تازہ ترین

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) نصیرالدین پولیس کی طرف سے لگائے گئے ناکوں کے پار ایک پارک میں کھڑے درختوں کی بیچ سے مسجد کے سنہری گنبد کو آنکھوں میں آنسوؤں کے ساتھ دیکھ رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ وہ بہت افسردہ ہیں۔ 37 سالہ نصیرالدین کا تعلق بنگلہ دیش سے ہے۔ وہ پانچ سال پہلے بنگلہ دیش سے نیوزی لینڈ کے مشرقی ساحلی علاقے کے دلفریب شہر ساؤتھ آئی لینڈ میں منتقل ہوئے۔نصیرالدین باقاعدگی سے مسجد جاتے ہیں اور اگر جمعہ کے روز وہ کام پر نہ ہوتے تو وہ بھی حملے کے وقت مسجد میں موجود ہوتے۔ حملے کا سن کر انھوں نے بہت سے لوگوں کو فون کیا لیکن کسی نے ان کا فون نہیں اٹھایا۔ ان کے دو دوست اس حملے میں ہلاک ہوئے۔

کرائسٹ چرچ کی سب سے بڑی مسجد کا سکون اس وقت درہم برہم ہوا جب جمعے کی نماز کے اجتماع پر ایک حملہ آور نے نیم خودکار ہتھیار سے نمازیوں پر فائرنگ کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا۔مسجد النور اور دوسری مسجد میں 50 لوگوں کی موت کا باعث بننے والے پُرتشدد واقعے کی وجہ سے دنیا بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ حملہ آور نے سر پر لگے کیمرے کی مدد سے النور مسجد پر حملے کی ویڈیو فیس بُک پر لائیو سٹریم بھی کی تھی۔نیوزی لینڈ کی اسلامک ویمن کونسل کی انجم رحمان کہتی ہیں کہ النور مسجد ہمیشہ سے ہی ’سب کو بہت عزیز' تھی۔ ’جب یہ تعمیر ہوئی تو یہ دنیا کی سب سے جنوبی مسجد تھی۔'النور مسجد کی بنیاد مقامی مسلم کمیونٹی نے رکھی۔ یہ مسجد اسلامی دنیا سے تعلق رکھنے والے مختلف ممالک کے افراد، جن میں پناہ گزین بھی شامل ہیں، کو اکٹھا کرنے کے لیے مشہور ہے۔اس حملے کے متاثرہ افراد میں ایک ٹیکنالوجی کے کاروبار سے منسلک شخص جبکہ ایک بڑی عمر کا افغان باشندہ جو سنہ 1980 کی دہائی میں سویت یونین کے قبضے سے فرار ہو کر آیا تھا۔ ان سب لوگوں نے نیوزی لینڈ کو اپنا مسکن بنایا ہے۔دونوں حملوں کے متاثرین کا تعلق اردن، مصر، پاکستان، بنگلہ دیش، انڈونیشیا، متحدہ عرب امارات، افغانستان، شام، کویت اور انڈیا جیسے ممالک سے تھا۔انجم رحمان کا خاندان سنہ 1972 سے نیوزی لینڈ میں مقیم ہے اور ان کے لیے ملک میں النور مسجد جیسی مساجد ظاہر کرتی ہیں کہ مقامی مسلم برادری نے ’سب کا خیر مقدم‘ کیا۔متنوع مسلم برادری کے بارے میں وہ کہتی ہیں ’میرا خیال ہے کہ نیوزی لینڈ دنیا میں سب سے بہترین مثال ہے جہاں یہ کامیابی سے کیا گیا ہے۔ یہ غلطی سے نہیں ہوا۔ اس پر ہم سب نے اور ہمارے آباؤ اجداد نے کام کیا ہے۔‘

