اور مزید 19 مقدمات زیر سماعت ہیں۔
سندھ کی لیگل کمیٹی نے 9 مزید مقدمات فوجی عدالتوں کو بھیجنے کی منظوری دے دی ہے۔
سندھ حکومت کی سفارش پر 62 کالعدم تنظیموں کے نام فرسٹ شیڈول میں ڈالے گئے۔
سندھ میں 92646 افغان شہریوں کی رجسٹریشن ہوئی۔
سندھ نے 94 مدارس کی فہرست وزارت داخلہ کو بھیجی ہے، ان کو بھی فرسٹ شیڈول میں ڈالا جائے گا۔
581 مختلف افراد کا نام فورتھ شیڈول میں ڈالا گیا۔
کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل شاہد بیگ اور ڈی جی رینجرز سندھ محمد سعید نے پہلی مرتبہ اجلاس میں شرکت کی، اس موقع پر سینئر وزیر نثار کھوڑو، چیف سیکریٹری رضوان میمن، مشیر اطلاعات سندھ مولا بخش چانڈیو، گورنر سندھ کے نمائندے صالح فاروقی، مشیر قانون مرتضٰی وہاب، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ثناء اللہ عباسی، ہوم سیکریٹری شکیل منگنیجو اور دیگر موجود تھے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )وزیر اطلاعت سندھ مولا بخش چانڈیو کا کہنا ہے کہ وفاق نیشنل ایکشن پلان پر صحیح عمل پیرا نہیں جب کہ وفاق نے مدارس سمیت غیرقانونی اسلحہ کے حوالے سے بھی اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں۔

زرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ ہاؤس کراچی میں صوبائی اپیکس کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولا بخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ اداروں کے درمیان لڑائی کروانے کی کوشش کی گئی لیکن اداروں کے درمیان تعلقات بہتر ہونے کے نتائج سامنے آئے ہیں، نئے کور کمانڈر بہت نرم مزاج آدمی ہیں، نئے ڈی جی رینجرز بھی بہت اچھے ہیں جب کہ آئی جی سندھ اور کورکمانڈرنے سندھ حکومت کے اقدامات پراطمینان ظاہرکیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹریٹ کرائم اہم مسئلہ ہے کیونکہ ہم اوپر کچھ بھی کریں لیکن اگر گلیوں میں عوام محفوظ نہیں تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا، یہ اہم معاملہ ہے لہذا وزیراعلیٰ نے اسٹریٹ کرائم ختم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

مولا بخش چانڈیو نےکہا کہ وفاق نیشنل ایکشن پلان پر صحیح ردعمل نہیں دے رہا، وفاق نے مدارس سمیت غیرقانونی اسلحہ کے حوالے سے بھی اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی،کالعدم تکفیری دہشتگرد تنظیموں کے حوالے سے وفاق کی کوئی پالیسی نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے پاس کرنے اوردکھانے کو کچھ نہیں رہا جب کہ راحیل شریف کے جانے کے بعد وفاقی حکومت نے سکون کا سانس لیا، اسلحہ یہاں نہیں بنتا لیکن یہاں آرہا ہے اور اس کو روکنا وفاق کی ذمہ داری ہے تاہم وفاق سندھ کے ساتھ پنجاب کے شہروں میں بھی بدامنی پھیلانا چاہتا ہے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صوبائی اپیکس کمیٹی کے اجلاس کے دوران وفاق کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

زرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی سربراہی میں صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل شاہد بیگ مرزا، ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل محمد سعید ، صوبائی چیف سیکریٹری، سینیئر وزیر نثار کھوڑو اور مشیر اطلاعات مولا بخش چانڈیو کے علاوہ آئی جی سندھ اللہ ڈنو خواجہ نے بھی شرکت کی، کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل شاہد بیگ مرزا اور ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل محمد سعید نے اپنا چارج سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی جب کہ آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے بھی 12 روز کی جبری رخصت کے بعد دوبارہ چارج سنبھالا ہے۔

اجلاس میں سیکرٹری داخلہ نے شرکا کو بتایا کہ 16 تکفیری دہشت گردوں کو ملٹری کورٹ سزائے موت کی سزا دے چکی ہے جب کہ 19 مقدمات اب بھی زیر سماعت ہیں۔ سندھ کی لیگل کمیٹی نے مزید 9 کیسز ملٹری کورٹس کے لئے کلئیر کئے ہیں۔

اجلاس کے بعد مولا بخش چانڈیو نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ اجلاس کے دوران کراچی میں امن کی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے، سندھ میں اداروں کو لڑانے کی کوشش کی گئی لیکن ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے یہ تاثر ختم ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں وزیراعلیٰ نے تحفظات کا اظہار کیا ہے کہ وفاق نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد سے متعلق اپنی ذمہ داری پوری نہیں کررہا، کالعدم تکفیری دہشتگرد تنظیموں سے متعلق وفاق کی کوئی واضح پالیسی نہیں۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) کسی بھی مسلک کے مقدسات کی توہین ناجائز ہے، گالیاں دینا ہمارا شعار ہے اور نہ ہی مسلح جدوجہد کی ضرورت ہے۔ موجودہ نظام فاسد ہے، جس میں تحریک جعفریہ کی بحالی میں مجھے انصاف نہیں ملا تو عام آدمی کا کیا حال ہوگا۔ پاکستان میں اسلام کے عادلانہ نظام کے قائل ہیں، کسی خاص برانڈ کا اسلام قبول نہیں کریں گے۔ عزاداری میں وہ شریک ہو جو بم دھماکے برداشت کرنے کی جرات رکھتا ہو، ہمیں کنٹینروں کے حصار، خاردار تاروں کے جھنڈ اور سنگینوں کے سائے میں عزاداری قبول نہیں۔ عزاداری کے خلاف درج ایف آئی آرز ختم کی جائیں۔

زرائع کے مطابق ان خیالات کا اظہار شیعہ علماء کونسل اور اسلامی تحریک پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے اسلامی تحریک کے سینیئر نائب صدر مرحوم وزارت حسین نقوی ایڈووکیٹ کے قصر زینب میں منعقدہ چہلم کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ چہلم سے علامہ عارف واحدی، صوبائی صدر علامہ سید سبطین حیدر سبزواری، علامہ مظہر عباس علوی، وفاق المدارس الشیعہ کے مرکزی جنرل سیکرٹری علامہ محمد افضل حیدری، مجمع اہل بیت پاکستان کے سیکرٹری علامہ شبیر حسن میثمی، وفاق علماء شیعہ پاکستان علامہ رضی جعفر نقوی، محمد شفیع پتافی، سکندر رضا نقوی، مرکزی صدر جے ایس او حسن عباس اور دیگر نے خطاب میں مرحوم وزارت نقوی کی سیاسی، مذہبی اور سماجی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ ایشیاء میں کوئی مسلح جدوجہد کامیاب نہیں ہوئی، قیام پاکستان اور ایران میں انقلاب اسلامی عوامی جدوجہد سے آئے۔ میں ملک کا طاقتور حصہ ہوں، ہمیں عسکری ونگ کی ضرورت ہے نہ ہی اس کے قائل ہیں۔ میں عوامی جدوجہد پر یقین رکھتا ہوں، مسلح جدوجہد کا محتاج نہیں۔ پاکستان میں کوئی گروہ یا فرد ایسا نہیں جس کے خلاف ملت جعفریہ کو مسلح جدوجہد کی ضرورت ہو۔ ایک دہشت گرد گروہ کے آرمی چیف کے نام کھلے خط کا حوالہ دیتے ہوئے قائد ملت جعفریہ نے کہا کہ گالیاں دینا مرد کا کام نہیں، دہشت گرد گروہ سپہ سالار سے التجائیں کر رہا ہے کہ انہیں ہمارے ساتھ بٹھائیں، میری کوئی مجبوری ہے اور نہ ہی میں نے کسی سے مذاکرات کی التجا کی ہے۔ علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ وہ اتحاد بین المسلمین کے بانی ہیں، ملی یکجہتی کونسل کے ضابطہ اخلاق پر عراق کی مرجعیت اور ولی امرمسلمین نے مہر تصدیق ثبت کی ہے۔ خاندانی نسب اور دولت نہیں، انسان کا حوالہ وہ نیک اعمال ہیں جو وہ دنیا میں سرانجام دیتا ہے۔ وزارت نقوی کی جدوجہد اس بات کا ثبوت ہے کہ تحریک جعفریہ کو کسی مسلح جدوجہد کی ضرورت نہیں۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ آرمی کی قیادت میں تبدیلی کا ملکی حالات پر اثر نہیں ہونا چاہیے، نیشنل ایکشن پلان اور ضرب عضب کے مطابق فرقہ واریت، انتہاپسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے۔ ہم نے 14 سال صبر و تحمل سے کام لیا، تحریک جعفریہ پر پابندی میرٹ پر ختم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام مذہبی سیاسی جماعتوں سے رابطے میں ہیں اور پاکستان میں اتحاد امت کو ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم پر تنظیمی شکل دی، جس کی دنیا بھر میں مثال نہیں ملتی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تشیع کو دباؤ اور خوف میں رکھنا ممکن نہیں۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ آپریشن ضرب عضب میں پاک فوج نے بے شمار قربانیاں دیں اور آئندہ بھی پاک فوج ملکی سلامتی کے لئے کردار ادا کرتی رہے گی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق جی ایچ کیو آڈیٹوریم میں افسروں سے خطاب کرتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاک فوج نے ضرب عضب میں بے شمار قربانیاں دیں، ضرب عضب میں افسروں کی قربانیاں اور قائدانہ کردار قابل فخر ہے پاک فوج آئندہ بھی قومی سلامتی سے متعلق اپنا اہم کردار ادا کرتی رہے گی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سربراہ پاک فوج نے پیشہ وارانہ امور، ملک کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز اور مستقبل کی حکمت عملی پر بھی اظہار خیال کیا۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) حب الوطنی کا تقاضہ یہ ہے کہ پاکستان سے دہشت گردی، کرپشن اور لاقانونیت کا خاتمہ کیا جائے، ہر وہ آواز جس سے تفرقہ کی بو آئے دشمن کی آلہ کار ہے، علماء کرام اتحاد و وحدت کے پیغام کا پرچار کرکے دشمن کی سازشوں کو ناکام بنائیں، آرمی چیف جنرل قمر باجوہ پاکستان کی سالمیت کی خاطر ملک کے اثاثوں پر حملے کرنے والے تکفیری دہشت گردوں کیخلاف آپریشن کا آغاز کریں۔