ہیگلی پارک میں جاگنگ کرتے ہوئے دو لوگ درخت کے نیچے رک کر پھولوں اور عقیدت میں پیش کی گئی چیزوں کو دیکھ رہے ہیں۔ خاتون واضع طور پر افسردہ ہو گئیں اور ان کے ہونٹ کپکپانے لگے۔ ان کے ساتھی نے ان کو دلاسہ دیا اور پھر وہ دونوں دوبارہ سے جاگنگ کرنے لگے۔53سالہ الینور مورگن کے لیے کرائسٹ چرچ کے دل ہیگلی پارک میں ایسا واقعہ معمول کے برعکس بہت ہولناک بات ہے۔ وہ کہتی ہیں ’یہ جگہ ان کی پناہ گاہ ہونی چاہیے تھی، ان کا محفوظ مقام۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہم انھیں محبت دکھانے کا کوئی طریقہ ڈھونڈ سکیں۔‘25سالہ جواکر سیلواراج حملے سے 15 منٹ پہلے پارک میں موجود تھے۔ انڈیا سے تعلق رکھنے والے جواکر کہتے ہیں کہ جمعے کو رونما ہونے والے واقعے کے بعد سے وہ خوفزدہ محسوس کر رہے ہیں۔وہ کہتے ہیں ’مجھے یقین ہے کہ کچھ نہیں ہو گا لیکن باحثیت تارکینِ وطن تھوڑا سا خوف ہے۔‘پارک کی دوسری جانب سیکڑوں لوگ پھولوں سے مزین عقیدت پیش کرنے کے لیے بنائی گئی بڑی جگہ پر آ رہے ہیں۔ ہلاک شدگان کے لیے بہت سے پیغامات چھوڑے گئے ہیں۔’ہم ایک ہی فضا میں سانس لیتے ہیں۔ ہم ایک ہی زمین پر چلتے ہیں۔ ہم سب کا خون ایک سا بہتا ہے۔‘’یہ آپ کا گھر ہے۔ اور آپ کو یہاں پر محفوظ ہونا چاہیے تھا۔‘’آپ، آپ کے خاندان، آپ کے دوست اور آپ کی برادری ہمارے دلوں میں ہیں۔ ہم آپ کا درد محسوس کر سکتے ہیں۔ ہماری آنکھیں آپ کے لیے اشک بار ہیں۔‘’اپنے پیاروں کو زور سے گلے لگائیں۔‘نصیرالدین کہتے ہیں کہ جمعے کو النور مسجد میں لوگوں کے ساتھ مل بیٹھنے کا وقت ہوتا تھا۔وہ کہتے ہیں ’تب ہم اپنے دوستوں سے مل سکتے ہیں۔ ہم اپنے دوستوں کو دیکھ سکتے ہیں۔ یہاں سب ٹھیک ہوتا ہے۔‘حملے کی خبر سننے کے بعد انھوں نے پریشانی کے عالم میں لوگوں کو فون ملانا شروع کر دیا لیکن کسی کا جواب موصول نہیں ہوا۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کے دو دوستوں کا انتقال ہو چکا ہے اور باقی دوستوں کی خبر ملنے کا انتظار کر رہے ہیں۔’ہم جو محسوس کر رہے ہیں وہ بہت دردناک ہے۔‘

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) کروٹ بدلو تو کہو یا صاحب الزمان (عج)بیٹھتے اور اُٹھتے ہوٸے کہو یا صاحب الزمان صبح نیند سے اٹھتے ہی ادب کے ساتھ کھڑے ہو کر دن کا آغاز امام زمانہ (عج) کو سلام کر کے کرو, اور کہو آقا میرا ہاتھ آپ کے دامن میں اے میرے مولا آپ ہی میری مشکل کشاٸی کریں رات کو جب سونے کا ارادہ ہو تو سینے پر ہاتھ رکھ کر کہو :- (السلام علیک یا صاحب صاحب الزمان) پھر سو جاٶرات دن اُن کی یاد میں بسر کرو, اگر ایسا کیا تو شیطان کا تمہاری زندگی میں کوٸی عمل دخل نہی ہوگا, پھر گناہ کرنا بھی چاہو تو نہی کر پاٶگے امیر المومنین حضرت علی علیہ اسلام نے فرمایا:- “امام زمانہ (عج) کی غیبت کے کٹھن دور میں فقط وہی لوگ اپنے دین پر باقی ہونگے جو یقین کے ساتھ امام زمانہ کے ساتھ قلبی رابطہ رکھتے ہوں اور ان کے ساتھ مانوس ہوں بحوالہ :- کمال الدین و تمام النعمة, ص-٣٠٣

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) برطانیہ کی لیبر پارٹی کے سربراہ نے کہا ہے کہ یمن پر کلسٹر بم برسانے کی بنا پر سعودی عرب پر ہوائی حملہ کر دیا جانا چاہئے۔