زرائع کے مطابق ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی ڈویژن کے سیکریٹری جنرل سید میثم عابدی نے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی ڈویژن کی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔ اس موقع پر علامہ نشان حیدر ساجدی، علامہ علی انور جعفری، علامہ مبشر حسن، علامہ صادق جعفری، کاظم عباس اور میر تقی ظفر سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ میثم عابدی نے شرکائے اجلاس گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج موجودہ حالات میں ضروری ہے کہ پوری پاکستانی قوم اپنے وطن سے دہشت گردی، کرپشن اور لاقانونیت کے خاتمے کیلئے متحد ہو،جہاں کرپشن ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کررہی ہے تو وہیں دہشت گردی کا شکار محب وطن عوام کو ظالموں کی صف میں کھڑا کرنے کی سازشیں ہورہی ہیں۔

میثم عابدی کا مزید کہنا تھا کہ انصاف کا تقاضہ تو یہ ہے کہ ظالم کو اس کے ظلم کی سزا دی جائے اور مظلوم کی داد رسی کی جائے، لیکن ہمارے ریاستی اداروں کا دستور ہی نرالہ ہے کہ بیلنس پالیسی کے نام پر محب وطن عوام کو دہشت گردوں کے برابر کھڑا کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے ریاستی ادارے پاکستان کی سلامتی چاہتے ہیں تو کالعدم جماعتوں کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرتے ہوئے پاکستان سے دہشت گردی، کرپشن اور لاقانونیت کا خاتمہ کریں۔ ایم ڈبلیو ایم کراچی کے سیکریٹری جنرل نے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان کی سالمیت کی خاطر ملک کے اثاثوں پر حملے کرنے والے دہشت گردوں کیخلاف آپریشن کا آغاز کریں، تاکہ وطن کو دہشت گردی سے نجات دی جاسکے، اور ملک کے باسی امن و سکون سے زندگی گزار سکیں۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )مشیر اطلاعات سندھ مولا بخش چانڈیو کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) سیاسی تصادم کی جانب بڑھ رہی ہے، ہم کل ہوا کی مخالف سمت اڑان بھرنے کا اعلان کریں گے۔

زرائع کے مطابق حیدرآباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے سندھ کے مشیر اطلاعات مولا بخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) میں اکثریت عقل کے اندھوں کی ہے، ہم مفاہمت اور محبت والی فضا کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے، لیکن (ن) لیگ سیاسی تصادم کی جانب گامزن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج حکمران نیشنل ایکشن پلان کا جائزہ لینے کی بات کرتے ہیں، جبکہ جنرل (ر) راحیل شریف کے دور میں یہ جرأت کسی میں نہیں تھی، یہ کون ہوتے ہیں جو جائزہ لینے کی باتیں کرتے ہیں، نیشنل ایکشن پلان عوام نے منظور کیا تھا، لیکن (ن) لیگ نے طاقت کے بل پر پنجاب میں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہیں ہونے دیا۔

مولا بخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو کوئی آمر نہیں روک سکتا، بے نظیر اور نواز شریف کے راستے بھی روکے گئے، لیکن ان کی جدوجہد کا راستہ نہیں روکا جا سکا، ہمارے رہنماؤں کے خلاف کیسز بنے، لیکن ہم خاموش رہے، ہمارے قائد کو پھانسی دی گئی، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ اذیت ناک اموات فتح کی علامت بن جاتی ہیں۔ مشیر اطلاعات سندھ نے کہا کہ آج بھی ہمیں کسی کا خوف نہیں، جبکہ ہم نے کل ہوا کی مخالف سمت اڑان بھرنے کا فیصلہ کرنا ہے اور اس اڑان میں ہم تنہا نہیں ہوں گے، بلکہ تمام اپوزیشن جماعتوں سے رابطہ کیا جائے گا۔