برطانیہ میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت لیبر پارٹی کے سربراہ جرمی کوربین نے کیمیائی ہتھیاروں کے بہانے شام پر غیر قانونی حملے میں برطانیہ کے شامل ہونے پر مبنی تھریسا مئے کی حکومت کے فیصلے اور یمن کے بارے میں اس کے دوہرے معیار پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یمن میں جس طرح سے سنگین انسانی بحران پیدا کیا گیا ہے اس کے پیش نظر دیگر ملکوں کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ سعودی عرب کے فوجی اور فضائی اڈوں پر حملہ کر دیں کیونکہ سعودی عرب، یمن پر کلسٹر اور فاسفورس بموں سے حملہ کر رہا ہے-

انہوں نے دارالعوام میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے تین اداروں نے جنوری میں اعلان کیا کہ بحران یمن، دنیا کا سب سے بدترین بحران ہے اس لئے برطانوی وزیرا‏‏عظم کو یہ وعدہ کرنا ہو گا وہ یمن پر سعودی عرب کی بمباری کی حمایت کرنا بند کر دیں گی-

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) قندہاری بازار میں جمال الدین افغانی روڈ کے کارنر پر نامعلوم افراد کی مری آباد سے ہزارہ ٹاون جانے والی پیلی ٹیکسی پر فائرنگ جس میں نذرحسین ولد نوروز علی عمر 50 سال قوم ہزارہ جاں بحق جبکہ گل حسین ولد عبدالرسول عمر 35 قوم ہزارہ زخمی ، ٹیکسی میں 5 افراد سوار تھے، جس میں 3 محفوظ رہے ہیں جن کا تعلق ہزارہ برادری سے ہیں۔

واضح رہے کہ ملک بھر میں کالعدم تکفیری دہشتگردوں کو حکومتی ایوانوں میں ہونے والی تقریبات میں مدعوکیا جارہا ہے جس کے بعد کراچی اور کوئٹہ میں ایک بار پھر شیعیان علی کے قتل کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان نے وال اسٹریٹ جنرل کے ساتھ گفتگو میں امریکہ اور اسرائیل کی نیابت میں ایران پر آئندہ دس سے 15 سال کے دوران فوجی حملے کا اعلان کردیا ہے۔

محمد بن سلمان نے کہا کہ اگر ایران کے خلاف اقتصادی پابندیاں مؤثر ثابت نہ ہوئیں تو سعودی عرب امریکہ اور اسرائیل کی نیابت میں آئندہ 10 سے 15 سال کی مدت میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی کرےگا۔

اس سے قبل محمد بن سلمان نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ایران نے ایٹم بنایا تو سعودی عرب بھی فوری طور پر ایٹم بم بنا لےگا۔ تجزیہ نگارون کے مطابق سعودی عرب اپنی پوری طاقت اور قدرت اسرائیل کے بجائے ایران کے خلاف استعمال کرکے امریکہ اور اسرائیل کی عملی مدد کررہا ہے۔ اسلامی ماہرین کے مطابق سعودی عرب حقیقی اسلام کے فروغ کے بجائے امریکی اور یزیدی اسلام کو فروغ دے رہا ہے اور اس میں اسے امریکہ اور اسرائیل کی حمایت حاصل ہے اور سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان نے اس کا اعتراف بھی کرلیا ہے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) سعودی ولیعہد محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ وہ نہیں سمجھتے کہ شام کے اقتدار سے بشار اسد کو ہٹایا جاسکتا ہے۔

محمد بن سلمان نے امریکی جریدے ٹائم سے گفتگو میں اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ شام کے اقتدار میں بشار اسد باقی رہیں گے اور ان کا ہٹایا جانا ممکن نہیں، کہا کہ شام میں ایرانیوں کو کھلی چھوٹ دینا بشار اسد کے حق میں نہیں ہے۔
ایران، دمشق حکومت کی درخواست پر ہی شام میں موجود ہے اور وہ سعودی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے مقابلے میں شامی فوج کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔

ایران کے تعاون کے نتیجے میں شام میں دہشت گردوں کی شکست ہی اس بات کا باعث بنی ہے کہ سعودی ولیعہد اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ بشار اسد کو اقتدار سے ہٹایا جانا ممکن نہیں ہے۔
دریں اثنا سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان نے شام میں امریکی فوج کے موجود رہنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے تحفظ کے لئے شام میں امریکی فوج کا باقی رہنا ضروری ہے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) مجلس وحدت مسلمین سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ ہم سیرت علوی سے دوری کے باعث آج زوال کا شکار ہیں، علوی سیرت و کردار اپنا کر، علم و عمل کے ذریعے ہم حقیقی شیعہ بن سکتے ہیں، فلسطینی مظاہرین پر اسرائیلی فائرنگ کے نتیجے میں سترہ افراد کی شہادت اور پندرہ سو فلسطینیوں کے زخمی ہونے پر انتہائی افسوس ہے۔ اندرون سندھ کے اضلاع نوابشاہ، نوشہروفیروز، مٹیاری، حیدرآباد اور شہداد کوٹ کے تنظیمی دورے کے موقع پر مختلف مقامات پر خطاب کرتے ہوئے علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ امیرالمومنین امام علیؑ کی حیات طیبہ میں ہمیں تمام انسانی کمالات یکجا نظر آتے ہیں، آپؑ ایک انسان کامل ہونے کے ناطے ہم سب کیلئے اسوہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپؑ کی سیرت پر عمل پیرا ہو کر ہم دین و دنیا کی بھلائی اور کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہج البلاغہ شخصیت علیؑ کی بہترین عکاس ہے، جو علم و عرفان کا سمندر ہے۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ مسلم حکمرانوں کی بے حسی نے اسرائیل کو جری کر دیا ہے، اسرائیلی مظالم پر عالمی ادارے اور عرب حکمران خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل سے دوستی کرکے اور بھارت سے اسرائیل تک فضائی سروس کو راستہ دے کر آل سعود نے اسلام دشمنی کا ثبوت دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کے مسلمان جدوجہد آزادی کے سفر میں فلسطین اور کشمیر کے مظلوم عوام کا ساتھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور بھارت کے بڑھتے ہوئے تعلقات پر ہمیں تشویش ہے، اسرائیل غاصب ریاست ہے، جس کا عبرتناک انجام اب نزدیک ہے۔

مولود کعبہ جانشین پیغمبر فاتح خیبر و خندق مولائے متقیان مولی الموحدین امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کے یوم ولادت باسعادت پر پورے پاکستان اور دنیا کے مختلف ملکوں میں جشن و سرور کا سلسلہ جاری ہے۔

امیر المومنین حضرت علی(ع) اسلامی تاریخ کی وہ درخشاں ہستی ہیں کہ جن کا کردار ہر اعتبار سے نمایاں اور ممتاز رہا ہے۔ آپ اس دنیا میں تشریف لائے تو مولود کعبہ کہلائے۔ سب سے پہلے جس ہستی کو دیکھا وہ رسالت مآب (ص) ہی تھے۔آپ (ص) کے سایہ عاطفت میں ہی گھٹنوں کے بل چلے اور آغوشِ رسالت میں نشوونما پا کر بالآخر میدان جہاد کے شہسوار بن گئے۔

مولودِ کعبہ نے کائنات کی ہرشے کو اسلام کی ہی روشنی میں دیکھا۔ درسگاہِ نبوی میں تعلیم و تربیت پائی۔ معلم انسانیت جیسا معلم و مربی ملا۔ رہنے کو نبوت کا گھرانہ اور بود و باش کے لئے سرزمینِ وحی ملی۔ قرآنی آیات کی شانِ نزول کے چشم دید گواہ بنے۔

حضرت علی ابن ابیطالب علیہ السلام کے یوم ولادت باسعادت کا جشن پاکستان سمیت پوری دنیا میں انتہائی مذہبی جوش جذبے اور عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہےپورے ملک کی مساجداور امام بارگاہوں کو انتہائی خوبصورتی کے ساتھ سجایا گیا ہے- عاشقان حیدر کرار جگہ جگہ لوگوں میں شربت اور مٹھائیاں تقسیم کر رہے ہیں-


مولائے کائنات کی ولادت باسعادت کے موقع پر عراق کے مقدس شہروں نجف اشرف، کربلائے معلی، کاظمین اور سامرہ میں بھی وسیع پیمانے پر جشن کا اہتمام کیا گیا ہےجبکہ نجف اشرف میں لاکھوں کی تعداد میں عراقی اور غیر ملکی زائرین حضرت امام علی علیہ السلام کا جشن ولادت منا رہے ہیں اور ذاکرین و شعرائے کرام بارگاہ علوی میں اپنے اپنے مخصوص انداز میں خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں-


ایران میں مشہد مقدس میں حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے حرم مطہر اور قم المقدسہ میں جناب فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیھا کے حرم مطہر میں بڑی تعداد میں عاشقان اہلبیت اطہار(ع) جشن علوی میں شریک ہیں- پاکستان اور ہندوستان میں بھی جگہ جگہ محافل میلاد کا اہتمام کیا گیا ہے اور گھر گھر نذر و نیاز کا سلسلہ جاری ہے-

شیعہ نیوز جشن مولود کعبہ کے اس پر مسرت موقع پر اپنے تمام سامعین ناظرین اور چاہنے والوں کو دل کی گہرائی سے مبارک باد پیش کرتا ہے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ایران ہمارا ہمسایہ و اسلامی برادر ملک ہے، جن کے ساتھ تاریخی، سیاسی، سماجی، ثقافتی، علمی اور مذہبی حوالے سے باہم احترام پر مبنی بہت ہی خوشگوار تعلقات قائم ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی میں ایران کے سابق وزیر خارجہ کمال خرازی سے ملاقات کے دوران کیا، ملاقات میں دو طرفہ تعلقات سمیت باہمی دلچسپی کے امور اور دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایران کے سرمایہ کاروں کو سندھ میں سرمایہ کاری کے مواقع سے مستفید ہونے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں سرمایہ کاری کیلئے سازگار فضا اور بھرپور کاروباری مواقع موجود ہیں، سندھ حکومت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت بہت سے اہم منصوبوں پر کام کر رہی ہے، سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کرتے ہوئے دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) مجلس وحدت مسلمین کراچی کے سیکریٹری اطلاعات سید احسن عباس رضوی نے کراچی سمیت سندھ کے مختلف حصوں میں بجلی کی طویل دورانیے کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ خصوصاً کراچی میں جاری بجلی کے مصنوعی بحران کا جلد خاتمہ نہ ہونے کی صورت میں پہلے مرحلے میں آگہی و تشہیری مہم اور دوسرے مرحلے میں احتجاجی مہم کا آغاز کریں گے، انہوں نے وفاقی وزیر بجلی و پانی اور چیف جسٹس آف پاکستان سے کراچی میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اپنے مذمتی بیان میں احسن رضوی نے کہا کہ سندھ حکومت عوام کو سہولیات کی فراہمی کی بجائے آئے دن ان کی مشکلات میں اضافے کا باعث بن رہی ہے، کراچی میں گرمی کے آغاز کے ساتھ ہی بارہ بارہ گھنٹے بجلی کی بندش حکومت کی ’’مثالی کارکردگی‘‘ پر سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی سمیت صوبے بھر میں میٹرک کے امتحانات کا آغاز ہو چکا ہے اور کے الیکٹرک کی ’’مہربانیاں‘‘ طلباء و طالبات کی تیاری کے دوران ان کیلئے درد سر بنی ہوئی ہیں۔

احسن عباس رضوی نے کہا کہ ناعاقبت اندیش حکمرانوں اور کے الیکٹرک انتظامیہ نے گذشتہ سالوں میں ہیٹ اسٹروک اور لوڈشیڈنگ کے باعث قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع سے سبق نہیں سیکھا، عوام کو صاف پانی، بجلی، گیس، صحت و صفائی اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی آئنی ذمہ داری ہے، لیکن ہر دور میں بے حس حکمرانوں نے اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے بجائے انہیں اخباری دعوؤں تک ہی محدود رکھا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی جماعت ہونے کی دعویدار پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کی طرف سے عوام کیلئے کھڑی کی جانے والی مشکلات آئندہ عام انتخابات میں جماعت کی مقبولیت کیلئے سخت نقصان دہ ثابت ہوں گی۔ رہنما ایم ڈبلیو ایم نے مطالبہ کیا کہ سندھ حکومت لوڈشیڈنگ پر قابو پانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کرے۔